مذہبی انتہا پسندی، قبائلی علاقہ جات اور پاکستان
پاکستان اور قبائلی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ میں شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں 8 اگست 1998 کو پیدا ہوا۔ وقت کے ساتھ، میں نے اچھائی اور برائی میں فرق کرنا سیکھا اور زندگی کی مختلف حقیقتوں کو سمجھنے لگا۔ جیسے جیسے میں بڑا ہو رہا تھا، میں جدید دور کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر میرا معاشرہ پرانی روایات کو زیادہ اہمیت دیتا تھا اور نئی باتیں سننے کو تیار نہیں تھا۔ اس کی کئی تاریخی، سماجی اور معاشرتی وجوہات ہیں۔
ہمارے علاقے میں مذہبی انتہا پسندی کا فروغ کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں تعلیمی کمی، معاشرتی مسائل اور مخصوص روایات شامل ہیں۔ ان علاقوں میں حکومتی عمل دخل بھی محدود رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب میں اور میرے کزن ”وائس آف امریکہ ڈیوا“ سنتے تھے، لیکن ہمیں منع کیا گیا کہ یہ ہمارے عقائد کے خلاف ہے۔ مگر ہم نے کبھی ایسی کوئی بات محسوس نہیں کی تھی، جو اسلام کے خلاف ہو۔ آج لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ آزاد صحافت کا مقصد ہمارے حقوق کی بات کرنا تھا۔
میری تعلیمی زندگی میں ایک موڑ آیا جب میں نے میٹرک کے بعد پری انجینئرنگ میں داخلہ لیا اور پھر بہا الدین زکریا یونیورسٹی میں ریاضی کے شعبے میں داخل ہوا۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ ہمارے علاقے کو تعلیمی ترقی سے بہتر بنایا جا سکتا ہے، اس لیے میں نے اپنے علاقے کے طلبہ کو مختلف شہروں کے اسٹڈی ٹور کروانے کا ارادہ کیا، تاکہ انہیں تعلیم کی اہمیت کا احساس ہو۔ ہمارے علاقے میں کچھ عناصر جدید تعلیم اور سائنس کے خلاف ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ نوجوان ان علوم سے دور رہیں۔ مدارس کے بعض علما جدید تعلیم کو بُرا سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنے سے روکا جاتا ہے، جس سے انہیں دنیا کی ترقی کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔
قبائلی علاقوں میں تعلیم کی کمی ہے اور جدید سائنسی علوم تک رسائی محدود ہے۔ زیادہ تر تعلیم مدارس میں دی جاتی ہے، جس سے لوگوں کا ذہن پرانی سوچ تک محدود رہتا ہے اور انہیں بنیاد پرستی کی طرف مائل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔
یہاں کے لوگوں کے پاس معاشی وسائل اور ملازمت کے مواقع کم ہیں، جس کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت بڑھتی جا رہی ہے۔ انتہا پسند گروہ ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بعض مذہبی عناصر جدید تعلیم کے خلاف ہیں اور لوگوں کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مخصوص نظریات کے فروغ کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں اور نوجوانوں کو محدود سوچ کی طرف دھکیلتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل تعلیم کا فروغ ہے۔ قبائلی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندی کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے، اگر وہاں تعلیم اور معاشی مواقع کو بہتر بنایا جائے۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کا فروغ بھی ضروری ہے۔ اس طرح امن اور خوشحالی کا خواب پورا ہو سکتا ہے اور پاکستان ایک پرامن ملک بن سکتا ہے۔


