اسموگ، ٹرمپ، یونیورسٹی لائف اور خواہشوں کا سمندر
آج کل بہاول پور میں صبح کے وقت اسموگ ہوتی ہے۔ میں واک کے لیے تھوڑا تاخیر سے نکلتا ہوں۔ ویسے روزانہ نیم گرم پانی میں تھوڑا سا شہد ملا کر پی لیا جائے تو اسموگ سے ہونے والے گلے کے درد، کھانسی اور بخار سے کچھ نہ کچھ بچاؤ ہو سکتا ہے۔ اصل میں جس فرد میں قوتِ مدافعت مضبوط ہو تو وہ کینسر کے مرض پہ بھی قابو پا سکتا ہے اور اگر قوت مدافعت کمزور تو وہ نزلہ زکام اور موسمی بخار کو بھی شکست نہیں دے سکتا۔
بندہ ذیابیطس کا مریض نہ ہوتو شہد قوتِ مدافعت کو سپورٹ کرتا ہے۔ اچھا، آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤں، میری نانی امّاں کے آبائی قصبہ سمہ سٹہ اور بہاول پور شہر کے درمیان حکومت نے ریلوے لائن اور کراچی لاہور نیشنل ہائی وے کے درمیان سفیدہ (یوکلپٹس) کے درخت کا جنگل آباد کیا ہوا ہے۔ سفیدہ کے پتے دونوں ہاتھوں کے درمیان رگڑے جائیں اور پھر ہاتھوں کو ناک کے قریب لا کر سونگھا جائے تو نہ صرف نزلہ زکام کی وجہ سے بند ناک فوراً ً کھل جاتی ہے بلکہ نزلہ زکام کی شدت بھی کم ہو جاتی ہے۔
پارک میں داخل ہونے سے پہلے نظامی صاحب نے مجھے دیکھا تو آواز لگائی، ”شیخ صاحب! کِتھے غائب ہو؟“ میں نے چاٹی والی لسی کا گلاس ابھی ہونٹوں سے لگایا ہی تھا اور نظامی صاحب بولے ”ٹرمپ صدر بن گیا اے، مُنڈے کُھنڈے کہندے ہُن خان وی باہر آ جاسی“ (ٹرمپ صدر بن گیا ہے، لڑکے بالے کہہ رہے ہیں اب خان بھی باہر آ جائے گا) ۔
گزشتہ روز 6 نومبر 2024 کو صدر منتخب ہونے کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا کے سامنے کہہ رہا تھا کہ وہ جنگوں کو فروغ دینے نہیں بلکہ جنگوں کو ختم کرنے آیا ہے تو نا جانے کیوں اکبر شیخ اکبر کا دل کہہ رہا تھا کہ ایسا ہو گا نہیں۔ امریکی ڈپلومیسی کا اصول رہا ہے کہ میڈیا کے سامنے یس کو نو اور نو کو یس کہو اور کرو وہی جو تھنک ٹینکس اور ڈیفنس اسٹریٹجیز پلانرز کی پالیسی ہو اور فی الحال سپر پاور ممالک کی پالیسی یہ نظر آ رہی ہے کہ مشرقِ و سطیٰ جنگ کو پھیلاتے ہوئے پاکستان کے ہمسایہ میں لایا جائے۔ پاکستان اور ترکیہ کو لاکھوں ایرانی مہاجرین کی آمد کے لیے ”ذہنی“ طور پہ تیار رہنا ہو گا۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھی جائے کہ جنگ جب پاکستان کے ہمسایہ میں آ جائے گی تو ترکی تو اپنی معیشت کے یورپ کے ساتھ جُڑے رہنے کی وجہ سے کوئی اور پالیسی اپنائے گا تاہم انڈیا، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کو اپنی اکانومی کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک دوسرے کو تجارتی رعایت دینا ہو گی۔ باہمی تجارت کو اپنانا ہو گا کیونکہ یہ جنگ پورے ایشیا پہ تو اثر انداز ہونے جا رہی ہے تاہم یہ خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا کو بھی ہلا کے رکھ دے گی۔
اچھا، نظامی صاحب کے پاس اسلامیہ یونیورسٹی کے طلباء ساگ، مکھن شکر، چنے چاول اور متنجن کا ناشتہ کرنے آتے ہیں۔ ان میں دیگر صوبوں سے آئے ہوئے پشتون، بلوچی، براہوی، گلگتی اور کشمیری طلباء کی بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔ بہاول پور میں دیگر صوبوں سے آئے ان طلباء کی تعداد دس ہزار کے قریب پہنچ رہی ہے بلکہ اب ان کی فیملیاں بھی یہاں شفٹ ہونا شروع ہو گئی ہیں اور انھوں نے اپنے چھوٹے بچے بھی مقامی انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھانا شروع کر دیے ہیں۔
یونیورسٹی لائف کا بھی اپنا مزہ ہے بس امّاں ابّا کے پیسوں پہ انجوائے کرو۔ چار سال بعد ڈگریاں لے کر باہر آتے ہیں تو لڑکیوں کے لیے تو یہ کہہ کر بچت ہو جاتی ہے کہ ان کو یونیورسٹی اس لیے پڑھایا کہ گریجویٹ ہونے کی وجہ سے رشتے اچھے آئیں گے لیکن لڑکوں پہ دباؤ ہوتا ہے کہ شاباش جلدی جلدی نوکری حاصل کرو۔ اب نہ سرکاری نوکری مل رہی ہوتی ہے اور نہ پرائیویٹ۔
ٹین ایجر بچوں سے آن لائن کام سیکھتے ہیں وہاں بھی پتہ چلتا ہے کہ پہلے پچاس ہزار لڑکے لڑکیاں اس کام کو کر رہے تھے تو ایک اسائنمنٹ کے پچاس ڈالر بھی مل جاتے تھے اب پینتیس سے چالیس لاکھ لڑکے لڑکیاں آن لائن کام میں آ گئے ہیں تو اوّل تو آرڈر پکڑنا بہت مشکل ہو گیا ہے اور اگر مل بھی جائے تو پچاس ڈالر کی بجائے ایک یا دو ڈالر ملتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ آن لائن کام بھی بے کار ہو گیا ہے۔ اب بھی اس سے کچھ نہ کچھ پیسے مل جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی اور بھارتی نوجوان آن لائن کام کے ان شعبوں میں جانے سے کتراتے ہیں جہاں پیسہ تو معقول ملتا ہے لیکن محنت بہت زیادہ ہے۔ یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں آن لائن ورک میں بس کاپی پیسٹ جیسے کام کو چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ کولڈ ڈرنک، سگریٹ، برگر اور تھوڑی سی شاپنگ کے لیے تھوڑے بہت پیسے مل جائیں مزید محنت کر کے کیا کرنا ہے؟ آج کے دور میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ذہنی حالت کو آپ درج ذیل رباعی کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں۔
زندگی کی اُداس شاموں میں اِک عجب سی اُداسی ہے
جیسے تپتے صحرا میں صدیوں سے رُوح پیاسی ہے
دل کے اُجڑے آنگن میں رہتی تنہا ایک داسی ہے
خواہشوں کا سمندر ہے اور اکبر میاں آسی ہے
سوال یہ ہے کیا انڈیا اور پاکستان کی سرکاری یونیورسٹیاں کروڑوں پڑھے لکھے بے روزگار تیار کرنے والی فیکٹریاں بن چکی ہیں؟ کیا یہ یونیورسٹیاں اپنے اپنے ممالک کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا رہی ہیں؟ گزشتہ دنوں بین الاقوامی شہرت یافتہ اے آئی ایکسپرٹ کنول چیمہ کا انٹرویو دیکھ رہا تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ آئندہ پانچ سال کے دوران آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتنی بڑی تبدیلی لانے جار ہی ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سارے شعبے جہاں اب انسان کام کرتے ہیں وہاں اے آئی ٹیک اوور کرنے جا رہی ہے۔ کنول چیمہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس تو آ چکی ہے اب آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی) اور آرٹیفیشل سپر انٹیلی جنس (اے ایس آئی) کو لانے پہ کام ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ اے ایس آئی کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ٹیکنالوجی سے بھی زیادہ طاقتور اور خوفناک ٹیکنالوجی ہو گی جس پہ شاید انسان کا اپنا کنٹرول بھی ختم ہو جائے۔
چند دن پہلے راقم کو گھر میں ریپیئرنگ کا کام کرانا تھا۔ کاریگر نے بتایا کہ بہاول پور کی ایک مقامی فیکٹری میں بھی ان کا کام چل رہا ہے جہاں اس وقت چار سو کے قریب پڑھے لکھے اور ان پڑھ افراد کام کرتے ہیں۔ کہنے لگا اب فیکٹری مالکان چین سے روبوٹ منگوا رہے ہیں جن کے آنے کے بعد فیکٹری میں مارکیٹنگ وغیرہ کے لیے صرف پچاس افراد کو رکھا جائے گا باقی اڑھائی سو افراد کو نکال دیا جائے گا۔
میری تجویز ہے کہ انڈیا، پاکستان، ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ کی حکومتیں اپنے ممالک کی یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے سسٹم میں تبدیلیاں لائیں۔ ایک تو تعلیمی اداروں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ٹیکنیکل تعلیم کو فروغ دیا جائے دوسرا یونیورسٹیوں میں بھی ایسے شعبوں پہ زیادہ توجہ دی جائے جہاں سے فارغ ہونے والے طلباء کو زیادہ عرصہ بے روزگار نہ رہنا پڑے۔


