جعلی مذہبی مقدمات اور ہنی ٹریپ: وزیراعظم کہاں ہیں؟
اگر میری طرح آپ کے بال سفید ہو چکے ہیں۔ منہ میں اکثر دانت ڈینٹسٹ کی عنایت ہیں۔ اور چہرے پر جھریوں میں اسی تیزی سے اضافہ ہو رہا جس طرح کوئی پارلیمنٹ عجلت میں آئینی ترامیم کر رہی ہو۔ کبھی دمہ کی وجہ سے سانس رکتا ہے اور اگر سینے کے دائیں جانب ٹیس اٹھے تو یہ وہم ہوتا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے والا ہے۔ اور یکایک حفیظ جالندھری مرحوم آپ کے پسندیدہ شاعر بن گئے۔ اس لئے نہیں کہ انہوں نے ترانہ پاکستان لکھا تھا بلکہ اس لئے کہ انہوں نے وہ مشہور نظم لکھی تھی جس کا آخری شعر ہے
ہے موت اس قدر قریں، مجھے نہ آئے گا یقیں
نہیں نہیں ابھی نہیں، ابھی تو میں جوان ہوں
اگر اس پیرانہ سالی کے باوجود آپ کے ان باکس میں، یا فیس بک پر یا واٹس ایپ پر یکلخت آپ کو کسی مہ جبین کے محبت بھرے پیغامات موصول ہونے لگتے ہیں جو آپ سے اس قدر متاثر ہوئی ہے کہ طرح طرح کے پوزوں میں آپ کو اپنی تصاویر پر تصاویر بھجوانا شروع ہو جاتی ہے۔ تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟
فطری طور پر تو ہر کسی کا یہی دل چاہے گا کہ ان پر یقین کر لے لیکن اگر آپ عقلمند ہیں تو بھانپ جائیں گے کہ کوئی آپ سے کچھ رقم اینٹھنے کے لئے جتن کر رہا ہے۔ یا اگر طبیعت نیکی کی طرف مائل رہتی ہے تو مصلے پر بیٹھ کر اپنی روحانی مرہم پٹی کریں گے اور دعا گو ہوں کہ خدا اس آزمائش سے سرخرو کرے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی یہ گمان کیا ہے کہ آپ کے ساتھ وہی کچھ ہو سکتا ہے جو کہ پاکستان کے بہت سے نوجوانوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔ آپ کو فیس بک یا سوشل میڈیا کے کسی اور ذریعہ سے کسی لڑکی کا پیغام ملتا ہے۔ پھر اسی ذریعہ سے دوستی اور باہمی اعتماد میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اور پھر کسی منحوس روز آپ کو کوئی قابل اعتراض مواد یا ویڈیو موصول ہو گی اور شیئر کرنے کی التجا کی جائے گی اور شاید آپ معصومیت میں اسے شیئر بھی کر دیں۔ اور پھر یہ جھانسا دیا جائے گا کہ نہایت اعلیٰ درجہ کی ایک نوکری آپ کی منتظر ہے۔ یا سپین سے واپس آنے والی ایک خاتون آپ سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے آپ فلاں مال میں یا کسی اور مقام پر پہنچ کے اپنی خوش بختی کی کنجی حاصل کر لیں۔
جب آپ وہاں پہنچیں گے تو کچھ بد معاش آپ کو دبوچ کر ایک گاڑی میں ڈال کر لے جائیں گے اور آپ کا موبائل بھی ضبط کر لیا جائے گا۔ اور کسی کمرے میں بند کر کے آپ کی اتنی مار پیٹ کی جائے گی کہ آپ ایک سادہ کاغذ پر دستخط بھی کر دیں گے۔ اس کے بعد یہ پکا پکایا پکوان ایف آئی اے کے حوالے کر دیا جائے گا اور آپ پر توہین مذہب جیسے الزامات پر مقدمہ قائم کر دیا جائے گا۔ اور اس الزام کے بعد کون سا جیوٹ وکیل آپ کا مقدمہ لڑے گا؟
یہ کسی کالم نگار یا کسی صحافی کے لگائے ہوئے الزامات نہیں ہیں۔ دل تھام کر سنیں کہ خود حکومت پاکستان کے قائم کردہ ادارے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹ پاکستان نے اپنی تازہ رپورٹ میں یہ انکشافات شائع کیے ہیں۔ اس رپورٹ کے صفحہ 1 پر یہ ہولناک انکشاف کیا گیا ہے :
”تحقیقات کے نتیجہ میں یہ تشویشناک رجحان سامنے آیا کہ بلاسفمی کے مقدمات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے اکثر کا آغاز ایف آئی کے سائبر کرائم یونٹ نے کچھ نجی گروہوں کے ساتھ مل کر کیا تھا۔ نوجوانوں کو پھنسانے کے لئے یہ طریقہ کار استعمال کیا گیا کہ بعض خواتین نے فرضی ناموں سے رابطہ شروع کیا تاکہ انہیں ورغلا کر میڈیا پر ان سے بلاسفمی پر مشتمل حرکات کرائی جائیں، جن کی بنا پر انہیں بعد میں گرفتار کیا جا سکے۔ یہ طریقہ واردات، جس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان مقدمات میں سرکاری اداروں اور نجی گروہوں کے کردار کا جائزہ لیا جائے۔“ (ترجمہ از مصنف )
پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ اسی رپورٹ کے مطابق 2020 میں گیارہ افراد کو بلاسفمی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اگلے سال یہ تعداد نو تھی۔ 2022 میں 64 افراد اس الزام میں گرفتار ہوئے۔ 2023 میں ان بد نصیبوں کی تعداد 475 تھی اور اس سال صرف جولائی کے مہینے تک 767 افراد بلاسفمی کے الزامات میں گرفتار کیے گئے۔ ان میں نصف سے زائد واقعات پنجاب میں ہوئے ہیں۔ ان ملزمان میں سے 96 فیصد مسلمان ہیں۔ اور اکثر کی عمر بیس اور تینتیس برس کے درمیان تھی۔
کیا اس کمیشن نے اب سے پہلے حکومت کو ایسے واقعات کی اطلاع دی تھی یا حکومتی اداروں پر بھی یہ خبر بم کی طرح گری ہے؟ اس کے بارے میں اس رپورٹ کے صفحہ 4 پر اس بات کا ماتم کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے ہم حکومت کو اطلاع دے رہے ہیں کہ ایک سرکاری ایجنسی اور ایک نجی ٹولا مل کر نوجوانوں کو اس طرح بلاسفمی کے الزام میں پھنسا رہا ہے اور مناسب تحقیقات اور ضابطہ کار کی پیروی کے بغیر شہریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ان کے سروں پر سزائے موت کی تلوار لٹکا دی جاتی ہے۔
لیکن ایک سال کی اپیلوں کے باوجود حکومت نے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے۔ اس کمیشن نے ایف آئی اے کے حکام سے مل کر یہ سوالات اٹھائے کہ کیا ان کے علم میں نہیں ہے کہ چار پانچ خواتین اس طرح کا مواد کچھ نوجوانوں کو بھجوا کر انہیں پھنسا رہی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کیا کبھی ان خواتین کے خلاف بھی کوئی کارروائی کی گئی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس کمیشن کی تحقیقات کے مطابق ایف آئی اے کے بنائے گئے بلاسفمی کے تقریباً سارے مقدمات میں ایک ہی گروہ شکایت درج کرانے کا کارنامہ سرانجام دیتا رہا ہے۔ یہ صورت حال شفاف تحقیقات اور منصفانہ قانونی عمل کا فوری تقاضا کرتی ہے اس لئے مجبور ہو کر اب کمیشن ان حقائق کو عوام کے سامنے لے کر آ رہا ہے۔
اس قسم کی اکثر گرفتاریاں غیر سرکاری افراد نے اپنی پرائیویٹ گاڑیوں میں کیں اور اس کے بعد اغوا کیے جانے والوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اور پھر انہیں باقاعدہ طور پر ایف آئی اے کے تحویل میں دیا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ اس بارے میں اس رپورٹ کے صفحہ 10 پر لکھا ہے :
”جو لوگ ان گرفتاریوں میں ملوث تھے اور ان کے روابط اتنے با اثر لوگوں سے تھے کہ انہوں نے وکیلوں پر بھی دباؤ ڈالا، اور وہ مقدمات کی سماعتوں میں شامل ہو کر ججوں پر اثر انداز ہوئے، اور اسی گروہ نے ملزمان کے خاندانوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان سے تعلقات ختم کر دیں۔“
پھر صفحہ 12 پر اس منظم ٹولے کے بارے میں لکھا ہے :
”یہ ٹولا بہلا پھسلا کر اور کرایہ دے کر لوگوں کو لاہور بلاتا رہا اور اگر وہ اس پر راضی نہ ہوتے تو ان سے کراچی یا سکھر میں ملاقات کی جاتی۔ لڑکیاں لوگوں کو فحش ویڈیو یا بلاسفمی پر مشتمل مواد مہیا کر کے اس بات پر آمادہ کرتیں کہ وہ انہیں سوشل میڈیا پر ان گروپوں پر شیئر کریں جو اس ٹولے کے اپنے ہی بنائے ہوئے تھے۔ ایف آئی اے سے وابستہ کچھ اہلکار اس نجی ٹولے سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے یہ ٹولا دھڑلے سے اپنی کارروائیاں چلا رہا ہے۔“
اس رپورٹ کو منظر عام پر آئے کئی روز گزر گئے۔ کتنے چینلز پر کتنے دبنگ قسم کے اینکرز نے اس کو موضوع بحث بنانے کی جسارت کی۔ سینٹ یا قومی اسمبلی میں اس بارے میں کتنے سوالات اٹھائے گئے؟ وکلا کی کتنی تنظیموں نے اس پر اظہار تشویش کیا؟ حکومت کے کتنے وزراء نے اس اہم معاملے پر قوم کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ اور رہے ہمارے محترم وزیر اعظم تو اکثر اہم معاملات پر ان کا رد عمل یہی ہوتا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ایک اور فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ اسے بہت کم مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ 5 نومبر کو جب جوڈیشنل کمیشن کے پہلے اجلاس کی وجہ سے پورے ملک میں ایک ہیجان کی کیفیت تھی، اس روز بھی وزیر اعظم صاحب نے نہایت استقلال سے دو فلائی اوورز کا سنگ بنیاد رکھا اور یہ اعلان کیا کہ یوں تو ایف نائن کا منصوبہ کئی ماہ میں مکمل ہوتا لیکن وزیر داخلہ کی کاوشوں سے یہ سو روز میں مکمل ہو جائے گا۔
مجھے ذاتی طور پر ان فلائی اوورز پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جب حکومت کا قائم کردہ ایک کمیشن خود ایک سرکاری ادارے کے بارے میں اس قسم کے سوالات اٹھا رہا ہو تو مناسب ہو گا اگر وزیر اعظم صاحب اور ملک کے وزیر داخلہ تعمیراتی منصوبوں سے توجہ ہٹا کر ان مسائل کا بھی جائزہ لیں اور قوم کو اس بارے میں وضاحت پیش کریں کہ ان کے ماتحت اداروں پر لگائے گئے یہ الزامات درست ہیں کہ نہیں۔ سرکاری ادارے اہل پاکستان کے ٹیکسوں پر چلتے ہیں۔ اور اگر یہی ادارے اس طرز پر پاکستان کے شہریوں پر مقدمات قائم کرنے لگ جائیں تو یہ ایسا ہی ہو گا کہ اگر کوئی شخص آپ کے گھر میں رات کو داخل ہو کر لوٹ مار کرے اور اس کے ساتھ ساتھ جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنائے اور پھر آپ ہی کو بل بھجوا دے کہ جس روز میں آپ کے گھر چوری کے لئے آیا تھا، آنے جانے پر اتنا پٹرول خرچ ہوا تھا۔ براہ مہربانی فوری طور پر یہ بل ادا کر کے ممنون فرمائیں۔



میری دانست میں اداروں یا وزیر اعظم سے توقع باندھنے کی بجائے چند تحریریں متعدد جگہوں پر چھاپی جائیں جن میں لوگوں کو مشتری ہوشیار باش کیا جاسکے۔
ہنی ٹریپ کے بعد اس میں صرف توہین مذہب ہی نہیں ۔۔۔لوگ اپنے مال سے ہاتھ دھو بیٹھ سکتے ہیں اور اس سے بھی زہادہ خطرناک بات یہ بھی ہے کہ دہشت گردی اور مالیاتی جرائم کرنے کا شکار بھی بن سکتے ہیں۔
ایسے معاملات کی ویڈیوز بھی بلاگرز کو کہا جائے کہ وہ ان کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کریں۔
اور ریل اور ٹک ٹاک وغیرہ کو بھی اس میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ رات کے کسی پہر سنسان سڑک پر کسی مصیبت کے مارے کی مدد کرنے سے بھی گریز کرنا پڑتا ہے۔
کیا تھے ہم اور کیا ہوچکے ہیں۔
پنڈی، کراچی اور لاہور کے لوگوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیوں کہ انڈین میڈیا کی طرف سے پاکستان میں ٹورنامنٹ نہ کھیلنے کے غیر سرکاری اعلان کے بعد پاکستان کے ان تین شہروں میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ جائیں گے جیسے آج کوئٹہ میں ہوا اور مجھے نہیں لگتا پاکستان میں یہ ٹورنامنٹ ہوپائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم سے اپنا آپ سنبھلتا نہیں اور ہم اتنے بڑے پنگے لینے کو تیار بیٹھے ہیں۔
ملک کی سب سے اہم وزارت داخلہ ہے نا کہ خزانہ اور اس وقت آپ کی تحریر پڑھ کہ پتہ چلا کہ وزیر داخلہ اپنی نگرانی میں اسلام آباد میں فلائی اوور سو دن میں مکمل کروائیں گے۔ سمجھ نہیں آتی رویا جائے یا ہنسا جائے !
وزیر داخلہ ابھی بھی اگر پاکستان میں دہشت گردی کو روکنا چاہتے ہیں تو انا کو ساائیڈ پر رکھیں اور انڈیا کو آفر کریں کہ جناب دوبئی بھی نہیں آپ امرتسر یا دہلی میں اپنے میچ کھیل لیں۔ ہم بھی آجائیں گے۔ اس طرح ان کی برف بھی کچھ پگھل جائے گی۔ وگرنہ یاد رکھیں ہمیں اس ٹورنامنٹ کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔