ادب کا تاریخ سے تعلق: تاریخ کیا ہے؟


تاریخ کیا ہے؟ بظاہر یہ بڑا آسان سوال محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں بڑا مشکل سوال ہے یقین نہ آئے تو دو چار حضرات سے پوچھ لیجیے آپ کو ایک ہی سوال کے مختلف جواب ملیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سب کے جوابات بھی ایک دوسرے سے تضاد رکھتے ہوں۔ تاریخ کسی کے لیے ماضی کی بے معنی کہانی، سلطنتوں کے عروج و زوال کے قصے، درباروں کے جاہ چشم کی کہانی، اقتدار کی کشمکش اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی تفصیل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اپنے اندر یہ سب سموئے ہوئے ہونے کے باوجود ان میں سے کوئی ایک موضوع پر موقوف نہیں۔ پھر تاریخ کیا ہے؟ یہ سوال جب ذہن کی سطح سے فکر کی گہرائی تک پہنچتا ہے تو کشمکش کی ایک طویل کہانی بن جاتا ہے۔ ای ایچ کار اپنی کتاب what is history میں اس خیال کا بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”یہ صحیح ہے کہ مورخ کے لیے واقعات بڑی اہمیت رکھتے ہیں لیکن یہ بذات خود تاریخ نہیں بناتے۔“

ہسٹری دراصل ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنی تحقیق تلاش اور تجسس کے ہیں۔ یونانی مؤرخ فلسفی ڈیونیسیس نے تاریخ کو ایسا فلسفہ قرار دیا ہے جو قانون کے ذریعے واضح کیا جاتا ہے لیکن ارسطو کا خیال اس سے کچھ مختلف ہے وہ لکھتا ہے کہ ”تاریخ مسلسل تحقیق کے ذریعے ماضی کے حقائق کی تصحیح ہے۔“

فرانسس بیکن کے بقول تاریخ وہ مضمون ہے جو قاری کے ذہن کو روشنی بھی دیتا ہے اور اسے فکر بھی، گہرائی بھی عطا کرتا ہے۔

ادب کی تعریف اسی طرح مشکل ہے جیسے دوسرے فنون کی۔ میتھو آرنلڈ کے بقول ”ہر وہ علم جو کتاب کے ذریعے ہم تک پہنچے ادب قرار دیتے ہیں۔“

Walter pater کا خیال ہے کہ ”ادب واقعات یا حقائق کو صرف پیش کرنے کا نام نہیں بلکہ ادب کہلانے کے لیے اظہار بیان کا تنوع ضروری ہے۔“

ادب چونکہ لفظوں کی ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے اور ان لفظوں میں فکر و جذبہ بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ لفظوں کے ذریعے جذبے، احساس یا فکر و خیال کے اظہار کو ادب کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تعریف ہے جس کے کم و بیش ہر وہ بات جس کے کسی جذبے، احساس یا فکر کا اظہار ہوتا ہے جو منہ یا قلم سے نکلے ادب کہلائے گی لیکن ہر وہ بات جو منہ سے نکلتی ہے یا ہر وہ بات جو قلم سے ادا ہوتی ہے ادب نہیں ہے۔ عام طور پر اخبار میں کالم یا اداریئے ادب نہیں کہلاتے حالانکہ ان میں بھی الفاظ ہوتے ہیں اور اثر و تاثیر کی قوت بھی۔ ہم سب خطوط لکھتے ہیں لیکن ہمارے خطوط ادب کے ذیل میں نہیں آتے اس کے بر خلاف غالب کے خطوط ادب کے ذیل میں آتے ہیں۔ ان کے فرق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ادب ایسی تحریر کو کہا جا سکتا ہے جس میں الفاظ اس ترتیب و تنظیم سے استعمال کیے گئے ہوں کہ پڑھنے والا اس سے لطف اندوز ہو اور اس کے معنی سے مسرت حاصل کرے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب لفظ و معنی اس طرح گھل مل گئے ہوں کہ ان میں رس پیدا ہو گیا ہو یہ ہی رس کسی تحریر کو ادب بناتا ہے۔

ادب ایسا اظہار ہے جو زندگی کا شعور و ادراک حاصل کرنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، ادب میں انسان کے تخلیقی کے تجربے کو ابھارنے کی ایسی زبردست قوت ہوتی ہے کہ پڑھنے والا اس کے تجربے کا ادراک کر لیتا ہے۔ ادب کے ذریعے ہم زندگی کا شعور حاصل کرتے ہیں یہ ادب کا خاص منصب ہے۔ آپ چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ ادب ایسا جھوٹ ہے جو ہمیں سچائی کا نیا شعور عطا کرتا ہے اور اسی لیے اب تک انسان اور انسانی معاشرہ زندہ اور باقی ہے۔ ہمیں ہوا کی طرح ادب کی بھی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی ادب آزادی کی روح کا اظہار ہے۔ ادب سچائی کی تلاش کا موثر ذریعہ ہے لفظ چونکہ ہر دوسرے میڈیم سے زیادہ طاقتور چیز ہے اس لیے ادب ہر دوسرے فنون لطیفہ سے زیادہ موثر ہے۔

ادب اور تاریخ کا تعلق بہت گہرا اور اہم ہے۔ ادب نہ صرف انسانی تجربات اور احساسات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ تاریخی واقعات، تحریکات اور معاشرتی تبدیلیوں کی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ دونوں شعبے انسانی اور معاشرتی تبدیلیوں عکاسی کرتے ہیں مگر مختلف زاویوں سے۔ تاریخ وقت کے مخصوص ادوار اور واقعات کی تفصیلات کو مرتب کرتی ہے جبکہ ادب ان ادوار کے انسانی جذبات، احساسات، اور تجربات کو پیش کرتا ہے۔ ادب اور تاریخ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ادب ماضی کے واقعات کو زندگی بخشتا ہے اور تاریخ کو ایک پس منظر فراہم کرتا ہے۔

ادب تاریخ کی عکاسی اور تاریخ کو زبان بخشتا ہے۔ ادب اکثر تاریخی واقعات اور حالات کی تفصیلات کو کہانیوں، ناولوں اور شاعری کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر تاریخی ناول اور کہانیوں ماضی کے واقعات کو زندہ کرتے ہیں اور ان میں لوگوں کے مصائب، کامیابیاں اور جذبات شامل ہوتے ہیں۔ ادب میں شامل مختلف تحریکات اور رجحانات اکثر ان تاریخی تناظرات کی عکاسی کرتے ہیں جن میں وہ تخلیق کی گئی تھی مثال کے طور پر رومانیت جیسی ادبی تحریک نے انیسویں صدی کی صنعتی تبدیلیوں اور معاشرتی بے چینی کے دوران جذبات اور انفرادی آزادی کو اجاگر کیا۔ اسی طرح بیسویں صدی کی جدیدیت ( ماڈرنزم ) نے عالمی جنگوں اور ان کے اثرات کی عکاسی کی اور ان احساسات کو پیش کیا جو اس دور میں لوگوں نے محسوس کیے۔

بعض اوقات ادب خود ایک تاریخی دستاویزات کی حیثیت رکھتا ہے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے، غالب کی غزلیں یا منٹو کی کہانیاں نہ صرف اپنے وقت کے ادبی شاہکار ہیں بلکہ اپنے زمانے کی معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی حالات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ تاریخی واقعات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ادب ایک اہم ذریعہ ہو سکتا ہے مثلاً وار اینڈ پیس جیسا ناول ہمیں نپولنک جنگوں کے اثرات کو اسی روسی معاشرت پر دکھاتا ہے۔ اور آرچیبالڈ میکیلش کی نظمیں ہمیں پہلی جنگ عظیم کی تباہیوں کا احساس دل سے تجربے کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ادب میں اکثر مشہور تاریخی شخصیات کی عکاسی کی جاتی ہے اور ان کے بارے میں تخلیقی تحریریں لکھی جاتی ہیں۔ ان تحریروں سے ہمیں ان شخصیات کی زندگی کے غیر معروف پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے مثال کے طور پر ولیم شیکسپیئر کے ڈرامے ”جولیس سیزر“ میں رومی تاریخ کی ایک پیچیدہ سیاسی صورتحال کو جذباتی اور تخلیقی انداز میں بیان کیا اسی طرح صادقین کی غزلوں میں ماضی کی شخصیات اور تاریخی واقعات کے بارے میں شاعرانہ تعبیرات ملتی ہیں۔ ایک شاعر یا ادیب اپنے معاشرتی اور ثقافتی تجربات کو الفاظ میں ڈھال کر اس دور کی یادداشت کو محفوظ کرتا ہے اسی طرح ادب ایک قوم کی تاریخ اور ثقافت کو نسل در نسل منتقل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے مثلاً فیض احمد فیض کی شاعری نے پاکستان میں سیاسی تحریکوں اور آزادی کی جدوجہد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ جہاں ادب کا دائرہ بہت وسیع ہے وہیں تنقید بھی جنم لیتی ہے یہاں اردو ادب کے مختلف تاریخی ناولوں کا ذکر کیا گیا ہے جس سے ادب اور تاریخ کا تعلق مزید گہرا نظر آئے گا۔ ان ناولوں نے تاریخ کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مختلف دور کے سیاسی، سماجی حالات کو دکھایا ہے۔ اردو ناول کی تنقید کا مقصد صرف کہانی یا پلاٹ کو پرکھنا نہیں بلکہ اس کے مختلف پہلوؤں کا گہرائی سے تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ تنقید کی مدد سے ہمیں ناول کے کردار، اسلوب، سماجی اور ثقافتی حوالوں، اور مصنف کے خیالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ناول کی تنقید ایک طرح سے ادبی تحریروں کا آئینہ ہوتی ہے، جو ہمیں اُس دور اور اُس مخصوص معاشرتی پس منظر کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے جس میں ناول لکھا گیا ہو۔ اردو ادب میں ناول کی تنقید نے ادب کو نئے زاویے سے دیکھنے کا راستہ فراہم کیا ہے، اور اس سے مصنفین کی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر طور پر جانچنے کا موقع ملتا ہے۔

دارا شکوہ قاضی عبدالستار کا ایک تاریخی ناول ہے جس نے اسلامی و ہندو فلسفے کو قریب لانے کی کوشش کی، جبکہ اس کے بھائی اورنگزیب نے اقتدار اور مذہبی شدت پسندی کو ترجیح دی۔ ان دونوں کے درمیان نظریاتی اختلافات نے مغل سلطنت کو خانہ جنگی اور فرقہ واریت کی طرف دھکیل دیا۔ دارا کی شکست اور موت نے ہندوستان کی تاریخ میں رواداری کے دور کا اختتام اور شدت پسندی کے عروج کا آغاز کیا۔

ناول دلی کی شام از احمد علی انیسویں صدی کی دہلی کو زندہ کرتا ہے، جب مغل سلطنت کا زوال ہو رہا تھا اور برطانوی اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس دور میں دلی کی ثقافت، شاعری، اور رسوم میں ایک نرمی اور شائستگی تھی، مگر برطانوی قبضے نے یہاں کے روایتی نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ یہ ناول برصغیر کے اُس تہذیبی دور کو یاد کرتا ہے جو نوآبادیاتی اثرات کے باعث ہمیشہ کے لئے تبدیل ہو گیا۔

اداس نسلیں عبداللہ حسین کا ایک اہم تاریخی اور سماجی ناول ہے جس میں برصغیر کی جدوجہدِ آزادی اور اس کے پس منظر میں عام انسانوں کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔ اداس نسلیں کا تاریخی پس منظر برطانوی راج، عالمی جنگوں اور برصغیر کی آزادی کی جدوجہد سے جڑا ہے۔ انگریزی سامراج کے دور میں برصغیر کے لوگ معاشرتی اور اقتصادی جبر کا شکار تھے، اور انہیں اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑیں۔ اس ناول میں عبداللہ حسین نے تقسیم سے پہلے کے ہند و پاک کے حالات اور آزادی کے بعد کی تلخ حقیقتوں کو حقیقی اور دلگداز انداز میں بیان کیا، اور ایک ایسی نسل کی کہانی سنائی جو اپنی شناخت اور آزادی کی تلاش میں ”اداس نسل“ بن گئی۔

ملک العزیز عبدالحلیم شرر کا ایک مشہور تاریخی ناول ہے جو ایک نئی اسلامی ریاست کی تشکیل اور اس کے بنیادی اصولوں پر مرکوز ہے۔ یہ ناول مغل دور کے زوال اور برصغیر کے مسلمانوں کی زندگیوں کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ان کی ثقافت، روایات، اور حکومتی نظام کی تبدیلیوں کو۔ اس میں تاریخی کرداروں کے ذریعے مسلم معاشرے کی روح اور ان کے عزم و ہمت کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ ملک العزیز کا تاریخی پس منظر برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد اور مغل سلطنت کے زوال کے دور میں ہے، جب انگریزی سامراج نے اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنے کے لئے مسلم ثقافت اور شناخت کو خطرے میں ڈال دیا۔ یہ ناول اس وقت کی تاریخی حقیقتوں کو پیش کرتا ہے جب مسلمانوں نے ایک نئی سیاسی اور سماجی شناخت کی تلاش میں قدم رکھا۔ عبدالحلیم شرر نے اس ناول کے ذریعے مسلمانوں کی روایات، ان کے عقائد، اور ان کی تاریخی عظمت کو اجاگر کیا ہے، جس سے قاری کو ایک ایسی نئی ریاست کی بنیاد کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے جو اسلامی اصولوں پر قائم ہو۔

قرۃ العین حیدر کے آگ کا دریا میں تاریخ کو محض ایک پس منظر کے طور پر نہیں بلکہ کہانی کو ایک متحرک عنصر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ناول میں قدیم ہندوستان، مغلیہ دور، برطانوی تسلط اور تقسیم ہند کے بعد کے اثرات کو نہایت باریک بینی سے دکھایا گیا ہے جس میں ایک وقت کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔ قرۃ العین نے اس ناول میں علم ناکی کو بھی اجاگر کیا ہے اور یہ بھی دکھایا ہے کہ تاریخ کیسے انفرادی اور اجتماعی شناختوں کو بدلتی ہے۔

ادب اور تاریخ کا تعلق صرف ماضی کی حد تک محدود نہیں یہ تعلق ہمیں مستقبل کی تشکیل میں بھی مدد دیتا ہے ایک ادیب ماضی کے تجربات اور تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کے خطرات اور امکانات کی پیشگوئی کر سکتا ہے مثلاً جارج اورویل کا ناول 1984 ہمیں مستقبل کی آمریتوں اور ان کے نتائج کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔

ادب اور تاریخ کا آپس میں گہرا تعلق ہے، کیونکہ ادب میں انسانی تجربات، جذبات اور خیالات کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ تاریخ واقعات اور حقائق کا مجموعہ ہے۔ ادب تاریخ کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ ادب میں مختلف دور کے ثقافتی، سماجی اور سیاسی حالات کی جھلک نظر آتی ہے۔ کسی دور کے ادب کو پڑھ کر اُس زمانے کے لوگوں کے خیالات، طرزِ زندگی اور مسائل کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ادب تاریخ کی تشریح اور تکمیل کا ذریعہ بن جاتا ہے اور تاریخ ادب کو گہرائی اور مقصد فراہم کرتی ہے۔

Facebook Comments HS