امریکی صدارتی انتخاب: اندازوں سے حقائق تک


جون 2024 ء میں ہمارا مضمون بعنوان ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخاب 2024 ء میں جیت کے امکانات ’ہم سب‘ میں شائع ہوا۔ ہر سیاسی کارکن کی طرح راقم کو بھی ”سیاسی جوتش“ کا شوق ہے۔ مذکورہ مضمون میں ہم نے کچھ تاریخی حقائق کی بنیاد پر جناب ٹرمپ کی انتخاب میں جیت کے امکانات کو مسترد کر دیا تھا۔ حالیہ دنوں میں انتخابات کا عمل تقریباً مکمل اور حقائق افشا ہو چکے ہیں یعنی جناب ٹرمپ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ ان گزرے پانچ ماہ میں ہم نے روزانہ کی بنیاد پر امریکی انتخابی عمل کو جانچنے کی کوشش کی۔ ان کوششوں میں ملکی اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس، صدارتی امیدواروں کے باہمی مکالموں کو غور سے سننا اور اپنے سیاسی دوستوں سے تبادلہ خیال وغیرہ شامل تھا۔ چونکہ ہم نے ان انتخابات کے متعلق پیش گوئی کر دی تھی اس لیے ہمیں ہمہ وقت یہی خدشہ لاحق رہا کہ کہیں ایسا ویسا نہ ہو جائے۔ مگر ہونی ہو کر رہتی ہے اب صورتحال یہ ہے ہمارے قریبی دوستوں نے ہماری سیاسی جوتش پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ’ہم سب‘ کے قارئین کی خاصی تعداد نے بھی مذکورہ مضمون کو دیکھا تھا اس لیے ممکن ہے کہ ان کا دل بھی دکھا ہو۔ ہمارے لیے اب ضروری ہو گیا ہے کہ اپنے ناکام سیاسی تجزیہ کی مناسب توجیہہ پیش کر کے جان بخشی کی درخواست دائر کر دی جائے۔

انتخاب سے ایک دن پہلے تک جناب ٹرمپ کی جیت پر کوئی فیصلہ کن رائے کم از کم راقم کی نظر سے نہیں گزری۔ البتہ پاکستان سمیت دنیا کے دوسرے مستند غیر ملکی سیاسی تجزیہ کاروں نے بی بی کملا ہیرس کی جیت کے حق میں رائے دی تھی۔ ان بڑے بڑے سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے اگر الٹ سکتی ہے تو ان کے سامنے راقم کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔

الیکشن کے نتائج کے فوری بعد تو پھر پوری دنیا نے جناب ٹرمپ کی جیت پر تجزیے شروع کر دیے کہ ٹرمپ کو عورتوں، سیاہ فام باشندوں، نوجوانوں اور تارکین وطن نے بھی زیادہ سے زیادہ ووٹ دیے اور بھاری اکثریت اور بے پناہ عوامی پذیرائی اور مقبولیت میں اضافہ، تبدیلی، جمہوریت وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام دیکھ اور سن کر ہمیں ذاتی طور پر بہت افسوس ہوا کیونکہ الیکشن کے نتائج ان تمام باتوں کے برعکس ہیں۔

جناب ٹرمپ نے 2016 ء کے الیکشن میں 6 کروڑ 30 لاکھ ووٹ، 2020 ء کے الیکشن میں 7 کروڑ 42 لاکھ اور 2024 ء میں 7 کروڑ 43 لاکھ عوامی ووٹ حاصل کیے۔ گزشتہ الیکشن کی نسبت سے اس دفعہ جناب ٹرمپ محض ایک لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کر سکے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں جناب ٹرمپ کی بے پناہ مقبولیت میں اضافہ کی حقیقت تو عیاں ہو جانی چاہیے۔

جبکہ دوسری طرف 2016 ء کے الیکشن میں ہیلری کلنٹن نے 6 کروڑ 60 لاکھ، 2020 ء میں جناب جو بائیڈن نے 8 کروڑ 13 لاکھ اور 2024 ء کملا ہیرس نے 7 کروڑ 4 لاکھ عوامی ووٹ حاصل کیے۔ گزشتہ الیکشن کی نسبت اس دفعہ کملا ہیرس کی پارٹی نے ایک کروڑ 9 لاکھ ووٹ کم حاصل کیے۔ امریکی الیکشن کے تناظر میں حاصل شدہ ووٹوں میں اتنی بڑی کمی کی وجوہات پر خاصی ریسرچ ہونی چاہیے۔

ان اعداد و شمار سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حقیقی معنوں میں جناب ٹرمپ یا ریپبلکن پارٹی کی جیت نہیں ہے بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہار ہے۔ یہاں سوال صرف ایک ہی اٹھتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹ میں آخر اتنی زیادہ کمی کیونکر واقع ہوئی۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ پاکستانی میڈیا الیکشن کے نتائج کی رپورٹنگ اور تجزیے الیکٹورل ووٹوں کی بنیاد پر کرتا رہا جس سے عام سیاسی کارکن یا شہری یہ سمجھنے لگا ہے کہ ہر امریکی صدر شاید الیکٹورل کالج سے ہی منتخب ہوتا ہے۔

پاکستان میں سیاسی تجزیے سازشی تھیوریوں، پسند، ناپسند، ستاروں کی چال اور ذاتی خواہشات کے تابع کیے جانے کا عام رواج ہے لیکن حقیقی سیاسی تجزیہ کار عام طور استقرائی اور استخراجی منطق یا Inductive and deductive Logic کے اصولوں کے تحت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2020 ء کے الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی یا جناب جو بائیڈن نے 8 کروڑ 13 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ گزشتہ دس امریکی الیکشن کی تاریخ میں جیتنے والے امیدوار اوسطً 50 لاکھ ووٹوں کی برتری ہی حاصل کرتے رہے ہیں۔ یہاں ہم کہہ سکتے ہیں 50 لاکھ ووٹ اگر ادھر ادھر ہو جائیں تو حتمی نتائج بھی الٹ پلٹ ہو سکتے ہیں۔ اگر اس منطق سے دیکھا جائے تو اگر مختلف وجوہات کی وجہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹوں میں 50 لاکھ کی کمی ہو بھی جاتی تب بھی کملا ہیرس آج امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہوتیں۔

یہ بات تو مستند ہو گئی کہ ٖڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹ بینک میں ایک کروڑ کی کمی واقع ہوئی۔ یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے یہ ووٹ آخر گیا کہاں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ووٹ جناب ٹرمپ کو مل گیا ہو لیکن ایسا بھی نہیں ہوا کیونکہ جناب ٹرمپ کے ووٹ بینک میں اضافہ ایک لاکھ ووٹوں کا ہی ہے اور یہاں معاملہ ایک کروڑ سے زیادہ ووٹوں کا ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ کایا کلپ مسلم ووٹوں نے کی۔ یہ تاثر عام ہے کہ امریکہ میں مسلم ووٹ بہت زیادہ تعداد اور اہمیت رکھتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ مسلم ووٹروں کی کل تعداد محض 15 سے 16 لاکھ کے درمیان ہے۔ فرض کریں یہ ووٹر جو بائیڈن کی اسرائیل دوست پالیسی کی وجہ سے ناراض ہو کر ادھر ادھر ہو گیا ہو مگر ایسا بھی نظر نہیں آتا۔

ہمارے خیال میں ”جو بائیڈن فیکٹر“ کو دیکھنا ضروری ہے۔ جناب اوبامہ نے اپنے دو ادوار میں پہلی بار 6.95 کروڑ اور دوسری بار میں 6.60 کروڑ ووٹ حاصل کیے۔ میڈم ہیلری نے 2016 ء میں 6.59 کروڑ ووٹ حاصل کیے۔ اس کے بعد کی ٹرم میں جناب جو بائیڈن نے 8.13 کروڑ ووٹ حاصل کیے اور حالیہ الیکشن میں کملا ہیرس نے 7.04 کروڑ ووٹ حاصل کیے۔ ان پانچ باریوں میں سب سے زیادہ ووٹ جناب جو بائیڈن نے ہی حاصل کیے تھے۔ ان کے علاوہ باقی چار ادوار میں صورتحال تقریباً ایک جیسی ہی ہے۔

جناب جو بائیڈن شاید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ طویل عرصہ تقریباً 60 سال متحرک سیاست کرنے والے سیاست داں ہیں یا تھے۔ ووٹ بینک سال ہا سال بنتے بنتے بنتا ہے۔ حالیہ انتخاب میں وہ خاصے تگڑے امیدوار تھے اور میدان میں بھی اترے لیکن ان کی پارٹی فضول باتوں کہ ( وہ سیڑھیوں سے پھسل گئے اور صدارتی مکالمہ کے دوران سو گئے وغیرہ) سے ناصرف پھسل گئی بلکہ بہہ گئی۔ سیڑھیوں سے پھسل جانا یا گر جانا کوئی بڑی بات نہیں ہم سب ہی زندگی میں دوچار دفعہ سیڑھیوں سے ضرور پھسلتے ہیں۔ جناب جو بائیڈن مزاجاً نستعلیق آدمی تھے سخت بات بھی طریقے سلیقے سے کرتے تھے۔ مکالمہ کے درمیان سونے سے ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ انہوں نے مخالف امیدوار کی باتیں نہیں سنیں۔ اس عمر میں بندے کو بستر پر بھی نیند نہیں آتی بھلا مکالمے کے دوران، کیمروں اور دنیا کے سامنے نیند کیسے آ سکتی ہے سوچنے والی بات ہے۔ بس پھر کیا تھا ان کی پارٹی کے اندر با اثر موقع پرستوں کو موقع مل گیا کہ انہیں اس دوڑ سے باہر کر کے اپنے لیے زمین ہموار کی جائے۔ اس مہم میں کملا پیش پیش تھیں۔ جناب بائیڈن نے پارٹی کو سمجھانے اور حوصلہ دینے کی بڑی کوشش کی مگر کہتے ہیں کہ پھسلنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ ہماری رائے میں کملا کو صبر کرنا چاہیے تھا اور جناب بائیڈن کے ساتھ ہی نائب صدارت کا انتخاب جیت کر مستقبل میں اپنی صدارت کے چانس کو یقینی کرنا چاہیے تھا۔

جناب بائیڈن کو جس سستے طریقے سے صدارتی دوڑ سے نکال باہر کیا گیا اس پر راقم درویش کو بھی افسوس ہے۔ ان کے چاہنے والے ووٹرز اور سپورٹرز کے دلوں پر کیا گزری ہو گی اس کا تصور کرنا شاید محال ہو۔

ہمارے خیال میں مسلم اور ’بائیڈن لوورز‘ نے الیکشن یا ووٹنگ میں متحرک حصہ ہی نہیں لیا اور کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہیں کیا۔ کملا کی ہار میں ان دو بڑے عوامل کے علاوہ اور بھی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔

اپنے الیکشن پروگرام یا وعدوں کے تحت اب جناب ٹرمپ کو چاہیے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگوں کو جلد سے جلد بند کروائیں اور یوکرائن روس کی جنگ کو بند کروا کر روسی افواج کے انخلا کو یقینی بنا کر دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں۔ اگر وہ یہ دو کام کر دیتے ہیں تو دنیا انہیں ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھے گی۔

Facebook Comments HS