افسر علی افسر۔ غزل کا مزاج شناس
نوے کی دہائی میں خطہ ملتان سے جو نئے لکھنے والے سامنے آئے، ان میں کئی نام اب ہماری شاعری کا معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔ ویسے تو نئے سے نئے تخلیقی اذہان طلوع ہوتے رہتے ہیں مگر بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو آگے چل کر اپنے نقوش کچھ ایسے ثبت کرتے ہیں کہ ان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا اور وہ رد و قبول سے بے نیاز کئی دہائیوں پر محیط سفر کے تسلسل سے اپنی تخلیقی شخصیت کی پہچان کرانے میں کامیاب رہتے ہیں۔
افسر علی افسر ایسی ہی روشن مثال ہیں جنہوں نے یکسوئی سے اپنے آپ کو شعر و فن کے لیے وقف رکھا۔ قبولیت و مقبولیت اور لمحاتی و تقریباتی واہ واہ کی بجائے تخلیقی عمل کو تقدیس اور ارفع تہذیبی قدر کا درجہ دیا۔
افسر علی افسر اپنے شعری رویہ میں غزل کی روایت سے جڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں عشق، محبت، ہجر و انتظار جیسے آفاقی نوعیت کے شاعرانہ مضامین جا بجا ملتے ہیں۔ شاعری کی کوئی بھی زبان اور فارم ہو، ان مذکورہ موضوعات سے فرار ممکن نہیں۔ اور اگر ہو بھی تو یہ کچھ صحت مندانہ رویہ نہ ہو گا۔ سیاسی و سماجی مزاحمت، بغاوت کی بنیادوں میں بھی محبت کا چشمہ رواں ہوتا ہے۔ افسر علی افسر کے ہاں نظم سے زیادہ غزل کے مزاج سے خاص مناسبت ملتی ہے، اسی لیے ان کی غزلیات میں ”تغزل“ کو بنیادی فنی معیار کا درجہ حاصل ہے۔ لفظ ہو یا خیال، وہ کسی سطح پر بھی تصنع، کھردرا پن یا بناوٹ کو اپنی شعری حدود میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ غزل کے مزاج کو نبھانے میں افسر علی افسر کے ہاں ایک وضعدار شاعر کا سلیقہ ہی اس اجنبیت سے بچاتا ہے جو شعر کو تجرید و ابہام کی سنگلاخ راہوں پہ لے جاتی ہے۔
افسر علی افسر کے کچھ اشعار دیکھیں جہاں محبت اور اس کے متعلقات ان کے مخصوص انداز میں سامنے آئے ہیں :
اس کے بھی ہاتھ میں پیسا ہو سکتا ہے
وہ بھی ظالم دنیا جیسا ہو سکتا ہے
ہو سکتا ہے، اس کی بھی کچھ مجبوری ہو
ہو سکتا ہے، پیار میں ایسا ہو سکتا ہے
وہ صبح تک تو میرا ساتھ دے سکا لیکن
وہ شخص دن کے اجالے سے ڈر گیا ہو گا
وہ کسی اور کو چاہے ہے تو بے شک چاہے
خود کو بھی بیچ میں حائل نہیں ہونے دیتا
اس سے ملتے ہی چھوڑ دینا اسے
پھر اسے یاد عمر بھر کرنا
گھر کا کیا گھر تو بن ہی جاتے ہیں
مسئلہ تو ہے دل میں گھر کرنا
افسر علی افسر صرف محبت کی لطافتوں، رنگینیوں کا شاعر نہیں بلکہ آس پاس کی وہ دنیا بھی اس کی شاعری کے کینوس پر جگہ پاتی ہے جہاں غربت، افلاس اور مجبوریوں سے عبارت زندگی کی حقیقت پسندانہ تصویر ابھرتی ہے۔ افسر علی افسر کے یہ شعر دیکھیے :
یہاں کی دوستو چارہ گری بھی خوب ہوتی ہے
یہاں تو موت سے پہلے دوائیں مار دیتی ہیں
یہاں تو اتنی غربت میں گزارا غیر ممکن ہے
یہاں کچھ سوچ کر بچوں کو مائیں مار دیتی ہیں
افسر علی افسر کے ہاں بناوٹ کی بجائے جو خلوص بھری سادگی و سچائی کی شعری تصویریں ابھرتی ہیں، وہی اس کی تخلیقی شخصیت کی پہچان ہیں۔
میں کس سے ہاتھ ملاؤں، میں کس سے بات کروں
تمہارے شہر کا ہر شخص شاہ زادہ ہے
مرے رقیب نے دیکھا جو پھر مجھے تنہا
وہ سوچتا ہے کہ افسر تو کتنا سادہ ہے



