آغا شورش کاشمیریؒ کی یادیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
آغا شورش کاشمیری ؒ اپنی زندگی میں ہی اپنا مرثیہ خود پڑھا کرتے تھے جس کے چند اشعار پیش خدمت ہیں
الغرض یہ اس مقرر کا تھا سفر آخری
عمر بھر رہا جس کو حاصل خطیبانہ کمال
جس طرف نکلا جہاں پہنچا فضا پر چھا گیا
اس کے سر پہ تھا فروزاں سایہ ایزد تعال
دس برس تک سختیاں جیلیں بنام حریت
قید تنہائی میں کاٹے جس نے اپنے مہ و سال
شاعرانہ روپ تھا اس کی زبان کا بانکپن
اس کے لہجے سے ٹپکتا تھا ادیبانہ جمال
بات سچی دار کے تختہ پہ بھی کہتا تھا وہ
ٹوکتا کوئی اسے کسی شخص میں تھی نہ مجال
آغا شورش کاشمیری ؒ کے چند اشعار جن میں انہوں نے اپنے نام کے زندہ پائندہ رہنے کا کچھ اس انداز میں ذکر کیا ہے
ہر دور میں ہر حال میں تابندہ رہوں گا
میں زندہ جاوید ہوں تابندہ رہوں گا
تاریخ میرے نام کی تعظیم کرے گی
تاریخ کے اوراق میں آئندہ رہوں گا
انہوں نے 1974 ء میں دار العلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں تحریک ختم نبوت کے بارے میں ایک جلسہ میں مفتی محمود کی موجودگی میں درج ذیل اشعار کہے
اپنی اس تحریک میں ایسے اٹھاؤں گا شہید
جن کے مدفن کو زمین کربلا دینی پڑے
اتنا کر دوں گا میں ماؤں کی محبت بلند
دل کے ٹکڑوں کو شہادت کی دعا دینی پڑے
آغا شورش کاشمیریؒ کو آمد ہوتی تھی وہ بیٹھے بیٹھے غزل و نظم کہہ دیتے تھے یہ خوبی بہت کم شعراء کو حاصل ہوتی ہے انہوں نے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے کتاب تحریر کی جس میں انہوں نے 1891 ء سے 1974 ء تک تحریک ختم نبوت کا جائزہ لیا ہے انہیں مجاہد ختم نبوت کا خطاب دیا گیا سید عطا اللہ شاہ بخاری ؒ نے ایک جلسہ میں کہا کہ ”میں برگد کا درخت نہیں کہ میرے سایہ میں اور درخت نہیں اگ سکتا شورش میری مراد ہے میرا بڑھاپا شورش کی جوانی میں طلوع ہو رہا ہے“ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں آج تقریر نہیں کروں گا شورش کاشمیریؒ تقریر کریں گے اس کے بعد آغا شورش کاشمیریؒ نے مجمع کو سید عطا اللہ شاہ بخاری کے خطاب کی کمی نہ ہونے دی مولانا ظفر علی خان بھی آغا شورش کاشمیری کی خطابت کے معترف تھے انہوں نے فی البدیہہ یہ شعر کہا
شورش سے جو میرا رشتہ ہے ازلی
میں وقت کا رستم ہوں یہ ثانی سہراب
غالباً یہ 1975 ء کا واقعہ ہے شیخ رشید احمد، سید اصغر حسین شاہ سبزواری ایڈووکیٹ اور میں نے آغا شورش کاشمیریؒ کے ہمراہ دارالعلوم تعلیم القرآن اٹک ( جس کے مہتمم ممتاز عالم دین مولانا غلام اللہ ؒتھے ) میں جلسہ میں شرکت کی آغا شورش کاشمیری ؒ کا خطاب سننے کے لئے اٹک سے تعلق رکھنے والے نامور دانشور غلام جیلانی برق ( مصنف شہرہ آفاق کتب دو قرآن اور دو اسلام ) بھی آئے تھے تو آغا صاحب نے خاصی دیر تک عالمانہ انداز میں تقریر کی اور غلام جیلانی برق کو مخاطب کر کہا کہ یہ تقریر صرف آپ کے لئے ہے جب کہ باقی تقریر مجمع کے موڈ کے مطابق ہو گی۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور آغا شورش کاشمیری کے درمیان دوستی تھی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں تحریک ختم نبوت میں ہفت روزہ چٹان کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی جب تحریک منطقی انجام کو پہنچی تو ہفت روزہ چٹان کا ڈیکلریشن بحال کر دیا ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے پرائیویٹ سیکریٹری کے ہاتھوں ہفت روزہ چٹان کی بندش سے ہونے والے نقصان کے ازالہ کے لئے نوٹوں سے بھرا بریف کیس یہ کہہ کر ”شورش عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہونے والے نقصان کا سودا نہیں کر سکتا اپنے صاحبزادے آغا مسعود شورش اور سید اصغر حسین شاہ سبزواری ایڈووکیٹ کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹو کو واپس بھجوا دیا۔
آغا شورش کاشمیری ؒ روایتی سیاست دان نہ تھے کبھی انتخاب لڑا اور نہ ہی پارٹی ٹکٹ کی خواہش کی لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرتے لوگ ساری ساری رات بیٹھ کر ان کا خطاب سنتے۔ انہوں نے کئی بار نوابزادہ نصر اللہ کے ہمراہ بھی سفر کیا وہ جب اسلام آباد کی جانب سفر کرتے تو یاد رکھتے ان میں یہ خوبی تھی کہ تقاریر میں اپنے دوست احباب کا نام ان کی عزت بڑھانے کے لئے لیتے۔ میں ان کے ہمراہ آب پارہ اسلام آباد میں سفر کر رہا تھا تو میں نے ایک بلوچ لیڈر کے بیان کی طرف توجہ مبذول کرائی تو انہوں نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ”نواز رضا ہم نے اتنی کتب لکھ دی ہیں زمانہ ہمیں مدتوں یاد رکھے گا یہی وجہ ہے آج بھی ان کی کتب کی مانگ ہے۔ سکالر ان کی علمی ادبی خدمات پر ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں گزشتہ ہفتے آغا شورش کاشمیریؒ کی 49 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں لیاقت بلوچ نے پنجاب یونیورسٹی میں“ شورش چیئر ”قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ آغا شورش کاشمیریؒ کا شمار اپنے دور کے بڑے لیڈروں میں ہوتا ہے سید ابوالاعلیٰ مودودی، ذوالفقار علی بھٹو، باچا خان، عبدالولی خان نوابزادہ نصر اللہ خان اور ارباب سکندر خان خلیل سمیت ملک کی مقتدر سیاسی و دینی شخصیات ان کی رہائش گاہ پر حاضری دے چکی ہیں۔ آغا صاحب کی وفات کے بعد میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی بھی ان کی رہائش گاہ پر حاضری دے چکے ہیں۔
باچا خان نے صوبہ بدری کا زمانہ لاہور میں آغا شورش کاشمیری کی رہائش پر گزارا اس لحاظ سے ان کے باچا خان فیملی سے ذاتی سطح پر تعلقات قائم تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) میں کچھ عرصہ نیپ اور جمعیت علما اسلام کی حکومت تھی معاہدے کے مطابق اے این پی کے لیڈر ارباب سکندر خان خلیل گورنر سرحد تھے۔ سید اصغر حسین شاہ سبزواری۔ عبدالعزیز انصاری اور میں آغا شورش کاشمیری کے ہمراہ باچا خان سے ولی باغ میں ملاقات کے لئے جانے لگے تو ارباب سکندر خلیل نے اصرار کیا کہ ناشتہ پشاور ہی کر کے جائیں باچا خان کسی کی خاطر مدارت نہیں کرتے لیکن جب ہم ولی باغ گئے صورت حال مختلف پائی نہ صرف ہمارے لیے ان کی قلعہ نما حویلی کے دروازے کھل گئے بلکہ انہوں نے ہماری بڑی خدمت خاطر کی اور واپسی پر آغا شورش کاشمیریؒ کو کابل سے آیا ہوا ”شہد اور باداموں“ کا تحفہ پیش کیا ہم نے ان کو پنجاب آنے کی دعوت دی وہ پنجابیوں سے سخت نالاں تھے کہنے لگے کہ پنجاب میں مجھے ہندوؤں کا ایجنٹ کہا جاتا ہے جب مجھے پنجابی پاکستانی اور مسلمان سمجھنے لگیں گے تو ضرور آؤں گا باچا خان پنجاب تو نہ آئے لیکن انہوں نے افغانستان کو اپنا مدفن بنالیا (ختم شد) ۔
