خان پور کا تاریخی و ثقافتی ورثہ


خان پور، آبادی کے لحاظ سے ضلع رحیم یار خان کی دوسری بڑی اور پنجاب کی پانچویں بڑی تحصیل ہے۔ میری تحقیق کے مطابق اس وقت پاکستان میں خان پور نام کے دس علاقے ہیں، یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کے پاکستان کے شہروں میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام خان پور ہے۔

خان پور کو خان پور کٹورہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ اس شہر کی طبعی ساخت ایک کٹورے کی مانند ہے دوسری یہ کہ ایک زمانے میں یہاں کے کٹ (کوئی سی دو دھاتوں کا مرکب) اور پیتل سے بنے کٹورے بہت مشہور تھے۔ بٹوارے سے پہلے جب موہن داس گاندھی اس شہر سے گزرے تو یہاں کے ہندو تاجروں نے انہیں پیتل سے بنے کٹورے پیش کیے۔

صوفیاء کی سرزمین اور قدیم شہر خانپور، (شاہپور ضلع سرگودھا کے علاوہ) ایک ایسی تحصیل ہے جو پہلے ایک ضلع ہوا کرتی تھی، اس کی ضلعی حیثیت 1932 میں ختم کر کہ رحیم یار خان کو ضلع بنا دیا گیا۔

یہ شہر عظیم صوفی شاعر خواجہ غلام فریدؒ، حافظ الحدیث، معروف عالمِ دین اور تحریک ختمِ نبوت کے سپاہی مولانا محمد عبداُللہ درخواستیؒ، مشہور روحانی بزرگ ہستی مولانا سراج احمد دین پوریؒ کی جنم بھومی اور ریشمی رومال تحریک کے بانی اور صوفی بزرگ مولانا عبید اُللہ سندھیؒ مرحوم کا جائے مدفن ہے۔

محل وقوع کے لحاظ سے یہ شہر کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے مشرق میں لیاقت پور، مغرب میں رحیم یار خان، شمال میں راجن پور اور کوٹ مٹھن جبکہ جنوب میں راجستھان کا ضلع جیسلمیر واقع ہے۔ لاہور اور کراچی کے تقریباً وسط میں ہونے کی بدولت خانپور کافی عرصہ تک روہڑی اور خانیوال جنکشن کے درمیان کا سب سے بڑا ریلوے جنکشن رہا ہے جسے نوے کی دہائی میں ختم کر دیا گیا تھا۔ یہاں سے ایک ریلوے لائن چاچڑاں شریف کو جاتی تھی جو معروف صوفی بزرگ و شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا مسکن رہا ہے۔ تحصیل کے شمال میں دریائے سندھ اور نشیبی علاقہ، وسط میں زرخیز میدان جبکہ جنوب میں صحرائے چولستان واقع ہے۔ شہر کے بیشتر علاقے کو مشہور نہر عباسیہ سیراب کرتی ہے جو پنجند ہیڈورکس کی بہت بڑی نہر ہے۔

خانپور کے شمال میں دریائے سندھ کے کنارے آباد چاچڑاں شریف کا قصبہ اور اسٹیشن، گڑھی اختیار خان کا قدیم و تاریخی قصبہ، چٹی مسجد، خانپور کا گورا قبرستان، قدیم ریلوے اسٹیشن اور ڈاک بنگلے، ڈھنڈ گاگڑی جھیل، مقبرہ جٹکی قبرستان (جسے لوگ مائی صاحبہ کا مقبرہ بھی کہتے ہیں ) اور جنوب میں چولستان کی ریت میں ایستادہ ”قلعہ اسلام گڑھ“ اور ”نواں کوٹ“ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

خانپور کے جنوب میں واقع قلعہ اسلام گڑھ پہلے ”بھیم وار“ قلعے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسلام گڑھ کا قلعہ ”راجا راول بھیم سنگھ“ نے 1665 ء میں چولستان میں تعمیر کروایا۔ قلعہ کا تعمیراتی سامان اور پتھر ریاست جیسلمیر سے چھکڑوں پر لاد کر لایا گیا تھا۔ جبکہ اینٹیں مقامی طور پر بنائی گئیں تھیں۔ 1780 میں نواب اختیار خان عباسی کے فتح کرنے کے بعد اسے اِسلام گڑھ ”کا نام دیا گیا۔

خان پور کا ریلوے اسٹیشن شہر کی بڑی اٹریکشنز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے آس پاس موجود برطانوی دور کے فوارے، کالونیاں، لوکوموٹو ورکشاپ اور مال گودام آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خانپور سے چاچڑاں ریلوے ٹریک کے سنگِ بنیاد کی تختی آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس ریکوے ٹریک کا سنگ بنیاد نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی کی تجویز پر انگریز گورنر، لیفٹیننٹ سر ولیم لوئیس نے 1911 میں رکھا تھا۔ ریلوے اسٹیشن خان پور کے نزدیک واقع گورا قبرستان میں اس علاقے میں ریلوے لائن بچھانے والے انگریز انجینیئرز اور اُن کے خاندان کی کچھ قبریں اب بھی موجود ہیں۔ چار دیواری میں واقع یہ قبرستان خان پور میں مسیحی برادری کا سب سے بڑا قبرستان ہے جہاں کچھ پرانے طرز کی قبریں بیتے دنوں کی کہانیاں سنا رہی ہیں۔ قیمتی پتھر اور منفرد نقش و نگار سے آراستہ ان قبروں کو دیکھ کہ جہاں ایک صدی پرانے لوگوں کے ذوق کا پتہ چلتا ہے وہیں اُس دور کے کتبے پڑھ کہ بھی بہت سی معلومات ملتی ہیں۔

پرانے قبرستان میں واقع مقبرہ نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی پنجم کی دادی، بی بی مائی صاحبہ نے اپنے والدین کے لیے تعمیر کروایا تھا جن کا تعلق خان پور سے تھا۔ اس مقبرے کا خوبصورت طرزِ تعمیر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ عوام میں یہ مقبرہ بی بی مائی صاحبہ کے نام سے مشہور ہے حالانکہ وہ ڈیر اور کے شاہی قبرستان میں دفن ہیں۔

ڈھنڈ گاگڑی جھیل، جو اچھے وقتوں میں نواب صاحب نے اپنے شکار کے لیے قریبی نہر سے موگے لگوا کر بنائی تھی آج خشک ہو چکی ہے اور اس کی زمینیں قبضہ مافیا کے پاس ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ ضلع کی سب سے بڑی جھیل تھی جہاں سے ہزاروں مچھلیاں پکڑی جاتی تھیں۔

شہر کے شمال میں واقع چٹی مسجد نواب اختیار خان عباسی نے تقریباً ڈھائی سو سال پہلے تعمیر کروائی تھی جو مغلیہ طرز تعمیر سے مشابہت رکھتی ہے۔ اس کے تین گنبد، نقش و نگار اور لکڑی کے کام والے دروازے دیکھنے والے کی نظر ہٹنے نہیں دیتے۔ اس مسجد کو محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب نے دوبارہ تعمیر کیا ہے۔ اس کے قریب ایک ایسی مسجد واقع ہے جس کا آدھا گنبد شہید ہو چکا تھا جبکہ آدھا مضبوطی سے اپنی جگہ کھڑا رہا۔ یہ انتہائی چوڑا اور مضبوط گنبد تھا۔ اسے میں نے آدھے گنبد والی مسجد کا نام دیا ہے۔ اب سننے میں آیا ہے کے بقیہ گنبد کو تعمیر کر دیا گیا ہے۔

خان پور کے مضافات میں ہی دین پور شریف کا مشہور قصبہ ہے جہاں کی خانقاہ اب تک تصوف اور وحدانیت کی روشنی پھیلا رہی ہے۔ اس قصبے میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی لائبریری اور تحریک ریشمی رومال کے دفتر کی عمارت آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہاں مولانا کی اولاد بھی بستی ہے جن کے پاس ان کے نوادرات کا قیمتی ذخیرہ موجود ہے۔

خانپور کے شمال مغرب میں واقع گڑھی اختیار خان خطے کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا جسے اُس وقت کے حکمران، نواب اختیار خان عباسی نے آباد کیا تھا۔ یہاں ان کی تعمیر کی گئی مساجد اب بھی موجود ہیں خصوصاً وہ قدیم جامع مسجد جسے 1174 میں تعمیر کروایا گیا تھا۔ لال رنگ کی اس مسجد میں خوبصورت کام دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں نواب اختیار عباسی کا ایک پرانا شیش محل بھی ہے جس کی چھت پہ شیشے کا دلکش کام کیا گیا ہے۔

خان پور کے پرانے بازار بہترین روایتی اشیاء سے بھرے ہوئے ہیں جن میں کھیس، دریاں، فریدی رومال، پراندے، مٹی کے برتن اور کھجور کی چھال سے بنی اشیاء شامل ہیں۔
تانبے، پیتل اور کُٹ کے کٹورے اب مفقود ہو چکے ہیں لیکن اس ناچیز کے پاس آج بھی دو پرانے کٹورے موجود ہیں۔

پورے ملک میں اس شہر کی شہرت ”خانپوری پیڑوں“ کی بدولت ہے۔ کھوئے، دودھ، بالائی اور پستے سے بنائے جانے والے خانپور کے پیڑے، ضلع رحیم یار خان کی مشہور سوغات ہیں۔ اس کے علاوہ خان پور کا کھویا، رسیلے آم، کھجور، فالودہ، دریائے سندھ کی مچھلی، بٹیر کڑاہی اور توا پیس بھی بہت پسند کیے جاتے ہیں۔
ساگ، چلڑا، سوہانجنا، کچنار، مکئی کی روٹی، مختلف مُربے، چٹنیاں، لسی اور کباب بیشتر لوگوں کی مرغوب غذا ہیں۔

شہر کے جنوب میں چولستان واقع ہے جو ہنرمندوں کی جنت کہلاتا ہے۔ وہاں اب بھی کچھ لوگ قدیم پیشوں سے جڑے ہیں جیسے کھڈی پر دریاں اور کھیس بنانا، مٹی کے گوپے تعمیر کرنا، کھجور کی چھال سے مختلف اشیاء بنانا وغیرہ۔

Facebook Comments HS