ناول ”سندھو“ کا تہذیبی مطالعہ


ایک عرصے تک آثارِ قدیمہ کے ماہرین وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں لاعلم تھے۔ ان کا خیال تھا کہ برِ صغیر میں انسانی تہذیب کا آغاز آریاؤں کی آمد سے ہوا ہے جو 2500 ق م سے 1500 ق م تک ہندوستان میں وارد ہوتے رہے۔ گزشتہ صدی کی دوسری دہائی میں جب سندھ کی قدیم تہذیب کی دریافت ممکن ہوئی تو دنیا کو معلوم ہوا کہ یہاں، ایک ایسی تہذیب موجود رہی ہے جسے ترقی یافتہ تہذیبوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ تہذیب میسوپوٹیمیا اور مصری تہذیب سے حجم کے اعتبار سے کافی بڑی تھی۔ جانوروں کی باقیات اور وہاں سے ملنے والی باقیات کی کاربن ڈیٹنگ سے یہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں کہ وادی سندھ کی باقیات کم از کم 8000 ہزار سال پرانی ہیں۔ ہڑپہ اور موہنجودڑو اس تہذیب کے مراکز ہیں۔ اس تہذیب کی متعدد ایسی خصوصیات ہیں جو اسی تہذیب کے ساتھ مخصوص ہیں۔

”سندھو“ جیم عباسی کا تازہ ناول ہے جو 2024 ء میں آج پبلیکیشن، کراچی نے شائع کیا ہے۔ جیم عباسی اس سے پہلے ”رقص نامہ“ جیسا ناول تخلیق کر کے ناول کے سنجیدہ قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کر چکے ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ”زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں“ کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ مذکورہ ناول کا تانا بانا، جیم عباسی نے وادی سندھ کی اس تہذیب میں بُننے کی کوشش کی ہے جو آج سے آٹھ ہزار سال ٌپہلے موجود تھی۔ اس تہذیب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مدر سری نظام موجود رہا ہے یہی وجہ ہے کہ جیم عباسی نے ”سندھو“ میں عورت کو مرد سے معاشی، معاشرتی اور سماجی طور پر برتر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ تاریخ کا یہ وہ دور ہے جب ابھی مرد اور عورت میں سماجی اور ثقافتی فرق پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی جائیداد کی ذاتی ملکیت کا تصور ارتقا پذیر ہوا تھا۔ حکمران طبقات بھی موجود نہیں تھے۔ مرد اور عورتیں گروہوں کی شکل میں خانہ بدوش زندگیاں بسر کرتے تھے۔ عورت کی ان گروہوں میں مضبوط حیثیت اس لیے بھی تھی کہ وہ تخلیق کا فریضہ انجام دیتی تھی۔ وہ بچوں کو پیدا کرتی تھی، ان کی پرورش کرتی تھی، اس لیے وہ خاندان میں سربراہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ خاندان کے افراد اس کے شوہر سمیت اس کے فیصلوں کو اہمیت دیتے تھے۔

”سندھو“ ناول کے آغاز میں ہی قاری کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ جب ستابی تھکن دور کرنے کے لیے اپنے کامے ببول سے پاؤں دبواتی ہے۔ اس لمحے وہ شدید الجھن کا شکار ہے۔ جب اُس کی بیٹی کی آنول نال کاٹی گئی، تو جوتشی کنکا نے بتایا کہ اس کی ایک آنکھ میں سورج ہے جس کی وجہ، اس کے باپ جڑیو کی بدقسمتی ہے۔ اگر یہ پدر سری معاشرہ ہوتا تو اس کا ذمہ دار عورت کو ٹھہرایا جاتا لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کے شوہر جڑیو کو بد قسمت قرار دے کر بستی سے باہر نکال دیا گیا۔ سندھو کو جب سورج سے نجات ملتی ہے تو اسے تہذیب اور تعلیم دینے کے لیے ماتا ناوڑی کے ہاں چھوڑا جاتا ہے جو کہ قبیلے کے لیے دیوی کی حیثیت رکھتی ہے۔ قبیلے کی مذہبی سربراہی کسی عورت کے پاس ہونا، مدر سری نظام معاشرت کا بلیغ اشارہ ہے۔ تریموکھ ان قبائل کا دیوتا ہے جس نے روز مرہ کے معاملات ماتا ناوڑی کے سپرد کر رکھے ہیں اس کی وجہ ناول میں کچھ یوں بیان کی گئی ہے۔

”جاتی واسیو، اس دھرتی پر جب تریموکھ نے جاتی پیدا کی تھی تو سب سے پہلے ماتا بنائی تھی۔ ماتا نے آنول نال سے مرد جنما تھا جس کا نشان ہر منش کا ناف ہے۔ پھر ماتا نے پہلے منش کے لئے کھوکھلے پیڑ میں بسنے کی جگہ کی، اس کی آنتوں کو اپنے دودھ سے بھرا، دودھ ختم ہوا تو پھل چبا کر اس کو کھلایا۔ اس کے تن کو پیپل کے پتے سے ڈھانپا۔ یہ دیکھ کر تریموکھ خوش ہوا، اس نے دھرتی کا راج، ماتا کو سونپا اور خود سُکھ سے سو گیا۔“

مدر سری نظامِ معاشرت کے موجود ہونے کی تصدیق اس دور کی دیگر تہذیبوں سے بھی ہوتی ہے جہاں کی دیومالا، دیواری تصاویر اور مجسمے اس بات کے شاہد ہیں کہ معاشرتی اور سماجی طور پر عورت مرد سے ہرگز کم نہ تھی۔ ڈاکٹر مبارک علی نے اپنی کتاب ”تاریخ اور عورت“ میں لکھا ہے کہ اب جب آریاؤں نے سندھ میں یلغار کی تو اپنے ساتھ مرد دیوتا کا تصور لائے۔ جیسے جیسے وہ یہاں آباد ہوتے گئے انھوں نے دیویوں کو بھی مذہب میں شامل کر لیا، تاریخ کے اس موڑ پر صنفی امتیاز نے جنم لیا۔ پدر سری کے نظام نے عورتوں کو کئی مقامات پر دیوی کی حیثیت سے برقرار تو رکھا لیکن سماجی سطح پر اسے مرد دیوتاؤں کے زیرِ نگیں رکھا جن کا مقصد ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔

جیم عباسی نے ”سندھو“ میں جس معاشرے کو دکھانے کی کوشش کی ہے اس میں انسان کے فطرت پر انحصار اور فطرت سے انسان کے تصادم کو دکھایا گیا ہے۔ دریا، ندیاں، بارش، بادل، سورج، چاند، ستارے، درخت، پودے اور جانوروں کا بیان تو خود بخود ایسے ناولوں کا حصہ بن جاتا ہے جس میں کہانی زرعی سماج سے تعلق رکھتی ہو لیکن جب مصنف انسان کو قدرت کی ان اشیاء سے اثرات قبول کرتے اور ان پر اثر انداز ہوتے دکھاتا ہے تو اس کا اپنا نقطہ نظر بھی سامنے آ جاتا ہے۔ ادب میں فطرت پسندی یا نیچرل ازم باقاعدہ تحریک کے طور پر موجود رہی ہے جس میں ایمائیل زولا، سٹیفن کرین، ہنری جیمز اور جیک لنڈن جیسے اہم نام شامل ہیں۔ فطرت کا انسان پر اثرات مرتب کرنا اور انسان کا آزادی کی خاطر اس کے خلاف جدوجہد کرنا، اس تحریک کا مقصد رہا ہے۔ اس کا عقیدہ، سوچ، اعمال اور روایات اس کی زندگی پر حاوی ہوتے ہیں اور وہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ”سندھو“ میں پیپل اور بیل کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پیپل کو وادی سندھ میں ہمیشہ سے اہمیت رہی ہے۔ ہندو مت ہو یا بدھ مت ان کے نزدیک پیپل کا درخت تقدس کا حامل ہے۔ بدھ مت کے ماننے والوں کا خیال ہے کہ گوتم نے اسی درخت کے نیچے نروان حاصل کیا تھا۔ جیم عباسی کے ناول ”سندھو“ میں بھی اسے تقدس حاصل ہے کیوں اس درخت نے ماتا ناوڑی کے تن کو ڈھانپنے میں اس کی مدد کی تھی۔ اس حوالے سے اقتباس دیکھیے :

”کسی پاپی نے پوتر پیپل کو کاٹا ہے۔ اس پوتر پیپل کو جس نے ماتا ناوڑی کو تن ڈھکنے کے لیے پتا دیا تھا۔ اس پوتر پیپل کو جس نے ماتا کو اپنا سوکھا ہوا تنا سونپا، جس پر سوار ہو کر ماتا پار سے پرگنے اتری۔ تم سب جانتے ہو اس پیپل میں تریموکھ کا بسیرا ہے۔ وہ آپ پیپل کا پتا ہے اور آپ پیپل کا تنا ہے۔ جاتی میں سے جس نے پیپل کاٹا ہے اس نے تریموکھ کا کرودھ جاتی پر کھڑا کیا ہے۔ اب تریموکھ نے جاتی کو جنجال سے نکلنے کا موقع دیا ہے۔“

پیپل کے کاٹنے کا پاپ ناول کے کردار پارکھو پر ثابت ہوتا ہے جس کے پاس پیپل سے جڑی روایات کے خلاف کئی منطقی دلائل ہیں لیکن عقیدے کے سامنے منطق کی کون سنتا ہے۔ سگری اس کے ساتھ متفق ہے مگر وہ اسے اپنے گناہ کا اعتراف کرنے پر قائل کرتی ہے تاکہ پورا قبیلہ اس کے گناہ کا شکار ہو کر راندہ درگاہ نہ ہو۔ وہ اپنا پاپ اٹھا کر جاتی کو مکتی دلاتا ہے۔ قبیلے کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جو پاپ نہیں اٹھاتا وہ جل پروان کے قابل نہیں رہتا۔ قبیلے والے اسے پانیوں میں ڈالنے کے بجائے چوپایوں کی طرح پھینک دیتے ہیں اور وہ بدبودار ہو کر سوکھتا ہے اور مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے۔ وہ قبیلے کے کسی آنگن میں مہمان بن کر دوسرا جنم نہیں لے سکتا۔ جس دور کا معاشرہ ناول میں دکھایا جا رہا ہے اس دور کا انسان قدرت کے مظاہر میں روح کے وجود کو تسلیم کرتا تھا۔ ہڑپہ اور موہنجودڑو کے باشندوں کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ انسان کی روح موت کے بعد کسی جانور یا درخت میں چلی جاتی ہے۔

قدیم وادی سندھ کے شہروں کی کھدائی سے جو مہریں برآمد ہوئی ہیں ان میں بیل اور گھوڑے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان میں مہروں میں ایک سنگھا یا یونی کارن کی تصویر بھی موجود ہے جس کا بدن بیل کا، دم اور چہرہ، گھوڑے کا ہے اور ماتھے پر ایک سینگ ہے۔ حالانکہ ہمارے ہاں یونی کارن کے تصور نے یورپ کی کہانیوں اور فلموں سے رواج پایا ہے۔ علی عباس جلال پوری کی کتاب ”روایاتِ تمدن قدیم“ کے مطابق مصری تہذیب کا مقدس ترین جانور پتاح دیوتا کا بیل ”اے پس“ رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے ہاں بچھڑا بنا کر اسے پوجنے کی روایت مصریوں کے ”اے پس“ پوجا سے ہی مستعار لی گئی ہے۔ جیم عباسی نے ”سندھو“ میں بیل کو دو سنگھا تحریر کیا ہے جس کے سینگوں کو پہلی رات کے چاند سے تشبیہ دی گئی ہے۔ قدیم تہذیبیں چونکہ زرعی تھیں اس لیے اس میں جانوروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بیل تو ظاہر ہے ہل چلانے سے لے کر بار برداری، گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے اہم رہا ہے۔ ہندوستانی تہذیب میں بیل نے شیو دیوتا کی سواری کا کام بھی کیا اس لیے مقدس ٹھہرا اور صدیاں گزر جانے کے باوجود، آج بھی بھارت میں گائے کو ماں کا درجہ حاصل ہے اور اسے ذبح کرنے والوں پر برہمی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ”سندھو“ میں اس صورتِ حال کو یوں بیان کیا گیا ہے :

”دو سنگھے کا ماس کھانا پاپ ہے۔ دو سنگھا پوتر ہے۔ وہ اپنے سموں سے دانے اُگاتا ہے۔ دانے پکتے ہیں تو اپنے سموں سے صاف کرتا ہے۔ اس کے دودھ سے ہماری آنتیں بھرتی ہیں۔ جس کا دودھ پیتے ہیں اس کا ماس نہیں کھاتے۔“

سندھو کے لوگ کی خوراک میں سبزیوں کے ساتھ ساتھ مچھلی کھانے کو مرغوب غذا دکھایا گیا ہے۔ عموماً وہ لوگ جو دریاؤں کے کنارے آباد ہوتے ہیں ان کی غذا میں مچھلی لازمی شامل ہوتی ہے۔ غذائی اہمیت کے ساتھ ساتھ مچھلی کا کردار قصوں کہانیوں میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اس ناول میں ستابی جب، سندھو کے سورج سے مکتی پانے پہ بڑا کھانا کرتی ہے تو اس میں کھانوں کی تفصیل اس طرح سے بیان کی گئی ہے۔

” اس نے سات طعام کا سامان لیا تھا۔ ندی سے پکڑی جانے والی بڑی مچھلی لی، شکاریوں سے گوشت لیا، انجیر اور انگور چکھ کر اٹھائے، تازہ سبزیاں لیں اور پرگنے میں سب سے اچھا کھانا پکانے والے لا کر، سامان ان کے حوالے کیا۔ اب وہ صحن کے ایک کونے میں آگ جلائے، دیگچیاں چڑھائے ہوئے تھے۔“

وادی سندھ میں مٹی کے برتن بنانے کا رواج بھی عام تھا۔ ان برتنوں پر بیل بوٹے بنائے جاتے تھے، اس کے ساتھ ساتھ ان پر مچھلی کے نقش ابھارنے کا رواج بھی تھا۔ مستنصر حسین تارڑ نے بہاؤ میں سرسوتی کی تہذیب کے معدوم ہونے کو دکھایا ہے۔ اس میں بھی ”پکلی“ کا کردار مٹی کے برتنوں پر بیل بوٹے بنانے کا کام مہارت اور خوش اسلوبی سے کرتا ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب کا تعلق مصری تہذیب کے ساتھ بھی موجود رہا ہے جسے مذکورہ ناول میں باکھ کے کردار کی مدد سے دکھایا گیا ہے۔ باکھ سندھ کے دیس میں سونے کی تلاش میں آتا ہے کیوں یہاں کے باسی ریت چھان کر سونا نکالنے اور اس سے زیورات بنانے کے فن سے واقف ہو چکے تھے۔ مصر میں فراعین اپنا مقبرہ خود تیار کراتے تھے اور ضروریاتِ زندگی کی اشیا بھی ان کے ساتھ دفن کی جاتی تھیں تاکہ آخرت میں ان کے کام آ سکیں۔ موجودہ دور میں فراعینِ مصر کی قبروں سے اس نوع کا بیش قیمت سامان لاشوں کے ساتھ کھود کر نکالا گیا ہے۔ درحقیقت باکھ کا فرعون اونچے خدا کے لیے سونے کا پلنگ تحفے میں لے جانا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اُسے زرد سونا درکار ہے جو اسے سندھ میں میسر آ سکتا ہے۔ اسی لیے وہ کشتیوں کے ذریعے سندھو دیس میں آتا ہے۔ وہ یہاں کے لوگوں اور ان کے رہن سہن کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔

جیم عباسی کے ناول ”سندھو“ میں شیو دیوتا کا ذکر بھی موجود ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وادی سندھ کا دیوتا تھا جسے بعد میں آریاؤں نے پوجنا شروع کر دیا۔ وادی سندھ سے جو مہریں ملی ہیں ان میں جس دیوتا کی مورت ملی ہے اس کے تین سر ہیں اور اسے مویشیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ ناول میں بار بار تریموکھ کا ذکر ملتا ہے جس سے مراد شیو دیوتا ہی ہے۔ شیو سندھ تہذیب میں زرخیزی کا دیوتا ہے۔ ناول میں ستابی کا کردار سکھی کے ساتھ جذبات کا اشتراک کرتے ہوئے مور، جو اس کا خاوند ہے، کے بارے میں کچے گھڑے کا استعارہ استعمال کرتی ہے تو قاری کا دھیان شیو دیوتا کی جانب منتقل ہوجاتا ہے :

”اس کے لنگ میں شیو کا لنگ نہیں۔ میں سانپ کی طرح اس سے لپٹی ہوتی ہوں اور وہ بے جان پیڑ کی طرح پڑا ہوتا ہے۔ جوتشی کی فال میرے بھاگ کی نہ نکلی“ ”کچا گھڑا، کسی نہ کام کا، نہ بھرے نہ ٹھہرے، چل جوتشی کے پاس جس نے گلے میں ڈالا، وہی نکالے“

اس کے بعد سکھی، ستابی کو جوتشی کنکا کے پاس لے جاتی ہے جو اَماوَس میں بھبھوت مل کر اور مہک دار سوکھی گھاس پر نیلے پھولوں کو پھینک کر آگ لگاتی ہے۔ دھواں لہریے بناتا آسمان کی جانب اٹھتا ہے اور وہ ستاروں کو دیکھ کر تریموکھ سے اس کے سبھاگ کی دعا کرتی ہے اور اس کے بدلے میں اس سے مٹکی بھر سونا اٹیر لیتی ہے۔

جیم عباسی نے تخیل کے زور پر سندھ کی جو تہذیب تشکیل دینے کی کوشش کی ہے، اس میں انھوں نے مذہب، رہن سہن، نظامِ معیشت، رسم و رواج اور سماجی تصورات کو ناول کے پلاٹ میں اس طرح شامل کیا ہے کہ قاری سندھ کی قدیم تہذیب سے آگاہ بھی ہو جاتا ہے اور کہانی کی روانی میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ناول میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اس میں کئی الفاظ ایسے ہیں جو اردو میں مستعمل نہیں ہیں لیکن مقامی زبان بولنے والے ان کو آسانی سے سمجھ جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS