میرے محترم استاد، سر طارق محمود صاحب: تعلیم و تربیت کا یادگار سفر:دوسری قسط

یہ کہانی میرے بچپن کے اس اہم مرحلے کی ہے جب میں پنجم جماعت میں تھا اور مجھے زندگی کے حقیقی اصولوں سے روشناس کرانے والے ایک نہایت شفیق اور دانا استاد ملے۔ محترم سر طارق محمود صاحب سے متعلق میری کہانی ایک چھوٹے قصبے کے سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے کی ہے، جس کی زندگی کو ایک استاد نے سنوارا اور اسے علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی کے اصول بھی سکھائے۔ پنجم کلاس میں، جب میں نے سر طارق محمود صاحب جیسے استاد کا سامنا کیا، تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ استاد میری زندگی میں ایک نئی راہ دکھانے والا ہے۔ ہمارے علاقے کے سکولوں میں اساتذہ کا معیار اچھا تھا، مگر سر طارق صاحب کی شخصیت اور انداز سب سے جدا تھے۔ ان کی شخصیت سے ایسی کشش اور وقار جھلکتا تھا جس نے ہمیں ان کی طرف راغب کر دیا۔
ہمارے سکول کا نام ”گورنمنٹ پرائمری سکول گاگا“ تھا اور یہ گاؤں کے ایک پرسکون کونے میں واقع تھا۔ اس سکول میں سہولیات کی کمی تھی، مگر یہ سر طارق صاحب کا طریقہ تعلیم تھا جس نے ہمیں ایک بھرپور اور دلچسپ تعلیمی ماحول فراہم کیا۔ ان کے آنے سے پہلے ہمارے سکول میں معمول کی تعلیم ہوتی تھی، مگر انہوں نے ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت بھی فراہم کی۔ انہوں نے ہمیں دین سے محبت کرنا سکھایا اور ہماری شخصیت کو اس طرح نکھارا کہ ہم ہر لحاظ سے بہتر انسان بن سکیں۔
سر طارق صاحب کا اندازِ تعلیم انتہائی منفرد تھا۔ وہ صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رہتے تھے بلکہ انہوں نے ہمارے کردار کی تعمیر کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا۔ ہمارے لئے انہوں نے نماز رجسٹر کا نظام متعارف کرایا، جس میں ہمیں پانچوں نمازوں کے بعد مسجد کے امام صاحب سے دستخط کروانا ہوتے تھے۔ ہر صبح وہ ہماری نماز کی ڈائریاں چیک کرتے اور ہمیں انعام و سزا کے ذریعے ترغیب دیتے۔ اس عمل نے ہمیں نماز کا عادی بنا دیا اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمیں عبادات کی اہمیت کو بھی سمجھایا۔ یہ انداز نہایت اثر انگیز تھا کیونکہ انہوں نے ہمیں عبادت کو زبردستی کرنے کے بجائے اس کے فوائد اور اجر کو سمجھایا۔
سر طارق محمود صاحب کا ہر دن ہمارے لئے ایک نیا سبق لے کر آتا تھا۔ ان کے اصول و ضوابط ہمیں نظم و ضبط اور خود اعتمادی سکھاتے تھے۔ انہوں نے ہمیں زندگی کے بنیادی اصول سکھائے اور ہمیں بتایا کہ کس طرح ایک بہتر انسان بنا جا سکتا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ میں عموماً ایک فاصلہ ہوتا ہے، مگر سر طارق صاحب نے اس فاصلہ کو ختم کر دیا۔ وہ ہمارے لئے ایک دوست کی طرح بن گئے، جن سے ہم اپنی ہر بات شیئر کرتے اور ہر مشکل میں مشورہ لیتے۔ ان کی یہ قربت ہمارے لئے اطمینان اور سکون کا ذریعہ بن گئی۔
سر طارق صاحب نے ہمیں تحریر کے فن میں بھی ماہر بنا دیا۔ تختی لکھواتے وقت وہ ہمیں ایک طریقہ سکھاتے تھے جس میں ہم ایک طرف لکھتے اور دوسری طرف وہ خود لکھتے تھے۔ اس طرح انہوں نے ہماری لکھائی کو نکھارا اور ہمیں بہترین لکھنے کا فن سکھایا۔ انہوں نے ہماری تحریر میں اتنی صفائی اور خوبصورتی پیدا کی کہ اب ہم کسی بھی شخص کے سامنے اپنی تحریر کو بلا جھجک پیش کر سکتے تھے۔ ان کی محنت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ جب وہ ہمارے تختی کی سطریں خود لکھتے، تو ہمیں اپنی تحریر میں انہی کی جھلک نظر آتی تھی۔
ان کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ان کی ہمہ جہتی تھی۔ وہ ہمیں دعائیں اور اخلاقی تعلیمات سکھانے کے علاوہ ہمیں معاشرتی اصول بھی سکھاتے تھے۔ انہوں نے ہمیں وقت کی پابندی، صفائی، اور دیگر اہم اصولوں پر عمل پیرا ہونے کا سبق دیا۔ ان کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ ایک اچھا انسان بننے کے لئے علم کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق بھی ضروری ہیں۔
سر طارق صاحب نے ہمیں اسلامی دعائیں روزانہ یاد کروائیں اور ان کی عملی زندگی کا بہترین نمونہ ہمارے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے ہماری زندگی میں ایک ایسا اثر ڈالا کہ ہم نے ہمیشہ ان کی باتوں کو یاد رکھا اور اپنی زندگی میں ان پر عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں ہمیشہ اپنے والدین کا احترام کرنے اور اساتذہ کی عزت کرنے کی تلقین کی۔ ان کی باتوں نے ہمارے دلوں میں علم کی محبت پیدا کر دی اور ہم نے تعلیم کو اپنا مقصد بنا لیا۔
یہ ایک سال ان کے ساتھ گزارنا میرے لئے ایک یادگار وقت تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، ہمیں معلوم ہوا کہ سر طارق صاحب انگلینڈ جا رہے ہیں۔ ان کے جانے کی خبر سن کر ہم سب اداس ہو گئے۔ لیکن وہ اتنے عظیم استاد تھے کہ جاتے وقت انہوں نے ہمیں اپنے ساتھ رابطے میں رہنے کا طریقہ سکھایا اور ہمیں اپنا ایڈریس دے کر کہا کہ ہم ان کو خط لکھا کریں۔ اس وقت خط و کتابت ہی رابطے کا بہترین ذریعہ تھا کیونکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کا عام استعمال نہیں تھا۔
سر طارق صاحب نے جاتے ہی میرے نام ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے اپنی ایک تصویر اور پانچ پاؤنڈز بھیجے۔ ان کی محبت اور خلوص نے مجھے جذباتی کر دیا۔ ان کے بھیجے گئے خطوط میں ہمیشہ شفقت اور محبت ہوتی تھی، اور ان کے خط میرے لئے حوصلہ اور تحریک کا باعث بنتے تھے۔ ان کے خطوں نے میری زندگی میں ایک خاص جگہ بنا لی اور میں ان کو آج بھی سنبھال کر رکھے ہوئے ہوں۔ ان کے لکھے ہوئے الفاظ میری زندگی میں روشنی کی مانند ہیں جو مجھے ہمیشہ صحیح راستہ دکھاتے ہیں۔
وقت کے ساتھ سر طارق صاحب کے خطوط آنا بند ہو گئے اور میں نے ان سے رابطہ قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ ان کے بغیر میں نے زندگی کی مشکلات کا سامنا کیا مگر ان کے سکھائے ہوئے اصولوں نے مجھے ہمیشہ درست راہ پر چلنے میں مدد دی۔ آج، جب میں خود ایک اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کے طور پر کام کر رہا ہوں، تو سر طارق صاحب کی تعلیمات میرے لئے ایک مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی شخصیت اور اصول میری زندگی کا حصہ بن گئے ہیں اور میں ان کو اپنے طلبہ تک منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
میں نے ان کے بغیر زندگی میں جو کامیابیاں حاصل کیں، ان کا سہرا بھی سر طارق صاحب کو جاتا ہے۔ ان کی شخصیت اور تعلیمات نے مجھے زندگی کا وہ راستہ دکھایا جو میں آج بھی اختیار کیے ہوئے ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں ایک دن سر طارق صاحب سے دوبارہ مل سکوں اور انہیں بتا سکوں کہ ان کی محنت اور شفقت نے میری زندگی میں کتنی اہمیت حاصل کی ہے۔ ان کے لئے میرے دل سے ہمیشہ دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ انہیں خوش رکھے اور صحت مند زندگی عطا فرمائے۔

