کیا صحافی بننا اتنا آسان ہے؟
نیم حکیم خطرہ جان والی ضرب المثل تو آپ سب نے سن ہی رکھی ہوگی جیسے ایک اتائی ڈاکٹر مریض کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں ویسے ہی معاشرے میں موجود جعلی صحافی بھی معاشرے کے لئے خطرے سے کم نہیں ہے۔ صحافت اخبار سے ٹیلیویژن پر منتقل ہوئی اور انٹرنیٹ کی آمد کے بعد ٹیلیویژن سے صحافت ڈیجیٹل صحافت کی جانب منتقل ہو رہی ہے بلکہ کافی حد تک منتقل ہو چکی ہے مختلف ڈیجیٹل چینلز اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور ان ویب چینلز پر باشعور صحافی اپنی خدمات بھی سرانجام دے رہے ہیں اور ان کے ناظرین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ لیکن ڈیجیٹل صحافت سے جہاں ایک طرف ناظرین کے لئے خبروں کے رسائی آسان ہوئی ہے وہیں جعلی صحافیوں نے جعلی صحافت کا بازار بھی گرم کر رکھا ہے۔ کسی بھی اچھی دکان سے سستا سا مائیک لیا، اپنے اچھے رزلٹ والے فون کا کیمرہ آن کیا اور چل نکلے صحافی بننے۔ صحافت کی ڈگری تو دور، صحافی اقدار بھی معلوم نہ ہونے کے باوجود سنسنی پھیلا کر ویور شپ حاصل کر لیتے ہیں۔ کیا ایسے شخص کو صحافی کہنا درست ہو گا؟
صحافی کی ایک سادہ سی تعریف کی جائے تو صحافی اس کو کہا جاتا ہے جو کسی تازہ ترین واقعہ یا کوئی ایسی معلومات جس سے عام لوگ متاثر ہوں، اکٹھی کرے اور پھر لوگوں تک پہنچائے لیکن آج کل یہ نام نہاد صحافی کسی فراڈ شخص کو گھیر لیتے ہیں اور اس کو اس حد تک ذہنی اذیت دیتے ہیں کہ وہ بیچارہ کوئی ایسی بات یا غلطی کر بیٹھتا ہے جس سے ان کی ویڈیوز وائرل ہو جاتی ہیں۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ صحافی بننا ہی کیوں چاہتے ہیں؟ کیا صحافی بننا اتنا آسان ہے؟ ایک نیوز چینل یا اخبار میں کام کرنے والا ہر شخص خود کو صحافی بھی نہیں کہہ سکتا جیسے ایک ہسپتال میں مختلف قسم کا پروفیشنل سٹاف موجود ہوتا ہے لیکن ہر کوئی خود کو ڈاکٹر نہیں کہتا۔ ویسے ہی کسی چینل میں کام کرنے والا ہر شخص صحافی بھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن آج کل نوجوانوں میں مشہور ہونے اور دبدبہ قائم کرنے کا بے حد شوق ہے اور یہ ایک ایسا آسان طریقہ ہے جس سے آپ سوشل میڈیا پر مشہور بھی ہو سکتے ہیں اور آپ کے عزیز و اقارب میں آپ کا رعب بھی بڑھ جائے گا کہ جناب صحافی ہیں ان کے ساتھ تعلقات بنا کر رکھتے ہیں، کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں دونمبری جیسے رشوت سفارش عام ہے کوئی بڑے سے بڑا کام بھی رشوت دے کر کروایا جا سکتا ہے جبکہ آپ کا چھوٹا سا کام بھی برسوں تک نہیں کیا جاتا اگر آپ کے پاس دینے کو رشوت یا بڑی سفارش نہیں ہے۔ ایسے جعلی صحافی ان رشوت خوروں کی وجہ سے بھی اپنا دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جب آپ کے دل میں اس بات کا ڈر ہو کہ میری کرتوتوں کی کہیں ویڈیوز بن کر نشر نہ ہو جائیں تو پھر ایسے افسران بھی ان جعلی صحافیوں سے تعلقات بنا کر رکھنا خوش قسمتی سمجھتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کبھی ضروری پڑی تو اپنے صحافی بھائی کو یاد کروں گا، وہ ضرور مجھے مشکل سے باہر نکال دے گا۔ اور یہ جعلی صحافی ان افسران کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بنا کر عوام کو دکھا کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہمارے بڑے لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور سادہ لوح انسان اور زیادہ ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔
نوجوانوں کے اس طرف بڑھتے رجحان کی بڑی وجہ آن لائن ارننگ کا جنون بھی ہے اس لئے یہ جعلی صحافی بن کر کسی صحافتی اقدار کا خیال رکھے بغیر بے ڈھنگے اور بے ترتیب سوالات کر کے ویڈیو کو ایسا بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو ویڈیو وائرل ہو اور اچھے ویوز آنے کی صورت میں موٹی کمائی کی جا سکے۔
صحافت ایک عظیم پیشہ ہے لیکن ان خود ساختہ صحافیوں نے صحافت کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ نام نہاد صحافی آن لائن جرنلزم پر قابض ہو چکے ہیں۔ بعض اوقات جھوٹی خبر کو بھی ایسے پیش کرتے ہیں کہ لوگ اسے سچ سمجھ بیٹھتے ہیں اور عام سی بات بھی اتنی سنسنی پھیلا کر کرتے ہیں کہ ایک سادہ انسان ان کی بات کو بہت اہم اور سچ سمجھ لیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی ہر خبر سچ نہیں ہوتی لیکن زیادہ تر کم عمر بچے اور بڑے بزرگ جن کو انٹرنیٹ بھی ٹھیک سے چلانا نہیں آتا ان خبروں پر زیادہ اعتبار کر لیتے ہیں۔
صحافت ایک ایماندار پیشہ ہے ایک صحافی مکمل دیانتداری کے ساتھ اپنا کام سرانجام دیتا ہے اور رزق حلال کماتا ہے۔ صحافت کو جمہوریت کا ستون بھی مانا جاتا ہے۔ عوام تک سچ پہنچانا بھی کسی نیکی سے کم نہیں۔ صحافی بننا ہے تو دل میں عوام کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے یہ لگن ہونی چاہیے کے حالات کیسے بھی ہوں لوگوں تک ہمیشہ سچ پہنچاؤں گا لیکن اگر بات صرف ویوز حاصل کرنا اور پیشہ کمانا ہے تو جعلی صحافت کے بجائے کوئی اور ذریعہ معاش اختیار کر لیں۔ جھوٹ یا آدھا سچ عوام تک پہنچانے سے معاشرے میں بگاڑ بڑھتا ہے اور اس کے نتیجے میں عوام کا نقصان اور معاشرے تباہ ہوتا ہے


