ننگی سڑکیں اور کشکول
زیادہ دور کی بات نہیں ہمارے بچپن کی ہی بات ہے جب اخبار پر مسافر بسوں کے ٹائی راڈ کھلنے کی وجہ سے حادثات کی خبریں آتی تھیں۔ ٹائی راڈ موضوع نہیں ہے شاید ٹیکنالوجی بدل گئی ہو گی یا ٹائی راڈ کی کوالٹی بہتر ہو گئی ہو گی۔ خبر کا اگلا اہم حصہ ہوتا تھا کہ بس بے قابو ہونے پر سڑک کنارے درخت سے ٹکرا گئی۔ اتنے افراد جان بحق ہو گئے۔ کچھ خبریں یوں بھی ہوتیں ؛ درخت کا ”ڈال“ لگنے سے بس کی چھت پر سوار نوجوان موقع پر ہی جاں بحق۔
موضوع نہ انسانوں کے جاں بحق ہونے کا ہے نہ ٹائی راڈ کے کھلنے کا، موضوع ہیں سڑک کنارے وہ بڑے اور عمر رسیدہ درخت جن کے طاقتور اور مضبوط تنے بے قابو بس کو بھی بے بس کر کے روک دیتے تھے۔ ان کے تنوں کی موٹائی کے ساتھ اونچائی بھی اس قدر ہوتی تھی کہ ان کے سڑک پر جھکے ٹہنے اور ڈال بسوں کی چھتوں پہ سوار لوگوں کو اڑا دیتے تھے۔ سڑک پر کھڑے ہو کر دیکھنے پر یوں لگتا جیسے یہ سڑک نہیں بلکہ تا حد نگاہ درختوں اور ان کے ٹہنوں سے بنی ایک ٹنل یا سرنگ ہے جس کے اندر بسیں اور گاڑیاں چل رہی ہوتی ہیں۔ یہ بڑے درخت ان سڑکوں کا ستر ہوتے تھے۔ گرمی کو اور آلودگی کو روکتے تھے۔
اب گاڑیوں کا درختوں سے تصادم کبھی خبر نہیں بنتا کیوں کہ اب سڑکوں کے کنارے درخت نہیں ہیں۔ اب ان سڑکوں کا ستر نہیں رہا۔ وہ بالکل ننگی ہو گئی ہیں۔ نئی اور کشادہ سڑکوں کا اژدھا ان تمام درختوں کو نگل چکا ہے۔ اب ہر طرف ننگی کارپٹ سڑکیں بچھ گئی ہیں۔ مگر ان کو ستر نصیب نہیں ہوا۔ ان نئی سڑکوں کا کیا رونا رویا جائے کہ تین دہائیاں پرانی اور سب سے بڑی شاہراہ یعنی موٹر وے کا بیشتر حصہ بھی ننگا ہے۔ اس پر پلاننگ کے تحت درخت نہیں لگائے گئے۔
اگر نئی بننے والی سڑکوں کے ساتھ درخت لگانا بھی لازم قرار دیا گیا ہوتا اور لاکھوں میل لمبی شاہراہوں اور نہروں کے کنارے درخت لگے ہوتے تو آج بے لگام گرمی، بے حساب بارشیں اور جان کو آئی سموگ ہمارے ملک میں یوں نہ دندنا رہی ہوتیں۔ ان درختوں پر گھر بنانے والے پرندے ہجرت پر مجبور نہ ہوتے۔ اب جب کہ سموگ پورا ملک بند کرنے کے درپے ہے تو عین اسی وقت ہمارے وزیر اعظم ایک افریقی ملک میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں گلیشیر کے پگھلنے، سیلاب آنے اور گلوبل وارمنگ کا رونا رو رہے ہیں۔ وہ انتیس ملکوں سے اربوں ڈالرز کی مدد کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو گلوبل وارمنگ جیسے بھیانک موسمی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
عین اسی وقت میرا دل کر رہا ہے کہ کوئی کانفرنس سے اٹھے اور ہمارے وزیر اعظم سے پوچھے کہ جناب آپ ہزاروں میل سڑکیں بنانے کے دعویدار تو ہیں مگر آپ نے ان سڑکوں کے لئے کاٹے گئے درختوں کے متبادل درخت لگائے ہیں؟ آپ ہم سے کس مونہہ سے امداد مانگ رہے ہیں جب کہ آپ کے اپنے ملک میں ساری سڑکیں، ریلوے لائنز، نہریں اور ان کے ساتھ سرکاری زمین بے ستر اور ننگی ہیں۔ ان کو ڈھانپ دیجئے، ان پر درخت لگائیے۔ سنجیدگی اختیار کیجیے اور پھر کشکول اٹھائیے۔ ممکن ہے آپ کی اپنی سنجیدگی کو دیکھ کر دنیا بھی آپ کے ماحولیاتی کشکول کو پذیرائی سے نواز دے۔



حضرت سنجیدگی کی ضرورت تو آپ کو بھی ہے۔
سڑک اور شاہ راہ میں فرق ہوتا ہے۔ لاہور کی مال روڈ ہو یا کنال روڈ۔ یہ دو اور حد سے حد تین رویہ سڑکیں ہوتی تھیں۔ گورے نے جن زمانے میں یہ اور دوسرے شہروں میں سڑکیں بنائیں ان کے اطراف درخت لگانا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔
شاہ راہ ہو یا موٹر وے۔ میں نے متعدد ممالک میں سفر کیا ہے ان میں کہیں لب شاہ راہ (جو تین یا چار لین کی ہو) درختوں کا ایسا جال نہیں دیکھا کہ سرنگیں یا چھت بنا رہی ہوں۔ سب ننگی ہوتی ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ جس میں شاہ راہ کی صفائی اور طوفان وغیرہ کے دوران کے مسائل شامل ہین۔ اس کے علاوہ ایسی موٹر ویز پر ایمرجنسی میں جہازوں کی لینڈنگ ہو یا دوران جنگ فوجی سامان کی ترسیل ۔ درختوں کی موجودگی مسائل پیدا کرے گی۔
پاکستان میں ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ شجرکاری، ماحولیات اور عام سڑکیں صوبے کی ذمہ داری ہیں جب کہ شاہ راہ اور ریلوے وفاق کی ذمہ داری ہیں۔ اگر وفاق شجرکاری کرے گا تو اس کی دیکھ ریکھ اور فروخت اور عملہ بھی رکھنا پڑے گا۔ یہ پیچیدہ مسائل بن جاتے ہیں۔
ریلوے لائن سے دور شجرکاری ممکن ہوتی ہے قریب نہیں کیوں کہ رات اور طوفان کے دوران لائن پر گرئ ٹہنیاں حادثے کا سبب بنتی ہیں اسی طرح درخت کے پتے اگر لائن پو موجود ہوں تو چرند پرند وہاں پہنچ جاتے ہیں جو خود ایک حادثے کو دعوت ہے۔
جہاں تک وزیر اعظم کا ماحولیات پر رونا ہے اس کا تعلق پاکستان سے نہیں بلکہ گرین ہائوس گیسوں کی وجہ سے دنیا کے بڑھتے درجہ حرارت سے ہے جس کی وجہ سے ہمارے گلیشیئر پگھلنے کی رفتار بڑھ گئی ہے اور موسم کا سائیکل بدل چکا ہے جس کا اثر بارش سیلاب اور فصل میں نقصان سے ہے۔ ہم پورے ملک کو بھی اگر درختوں سے بھر لیں تو بھی دنیا کے درجہ حرارت پر اثر نہیں ڈال سکیں گے۔ ہاں ہمارے ماحول اور سانس لینے پر ضرور اثر پڑے گا۔
کیا آپ نے خود کم از کم دس درخت لگائے ہیں ؟ اچھے شہری ہر سال کم از کم ایک درخت لگاکر اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اپنے علاقے میں کھلی جگہیں ڈھونڈیں اور لوگ مل کر جنگلات اگالیں تو کم از کم آپ کا اپنا کام پورا ہوجائے گا۔