اُلٹے جھُمکے عرف آلۂ سماعت
اشارہ تو بیگم ایک دو مرتبہ پہلے بھی کر چکی تھیں مگر آج کچھ بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آرہے تھے، کہ گھورتی آنکھوں غصے سے پھول چکے لال رخساروں والا چہرہ قریب آتے آتے کچھ رحم کھاتے انداز میں بدل چکا تھا۔ اور میرے کندھے ہلا کر متوجہ کرتے بتا رہی تھی کہ انہیں یقین ہو چلا ہے کہ ہمیں اب سنائی کچھ نہیں بلکہ خاصا کم دیتا ہے۔ وہ ”واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے، تُساں تے میری گل نہ سنی“ کا لیکچر پلا کر ہمیں یقین دلا رہی تھیں کہ ہم بہرے بابے ہوچکے تھے اور کان کھول کے متوجہ رہنے کی ہدایت فرما رہی تھیں۔ اور ہم ”تم نے پکارا اور ہم چلے آئے“ والا انداز اختیار کرتے بات بدل رہے تھے۔ بات کافی حد تک سچ تھی۔ پر ”چھیڑ خوباں سے چلتی جانے“ کا لطف لینا ہی تو بڑھاپے کا حسن ہے۔ مانتے کیسے۔ بہرہ پن تو بہرہ پن ہی ہے۔ اپنے رنگ دکھاتے روز بات ہلکی پھلکی سرحدی جھڑپوں تک جانے لگی تو ہتھیار ڈال ہی دینے کا سوچنے لگے۔ اچانک خیال آیا کہ مرد مومن کو جھپٹ کر پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا ایک ماٹو کی طرح سکھایا گیا ہے۔ لہٰذا موڈ کچھ اچھا دیکھ اعتراف کر لیا گیا کہ اب بڑھاپے اور بہرے پن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لہٰذا سیز فائر کرتے ہماری قدرت سے ملے اس تحفہ کی کوتاہی سے در گزر کیا جائے۔ یہ جنگی چال بہت کامیاب ہوئی اور ہماری موجیں ہو گئیں۔ اب بیگم آوازیں لگا رہی ہیں کہ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے، آ بھی جائیں، یا وہ ذرا نیچے والے فرج سے ٹماٹر کھیرے نکال لائیں وغیرہ وغیرہ اور ہم مزے سے سب سن لینے کے باوجود مورچہ بند ہو کر آرام سے مچل مار پرانے گیت سن رہے ہیں یا آئی پیڈ پہ مضمون لکھتے جا رہے ہیں۔ اور جب اونچی آواز میں ”پراٹھے ٹھنڈے ہو چکے، نہ جانے تم کب آؤ گے“ تک معاملہ پہنچ جائے تو تیز تیز سیڑھیاں اترتے انتہائی دھیمی آواز اور معذرت خواہانہ لہجہ میں قریب جا کے بس ایک فقرہ بولتے کہ بیگم آپ کو تو پتہ ہے کہ سنائی کافی کم دیتا ہے۔ تو قہر کی حالت رحم کے انداز میں بدل جانے کا منظر بن جاتا۔
بڈھا بابا کب تک خیر مناتا۔ اب بچے بھی شکوہ کرتے کہ آپ کم سنتے ہیں باوجود اس کے ہم سپیکر آن کر کے بات کرنا شروع کرچکے تھے۔ ایک روز محفل میں حاضری کا حکم ہوا اور ساتھ ہی ویڈیو کانفرنس شروع ہو گئی۔ بڑی صاحبزادی و ینکوور سے منجھلی ونی پیگ سے چھوٹی شکاگو سے موجود تھیں ہم نے اپنا آئی پیڈ کھول رکھا تھا بہو اور بیٹا میرے ساتھ نشست فرما اپنے فون یا آئی پیڈ کھولے تھے اور ہمیں فوری کانوں کے ٹیسٹ کرانے اور آلۂ سماعت لگوانے کی قرارداد پاس ہو رہی تھی۔ ہم نے یہ ویٹو کرنے کی بھی کوشش کی کہ دیکھیں بیگم کی سہیلی کونے والے گھر والی بہن فہمیدہ کے بیٹے نے مارکیٹ کا سب سے مہنگا آلۂ سماعت ماں کے لئے لے دیا ہے مگر پہنتی ہی نہیں کہ سکوت میں بات کرتے تو کچھ سنتا ہے مگر معمولی کہیں کھڑ اک ہو جائے تو لگتا ہے ساتھ والے سردار جی کے گھر کسی برتھ ڈے پہ بھنگڑا چل اور ڈھول بج رہا ہے۔ مگر یہ نکتۂ اعتراض اس دلیل سے رد کر دیا گیا کہ آنٹی فہمیدہ کی سماعت تو بیس فیصد سے بھی کم ہے اور قرار داد سات ایک سے پاس ہو گئی، کہ دو داماد بھی شریک کانفرنس ہو چکے تھے۔
اگلا ایک ڈیڑھ مہینہ تو ہر بچے نے گوگل کھولتے مختلف آلہ ہائے سماعت کے برانڈ، اقسام، شکل عقل لوگوں کے تبصرے اور مدد گار آلۂ سماعت کلینک ( ہیئرنگ ایڈ کلینکس) کی چھان بین اور آپس کی بحث میں گزارا اور پاس شدہ ریزولیوشن کے مطابق چند روز بعد ہم اپنے فیملی ڈاکٹر کے نامزد کردہ کلینک میں بیٹھے ایک دل چسپ قسم کے ٹیسٹ سے گزر رہے تھے۔ وہی انتہائی بچپن کے اب شاید مکمل بھولے جا چکے کھیل، دائیں کان میں کون بولا؟ بائیں میں کون؟ سیٹی ہلکی کہ اونچی۔ شاید چونڈی دھپا اور دائیں کون گیا اور بائیں کون قسم کے نام تھے۔ ہم ساؤنڈ پروف کمرے میں بند تھے، کانوں میں ٹوٹیاں اور اونچے مدھم ہوتے سُر پہ ہمارا تبصرہ اور سوال اب سنا؟ جی اتنا سنا یا ایسے سنا کے جواب۔ ہم گھُپ اندھیرے میں اپنے آپ کو گویا ستر کی دہائی میں چھت پر کھڑے کیے گئے لمبے بانس کے اوپر لگے ٹی وی اینٹینا کو دائیں بائیں گھماتے رُخ بدلتے نیچے کھڑے بھتیجے سے پوچھ رہے تھے، تصویر آئی، وہ ڈرائنگ روم میں ٹی وی کے پاس بیٹھی پھوپو سے پوچھتا، ہمیں بتاتا اور سلسلہ چلتا، اب آ گئی، پہ ختم ہوتا۔ باہر آئے تو خوش خبری دی گئی کہ آپ کی سماعت تیس فیصد کم ہو چکی ہے۔ عرض کی جناب یوں ہی کہہ دیتے کہ ابھی ستر فیصد درجۂ سماعت قائم ہے۔ بجائے دکھی کرنے کے ہمیں خوش ہی کر دیتے۔
اب اگلا مرحلہ آیا۔ سامنے میز پہ نمائش لگی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ بھانت بھانت کی شکلوں والے آلات دکھاتے ان کی فٹنگ کا طریق کار خصائل خواص بتاتے تعریفیں کر رہی تھیں۔ تقریباً تمام دیکھنے میں بالکل موبائل فون کے ہینڈ فری وائرلیس ائر پوڈ کی شکل کے تھے۔ اور ہم بالکل اس طرح بیٹھے الٹ پلٹ کر رہے تھے جیسے خواتین جیولر کی دکان پر کرتی ہیں۔ بتا رہی تھیں کہ کینیڈا کا محکمہ صحت کل قیمت میں سے سینئرز ڈسکاؤنٹ کے طور ایک ہزار ڈالر ہمیں دے گا یہ منہا کرتے ہمیں مختلف کوالٹی اور ایکسٹرا فنکشن والے اڑھائی ہزار سے پانچ ہزار تک ہمیں دینا پڑیں گے پھر گارنٹی مرمت وغیرہ کی تفصیل کا لیکچر دیتے ہمارے انتخاب اور اپنی سفارش پہ آ چکی تھیں۔ اور ہم جیولری کی دکان پر خواتین کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے دوسرے سٹورز سے موازنہ کرنے اور بچوں سے مشورہ کر کے فیصلہ کرنے کا بہانہ کر باہر نکل چکے تھے۔ ساری عمر کی دکانداری کا سیکھا سبق، یا شیخ اپنا دیکھ، ذہن میں گونج اٹھا تھا۔ اور سب بچوں کو آن لائن مختلف سٹورز کی کوالٹی شرائط وغیرہ کے موازنہ پہ لگا ہم دوبارہ بابا بولا کا روپ دھار خدمت اور میٹھے بول کی موجیں لوٹنا شروع تھے۔ مگر ہائے، کیا مزے تھے وہ بڑھاپے میں میاں بیوی کی نوک جھونک میں۔ بھلا نہ سکے۔
آنی آنا تھی۔ آ ہی گئی آخر۔ ایک دعوت میں شریک ایک عزیز کی رہنمائی نے ہمیں کینیڈا اور یو ایس کے سینکڑوں شاخوں والے مشہور ہول سیل سٹور کے ہیئرنگ ایڈ کلینک پہ پہنچا دیا اور دو تین حاضریوں میں حسب سابق ٹیسٹوں سے گزر کوئی دو ماہ بعد ہم کلینک کے بہت ہی ہمدرد اور میٹھی اردو بولنے والے بمبئی سے کینیڈا آ بسے ڈاکٹر نبیل کے سامنے بیٹھے خنجر کی میان کی شکل اور پہلی نظر میں جھُمکے لگتے آلۂ سماعت کو پہننے اور اپنے آئی فون سے منسلک کردہ کنٹرول کے نظام کو سیکھنے کی مشق کرتے اسباق پہ غور کر رہے تھے۔ جلد کی رنگ سے مطابقت رکھتے جھُمکے کان کے اوپر عینک کی کمانی کے نیچے رکھے تھے اور باریک تار سے جڑا ہیڈ کان کی لو کے اوپر سے گزرتا کانوں کے سوراخوں میں گھسیڑا جا چکا تھا۔ بابا بہرہ اب بیگم کی آواز پہ مچل نہ مار سکنے کے عواقب کا سوچ رہا تھا۔ نصف سے بھی کم قیمت، بہتر کوالٹی اور دس گنا زیادہ بعد از فروخت خدمات اور پانچ سالہ انشورنس کے ساتھ ہم اور ساتھ بیٹھا بیٹا مکمل مطمئن تھے۔
شام چائے کی میز پہ بیٹھے ہم یہ آلہ اتار کے دوبارہ سب کے سامنے کان کے اندر فٹ کرنے دوسرا حصہ کان کے اوپر لگانے کی پریکٹس کر رہے تھے۔ پوتا پاس بیٹھا غور سے دیکھ رہا تھا اور دادی کو پاس بلا بتا رہا کہ دیکھیں دادی، دادا ابو نے امی کے جھمکوں جیسے جھمکے پہنے ہیں مگر الٹے۔ ان کو پتہ ہی نہیں۔ اور سب کے قہقہے نکل رہے تھے۔
ویسے تو ہم بچپن سے آلۂ سماعت استعمال ہوتا دیکھتے آرہے تھے۔ کسی دکان کے تھڑے پر، کسی گھر کے دروازے کے باہر یا چوپال میں چارپائی بیٹھے بابا جی کے پاس تین چار فٹ لمبا باریک ربڑ پائپ یا حقہ کی نلی پڑی ہوتی اور دوسرے سرے پہ لالٹین یا دیے میں مٹی کا تیل ڈالنے کے لئے بنی قیف یا حقے کی چلم فٹ ہوتی اور جب کوئی مخاطب ہوتا تو بابا جی نلی یا پائپ کا سرا کان میں ٹھونستے اور قیف یا چلم بولنے والے کے منہ کے آگے کر دیتے۔ آج کل سوشل میڈیا پہ دوسرے کا انٹرویو لیتے صحافی یا افراد کا مائیکرو فون منہ کے قریب لے جا دیکھتے یہی نظارہ سامنے آتا ہے۔ خود بھی بطور فون یا آلۂ سماعت استعمال کرتے رہے تھے۔ یہ بس دونوں طرف لمبے سے مضبوط دھاگے سے بندھی قیف یا صرف منہ کے آگے دونوں ہتھیلیوں کو رکھ پکار ہوتی جو دونوں دوستوں کا فون بھی بنتا اور آلۂ سماعت بھی۔
پاکستانیوں کی ایجاد تو یہاں تک یا کچھ اور ٹوٹکوں تک محدود رہی مغرب نے سب سے پہلے سن سترہ سو کے بینڈ باجہ والے ٹرمپٹ یا پرانے گراموفون کے بھونپو سے آلۂ سماعت بنانا شروع کیا۔ ٹرمپٹ کے دوسرے سرے کو باریک پائپ کے آگے چھوٹے سی قیف نما کانوں سے لگا کر سنا جاتا۔ پھر کرسی یا صوفہ کے بازوؤں کے ساتھ فٹ ہونے لگا اور آہستہ آہستہ جدت ہوتے پاکستانی طریقہ سے آگے بڑھتے اٹھارہویں صدی میں کمرشل بنیادوں پہ پروڈکشن شروع ہوئی اور ہر کمپنی جدت پیدا کرتے اور خصوصی صورت حال کے مطابق کسٹم میڈ مہیا کرنے لگی۔ پرتگال کے علیل صاحب فراش کم سماعت تک پہنچے شاہ جان ششم کے لئے خصوصی بستر نما تخت بنایا گیا۔ گردن سے دونوں طرف سونے سے بنے شیر کے سر ایستادہ کیے گئے جن کے منہ دھاڑ نے کی شکل میں کھلے اور باہر کی طرف تھے۔ ان میں سے پائپ گزار شاہ کے کانوں کے قریب ان کے سپیکر چھپائے گئے۔ یوں بات کرنے کی نشست شیر کے منہ کے پاس رکھ آلۂ سماعت تیار کیا گیا۔
اٹھارہ سو ستر میں ٹیلیفون کی ایجاد ایک طرح الیکٹرانک آلۂ سماعت کا بھی آغاز بنی اور ایک آلۂ سماعت آکو فون کے نام سے بازار میں آیا۔ انیسویں صدی میں الیکٹرانکس کی نئی ایجادات اس شعبہ میں بھی رنگ جمانے لگیں۔ پچاس کی دہائی کے بعد ٹرانسسٹر، اور سلی کون ٹرانسسٹر شروع ہوئے ساٹھ کی دہائی میں بیل فون کمپنی ڈیجیٹل دور میں لے آئی۔ اور ہائی برڈ اور ریڈیو مائیکروفون کی ٹیکنالوجی ترقی کرتے اب میرے ہاتھ میں سمارٹ آئی فون اور کان کے جھمکے عجیب عجیب فیچر لئے موجود تھے۔ ائر پوڈ کی سہولت اس طرح نعمت کہ باہر کی آواز بھی سن لیتے ہیں۔ اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آرام سے اپنی پسند کے گیت یوٹیوب یا وی لاگ وغیرہ سن رہے ہوتے ہیں مگر حضور بیگم صاحبہ کے شیریں ریمارکس سے محفوظ بھی رہتے ہیں۔ تاہم ابھی مکمل ٹوٹکے سیکھنے اور ایڈجسٹ میں وقت لگے گا کہ سکون یا چند افراد کی محفل میں تو بہت خوب درست سماعت ہے مگر ذرا بھی شور، ریڈیو ٹی وی کھڑاک وغیرہ میں گونج بات سمجھنے میں دقت دیتی ہے۔
اب ہماری ڈیوٹی بڑھ چکی۔ ہر وقت چوکنؔا رہنا پڑتا اور فوری جواب سے نوازنا یا خدمت میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔ کبھی چسکا لینے کی خاطر یا دوپہر قیلولہ کے وقت جھمکے چارجر ڈبیا میں پیک کر رکھتے ہیں۔ اور ایسے میں بلاوا آ جائے تو وہی، ”وہ جی قیلولہ کے وقت اتارے پہنے نہیں“ یا کان میں کھجلی کا بہانہ لگانا سیکھ چکے ہیں۔ روزانہ صبح خواتین کے سنگھار کے کم از ایک انداز، جھمکے فٹ کرنا معمول میں شامل ہو چکا۔ دوسری طرف اگر فون کال یا کچھ اور بیگم صاحبہ کو بھی سننی ہو، سنانی ہو یا کرنی ہو تو سیٹنگ کو اپنے نام سے آئی فون پہ بدلنے کی ڈیوٹی بھی شامل ہو گئی۔ سب کچھ ہو گیا۔ بہت کچھ بدل گیا۔ مگر، مگر، ہائے وہ کیا مزے تھے بڑھاپے میں میاں بیوی کی نوک جھونک، مصنوعی غصے، مصنوعی عاجزی، اور مصنوعی سیز فائر میں۔ بھلائے نہیں بھولتے۔
اور تب ہم یوٹیوب پہ اپنا پسندیدہ گیت لگا فیروزہ بیگم کی مدھر دردیلی آواز میں ”تم بھلائے نہ گئے، ہائے بھلائے نہ گئے“ سنتے ساتھ خود گنگنانا شروع ہو جاتے ہیں۔ کہ تقریباً ہر اکیلے رہ جانے بوڑھے کو بالکل الگ تھلک خاموش بیٹھے یہ شکوہ کرتے ہی دیکھا ہے، ”کم از کم لڑ تو لیتے تھے“ ۔ ہائے وہ بوڑھے میاں بیوی کی آپس کی نوک جھونک۔ کوئی رستہ ڈھونڈنا پڑے گا۔ ”







