فکر اقبال اور جدید سائنس
علم کے حصول میں حواس اور عقل کا استعمال جدید سائنس کی دین ہے۔ اہل مغرب نے خود کو روحانیت اور کشف و الہام سے آزاد کر کے حسی مشاہدات پر مبنی عقلی اصول قائم کیے اور اپنی تقدیر بدل ڈالی۔ آج مغربی اقوام، علمی اعتبار سے دنیا میں قائدانہ صلاحیت کی حامل ہیں۔ لیکن ایک مغالطہ عام ہے کہ سائنس میں عقلی استدلال صرف ریاضی اور منطق کے اصولوں کی مدد سے ہوتا ہے۔ جدید سائنس میں صرف مضبوط دلیل سے علم حاصل نہیں ہوتا بلکہ مشاہدات اور تجربات اور ان کی بنیاد پر پیش گوئی سے ایسا ممکن ہوتا ہے۔ وگرنہ کیا ارسطو اور فارابی و بو علی سینا کم منطقی تھے؟ منطق، علم کے حصول کے لئے کافی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر علم کلام وغیرہ کو فلسفے سے اسی لئے الگ شے گردانا جاتا ہے کیونکہ اس میں منطق کے اصول استعمال ہوتے ہیں اور اس کے لئے مقدمات فلسفہ لازم نہیں۔ علم کلام کے موضوعات بھی کلام مقدس سے اٹھتے ہیں نہ کہ فلسفی کے سوالات سے لئے جاتے ہیں۔ اس لئے کلامی بحثوں کو فلسفہ سے الگ رکھ کر گفتگو کی جانی چاہیے۔ جو لوگ کلامی بحثوں میں منطق کے استعمال کو دیکھ کر اسے فلسفہ یا مابعدالطبیعیات سمجھ لیتے ہیں وہ مغالطے کا شکار ہیں۔ وہ الگ بات کہ جو منطق یہ کلامی لوگ استعمال کرتے ہیں، اب اس میں بھی کافی ترقی ہو چکی اور یہ لوگ اب بھی ”ایساغوجی“ اور ”ارسطوئی قیاس“ تک محدود ہیں۔
بہرحال، جس طرح فلسفہ و مابعدالطبیعیات، جدید سائنس کے بعد علم کے عمومی ذرائع نہیں رہے، یونہی علم کلام کو سائنس جیسا علم کہنا بیوقوفی ہے۔ تاریخ کا ایک سرسری مطالعہ بتائے گا کہ جدید سائنس کلاسیکی دنیا سے بالکل الگ شے ہے۔ مثال کے لئے دیکھئے مشہور ماہر طبیعیات اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر سٹیون وائنبرگ کی کتاب ”دنیا کی تشریح“ جس میں انہوں نے تاریخی واقعات اور ان سے متعلق سائنسی تصورات کی مدد سے سمجھایا ہے کہ دنیا کو سمجھنے میں جدید سائنس تک پہنچنا کس قدر مشکل تھا۔ اس لئے عقلی استدلال کو منطقی سوچ اور سائنس کو محض منطقی علم سمجھ کر اسے دیگر مذہبی علوم کے ساتھ ملانا درست نہیں۔ بہتر ہے کہ اصطلاحات کا درست شعور لئے بنا انہیں زیر بحث نہ لایا جائے۔
علامہ اقبال کے زیر اثر بھی کچھ لوگ ایسے ہی مغالطوں کا شکار ہیں۔ اقبال نے اپنے مشہور خطبات میں روحانی تجربے کو ”علم“ کی بنیاد بنا کر پیش کرنا چاہا ہے۔ اقبال نے اس ”روحانی علم“ کو جدید سائنسی علوم کی طرح کا علم بنانے کی بات کی۔ اس سے کچھ لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ اقبال سائنس دوست تھے اور مسلمانوں کو سائنس کی ترغیب دلا رہے تھے۔ میرے خیال میں اقبال کا زیادہ زور جدید سائنس کے حصول کے بجائے سوڈو سائنس کو درست ثابت کرنے پر تھا۔ وہ دیگر مسلم فلسفیوں کی طرح اس کشمکش یا مغالطے میں مبتلا رہے کہ روحانیت یا تصوف بھی ایک قسم کی سائنس یا علم ہے۔ مثال کے طور پر ابن عربی کی باتیں انتہائی ہندوانہ قسم کی تھیں جن کو اقبال اپنے آغاز کے دنوں میں (شاید مغربی فلسفے یا یورپ کی علمی فضا کے زیر اثر) بھانپ گئے تھے۔ مگر پھر واپس ہندوستان جا کر اور قرون و سطیٰ کے مسلم فلسفوں کے زیر اثر اور اہل تصوف کی صحبت کے باعث (بالکل جیسے غزالی اور ملا صدرا کی زندگی میں ہوا) کرتے کرتے خود بھی اسی مغالطے میں جا گرے۔
روحانی تجربہ یا کشف کو علم کا ماخذ کہنے کی روایت پرانی ہے اس میں اقبال نے صرف بوتل کا لیبل بدلا ہے۔ مسلم فکر میں اقبال کی فکر ابن عربی، ملا صدرا اور غزالی کے نظری تصوف ہی کا تسلسل ہے۔ یہ روایت ملا صدرا سے بھی پرانی ہے، ابن عربی سے بھی بہت پہلے اور فلاطینوس سے بھی پہلے قدیم ہندی اپنشدوں کی تعلیمات میں بھی اور فیثا غورث کی روحانیت میں بھی اس کے جراثیم ملتے ہیں۔ یہ مرض بہت پرانا ہے۔ جتنا پرانا ہے اتنا ہی لاعلاج بھی ہے۔ اس لئے ہر مرتبہ نت نئے روپ اختیار کر کے لوٹ آتا ہے۔ فلسفی اور اہل تصوف دونوں اس جہل مرکب کو اپنی اپنی پیچیدہ اصطلاحات میں بیان کرتے رہے ہیں۔ کوئی وحدت الوجود کہتا ہے، کوئی عقل اول کہتا ہے، کوئی روحانی علم کہتا ہے، کوئی مذہبی واردات کہتا ہے، کوئی مابعدالطبیعیات کہتا ہے۔
اقبال کے زیر اثر یہ مغالطہ عام ہے کہ جدید سائنس، روحانیت سے عاری علم ہے اس لئے دنیا کی آدھی ادھوری تشریح کرتی ہے۔ یہ بھی نا سمجھی والی بات ہے۔ روحانیت کوئی علم نہیں ہے۔ نہ ہی روحانیت کی کوئی واضح تعریف ہے اور نہ ہی یہ علم کے طریقہ کار پر پورا اترتی ہے۔ عرفان و تصوف کی کتابیں بے ڈھنگ اور مبہم اصطلاحات سے بھری پڑی ہیں اور یونہی مذہبی الفاظ کی من مانی تعبیر کرتی نظر آتی ہیں۔ صوفیوں نے اپنے شاعرانہ خیالات کو علم بنا کر پیش کیا ہے۔ اقبال ایک شاعرانہ تخیل کا حامل صوفی ہے۔ اسی لئے اہل تصوف کے قریب ہے اور اہل تصوف اسے اپنے قریب سمجھتے ہیں۔ کیونکہ دونوں علم بذریعہ الہام کے قائل ہیں۔ لہذا، علی عباس جلالپوری کے برعکس میرے خیال میں اقبال کی باتوں کو علم کلام کہنا بھی درست نہیں بلکہ اس کی درست جگہ نظری تصوف ہے۔
ظاہری علوم اور باطنی یا روحانی علوم کی تقسیم ہی بے معنی اور بیکار ہے۔ علم واحد شے ہے۔ علم کے علاوہ اگر کچھ ہے تو وہ جہالت ہے یعنی کسی بات کا پتا نہ ہونا۔ اس لئے یہ کہنا کہ سائنس ادھوری ہے اور روحانیت اسے پورا کرتی ہے یا دنیا کی وضاحت کے لئے سائنس کے ساتھ ساتھ کشف یا باطنی آنکھ درکار ہوتی ہے، سراسر جہل مرکب ہے۔ روحانی علم کے دعویداروں نے کبھی دنیا کی کوئی معنی خیز وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے مغربی یونانی فلسفے اور قدیم ہندی فلسفے کو عربی اصطلاحات کا جامہ پہنا کر اسے مسلم بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسی لئے ملا صدرا ہو یا ابن عربی یا اقبال، سب کے نظریات میں ان قدیمی فلسفوں کی بو آتی ہے۔ سائنس کو جزوی علم کہنا ایک عجیب بات ہے۔ علم بھلا جزوی کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے جب یہ علم ہوجاتا ہے کہ چیزیں زمین پر کشش ثقل کی وجہ سے گرتی ہیں تو یہ جزوی بات ہے؟ یہ جاننے کے لئے ایک راکٹ کو چاند پر کیسے بھیجنا ہے مجھے کون سے کشف کی ضرورت ہے؟ اسی طرح اقتصادی معاملات میں ترقی یافتہ ممالک کون سا چلہ کرتے ہیں کہ ان کی معیشت ترقی کرتی ہے؟ ایسے ہی تاریخ کا مطالعہ، انسانی بستیوں کا مطالعہ، انسانی زبان اور سماج کا رابطہ وغیرہ جیسے سماجی علوم کے لئے کس روحانی ڈائمینشن میں جانا پڑتا ہے؟
یہ کیسی جاہلانہ بات ہے کہ سائنس، حقیقت تک رسائی کا واحد منظم ذریعہ نہیں ہے۔ کیا سائنس کے علاوہ تصوف کو علم کا منظم ذریعہ کہا جائے گا؟ اگر یہ بات ہے تو پھر اہل تصوف میں اس قدر شدید اختلاف کیوں ملتا ہے اور کیوں کوئی ایسا علمی طریقہ وضع نہیں ہو سکتا جو دنیا کی وضاحت ایک منظم انداز سے پیش کرسکے؟ کیا جہل مرکب کو منظم کہا جائے؟ افسوس تو یہ ہے کہ خود اہل تصوف کسی ایک بات پر متفق نہیں ہو پاتے جبکہ سائنسدانوں کی بڑی اکثریت ایک بات پر متفق ہوجاتی ہے کیونکہ سائنس کے مشاہدات اور تجربات بار بار مختلف حالات میں ایک جیسے نتائج پیش کرتے ہیں۔ اقبال کا یہ کہنا کہ مذہب، حقیقت کو کلی طور پر جاننا چاہتا ہے اور سائنس اس کو جزوی طور پر جانتی ہے، ناسمجھ میں آنے والی بات ہے۔ کلیت اور جزوئیت کی اصطلاحیں قدیم یونانی فلسفے سے چلی آ رہی ہیں اور جدید سائنس کی آمد کے بعد سے کب کی مر کھپ چکیں اور اپنے قدیم معنی کھو چکیں مگر مسلم ذہن ابھی تک بہانہ سازی کر کے سائنس کو کمتر یا ادھورا و جزوی علم کہنے پر مصر ہے۔ اگر ان سے دریافت کیا جائے کہ وہ کلی حقیقت کس کو کہہ رہے ہیں یا دنیا کی کلی حقیقت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں تو ان کے پاس سوائے من گھڑت اصطلاحات کا چربہ پیش کرنے کے اور کچھ نہیں ملتا۔ ہر لحظہ با شکل بت عیار برآمد!
بہرحال، دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے، اور یہاں اخلاقی معاشی و سماجی ترقی مراد ہے، وہ عقلی علوم کی بدولت کی ہے۔ سائنس کی درست سمجھ اور دیانت داری سے اپنی اور اپنی قوم کی فلاح و بہبود پر کام کرنا عظیم لوگوں کا شیوہ ہے۔ انسانیت کے لئے درد دل ہونا کافی ہے اور اس کے لئے اپنے نسلی، مذہبی، روحانی تعصبات اور تقلید پرستی سے گریز کرنا چاہیے۔



بھائ آپ کا کالم چھوٹا منہ بڑی بات کی مثال ہے۔آپ ان لوگوں پر اعتراض کر رہے ہیں جن کے افکارآج تک لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ابن عربی، امام غزالی رح کے نا صرف مسلمانوں میں اونچا مقام ہے بلکہ وہ لوگ بھی جن کو تم جیسا کمپلکس کا شکار اعلی مقام دیتا ہے یعنی اھل مغرب، وہ بھی ان کے افکار سے استفادہ کرتے ہیں۔ افسوس ہے کہ تم جیسا کم عقل ان کی باتوں کو سمجھنے میں ناکام ہے۔ اگر اندھے کو دن میں بھی سورج نظر نہیں آتا تو اس میں سورج کا قصور نہیں بلکہ اندھے کی بینائی کا قصور ہے ۔پتہ نہیں تمہارے نزدیک ترقی کا پیمانہ کیا ہے ۔چلییں مسلمانوں نے تو بقول تمھارے ترقی نہیں کی ہے کہ وہ عقل استعمال نہیں کرتے ۔ تم جیسے عقل کل نے کونسا تیر مارا ھے۔
آسمان پر تھوکو گے تو تمہارے منہ پر ہی وہ تھوک پڑے گا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ ۔ کی تم کیا تمھارا بلاگ کیاجس کو بمشکل 100 لوگ بھی نھیں دیکھتے ۔