بھارت کی تباہی اب دور نہیں


اطلاع آئی ہے کہ نریندر مودی جی نے بیس کروڑ آبادی والے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش عرف یوپی کا وزیر اعلٰی ایک ہندو انتہا پسند بنام جوگی آدتیہ ناتھ کو بنا دیا ہے۔ اس صوبے میں چار کروڑ مسلمان رہتے ہیں۔ چار سو تین ارکان پر مشتمل اترپردیش اسمبلی میں بی جے پی کے تین سو بارہ کامیاب امیدواروں میں ایک بھی مسلمان نہیں کیونکہ ایک بھی مسلمان کو بی جے پی کا ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا۔

جوگی جی ان تمام مسلمانوں اور مسیحیوں کو دوبارہ ہندو بنانا چاہتے ہیں جن کے پرکھے ہندو تھے۔ ان کا ارادہ ہے کہ ہر مسجد میں گوری ماتا اور گنیش جی کی مورتیاں استھاپت ( نصب ) کریں گے۔ جوگی مہاراج فرماتے ہیں کہ یوگا شنکر بھگوان نے ایجاد کی۔ شنکر مہادیو اس دھرتی کے ذرے ذرے میں بستے ہیں، یوگا اور شنکر کو پسند نہ کرنے والے ہندوستان سے جا سکتے ہیں اور جو سوریا نمسکار کے مخالف ہیں وہ خود کو سمندر میں ڈبو لیں۔

جوگی جی مسلمان نوجوانوں سے بہت پریشان ہیں جن کے چکر میں پڑ کر ہندو کنیائیں دھرم تیاگ دیتی ہیں اور مسلمان ہو جاتی ہیں۔ ان کا عزم ہے کہ ایسی ایک ہندو کنیا کے بدلے سو مسلمان دوشیزاؤں کو ہندو بنا ڈالیں گے۔ وہ مسلمانوں کی آبادی کی تیز شرح سے بھی خاصے ناراض ہیں۔ مدر ٹریسا، شاہ رخ خان اور عامر خان کو دیش دروہی مانتے ہیں۔ خان تو ان کو آتنک وادی نظر آتے ہیں۔ الیکشن جیتنے کے بعد بریلی کے دیہات میں پرچے تقسیم کیے جا رہے ہیں جن میں مسلمانوں کو علاقہ چھوڑنے کا کہا جا رہا ہے۔ بلند شہر کی مسجد پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا جھنڈا لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کی ایک تصویر بھی شائع ہوئی ہے جس میں وہ کاغذات پر دستخط کر رہے ہیں اور ہنومان مہاراج ان کے کام کی جانچ پڑتال کر کے انہیں آشیر باد دے رہے ہیں۔

خدا کا شکر ہے کہ بھارت جیسے دشمن کو اب یہ ہندتوا کی مذہبی جنونیت تباہ کر دے گی۔ اس کی۔ شدت پسندانہ مذہبی پالیسیوں کی وجہ سے اقلیتیں بھارت سے فرار ہو کر دوسرے ملکوں میں سیٹل ہو جائیں گی۔

پاکستان اب جنگ میں بھارت کو نہیں ہرا سکتا ہے کیونکہ بھارت ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایٹمی جنگ میں نہ تو پاکستان جیت سکتا ہے اور نہ بھارت کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے اور نہ تو جنگ جیتے والا باقی بچے گا نہ ہارنے والا۔ لیکن ایسی مذہبی جنونیت ملک کو اندر ہی اندر سے تباہ کر دے گی اور اسے بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

آثار یہی ہیں کہ بھارت میں انتہا پسند ہندو جماعتوں کو مزید عروج ملے گا۔ وہاں سے سیکولرازم کا خاتمہ ہو جائے گا اور بجرنگ دل، نو نریمان سینا اور آر ایس ایس وغیرہ جیسی مذہبی جماعتیں ایسی طاقت پکڑیں گی کہ صوبائی اور مرکزی حکومت ان کے آگے بے بس ہو جائے گی۔ قانون ان ہندو مذہبی جنونیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا جو کہ ہندو کے علاوہ کسی کو انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں

اقلیتوں کا جینا حرام کر دیا جائے گا۔ ان کے ساتھ وہی ہو گا جو کہ گجرات کے مسلمانوں کے ساتھ ہندو انتہا پسند کر چکے ہیں۔ ان کے پاس یہی آپشن ہو گی کہ ہندو مت اختیار کر کے ہندو شودر کی حیثیت سے زندگی بسر کریں یا ملک چھوڑ دیں۔

ایسا ہوا تو آئندہ ایٹم بم اور میزائل پروگرام کا معمار عبدالکلام جیسا سائنسدان ہو گا نہ گیتوں کا ساحر لدھیانوی۔ نہ وہاں شاہ رخ خان ہو گا نہ سلمان خان۔ نہ کوئی مدھو بالا آئے گی نہ وحیدہ رحمان۔ نہ آئی ٹی انڈسٹری کا عظیم پریم جی ہو گا نہ بائیوٹیک کمپنی سپلا کا ارب پتی مالک یوسف خواجہ۔ نہ وہاں ظہیر خان ہو گا نہ عرفان پٹھان۔ نہ اظہر الدین بیٹنگ کرے گا نہ سید کرمانی وکٹ کیپنگ۔

اقلیتوں میں سے کچھ بھاگ کر پاکستان آ جائیں گے اور کچھ دوسرے ممالک کا رخ کریں گے۔ بھارت کا وہی حال ہو گا جو اندلس سے مسلمانوں کے نکلنے کے بعد سپین کا ہوا تھا۔ یورپ میں علم و فضل اور مال و دولت میں سب سے بڑھ کر اس ملک نے جب مذہبی جنونیت کا اسیر ہو کر اقلیتوں کو ملک بدر کیا تو اس کے بعد ایسا گرا کہ آج پانچ سو برس بعد بھی سنبھل نہیں پایا ہے۔

لیکن زیادہ خوشی کی یہ بات ہے کہ جب ہمارے ازلی دشمن بھارت میں سب اقلیتوں کا خاتمہ ہو گا تو پھر تباہی کا اگلا راؤنڈ شروع ہو گا۔ سب ہندو آپس میں لڑیں گے کہ ہمارا دیوی دیوتا ہی پوجا کے قابل ہے اور باقی سارے غلط اور غلط ہیں۔ بدیسی اقلیتوں کے بعد دیسی اقلیتوں کی باری آئے گی۔ سکھوں کی شامت آئے گی۔ ان کا خاتمہ ہو گا تو پھر بدھ مت نشانہ بنے گا۔ پھر جین مت۔ اس کے بعد ہنومان بھگت اٹھیں گے اور وشنو بھگتوں سے ٹکرا جائیں گے۔ کالی ماتا کے پجاری گنیش کی پوجا کرنے والوں کو ماریں گے۔ شری کرشن مہاراج بانسری ہی بجاتے رہ جائیں گے اور ان کے داس درگا دیوی کے سینکوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ یوں کروڑوں دیوی دیوتا اپنے بھگتوں کے ساتھ اس مسلکی جنگ میں شامل ہو جائیں گے اور مذہبی جنونیت کا شکار یہ ہندو آپس میں ہی ایک دوسرے کو اتنا ماریں گے کہ بھارت میں نسل انسانی معدوم ہونے کے قریب ہو جائے گی۔

ارد گرد کے ملک ان پر ہنسیں گے۔ پھر جب آپسی لڑائی سے بھارتی ادھ موئے ہوئے پڑے ہوں گے تو ہمالیہ سے چین اترے گا اور ستلج اور راوی کی جانب سے پاکستان نمودار ہو گا اور بھارت کی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنی اپنی مرضی کرے گا۔ مختلف صوبے ویسے ہی الگ الگ ملک بن جائیں گے جیسے کہ تاریخ میں پہلے بنتے رہے ہیں۔

شکر ہے کہ اس مذہبی جنونیت کے ہاتھوں ہمارا ازلی دشمن بھارت تباہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ مذہبی جنونیت کے ہاتھوں بھارت کی مکمل تباہی میں ابھی کچھ عرصہ باقی ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں دنیا کے خوش ملکوں کے بارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں 155 ممالک میں سے بھارت کا نمبر 122 ہے۔ پاکستان کا نمبر 80، نیپال کا 99 اور بنگلہ دیش کا 110 قرار پایا ہے۔ پہلے نمبر پر خوش ترین ملک ناروے قرار پایا ہے۔ مذہب تو بندے کو سکون اور خوشی دیتا ہے، پھر مذہبی جنونی بن کر بھارتی خوش کیوں نہیں ہیں؟ شاید جنونیت خوشیاں چھین لیتی ہے۔

جس ملک میں سب شہریوں کو برابر کے حقوق نہ ملیں وہ تباہ ہی ہوا کرتا ہے۔ جب بھی مذہبی شدت پسند قانون اور ریاست سے زیادہ طاقتور ہو جائیں تو ملک کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی ہے بلکہ ملک کے سب سے بڑے دشمن یہی اپنے مذہبی جنونی ثابت ہوا کرتے ہیں۔

خدا کا شکر ہے کہ مذہبی جنونیت کا شکار بھارت ہو رہا ہے، پاکستان نہیں۔ کیونکہ جو ملک اس راہ پر چلے اس کا مقدر تباہی ہوا کرتی ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar