پاکستان میں پانی کی قلت۔ ایک بڑا مسئلہ


پاکستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے یہاں چار موسم (گرمی، سردی، خزاں، بہار) ، بلند ترین پہاڑ، سرسبز خوبصورت وادیاں اور چشمے اور وافر آبی ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی کا نہری نظام بھی موجود ہے لیکن اس کے باوجود حیرت کی بات ہے کہ آج پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پاکستان کی معیشت کا بیشتر حصہ زراعت پر منحصر ہے اور یہاں کے کسانوں کا انحصار بنیادی طور پر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر ہے تاہم گزشتہ چند سالوں سے دریائے سندھ کے پانی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے

اقوام متحدہ کی ”گلوبل واٹر سیکیورٹی 2023 اسیسمنٹ“ رپورٹ پاکستان کو پانی کے حوالے سے انتہائی غیر محفوظ زمرے میں رکھتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کو پانی کی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں اس تشویشناک حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی کمی کے شکار ممالک میں شامل ہے جہاں فی کس پانی کی دستیابی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 70 سالوں میں فی کس پانی کی دستیابی میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے اور ملک اس وقت پانی کے بحران کا شکار ہے

یہ صورتحال اس وقت اور زیادہ تشویش ناک ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ دریائے سندھ جیسا بڑا دریا موجود ہونے کے باوجود بھی پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہے اس قلت کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلیاں، بڑھتی ہوئی آبادی، قدرتی وسائل کا غیر مناسب استعمال، ناقص آبی انتظام اور ناقص حکومتی پالیسیاں شامل ہیں

پاکستان میں پانی کی قلت کی کچھ وجوہات ؛

* موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جہاں ایک طرف گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں وہیں غیر متوقع مون سون بارشوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے کبھی سیلاب اور کبھی خشک سالی کی سی صورتحال سے نمٹنا پاکستان کے لیے چیلنج بن گیا ہے ایسی صورتحال میں ملک آبی ذخائر کو محفوظ اور مناسب طریقے سے استعمال کرنا بہت اہم ہے

* پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونا بھی پانی کی قلت کا ایک اہم سبب ہے۔ شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتوں کا پھیلاؤ اور پانی کا غیر ذمہ دارانہ استعمال اس مسئلے کو مزید پریشان کن بنا رہا ہے کیونکہ اس سے موجودہ آبی وسائل پر دباؤ بڑھ چکا ہے اور بدقسمتی سے نئی منصوبہ بندی اور ڈیمز کی تعمیر کا کام بھی سست روی کا شکار ہے جس سے معاملات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں

* آبی ذخائر کا غیر ذمہ دارانہ استعمال پانی کی قلت کا ایک اہم سبب ہے اکثر علاقوں میں پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی شہری علاقے ہوں یا دیہی علاقے پانی کے انتظامات ناقص ہیں جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پانی ضائع ہوتا ہے

پاکستان میں پانی کی قلت ایک خطرناک حقیقت بن کر سامنے آ رہی ہے جس کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے حکومت اور عوام دونوں کو مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا بہتر کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ 2025 تک پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ہماری معیشت پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے پانی کے تحفظ کے لئے جدید تکنیکی طریقوں کو اپنانا، نئے ڈیمز کی تعمیر اور عوامی آگاہی کے لئے فوری اقدامات کرنا بہت ضروری ہے

کیونکہ
پانی ہے تو زندگی ہے
اور زندگی ہے تو سب کچھ ہے
نہیں تو کچھ بھی نہیں
تو سنبھالو پانی کے ہر قطرے کو
زندگی کی اس دولت کو ضائع نہ ہونے دو!

Facebook Comments HS