پیاری بیٹیاں، شادی کا گلیمر اور امیر زادے


عرصہ پہلے ایک بچی ہمارے تعلیمی ادارہ ”دی ویژن“ میں گریجویشن کی کوچنگ کے سلسلے میں آئی، خاصی ذہین لیکن گم صم اور خاموش طبع، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کوئی دکھ ہے جو اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔ ایک دن پڑھانے کے لیے کلاس میں گیا تو اسے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے پایا، یوں لگا کہ دکھ کی رم جھم خاصی دیر سے جاری تھی اور شاید ابھی تھمی ہو۔ میں نے وجہ جاننے کی کوشش کی تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بس اتنا کہا ”کہ میری زندگی تجربات کی نذر ہو گئی جس کا حاصل رسوائی اور تذلیل کے سوا کچھ نہیں۔“

مکمل بات سننے کے بعد وہی کچھ نکلا جس کی اس جامد اور تنگ نظر سماج سے توقع کی جا سکتی ہے، سماجی حدود و قیود اور روایتی پابندیوں کا بے دریغ استعمال، اولاد تو پیدا کر لی لیکن ان کی زندگیوں کے مالک بھی خود بن بیٹھے۔
بچوں کی خواہش جانے بغیر خود کی خواہشات کی بھٹی میں دھکیلنے کا چلن، بھلے اس کے نتیجے میں بچوں کی معصومیت کچلی جائے بس بڑوں کی انا برقرار رہے۔

بچی کا کہنا تھا کہ میری رضا مندی جانے بغیر مجھے مدرسے کو سونپ دیا گیا تاکہ حفظ کر کے والدین کو جنت الفردوس میں لے جانے کا سبب بن سکوں اور میری زندگی کے ابتدائی اور انتہائی قیمتی ماہ و سال مدرسے کی نذر ہو گئے، بعد میں میں مجھے جلدی جلدی میٹرک تک پہنچایا گیا۔ میٹرک میں اچھے مارکس کی وجہ سے ایف ایس سی میڈیکل میں داخلہ ہو گیا، اچھی جان ماری اور ایف ایس سی بھی اچھے مارکس سے ہو گئی تو مجھے ڈاکٹری شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ میڈیکل کے تیسرے سال میں والدین نے یہ کہتے ہوئے شادی کردی کہ رشتہ اچھا ہے، لڑکا کھاتا پیتا اور رئیس گھرانے سے ہے تمہیں خوش رکھے گا۔ لڑکے والوں نے وعدہ کیا کہ اس کی میڈیکل کی تعلیم مکمل کروائیں گے لیکن وہی ہوا جس کا اس سماج میں چلن ہے۔ میڈیکل کی تعلیم گئی بھاڑ میں، کمرہ عروسی میں ہی مجازی خدا نے حکم جاری کر دیا کہ آج سے تم دنیا سے بیگانہ ہو گئیں، اسی گھر کی چار دیواری تمہاری کل کائنات ہوگی۔ فیصلہ ختم ہوا اور بعد میں جسمانی تشدد کا ایک طویل دور شروع ہوا اور آ خر میں خلع لے کر جان چھوٹی، اتنی طول کلامی کا ماحصل ایک جملہ ہے جو بڑا قابل غور ہے۔

مکمل دکھ بھری داستان سننے کے بعد میں نے اپنی اسٹوڈنٹ سے پوچھا کہ اس سارے پس منظر میں زیادہ قصور وار کون ہے؟ شوہر یا سسرالی؟ بچی نے سرد سی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ شوہر کا اتنا زیادہ قصور نہیں تھا، میں نے چونکتے ہوئے کہا تو پھر وہ کون تھا؟ کہنے لگی کہ ”عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے“
میری ساس اور دوسری قربت دار خواتین جو اسی آ نگن کا حصہ تھیں ان سب نے میرے اس رشتے کو ٹاکسک بنانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ جیسے ہی شوہر پیار بھری نظروں سے میری طرف بڑھنے کی کوشش کرتا تو سارے ”کیدو“ اکٹھے ہو کر چالیں چلنا شروع کر دیتے۔

اب ڈسکہ میں زارا قدیر کے ساتھ جو قیامت ٹوٹی ہے اس میں لڑکی کی سگی خالہ ”ساس“ دو سگی خالہ زاد بہنیں ”نندیں“ شامل ہیں جنہوں نے ذرا قدیر کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے دو بوریوں میں بند کیا اور نہر برد کر دیا۔ سر دھڑ سے الگ کر کے چولہے پر اس قدر جھلسایا کہ اس کے چہرے کے نقوش ختم ہو گئے اور سر کو ایک الگ مقام پر پھینک دیا تاکہ شناخت نہ ہو سکے۔ زارا کا قصور بس اتنا سا تھا کہ وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر سے محبت کرتی تھی جو کہ شوہر کے سگوں کو ایک آ نکھ نہیں بھاتی تھی۔

اس سارے منظر نامے میں قصوروار کون ہیں؟ سب سے پہلے والدین ہیں جو بچیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی بجائے شادی کرنے میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور جیسے ہی انہیں کوئی مناسب رشتہ ملتا ہے فرض کی ادائیگی بلکہ اپنے سر سے بوجھ کو اتارنے میں دیر نہیں لگاتے، بھلے بچی کی عمر جتنی مرضی ہو ان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ دوسرا مسئلہ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ہوتا ہے جو ہماری بچیوں کی زندگی میں زہر گھولنے کا سب سے بڑا محرک ہوتا ہے۔

اس جامد و ساکت سماج کو اس حقیقت تک پہنچنے میں خاصا وقت لگے گا کہ شادی دو دلوں کا ملاپ ہوتی ہے، اس بندھن میں کسی بھی تیسرے کی شمولیت شرک قرار پاتی ہے اور دونوں کو پر سکون ماحول کا ملنا یا میسر ہونا ان کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ جیسے کمرہ عروسی میں کوئی تیسرا داخل نہیں ہو سکتا ایسے ہی ان کی نجی زندگی میں کسی بھی تیسرے کی شمولیت یا مداخلت رشتے کے تقدس یا اصلیت کو ختم کر دیتی ہے۔

دوسری غلطی اس وقت سر زد ہوتی ہے جب بچی کے رشتے کے لیے کسی ایسے لڑکے کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کا روزگار بیرون ملک ہوتا ہے اور وہ چند روز گزارنے کے لیے وطن آ تا ہے۔ وہ چند روز گزار کر بیرون ملک چلا جاتا ہے جبکہ بیوی سسرال کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، وہ راہ تکتے رہ جاتی ہے جبکہ شوہر تو مرد ہوتا ہے نا وہ تو کہیں بھی منہ مار سکتا ہے لیکن خاتون کیا کرے؟

اس اکیلی کے کندھوں پر تو سارے سماج کی عزت کا بوجھ ہوتا ہے، وہ تو سماجی دائرے سے باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتی، خداوندان سماج سے سوال ہے کہ سالہا سال شوہر کی یاد میں اکیلے سونے کا گناہ عظیم کس کھاتے میں پڑے گا؟

کیا عزت و عصمت کے سارے دائرے خواتین کے لیے بنائے گئے ہیں جبکہ مرد کو شتر بے مہار کی مانند کھلا چھوڑنے کے پیچھے منطق کیا ہے؟ ظاہر ہے منہ زور جبلتیں تو قدرت کی ودیعت کردہ ہوتی ہیں اس میں انسان کا کیا قصور؟ جنسی تقاضوں کا جوش کیا رنگ دکھاتا ہے اہل نظر و فکر خوب جانتے ہیں، نہیں معلوم تو بابائے نفسیات سگمنڈ فرائڈ سے معلوم کر لیجیے کہ جنسی جبر کیا رنگ دکھاتا ہے؟

لیکن مردوں کی برتری والے سماج میں خواتین کے بارے میں کون سوچتا ہے؟ مرد مردانگی کے پیچھے چھپ جاتا ہے لیکن خواتین کیا کریں؟ کیا تقدیسی باؤنڈری کا پالن کرنا صرف خاتون پر لازم ہوتا ہے یا مرد کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے؟

کیا حفاظتی تالے کی ضرورت صرف خاتون کی وجائنا کو ہے یا مرد کے عضو تناسل کو بھی کسی تالے کی ضرورت ہوتی ہے؟

والدین سے التماس ہے کہ وہ بچے اور بچیوں کے درمیان کوئی فرق نہ کریں، جیسے بچوں کو سماجی تحفظ یا فیملی کی سپورٹ میسر ہوتی ہے وہ ہماری بچیوں کو بھی ہونی چاہیے۔ بچیوں کو زیور تعلیم سے مالا مال کریں اور مکمل تعلیم دیں تاکہ ان کے ذہن میں شعور کی شمع جلتی رہے۔ ان کے تعلیمی سفر کو شادی کے چکروں میں ادھورا مت چھوڑیں، بھاری بھرکم جہیز بھلے دیں لیکن انہیں ایک اچھی تعلیم کے زیور سے بھی آ راستہ کریں۔

شادی سے زیادہ قیمتی انسانی جان ہوتی ہے جس کے سہارے زندگی گزرتی ہے اور اسی زندگی کو گزارنے کے قابل بنانے کے لیے ہر والدین کو اپنے اپنے حصے کا مکمل ہوم ورک کرنا چاہیے۔ بچیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں اور انہیں خود اپنے فیصلے لینے کے قابل بنائیں تاکہ وہ زندگی بھر کسی دوسرے کی طرف نہ دیکھیں۔

انہیں جھوٹے خواب مت دکھائیں بلکہ زندگی کی حقیقتوں سے حقیقی انداز میں نبرد آزما ہونا سکھائیں تاکہ وہ سراب کے پیچھے بھاگنے کی عادی نہ ہوں۔

Facebook Comments HS