برطانیہ میں واروک کا تاریخی کیسل – قسط نمبر 2۔


واروک انگلینڈکی وارک شائر کاؤنٹی کا شہر ہے جو دریائے ایون کے کنارے پر واقع ہے۔ اسی قصبے میں 1068 عیسوی میں مٹی اور لکڑی سے وارک قلعہ تعمیر کیا گیا۔ 12 ویں صدی کے دوران فوجی نقطہ نظر سے پتھروں اور لکڑی سے اس قلعے کی از سر نو دوبارہ تعمیر کی گئی۔ پندرہویں اور سولہویں صدی میں برطانیہ کی سو سالہ خانہ جنگی کے دوران قلعے کے سامنے والے حصہ کو فوجی فن تعمیر کو سامنے رکھ کر اسے ایک بار نئے سرے سے تعمیر کیا گیا۔

17 ویں صدی تک یہ قلعہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ انگلستان کے بادشاہ ولیم دوم نے ایک طاقتور نارمن خاندان کے بیٹے ہنری ڈی ہیومونٹ کو وارک قلعہ کا کانسٹیبل مقرر کیا اور 1088 ء میں اسے وارک کا پہلا رئیس (ارل) بنا دیا گیا۔ اس نے قلعے کے اندر چرچ آف آل سینٹس کی بنیاد رکھی لیکن ورسٹر کے بشپ نے قلعہ کو چرچ کے لیے نامناسب خیال کرتے ہوئے 1127 ء میں اسے ختم کرا دیا۔

1871 ء میں قلعے کے بڑے ہال کے مشرقی حصہ میں لگنے والی آگ نے قلعہ کو کافی نقصان پہنچایا، بعد میں پتہ چلا کہ یہ آگ اس ہال سے نوادرات کی چوری چھپانے کے لیے جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔ 17 ویں صدی کے آخر میں یہ قلعہ نما محل عام سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا۔ 1978 ء میں یہ قلعہ تساؤ گروپ نے خرید کر سیاحوں کی سہولت کے لیے اس کی اندرونی اور بیرونی تزئین و آرائش کی۔ اوپر والی منزل میں ان تاریخی خواتین و حضرات کے مومی مجسمے رکھے گئے ہیں جو 1898 ء میں ایک ہفتہ وار پارٹی میں مہمان تھے۔ ڈنر پارٹی کی میزبانی فرانسس کاؤنٹیس آف واروک نے کی تھی جب کہ پرنس آف ویلز اس ڈنر پارٹی کے مہمان خصوصی تھے۔

وارک کیسل میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہتھیاروں کے ذخیرے کو ٹاور آف لندن کے بعد قدیم اور تاریخی ہتھیاروں کا برطانیہ کا دوسرا بڑا ذخیرہ شمار کیا جاتا ہے۔ 2001 ء میں وارک کیسل کو برٹش ٹورسٹ اتھارٹی نے برطانیہ کے دس تاریخی عمارتوں اور یادگاروں میں سے ایک قرار دیا تھا۔ اس وقت سالانہ دس لاکھ سے زیادہ سیاح اس کیسل کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

برطانیہ میں ہر سال لاکھوں سیاح سیر کے لیے آتے ہیں۔ یہاں سیاحوں کو تمام مروجہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ قلعوں اور محلوں کی سیاحت کے لیے کچھ اصول وضع کیے گئے ہیں۔ عموماً ً ہر محل میں یک طرفہ رسائی ہوتی ہے۔ آپ ایک قطار میں ایک دروازے سے محل میں داخل ہوں اور سارا کیسل گھوم کر دوسری طرف سے باہر آ جاتے ہیں۔ اس طرح سیاحوں کی بھیڑ نہیں ہوتی جس وجہ ہر جگہ رسائی ممکن ہوتی ہے۔ محلوں میں رکھے گئے نوادرات کو چھونے کی ممانعت کے علاوہ دو تین محلات میں نوادرات کے فوٹو لینے پر بھی پابندی عائد ہے۔

پچھلے کچھ عرصہ میں متعدد محلوں کی سیر کے دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ ہر محل میں مختلف انداز کے نوادرات رکھے گئے ہیں۔ تا کہ ہر محل کی خصوصیت برقرار رہے۔ وارک کیسل میں جنگی ساز سامان کے علاوہ ماضی میں اس محل میں قیام کرنے والے نوابوں اور رئیسوں اور ان کی بیگمات کے استعمال میں رہنے والی اشیاء رکھی گئی ہیں۔ جیسے ہی ہم چار یار پہلی منزل کے مرکزی ہال میں پہنچے تو ہمیں دو گھڑ سوار نظر آئے۔ مکمل جنگی لباس زرہ بکتر میں ملبوس جنگجو لوہے سے بنے ہوئے گھوڑے پر ہیں۔

دونوں گھڑ سواروں نے 12 ویں 13 ویں صدی میں استعمال ہونے والے جنگی ہتھیارجسموں پر سجا رکھے ہیں۔ ان گھڑ سواروں کے سامنے والی دیوار پر مختلف جنگی ہتھیار سجائے گئے ہیں۔ قیمتی لکڑی کے منقش فرنیچر، سنگ مرمر اور دوسری قیمتی دھاتوں سے بنے مجسمے اس محل میں رہنے والوں کے ذوق، دولت اور شان و شوکت کے آئینہ دار ہیں۔ ہال کی جنوبی دیوار میں نصب کھڑکیاں دریائے ایون کی طرف کھلتی ہیں جہاں سے دور تک نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

ان کھڑکیوں کے درمیان دیوار گیر الماریوں میں سے ایک میں تلواریں سونے کے کام سے مزین میانوں کے ساتھ لٹکتی نظر آئیں۔ دوسری الماری میں مختلف نوابوں کے پندرہویں اور سولہویں صدی میں زیر استعمال گن پاؤڈر سے چلنے والے پستول سجے ہوئے ہیں۔ ہم جیسے ہی دائیں مڑے تو ایک کونے میں تلوار ہاتھ میں لیے لوہے کے لباس سے چہرے سمیت سارا جسم ڈھانپے ایک جنگی سپاہی کا مجسمہ نظر آیا۔ تیروں تلواروں کے زمانے کی جنگوں میں استعمال شدہ ہتھیاروں کا نمونہ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم چاروں بڑی حیرت سے ان اشیا کو دیکھ رہے تھے۔ اتنی حفاظت و صفائی سے رکھے گئے نوادرات کہیں بھی دھول کا کوئی دھبہ نظر نہیں آیا۔

یہاں سے ہم سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر بنی ایک کشادہ راہ داری میں پہنچے جس کی دیواروں پر نوابوں اور ان کی بیگمات کی نامور مصوروں کی بنائی ہوئی قد آدم تصاویر منقش لکڑی کے بنے ہوئے فریموں میں دیواروں پر ساتھ استادہ نظر آئیں۔ دوسرے مشاغل کے ساتھ نواب علم و ادب میں بھی بہت دلچسپی لیتے تھے اس کا اندازہ ہمیں پہلی منزل پر واقع بہت بڑی لائبریری دیکھ کر ہوا۔ لائبریری میں دیواروں کے ساتھ چھت تک بنی خوبصورت الماریوں میں چار پانچ ہزار کتابیں بڑی ترتیب سے رکھی گئی ہیں۔ بغور جائزہ لینے پر مجھے اٹلی، فرانس، یونان، سپین، پرتگال اور قدیم مصر کی تاریخ پر کتابیں ایک الماری میں نظر آئیں۔

برطانیہ میں محلوں کے چھت اور فرشوں میں لکڑی کے مضبوط تختوں کا بہت زیادہ استعمال نظر آتا ہے۔ وارک محل میں بھی پہلی اور دوسری منزل پر سب فرش لکڑی کے تختوں سے بنے ہیں۔ لائبریری سے ہم اگلے کمرے میں پہنچے تو ڈائننگ ٹیبل کے ایک کونے پر رکھے چائے کی پیالی کے ساتھ ایک خوبصورت خاتون کھڑی تھی۔ ہماری قریب پہنچنے پر بھی وہ وہاں سے نہیں ہٹی تو ہم نے غور سے دیکھا تو وہ خاتون کا مومی مجسمہ تھا۔ یہ کلارہ بٹ نامی ایک مغنیہ کا مجسمہ تھا۔

اس سے اگلے تین کمرے جو خواب گاہیں تھیں، میں بھی خواتین و حضرات کے مومی مجسموں کے ساتھ قیمتی فرنیچر اور نوادرات سجے ہوئے تھے۔ ان خواب گاہوں کی دیواروں پر انتہائی قیمتی قالین اور مصوروں کی بنی ہوئی نادر تصاویر آویزاں ہیں۔ خواب گاہوں کے سامنے والے کمرے میں زمانہ قبل مسیح میں روم کے پہلے بادشاہ سیزر آگسٹس، روم کے تیرہویں شہنشاہ ٹراجن اور جنرل سکپیو افریقی کے سفید سنگ مرمر سے بنے مجسمے لکڑی کی قیمتی میزوں پر رکھے نظر آئے۔

اس کے ساتھ والے کمرے دیوار پر سجی بڑی سی خوبصورت اور نایاب پینٹنگ کے ساتھ کونے میں پیتل کا بنا ہوا ایک نوجوان کا سنہری مجسمہ رکھا گیا ہے۔ مہاگنی کی لکڑی کے انتہائی مہارت سے بنے نقش و نگار والا نایاب شمع دان کے ساتھ قیمتی چینی کے برتن، گھڑیال، تانبے اور پیتل سے بنے نادر مجسموں کے علاوہ دوسرے نایاب ترین نوادرات بڑی خوبصورتی سے سجائے گئے ہیں۔

محل کی سیر کرنے والے سیکڑوں افراد میں صرف ہم چار لوگ ہی براؤن تھے باقی سب گورے تھے۔

خواب گاہوں میں رکھے مومی مجسمے میڈیم تساؤ کے میوزیم میں بنے ہوئے ہیں۔ یہ کیسل بھی تساؤ گروپ کی ملکیت رہا ہے اس لیے یہاں مومی مجسمے نظر آئے جن کی تاریخی وجہ تسمیہ اوپر بیان کی گئی ہے۔ ہم چاروں نوادرات دیکھ کر تبصرہ بھی کر رہے تھے۔ کچھ نوجوان گوریاں ہم چار بابوں کو دیکھ کر حیران بھی ہو رہی تھیں۔

پہلی خواب گاہ میں خوبصورت خاتون کے مجسمہ کو بہت قریب سے دیکھ کر نثار خواجہ کے منہ سے سیٹی نکل گئی اور وہ بولے۔

اوئے خوئے! ساتھ ہی انھوں نے اونچی آواز میں مجھے کہا۔
شاہ جی! دیکھئے گوروں میں بھی بٹ ہوتے ہیں۔
میں ان کی بات سن کر ہنس پڑا۔ شاید وہ مذاق کر رہے ہیں۔

اس پر کمرے میں موجود دو گوریوں نے ہمیں گھور کر دیکھا پھر ہمیں مسکراتے دیکھ وہ بھی مسکرا دیں۔ خوبصورت خواتین کی مسکراہٹ سے کمرہ مزید روشن ہو گیا تو میں نے اس روشنی میں مجسمے کے ساتھ رکھا ہوا کتبہ پڑھا۔

اس پر واقعی لکھا ہوا تھا (کلارہ بٹ 1872۔ 1936 ) ۔

” کلارہ بٹ انیسویں صدی میں چھ فٹ دو انچ دراز قد کی ایک خوبصورت مغنیہ تھی۔ جس نے برطانیہ کی تین بادشاہوں کے دور میں اپنی خوبصورت آواز کے جادو سے نوابوں اور رئیس زادوں کو مسحور کیے رکھا۔ 1898 ء میں اس محفل میں سجی ویک اینڈ پارٹی میں پرنس آف ویلز کی موجودگی میں کلارہ بٹ نے اپنی مدھر آواز میں گانے گا کر محفل کی رونق بڑھائی تھی اس لیے اس کا مومی مجسمہ یہاں رکھا ہوا ہے۔“

محل کی سیر کے بعد ہم باہر نکلے تو دروازے سے بائیں جانب بنی ہوئی سیڑھیوں سے کچھ سیاحوں کو فصیل کے اوپر جاتے دیکھا۔ ہم نے ابھی ادھر جانے کا ارادہ کیا تو نصیر خان اور اشفاق صحن میں رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ نصیر خان نے اپنا دل کچھ عرصہ پہلے ہی مرمت کروایا تھا اور اشفاق ڈرائیونگ کر کے تھک گئے تھے۔ میں اور نثار خواجہ جب فصیل کے اوپر پہنچے تو بہت خوبصورت نظارہ تھا۔ اتنے میں اشفاق اور نصیر بھی ہمت کر کے اوپر آ پہنچے۔ اس فصیل سے دریائے ایون اور شہر کے خوبصورت پس منظر میں ہم نے فوٹو بنائے۔

ڈیجیٹل فون کیمرے سے جتنے مرضی آئے فوٹو کھینچتے رہیں ریل ختم ہونے کا ڈر نہیں ہوتا۔ دوسرا کسی بھی سیر کرتی حسین خاتون سے کہیں تو وہ مسکرا کر آپ کا گروپ فوٹو بنا دے گی۔

فصیل سے نیچے اتر کر ہم محل کے صحن میں شام کو ہونے والے کنسرٹ کے لیے لگائی گئی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

مجھے پیاس محسوس ہوئی تو میں اکیلا ہی سامنے بنے چھوٹے سے سنیک بار سے پانی کی بوتلیں لینے چلا گیا۔ چینی یا کورین نژاد کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی نے مسکرا کر پوچھا۔ کیا چاہیے؟ میں نے پانی کی چار بوتلیں مانگیں۔ اس نے فرج سے چار بوتلیں نکال کر کاؤنٹر پر رکھیں۔ میں نے اسے دس پاؤنڈ کا نوٹ دیا۔ اس نے کہا کہ یہاں کیش نہیں لیتے صرف کارڈ سے ادائیگی ہو سکتی ہے۔

میں نے اسے کہا کہ میں ٹورسٹ ہوں، دوسرے ملک سے آیا ہوں میرے پاس صرف کیش ہی ہے کارڈ نہیں ہے۔

اس پر اس نے جواب دیا کہ یہاں کیش لینے کی پالیسی نہیں ہے۔ اس کے بعد اس نے ایک لمحہ کے لیے کچھ سوچا پھر پانی کی دو بوتلیں مجھے پکڑائیں اور کہا کہ آپ ٹورسٹ ہو آپ ایسے ہی لے جاؤ۔ میرے انکار پر وہ اصرار کرنے لگی کہ آپ کو پانی کی ضرورت ہے اس لیے آپ لے جاؤ۔

میرے پیچھے کھڑی ایک خاتون ہماری گفتگو سن کر آگے آ گئی اور ادائیگی کی پیش کش کر دی۔ خاتون کہنے لگی آپ ٹورسٹ ہیں اور مہمان ہیں۔ میں ان کی اس پیش کش پر مجھے انتہائی خوشی ہوئی لیکن میں نے پھر بھی بوتلیں لینے سے انکار کر دیا۔

خواجہ صاحب مجھے دو خواتین میں گھرا دیکھ کر دوڑتے ہوئے آئے اور ماجرا جان کر اپنے کارڈ سے ادائیگی کر دی۔ ہم نے ان دونوں خواتین کا شکریہ ادا کیا اور پانی کی بوتلیں لے کر اشفاق اور نصیر خان کی طرف لوٹ آئے۔

میں نے اب دائیں جانب فصیل کے اوپر جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ وہ فصیل پہلی والی سے زیادہ اونچی تھی۔ نثار خواجہ بھی میرا ساتھ دینے کو تیار ہو گئے۔

اشفاق اور نصیر خان نے دونوں جواں دل بابوں کو فصیل کے اوپر جانے کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن دونوں جواں ہمت بابوں نے اوپر جانے کے لیے کمر کس لی اور ایک ہی ہلے میں سو سے زیادہ تنگ سیڑھیاں چڑھنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ اور بات ہے کہ اوپر جا کر دونوں کو سانس بحال کرنے میں دس منٹ لگ گئے۔ فصیل سے شہر کا کیا خوب نظارہ تھا۔

برطانیہ میں بارشیں زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر طرف ہریالی اور سبزہ نظر آتا ہے۔ فصیل سے شہر کی صاف ستھری گلیاں نظر آ رہی تھیں۔ مطلع صاف ہونے اور سنہری دھوپ کی وجہ سے دور دور تک صاف نظر آ رہا تھا۔ فصیل سے ہم نے بہت سارے فوٹو لئے۔ قلعے اور اردگرد کی خوبصورتی کو اپنی آنکھوں سے دماغ اور فون کے کیمرے سے اس کی میموری میں قید کر لیا۔

فصیل کے درمیان میں برطانیہ کا قومی پرچم لہرا رہا تھا۔ سب سے انوکھی اور جدید چیز جو ہمیں فصیل پر نظر آئی۔ وہ دل کے مریضوں کے لیے ایک سپورٹ لائن تھی۔ اگر فصیل کی سیڑھیاں چڑھنے سے آپ کا سانس پھول جائے یا آپ کو دل کی تکلیف ہو جائے تو وہاں نصب فون کے ذریعے آپ ایمبولینس سے رابطہ کریں اور جتنی دیر میں ایمبولینس اور اس کا عملہ پہنچتا ہے آپ ان کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کریں تو آپ کی زندگی بچ سکتی ہے۔

ہم دونوں بابے جوش میں سیڑھیاں چڑھ تو آسانی سے آئے تھے لیکن تنگ اور ناہموار پرانی سو سے زیادہ سیڑھیاں اترنے میں ہمیں کافی وقت لگا۔ دوپہر کا ایک بج چکا تھا اور ہم نے نزدیک ہی واقع برطانیہ کا سب سے بڑا مانے جانے والے شاعر شیکسپیئر کی جائے پیدائش دیکھنے سٹیرٹفورڈ بھی جانا تھا اس لئے ہم کیسل سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھے جس نے پانچ منٹ میں ہمیں پارکنگ تک پہنچا دیا

Facebook Comments HS