آخری خواہش۔ کہانی: اورلن واسیلیف – بلغاریہ
ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی۔ )
خزاں نے جنگل میں آباد ان خوش و خرم اور بے پروا پرندوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا جو ہر وقت درختوں پر چہچہاتے رہتے تھے۔ پہاڑوں پر سے برفیلی جسم چھیدنے والی ہوا چل رہی تھی۔ رات کو خزاں کی بارش بھی ہوئی تھی، درختوں پر سے رہے سہے پتے بھی جھڑ گئے تھے۔ جنگل میں ہر طرف نمی، کیچڑ اور ٹھنڈک تھی، لیکن بوڑھی چیونٹی کے گھر میں آتش دان گرم تھا۔ سب خوشی سے چہک رہے تھے اور آکرن کے پیالے گندم کے دانوں سے بھرے ہوئے تھے۔
”آؤ بچو! دوپہر کا کھانا کھاؤ! بوڑھی چیونٹی نے اپنے کنبے کو بلایا۔ وہ آتش دان کے پاس بیٹھی تھی۔ چیونٹی کے بیٹے، بیٹیاں اور بہوئیں جلدی جلدی اپنی اپنی تشتری کے آگے بیٹھ گئیں، اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی۔
”کون ہے؟“ چیونٹی نے غصے سے پوچھا۔
”چیونٹی خانم! یہ میں ہوں، گھاس کی مغنیہ۔ کیا مجھے نہیں پہچانیں؟ گرمیوں میں تم نے اپنے بیٹے کی شادی کی تھی تو کہا تھا کہ سردی میں گانے کی اجرت دوں گی۔“
”اونہہ۔ اچھا تم ہو۔“ چیونٹی طنزیہ لہجے میں بولی۔ ”تم گانے کی اجرت چاہتی ہو؟ مگر یہ تو کوئی کام نہیں جس کی اجرت دی جائے۔“
”چیونٹی خانم! یہ میرا ہنر ہے۔ میں اپنی محنت کا صلہ مانگ رہی ہوں۔“ ٹڈی بولی۔
”میرے نزدیک یہ کوئی ہنر نہیں اور نہ اس کی کوئی اجرت ہے۔“ چیونٹی مسکرا کر بولی۔
”تم غلط کہہ رہی ہو!“ ٹڈی چلائی۔ ”تم دیکھ رہی ہو باہر کا موسم کیسا ہے؟ سردی پڑ رہی ہے، بارش برس رہی ہے اور میرے پنکھ گیلے ہیں۔ سردی سے میری ٹانگیں بالکل بے حس ہو گئی ہیں۔ دو دن سے میرے منہ میں روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں گیا۔ مجھے کچھ دیر کے لیے پناہ دو۔ تاکہ میں گرم ہو جاؤں اور میری اجرت دو۔“
”باہر نکل جاؤ آوارہ!“ چیونٹی نے چیخ کر دروازہ بند کر دیا۔ ”میں تمہیں کچھ نہیں دوں گی۔ ذرا سنیے، کیا کہنے ہیں۔ شادی میں گانا گایا تھا۔“
غریب ٹڈی نے سر جھکایا اور بمشکل اپنی ٹانگیں گھسیٹتے ہوئے کیچڑ میں چل دی۔
کچھ دور ایک کھوکھلے تنے پر ایک گلہری بیٹھی گری دار میوہ کھا رہی تھی۔ اس نے ٹڈی کو دیکھا تو پوچھا: ”کیا بات ہے! تم کچھ پریشان نظر آ رہی ہو؟“
”زمین پر سچ نہیں رہا۔“ ناراض ٹڈی نے کہا۔ ”چیونٹی نے گرمیوں میں اپنے بیٹے کی شادی کی تھی۔ میں نے گانا گایا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب سردی میں تمھیں ضرورت ہوگی تو میں ادائیگی کروں گی۔ اب میں آئی ہوں تو اس نے مجھے باہر نکال دیا۔“
”تم اس کی شکایت کرو۔“ گلہری نے مشورہ دیا۔
”کس سے شکایت کروں؟“
”تمام چیونٹیوں کی ملکہ سے، وہ جنگل میں گھنے درختوں کے درمیان ایک محل میں رہتی ہے۔ اس کے پاس جاؤ اور اسے سب کچھ بتاؤ۔“
”ٹھیک ہے، میں جاتی ہوں۔“ ٹڈی نے فیصلہ کیا اور روانہ ہو گئی۔
وہ ابھی سو قدم بھی نہیں چل پائی تھی کہ ایک سرخ بھنورا اس کی طرف آیا۔ ”پیاری دوست! تم کہاں جا رہی ہو؟“
”میں چیونٹیوں کی ملکہ سے شکایت کرنے جا رہی ہوں۔“
”وہاں مت جاؤ!“ سرخ بھنورے نے چیخ کر کہا۔ ”شہزادی بستر مرگ پر ہے اور بوڑھی ملکہ شدید غم و غصے میں مبتلا ہے۔ اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو وہاں مت جاؤ۔“
”نہیں، میں جاؤں گی۔“ ٹڈی نے مستحکم لہجے میں کہا۔ ”میں ان لوگوں کو سبق سکھاؤں گی جو دوسروں کی محنت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔“
وہ آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ اس نے درختوں کے درمیان شاہی محل کا مینار دیکھا۔ محل اونچی دیواروں سے گھرا ہوا تھا، جس کے اوپر بڑے بڑے پروں والی چیونٹیاں بطور محافظ پہرہ دے رہی تھیں۔ ٹڈّی نے محل کے پھاٹک پر دستک دی۔
”تم کیا چاہتی ہو؟“ ایک محافظ نے پوچھا۔
”میں سچ کی تلاش میں ہوں۔“
”سچ کی تلاش؟ کیا عجیب بات ہے۔ سنو احمق! یہاں سے فوراً اپنی گردن بچا کر نکل جاؤ۔ ہماری شہزادی مر رہی ہے اور کوئی دوا اسے راس نہیں آ رہی۔ تئیس کالے بھنورے طبیبوں کو پہلے ہی پھانسی دی جا چکی ہے اور تم یہاں سچائی کی تلاش میں نکل آئی ہو۔ بہتر ہے کہ فوراً یہاں سے چلی جاؤ۔“
”تم بھی ویسے ہی ہو!“ ٹڈی نے چلائی۔ ”تم صرف دوسروں کو لوٹنا اور لٹکانا جانتے ہو، لیکن میں کسی چیز سے نہیں ڈرتی۔ میں ملکہ سے مل کر جاؤں گی۔“
”میرا مشورہ مانو اور لوٹ جاؤ۔“ محافظ بولا۔
”نہیں، مجھے اندر آنے دو!“ ٹڈی چلائی اور پھاٹک پر زور سے دستک دی۔
”وہاں کون چیخ رہا تھا؟“ ایک رعب دار آواز سنائی دی۔
”رحم رحم۔ ملکہ عالیہ!“ محافظ گھٹنوں کے بل جھک گئے۔ ”یہاں ایک ٹڈی آئی ہے۔ وہ چیخ رہی ہے۔“
”اسے گھسیٹ کر پھانسی گھاٹ پر لے جاؤ!“ ملکہ نے حکم دیا۔
”مجھے پھانسی دینے سے پہلے کم از کم میری بات تو سنیں!“ ٹڈی ناراضی سے چلائی۔
لیکن مغرور ملکہ پہلے ہی اپنے مینار میں غائب ہو چکی تھی۔
پروں والے محافظ شاہی حکم کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑے۔ انہوں نے غریب ٹڈی کو سختی سے پکڑا اور گھسیٹ کر پھانسی کے تختے پر لے گئے۔ جہاں ایک طویل قامت اداس جلاد نئے شکار کا انتظار کر رہا تھا۔
ٹڈی کو جب معلوم ہوا کہ اب وہ موت سے نہیں بچ سکتی تو اس نے جلاد سے پوچھا۔ ”میں نے سنا ہے کہ سزائے موت پانے والوں کو اپنی آخری خواہش پوری کرنے کا حق حاصل ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟“
”یہ سچ ہے۔“ جلاد نے جواب دیا۔ ”قانون ایسا کہتا ہے، لیکن ہمیشہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ہم پہلے یہ معلوم کرتے ہیں کہ آپ کی خواہش کیا ہے۔ بتاؤ تم کیا چاہتی ہو؟“
”میں مرنے سے پہلے اپنا وائلن بجانا چاہتی ہوں۔ میں نے اپنی پوری زندگی گاتے ہوئے گزاری ہے۔ اب میں اس دنیا کو گاتے ہوئے الوداع کہنا چاہتی ہوں۔“
”ایسی خواہش پوری ہو سکتی ہے۔“ جلاد نے اس کی بات سے اتفاق کیا۔ ”ٹھیک ہے، ہم سنیں گے کہ تم کیسی مغنیہ ہو۔“
ٹڈّی سیدھی ہوئی اور اپنی کمان کو وائلن کے تاروں پر چلانا شروع کر دیا۔ اس نے پرندوں، پھولوں، میدانوں اور کھیتوں کے بارے میں گانا گایا جو اسے اب دیکھنا نصیب نہیں ہونے تھے۔ یہ اس کا الوداعی گانا تھا۔
ٹڈّی کا گانا اتنا شاندار، اتنا درد بھرا اور اتنا افسوسناک تھا کہ جلاد کا بے رحم دل بھی ترس سے کانپ اٹھا اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور محافظ بھی رونے لگے، لیکن سب سے دلچسپ بات شاہی خواب گاہ میں ہوئی۔
ٹڈی کے الوداعی گانے کی پہلی آواز پر ہی بیمار شہزادی نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ جوں جوں وہ گانا سنتی رہی اس نے محسوس کیا کہ اس کی طاقت واپس آ رہی ہے۔ اس کا دل روانی سے دھڑک رہا ہے اور خون اس کی رگوں میں تیزی سے بہنے لگا ہے۔
”کیا شاندار گانا ہے۔ یہ کون گا رہا ہے؟“ اس نے کمزور آواز میں پوچھا۔
”یہ موت کی سزا پانے والی ٹڈی گا رہی ہے۔ یہ اس کی آخری خواہش تھی۔“ ایک خادمہ نے کہا۔
شہزادی اٹھی اور جلدی سے کھڑکی سے جھانکا۔
اس کو دیکھتے ہی تمام خادم، محافظ اور جلاد گھٹنوں کے بل جھک گئے اور آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے بولے۔ ”رحم شہزادی! رحم! ہم ایسی مغنیہ کو پھانسی کیسے دے سکتے ہیں؟ ایسا شاندار گانا ہم نے کبھی نہیں سنا۔“
شہزادی نے مغنیہ کو اپنی خواب گاہ میں لانے کا حکم دیا۔
جیسے ہی ٹڈّی دہلیز سے گزری۔ بوڑھی ملکہ اس کی طرف متوجہ ہوئی اور بولی۔ ”ٹڈی خانم میں معذرت چاہتی ہوں۔ تم نے میری بیٹی کی جان بچائی۔ میں تم کو منہ مانگا انعام دینے کے لیے تیار ہوں۔ بتاؤ تمہیں دولت چاہیے یا زر و جواہر؟“
”دولت؟ نہیں ملکہ عالیہ مجھے کسی اور کی دولت سے حصہ بٹورنے کی عادت نہیں ہے اور زر و جواہر؟ کیا آپ نے کسی امیر آدمی کو گاتے اور بجاتے کہیں دیکھا ہے؟ میں اپنے گانوں کو بھولنا نہیں چاہتی۔ مجھے آپ کے زر و جواہر کی ضرورت نہیں ہے۔“
”پھر تم کیا چاہتی ہو؟“ ملکہ نے حیرت سے پوچھا۔
”میں سچ چاہتی ہوں۔“
”سچ؟“ ملکہ اور تمام درباری حیران رہ گئے۔
”کیا یہ بھوک سے پاگل ہو گئی ہے؟“
”آخر اسے سچائی کی ضرورت کیوں ہے؟“
”آپ سچ کھا سکتے ہیں اور نہ پی سکتے ہیں۔“ لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔
”ہاں، یہ درست ہے۔“ ٹڈی بولی۔ ”ہمیں گرمیوں میں شادیوں اور تقریبات میں گانے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ہمارے پاس موسم سرما کی خوراک جمع کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ جبکہ ہر کوئی وعدہ کرتا ہے کہ ابھی گاؤ بجاؤ، ہمارے ساتھ مزے کرو۔ موسم سرما میں ہم تمہیں اجرت دیں گے۔ جب موسم گرما گزر جاتا ہے تو سب اپنے وعدے بھول جاتے ہیں۔ کوئی بھی ادائیگی نہیں کرتا۔ وہ کہتے ہیں گانا بجانا کوئی کام نہیں، وہ ہمیں سست کہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صرف وہی ہیں جو کام کرتے ہیں۔
آپ کسانوں سے پوچھیں، وہ بتائے گے جب ہم گاتے ہیں تو ان کے لیے سخت گرمی میں ہل چلانا، کھودنا اور فصل کاٹنا کتنا آسان ہوجاتا ہے، اور ناشپاتی کے درختوں کے نیچے جھولے میں پڑے چھوٹے بچے، کون ان کو میٹھی نیند کی طرف مائل کرتا ہے؟ کون انہیں لوری سناتا ہے؟ کیا یہ کام نہیں ہے؟ میں یہاں آپ کو یہ بتانے آئی ہوں کہ وہ مجھے میری محنت کا صلہ ادا کریں۔ میں صرف اپنا حق مانگتی ہوں، جو میرا ہے کسی اور کا نہیں۔“
ٹڈّی خاموش ہو گئی۔
درباریوں کے سر جھک گئے تھے۔
بوڑھی ملکہ سوچ رہی تھی کہ اس نے ایسے الفاظ پہلے کبھی نہیں سنے۔
”شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔“ اس نے مبہم انداز میں جواب دیا۔ ”لیکن مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟“
”آپ نہیں جانتیں؟ چلیں میں آپ کو بتاتی ہوں۔ ارے کاتب! جلدی سے یہاں آؤ!“ ٹڈی نے شاہی کاتبوں میں سے ایک کو حکم دیا۔ ”بیٹھو اور جو میں تمہیں بتاتی ہوں لکھو! سب سے اوپر لکھو۔“ حکم نامہ! میں اپنی سلطنت میں رہنے والی تمام چیونٹیوں کو حکم دیتی ہوں کہ وہ فوری طور پر ٹڈیوں کو وہ سب کچھ ادا کر دیں جو ان پر کھیل تماشے کے سلسلے میں واجب الادا ہے۔ یہاں سے لے کر دنیا کے آخری کونے تک، ہر وہ دروازہ جس پر ٹڈّی دستک دیتی ہے ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے، کیونکہ ٹڈّی کے ساتھ ایک گانا آتا ہے اور گانے کے ساتھ یہ امید کہ بہتر وقت قریب ہے، جو اس حکم پر عمل نہیں کرے گا اسے سزائے موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ”
”اب ملکہ عالیہ! اگر آپ چاہیں تو اس حکم نامے پر دستخط کر دیں اور اپنے تیز رفتار پیغام رسانوں کے ذریعے تمام بلوں میں بھیج دیں۔“
”سنو ٹڈّی خانم! تم نے اچھا کام کیا۔ تم نے میری بیٹی کی جان بچائی ہے۔ لہذا میں تم کو اپنے شاہی دربار میں بطور مغنیہ مقرر کرتی ہوں۔ ہمارے ساتھ رہو اور اپنے گانوں سے ہمیں محظوظ کرو۔ یہاں تمھیں ہمیشہ اچھا کھانا، آرام اور آسودگی ملے گی اور تم تمام فکروں سے ہمیشہ آزاد رہو گی۔“ ملکہ بولی۔
”اوہ نہیں!“ ٹڈی نے فخر سے کہا۔ ”مغنیہ کسی کی خادم نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ بادشاہ کی بھی نہیں۔ ہمارا گانا صرف آزاد فضا، وسیع مرغزاروں اور گھاس کے میدانوں کے درمیان بلند ہوتا ہے۔ ہم غریب ہیں، لیکن آزاد ہیں۔ میں ایسے گھر میں نہیں گا سکتی جہاں کھڑکی کے نیچے پھانسی کا تختہ لٹکا ہوا ہو۔ کیا آپ بھول گئیں کہ کچھ دیر پہلے آپ کے جلاد نے میرے گلے میں تقریباً پھانسی کا پھندا ڈال دیا تھا؟ میں نے جو چاہا وہ کہہ دیا۔ میں نے حکم نامہ لکھوا دیا ہے۔ اسے بھیج دیں اور اگر آپ اسے نہیں بھیجتیں، اگر آپ اپنی رعایا کو اس پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کرتیں تو جان لیں۔ آج کے بعد آپ کی تقریبات میں کوئی ٹڈی کبھی نہیں گائے گی۔ الوداع!“
پھر غیرت مند ٹڈی نے وائلن کو اپنے بازو کے نیچے دبایا اور فخر سے سر اٹھائے محل سے باہر نکل گئی۔
خزاں کے ابر آلود دن نے باہر اس کا اس طرح استقبال کیا کہ سورج بادلوں کے پیچھے سے باہر جھانکنے لگا اور اپنی روشن شعاعیں اس کے قدموں میں بچھا دیں۔
اورلن واسیلیف 4 دسمبر 1904 کو بلغاریہ کے شہر وراتزا کے قصبے ورانیاک میں پیدا ہوا۔ وہ ایک مصنف تھا۔ 1924 میں بلغاریہ کی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پرولتاریہ اور مخالف فسطائی پریس میں ایک فعال شراکت دار رہا۔ واسیلیف نے ستمبر 1923 کی بغاوت کے واقعات کو اپنے ناول The White Trail اور The Ring of Fire of 1923 میں بیان کیا ہے۔ اپنی مختصر کہانیوں میں واسیلیف نے بورژوا معاشرے میں غریب آدمی کے المناک انجام کو بیان کیا اور فاشزم کے خلاف جنگجوؤں کی تصویر کشی کی ہے۔ وہ 2 اپریل 1977 کو صوفیہ، بلغاریہ میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔



