تیری دو ٹکیاں دی نوکری
آج میں نے چھوٹتے ہی راجہ رجب سے چھیڑ خانی کی۔ کچھ افسردہ سے لگ رہے ہیں۔ لگتا ہے غالب کی طرح تہیہِ طوفاں کیے بیٹھے ہیں۔ یقیناً اس کا کوئی سبب بھی ہو گا۔ چچا کے الفاظ میں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، والا معاملہ نہ ہو تو شیئر کرنے میں کیا حرج ہے جی۔
بولے حکومت نے ججوں کی تنخواہوں میں حاتم طائیانہ اضافہ کر کے یہ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے کہ ہمارے ہاں، دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں والا ماحول آخر کب تک رہے گا۔ میں نے کہا، یہاں آپ کا سیانا پن مات کھا گیا۔ حضور یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں بلکہ کمال ہشیاری کی مثال ہے۔ بولے اچھا تو اپنے سیانے پن سے اس ناچیز کو بھی مستفید فرمائیں۔ میں نے کہا آپ کو راجکپور کی ڈھلتی عمر کے کرش پروین بابی پر فلمایا گیا وہ گیت تو یاد ہو گا جسے فلماتے ہوئے منوج کمار نے وہ ارمان بھی پورے کیے جو اگر عناصر میں اعتدال ہو تو خلوت میں پورے کیے جاتے ہیں۔
تیری دو ٹکیاں دی نوکری تے میرا لاکھوں کا ساون جائے
میں نے بیان جاری رکھا۔ ہماری تہذیبی روایت بھی بس تماشا ہی ہے۔ نوکری تنخواہ کے اعتبار سے ماٹھی ہو تو بندے کو دو ٹکوں کا نوکر ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے اور اگر ٹکوں کو زیادہ کر دیا جائے تو آپ کو کمزور ملکی معیشت کی فکر پریشان کرنے لگتی ہے۔ اس کا اب کیا علاج ہے۔ وہ خاموش رہے۔ میں نے تقریر جاری رکھی۔
اب ایک رمزیہ بات سنیں۔ اپنی زبانوں میں ٹکے کی نسبت سے بیان ہونے والا ہر محاورہ بہت معنی خیز ہوتا ہے جیسے ٹکے ٹکے کے لوگ، ٹکے برابر حیثیت۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے سرکار کو انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر بندھی پٹی کا کچھ حصہ بوسیدہ محسوس ہو رہا تھا جس سے تانک جھانک ممکن ہو رہی تھی۔ چنانچہ اس کی پیوند کاری کے بعد کس کے باندھ دیا گیا۔ اب بوجوہ ہونے والی دل آزاری کی دل جوئی ضروری سمجھی گئی۔ یوں دھیان ٹکوں کی طرف گیا۔ کیا کیجے راج نیتی کے سرکس میں احتیاطاً جوکر کے مشورے کو بھی صائب ماننا پڑتا ہے۔
اے بھائی ذرا دیکھ کے چل
آگے ہی نہیں پیچھے بھی
دائیں ہی نہیں بائیں
اوپر ہی نہیں نیچے بھی



وحید خان صاحب آپ نے راجہ رجب صاحب کو افسردہ دیکھ کر ان سے چھیڑ خانی کرتے ہوئے پشیمانی کی وجہ جاننا چاہی مگر ان کی طرف سے بیان کی گئی وجہ کو بہت ہی ہلکا پھلکا لے کر پاکستان کے چند بڑے مسائل میں سے ایک کو ہنسی مزاق میں ٹال کر آپ نے راجہ صاحب کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے. کسی محب عوام اور دیانت دار و باشعور شخص کے نزدیک اس سے بڑا مسئلہ کیا ہوسکتا ہے کہ ہمارے اعلیٰ منصفوں کی تعیناتی کے موقع پر دوسروں کے استحقاق کو پامال کرکے انہیں کانا کیا جاتا اور پھر انہیں حدود انتہائی متجاوز تنخواہیں اور مراعات دے کر کانا کیا جاتا ہے. پھر ہوتا یوں ہے کہ کانے منصف سب کو ایک سے دیکھنے کی بجائے اسے بھی بند کرکے دیکھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک اندھیر نگری چوپٹ راج کا نمونہ بنا ہوا ہے.