دورہ سندھ کی کچھ اور یادیں اور باتیں


اس سفر میں ڈسٹرکٹ کونسل مردان کی خاتون کونسلر بیگم علی اکبر میرے ہمراہ تھیں۔ ہم دونوں کا یہ پہلا ہوائی سفر تھا۔ کہ 83 میں ہوائی سفر بھی امیر امرا ہی کرتے تھے۔ ہمارے جیسے متوسط طبقے کے لوگ عمرے اور حج پر ہی پہلا ہوائی سفر کرتے تھے۔ سو ہم نے بھی اپنے اس پہلے ہوائی سفر سے خوب لطف اٹھایا۔ کہ تب ”باکمال لوگ لاجواب سروس“ والی اس ایر لائن میں دم خم باقی تھا۔ ہوا کے دوش پر سفر کرتے، اترنے کی نوید دیتی فضائی میزبان کی سریلی آواز پردہ سماعت سے کیا ٹکرائی کہ یک بیک دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ اور انجانے خدشات اور وسوسوں نے گھیر لیا۔ وجہ اس پریشانی کی یہ تھی۔ کہ اگر ہمیں کوئی لینے نہ آیا تو۔

رات کے نو بجنے والے تھے جب ہم لاؤنج سے باہر آئے اور باہر آتے ہی ایک صاحب نے پوچھا، کیا آپ لیڈی کونسلرز ہیں اور سرحد سے آئی ہیں۔ اثبات میں جواب دے کر ان کے پیچھے گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ مگر بیٹھنے سے پہلے خوف اور شک کے زہریلے ناگ نے سر اٹھایا۔ تو بڑی شائستگی سے کہا کہ اگر محسوس نہ کریں تو جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی انہوں نے جیب سے کاغذ نکال کر دکھایا جس پر میرا اور بیگم علی اکبر کا نام درج تھا۔ اب ہم مطمئن ہو کر گاڑی میں بیٹھے اور عروس البلاد کراچی کی جگمگ جگمگ کرتی روشنیوں اور شاہراہوں سے ہو کر پنج ستارہ ہوٹل مہران پہنچے۔

اس وقت بلدیہ کراچی کے میئر عبدالستار افغانی صاحب تھے۔ ان کا فون نمبر دے کر وہ رخصت ہوئے کہ اگر کوئی تکلیف ہو تو بلا تکلف انہیں فون کر سکتے ہیں۔ کچھ دیر کھڑکی کے پردے سرکا کر باہر دیکھا کیے۔ پھر سو گئے۔ صبح ناشتے کے بعد بالکونی پر آ گئے۔ اور سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم دیکھنے لگے۔ ہوٹل کی ساتویں منزل سے گاڑیاں کھلونوں جیسی دکھائی دے رہی تھیں۔ اکا دکا سائیکلیں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ جو ہمیں کہاں سے کہاں لے گئیں۔ روشنیوں کے اس شہر میں ان دیکھے اندھیرے، اور گندگی سے بھرپور علاقے ذہن میں در آئے۔ اور تخیلات کا یہ طلسم فون کی گھنٹی سے ٹوٹا۔ دوسری طرف عبدالستار افغانی صاحب تھے۔ اور پوچھ رہے تھے کہ کوئی تکلیف تو نہیں اور یہ کہ دو بجے ہمیں مورو کے لئے پک کر لیں گے۔ مقررہ وقت پر گاڑی ہمیں لے کر قصر ناز پہنچی۔ جہاں پنجاب، اور ملک بھر کے کونسلر اکٹھے ہو گئے۔

یہاں ایک دوسرے سے ملنے ملانے اور تعارف کا سلسلہ رہا۔ میں اور بیگم علی اکبر ہی بڑی بڑی چادریں اوڑھے ہوئے تھے۔ ورنہ وہاں تو گویا رنگ و بو کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ فخر امام اور ان کی بیگم عابدہ حسین جو اس وقت ضلع کونسل جھنگ کی چیئرمین تھیں۔ ان کے آتے ہی ہم مورو کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاں کل سمینار تھا۔ ہمارے ساتھ ویمن ڈویژن کی نوشابہ خاتون تھیں۔ مغرب کے وقت گاڑیوں کا ایک بڑا قافلہ روانہ ہوا۔ ہائی وے پر پہنچ کر ہر ایک گاڑی سے موسیقی کے مدھر سر سنائی دینے لگے جب کہ ہماری گاڑی میں مکمل خاموشی کا راج تھا۔ کہ یہ گاڑی عبدالستار افغانی کی تھی۔ جو جماعت اسلامی سے وابستہ ہیں۔ اور موسیقی سے پرہیز کرتے ہیں۔ چلو یہ بھی اچھا ہوا کہ ہمیں آپس میں بات چیت کا اچھا موقع مل گیا۔ ویمن ڈویژن کی نوشابہ خاتون سے عورتوں کے حقوق اور حالت زار کے بارے میں سیر حاصل گفتگو رہی۔ اور ان کے اس انکشاف پر حیرت زدہ رہ گئے۔ کہ سندھ کے یہ بڑے بڑے لیڈر جو بڑے ترقی پسند نظر آتے ہیں۔ خود ان کے گھروں میں خواتین سخت پابندیوں اور رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ پھر انہوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ سنایا۔ کہ ایسے ہی کسی تقریب کے سلسلے میں ایک بڑے سیاسی رہنما کے ڈیرے پر چائے کے لیے رکے۔ ہم تین چار خواتین نے انہیں کہا کہ ہم ان کے گھر جا کر کچھ دیر سستا لیتے ہیں۔ مگر انہوں نے سختی سے منع کر دیا۔ پھر ہماری حیرانی دیکھ کر خود ہی وضاحت کی۔ کہ بی بی آپ لوگوں کو دیکھ کر ہماری عورتوں پر برا اثر پڑے گا۔ یہ سب سن کر دل دکھ سے بھر گیا۔

راستے میں حیدر آباد اور سکھر رکے۔ اس کے بعد مورو کے راستے میں جہاں جہاں یونین کونسل، ٹاؤن کمیٹی آتی تو موٹروں کے اس قافلے کو والہانہ استقبال کرنے والے روک لیتے۔ مرد حضرات گاڑیوں سے نیچے اتر جاتے اور انہیں اجرک اور ٹوپی پہنائی جاتی۔ بیگم علی اکبر اور میں گاڑی میں ہی بیٹھے رہے۔ سو ہم ان تحائف سے محروم رہے۔ البتہ ایک دو جگہ ہمیں بھی اجرک دی گئی۔ رات گئے مورو پہنچے۔ اور صنعتی نمائش دیکھی۔ جو بلا شبہ بہترین تھی۔ ہر سٹال پر مہمانوں کے لیے تحائف دیے گئے۔ جو طرح طرح کی روایتی دستکاریوں کے علاوہ بھی کھانے پینے اور ہر طرح کی اشیاء پر مشتمل تھے۔ اور متعلقہ اہلکار انہیں سنبھال رہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ جاتے ہوئے ہمیں ہمارے حصے کے تحائف مل جائیں گے مگر۔

خیر تحفے ملے یا نہیں مگر سندھ کے لوگوں کی دریا دلی اور مہمان نوازی کے قائل ہو گئے۔ رات عشائیہ بھی اس قدر شاندار تھا۔ کہ سب لوگ بار بار تعریف کر رہے تھے۔ میرے ساتھ کھڑی خاتون نے کہا مچھلی لے لیں۔ میں نے کہا نہیں میں کھیر کھاؤں گی۔ کھیر تھی کہ کھویا۔ یہ اور بات کہ بعد میں سب نے کہا کہ یہاں کی مچھلی تو بہت خاص تھی۔ آپ نے نہ کھا کر کفران نعمت کیا۔ اب اس کا کیا علاج کہ بچپن سے مچھلی کے ساتھ دودھ کی چیز استعمال نہیں کرتے۔ اور ویسے بھی نمکین سے مجھے کوئی خاص رغبت نہیں۔ جب کہ میٹھا بہت پسند ہے۔

دوسرے دن صبح دس بجے سیمینار شروع ہوا۔ تینوں صوبوں کے وفود کے علاوہ سندھ کے تمام زعماء موجود تھے۔ طالب المولیٰ ’کا نام یاد رہ گیا۔ باقی معروف نام اس وقت یاد نہیں۔ خواتین کونسلرز جو کراچی سے تعلق رکھتی تھیں۔ بعد میں صوبائی اور قومی اسمبلی میں نظر آئیں۔ خیر سیمینار شروع ہوا تو زیادہ تر دیہی خواتین کی حالت زار اور اعداد و شمار پر مبنی خشک قسم کی تقریریں تھیں۔ جب مجھے اچانک اظہار خیال کرنا پڑا۔ تو سٹیج پر جاکر گھبراہٹ سی ہوئی۔ مگر پھر خود کو سنبھال کر تقریر شروع کی تو توقع سے کہیں زیادہ پسند کی گئی۔ یہاں تک کہ ظہرانے میں بھی بار بار مختلف خواتین آ آ کر تعریف کرتی رہیں۔ اور ہم شرمندہ سے ہوتے رہے۔ ٹھیک ہے۔ تقریر اچھی ہوگی۔ مگر اتنی بھی نہیں۔ جتنی تعریف و توصیف ہوئی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ مجھ سے پہلے اعداد و شمار پر مبنی خشک قسم کی تقاریر لوگ سن سن کر اکتا گئے تھے۔ اور انہیں میری ہلکی پھلکی تقریر اچھی لگ گئی۔ ورنہ ہم کہاں کے دانا تھے۔

آخر میں عابدہ حسین اور فخر امام نے خطاب کیا۔ عابدہ حسین کی تقریر کافی دلچسپ رہی۔ فخر امام اس وقت وفاقی وزیر بلدیات تھے۔ اور عابدہ حسین ضلع کونسل کی چیئرمین۔ لوگوں نے پوچھا آپ کو کون سی حیثیت پسند ہے وزیر کی بیوی ہونا یا چیئرمین ہونا۔ انہوں نے بڑے دلچسپ انداز میں ترنت جواب دیا۔ مجھے اپنی آزادانہ حیثیت اور چیئرمین ہونا پسند ہے۔ پھر انہوں نے افسوس کیا کہ کاش ان کے پاس بھی سلمان فاروقی جیسا سیکرٹری بلدیات ہوتا۔ اس سیمینار کے انتظام و انصرام میں سلمان فاروقی کی فعال اور متحرک شخصیت کو سب نے سراہا۔

ظہرانے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ کسی یونین کونسل یا ٹاؤن کمیٹی میں پرتکلف چائے کا انتظام تھا۔ ہال میں بیٹھے تو اچانک سلمان فاروقی نے ہماری طرف دیکھ کر پہلے فخر امام اور پھر سب کو مخاطب کر کے کہا کہ سرحد سے آئی ہماری مہمان نے بہت اچھی تقریر کی اور فخر امام صاحب کو فخر عالم کا خطاب دے ڈالا۔ بس یہ سننا تھا۔ کہ شرم سے سرخ ہو گئی اوہ مجھے تو پتہ بھی نہیں چلا کہ گھبراہٹ اور روانی میں کیا کہہ گئی تھی۔ ابھی خود کو خود ہی ملامت کر رہی تھی کہ انہوں نے کہا۔ کہ آپ سب جانتے ہیں کہ واپسی کا ہمارا متعین روٹ اور پروگرام طے ہے سہون شریف ہمارے راستے سے ہٹ کر ہے۔ مگر آج ان کی اچھی تقریر کی خوشی میں ہم نے ابھی ابھی اپنے پروگرام میں تبدیلی کی ہے۔ اور اب ہم پہلے سیہون شریف جائیں گے۔

یہ سن کر سب نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ میں خوشی سے نہال ہو گئی۔ سر جھکا کر دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ کہ راستے سے گزرتے ہوئے دل میں خیال آیا کہ سیہون شریف کے اتنے قریب آ کر لال شہباز قلندر کے مزار پر نہیں جا سکتے۔ اندرون سندھ پھر کون آ سکتا ہے۔ مگر یہ ساری باتیں دل و دماغ میں تھیں پر رب تو دل کی صدائیں بھی سنتا ہے۔ جب جب زندگی میں کامیابی اور ستائش ملتی ہے۔ میں دل کی گہرائی سے شکر ادا کرتی ہوں کہ اے میرے رب مجھے اپنی حقیقت پتہ ہے۔ یہ سب آپ کا بے پایاں کرم ہے۔

پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا

سیہون شریف تک کا راستہ کیسے اور کن خیالات اور سرخوشی میں کٹا اس کا اظہار ممکن نہیں۔ اور آج کئی عشروں کے بعد یہ سطور لکھتے ہوئے میں پھر شکر گزاری کے احساس میں ڈوب گئی ہوں۔ نم دیدہ نم دیدہ

گاڑی سے اتر کر کچھ راستہ پیدل گلیوں میں چل کر مزار پر پہنچے۔ تو دنیا کے طویل قامت انسان عالم چنا کو دروازے پر ایستادہ پایا۔ اندر گئے تو بے پناہ رش تھا۔ کہ آج جمعرات تھی۔ منتظمین ہجوم میں سے راستہ بناتے ہوئے ہمیں خاص مزار تک لے گئے۔ اور پھر مزار پر سے دوپٹے اٹھا کر سب کو ایک ایک دوپٹہ دیتے گئے۔ میرے حصے میں جو سبز دوپٹہ آیا۔ وہ آج بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ مزار سے نکل کر صحن میں آئے۔ بہت بڑا صحن زائرین سے بھرا ہوا، ایک طرف بہت بڑے بڑے قد آدم ڈھول رکھے تھے۔ پتہ چلا کہ یہ ڈھول کسی خاص دن بجائے جاتے ہیں اور پھر اس کی تھاپ پر دھمال ہوتا ہے۔ یہ ڈھول دیکھ کر بیگم عابدہ حسین نے فرمائش کر ڈالی کہ وہ ان ڈھولوں کو بجتے ہوئے اور دھمال دیکھنا چاہتی ہیں۔ منتظمین نے ہم سب خواتین کو ایک اونچے چبوترے پر چڑھا دیا۔ اور خود ان مخصوص لوگوں کو بلانے لگے جو یہ بجاتے ہیں۔ بیگم عابدہ حسین میرے ساتھ ہی کھڑی تھیں۔ میں نے ان سے بچوں اور تعلیم کے بارے میں پوچھا تو بتایا کہ میں کچھ زیادہ پڑھی لکھی نہیں۔ صرف بی اے کیا ہے۔ مگر باہر سے۔ آخری ٹکڑا خاص ادا سے ادا کیا۔

یونہی سب سے گپ شپ میں انتظار کا وقت گزرا۔ عشا کا وقت ہونے والا تھا۔ کہ ڈھول پر تھاپ پڑی۔ اور پھر دھمال شروع ہو گیا۔ بیک وقت کئی لوگ یہ بڑے بڑے ڈھول بجا رہے تھے تو بے شمار لوگ ہوش و خرد سے بیگانہ دیوانہ وار دھمال ڈالنے میں مصروف تھے۔ لگتا تھا ساری کائنات رقص میں ہے۔ اور خود ہم بھی گھوم رہے ہیں ہم بھی ایک کیفیت میں ڈوبے ہوئے تھے کہ بالآخر روانگی کا اشارہ ملا۔ لوگ اب بھی دھمال ڈال رہے تھے۔ ہم آ کر اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گئے۔ لیلائے شب کی زلفیں بھیگ چلی تھیں۔ ہمارا اگلا پڑاؤ حیدر آباد میں بیگم امینہ اشرف کے گھر تھا۔

بیگم امینہ اشرف اس وقت ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کی رکن تھیں (آج کل لوگ انہیں پیپلز پارٹی کی نرگس کی ساس کے طور پر بھی جانتے ہیں۔ جو بے نظیر کی با اعتماد ساتھی تھیں ) جہاں سب صوفوں پر ڈھیر ہو گئے۔ اب تو خیر مگر اس زمانے میں ہم نے اتنا بڑا محل نما گھر نہیں دیکھا تھا۔ اتنا بڑا ڈرائنگ روم کہ سب سما گئے۔ کھانے کا کمرہ اور میز اتنی لمبی بڑی کہ شاید ہی پھر ایسی میز دیکھی ہو۔ وضو بنانے گئی تو وہاں بھی ایک جہان حیرت تھا۔ یہ ہم غریب قوم کے امیر رہنما ہیں۔ بہت سے خیالات نے یورش کی۔ جنہیں جھٹک کر باہر آئے۔ جہاں صوفے کے وسط میں بیٹھی عابدہ حسین بڑا سا سگار پیتے ہوئے بلاتکان بولے چلی جا رہی تھیں۔ جب کہ ان کے برعکس فخر امام حسب عادت خاموشی سے خشک میوہ جات کھا رہے تھے۔ مجال ہے کہ فخر امام کو اس پورے دورے میں تقریر کے علاوہ بولتے سنا ہو۔ وہ چپ چاپ سکون سے کھانے پینے میں مصروف رہتے جب کہ بیگم عابدہ حسین سیاسی موضوعات پر مسلسل بولتی رہتیں۔

بیگم علی اکبر اور میں بڑی سی چادروں میں لپٹے تو پینڈو سے ہی نظر آتے۔ سرحد اور سندھ کی ثقافت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہاں یاد آیا ایک عبایہ میں ملبوس خاتون بھی تھیں۔ پتہ چلا جماعت اسلامی کی خاتون رہنما ہیں۔ قمر النساء قمر۔ ایک عشائیہ کے دوران میرے پاس آ کر کہنے لگیں۔ آپ بہت جلدی نہیں آ گئیں۔ کیامطلب؟ میرا مطلب ہے۔ کہ اتنی جلدی سیاست میں آ گئیں؟ اوہ ہم ہنسے آپ ہمیں کم عمر سمجھ رہی ہیں۔ بھئی خیر سے تین بچوں کی اماں ہوں۔ یونہی سب سے گپ شپ کرتے رہے اور کھانا کھا کر امینہ اشرف کے گھر سے جو رخصت ہوئے تو سیدھے کراچی کی راہ لی۔ رات کافی بیت چلی تھیں۔ بلکہ تاریخ بھی تبدیل ہو چکی تھی۔ جب مہران ہوٹل پہنچے۔ صبح دن چڑھے اٹھ کر ناشتہ کیا اور بازار جا کر بچوں کے لئے خریداری کی کہ شام کو فلائٹ تھی۔ اپنے سامان کے ساتھ حیرتیں اور یادوں کے گٹھڑ بھی باندھ کر لائے۔ جس کی گرہ کھول کر کچھ یادیں کچھ باتیں آپ کو سنائیں۔

رہے نام اللہ کا

Facebook Comments HS