سموگ اور ہم لوگ: دم گھٹا جاتا ہے اب لاہور میں


لاہور دْنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر ہونے کے اعزاز کا حامل ہے، پہلے کہا جاتا تھا کہ جنھے لاہور نہیں تکیا او جمیا ای نہیں۔ ماضی قریب میں پت جھڑ سے موسم کی تبدیلی کا اشارہ ملتا، پرندوں کی ہجرت موسم کے بدلنے کا پتہ دیتی۔ ہوائیں اچانک سرد ہو جاتیں اور شام کے سائے لمبے ہو جاتے تھے۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا کہ:

شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہَوا کھینچ کے لائی مجھ کو

اب اسی لاہور میں، چہار سو پھیلی سموگ نے نظام زندگی متاثر کر رکھا ہے اور مختلف بیماریاں اہل لاہور کا مقدر ہیں۔ اب کہا جاتا ہے ”جنھے لاہور نہیں تکیا اومریا ای نہیں“ کیونکہ سموگ نے لاہور کو اس حالت تک پہنچا دیا ہے۔

شب گزرتی دکھائی دیتی ہے۔ دن نکلتا نظر نہیں آتا
بھیڑ ہر سُو ہے کوئی شور نہیں۔ تیرا لاہور اب لاہور نہیں۔

صائمہ آفتاب کہتی ہیں۔

گندگی بدبو دھوئیں اور شور میں
دم گھٹا جاتا ہے اب لاہور میں

اسی لیے شعیب بن عزیز فریاد کناں ہیں۔

کہاں لے جاؤں یہ فریاد مولا میرا بصرہ میرا بغداد مولا
میرے لاہور پر بھی اک نظر کر تیرا مکہ رہے آباد مولا

سموگ زہریلی گیسوں، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، اور پارٹیکیولیٹ میٹر کی موجودگی سے بنتی ہے۔ سورج کی روشنی ان گیسوں کے ملنے سے ایک گہری دھند کی تہہ بن جاتی ہے جو انسانی صحت، ماحول اور اقتصادیات پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کے اسباب میں فیکٹریوں کے کیمیکلز کا اخراج، گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا، اور تیزی سے ہونے والی تعمیراتی سرگرمیاں ہیں۔ سموگ سانس، دل کی بیماریوں۔ دمہ، برونکائٹس اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ خصوصاً صحت کے مسائل کا شکار بچے، بزرگ اور افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

2012 تک چین کے سب بڑے شہروں میں سموگ کا ڈیرہ تھا۔ اس سے شہریوں کی اوسط عمر بھی کم ہوئی۔ چین نے فقط 7 سالوں میں سموگ پر قابو پایا اور دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے لئے سب سے پہلے چین نے کوئلے کے پلانٹ، آئرن اور اسٹیل کے کارخانے بند کیے کاروں کی تعداد کم کی اور پرانی گاڑیوں پربھی پابندی لگا دی۔ 12 صوبوں میں، 100 ارب ڈالر سے 35 ارب درخت لگائے۔ ان اقدامات کے بعد جہاں آلودگی سے لاکھوں لوگ مر رہے تھے وہاں اوسط عمر میں دو سال اضافہ ہو چکا ہے۔

امریکہ، جاپان، ڈنمارک، برطانیہ، میکسیکو اور کینیڈا جیسے ممالک نے سموگ پر سخت پالیسیز سے مکمل طور پر قابو پایا۔ مثلاً، امریکہ نے لاس اینجلس اور سیٹل میں کلین ائر ایکٹ کے نفاذ سے اخراج کے معیارات مقرر کیے۔ بس سروسز سے کاروں پر کم انحصار کی حوصلہ افزائی کی۔ مقامی تنظیموں نے عوام کو سموگ کے مسائل سے آگاہی اور پائیدار طریقوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کیا۔ جاپان نے ٹوکیو اور دوسرے شہروں میں برطانیہ نے لندن میں صنعتی آلودگی کو موثر طریقے سے کنٹرول کیا، گاڑیوں کو چارج (جرمانہ) کرنے کے لیے الٹرا لو ایمیشن زون (ULEZ) قائم، پارکس، شہری باغات میں اضافہ اور فیکٹریوں کے اخراج کو محدود کرنے کے لیے قوانین لاگو کیے۔ سب ویز اور بسیں چلا نے جیسے اقدامات کیے۔ ڈنمارک میں سائیکلنگ کو ٹرانسپورٹ کے بنیادی موڈ کے طور پر فروغ دیا گیا۔ میکسیکو میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے اور گرمی میں کمی کے لیے سبز چھتوں کو فروغ دیا گیا۔ کینیڈا نے ایسے جامع منصوبے بنائے، جن میں عوامی تعلیم اور اخراج کے سخت معیارات تھے درختوں اور سبز جگہوں کو بڑھایا۔ ان ممالک نے اپنی جامع حکمت عملیوں پر عمل درآمد سے سموگ کے مسائل پر قابو پا کر ایک مثال قائم کی، ہمیں اْن تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

پاکستان میں سموگ کا مسئلہ پہلی بار 2015 ء میں سامنے آیا۔ 8 سال گزر جانے کے باوجود اِس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ رواں سال بھی سموگ کے وہی حالات ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران تھے۔ گزشتہ سال ماحولیاتی تبدیلیوں کے مہلک اثرات کم کرنے کے لئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں فضائی آلودگی کے باعث بیماریوں کے نتیجے میں ہر سال ایک لاکھ 28 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانیوں کی اوسط عمر اِس کی وجہ سے دو سال کم ہو چکی ہے جبکہ رواں سال اگست میں شکاگو یونیورسٹی کے انرجی پالیسی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں پاکستانیوں کی اوسط عمر ممکنہ طور پر سات سال کم ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ لاہور، شیخوپورہ اور قصور کے علاوہ پشاور میں رہنے والے فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اِن ہوشربا حقائق کے باوجود مجال ہے کہ متعلقہ ادارے سنجیدہ ہو کر سموگ کے مستقل تدارک کے لئے عملی اقدامات کریں۔ گاڑیوں میں فضائی آلودگی پھیلانے والے ایندھن کا استعمال، صنعتی کارخانوں کا دھواں، کالا دھواں چھوڑتے اینٹوں کے بھٹے اور فصلوں کی باقیات جلانے کے علاوہ ہمارا ٹرانسپورٹ کا نظام فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب ہے۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق 26 جولائی 1943 ء کو امریکی شہر لاس اینجلس میں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی انتظامیہ نے اسموگ کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کیے۔ دسمبر 1952 ء میں لندن میں فضائی آلودگی کی لہر سے 12 ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ 2014 ءمیں بیجنگ کو انسانوں کے رہنے کے لئے ناقابل قبول شہر قرار دیا گیا۔ بیجنگ کا فضائی آلودگی سے لڑنے کے لئے مقرر کردہ بجٹ 2013 ءمیں 430 ملین ڈالر تھا جو 2017 ء میں 2.6 ارب ڈالر کر دیا گیا۔ اسموگ پیدا کرنے والے اسباب میں ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں 83.15 فیصد آلودگی ٹرانسپورٹ، 9.7 فیصد ناقص صنعتوں اور 3.6 فیصد کوڑا جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے اس مسئلے سے نپٹنے کے لئے سائنسی بنیادوں پر کام نہیں ہو رہا اور نہ ہی ترقی یافتہ ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومت کا سارا زور اسکول بند کرنے اور لاک ڈاؤن لگانے پر ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ آلودگی میں زیادہ حصہ ناقص ٹرانسپورٹ کا ہے یہ مافیا شاید اتنا طاقتور ہے کہ حکومت اس کے سامنے بے بس ہے۔ اربابِ اختیار کو اِس کی بنیادی وجوہات ختم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اْس وقت تک کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے جب تک سموگ کے مہینوں سمیت سال بھر ائر کوالٹی انڈیکس 50 پوائنٹس کی سطح سے نیچے نہ آ جائے۔

اب کچھ اپنی گندگیوں اور غیر ذمہ داریوں کا احوال۔ حکمران تو گندے ہیں مگر اْن سے زیادہ ہم خود گندے ہیں، جگہ جگہ تھوکتے، پیشاب کرتے ہیں، اپنے گھروں اور گاڑیوں کا کوڑا جب تک سڑکوں گلیوں اور محلوں میں شاپر بھر بھر کر نہ پھینکیں ہمیں اپنے پاکستانی ہونے کا یقین نہیں آتا۔ دْنیا گندگی سے کراہت کرتی ہے تو ہم صفائی سے کرتے ہیں، ہماری ”گندی ذہنیت“ کا ایک شاہکار یہ بھی ہے کہ ہم درخت کاٹ اور جنگل بیچ رہے ہیں، خوبصورت پھل دار درخت کاٹ کاٹ کر ہمارے ادارے، سوسائیٹاں اور کالونیاں بنا رہے ہیں۔ اسرار الحق مجاز یاد آئے۔

مری بربادیوں کا ہم نشینوں
تمہیں کیا خود مجھے بھی غم نہیں ہے

اسموگ کے خاتمے کے لیے، مسلسل جدوجہد، ہنگامی، مستقل پالیسیوں، عوام کی آگہی اور خاص طور پرچین کے تجربات سے فائدہ کی ضرورت ہے۔ آخر میں امجد اسلام امجد کے اشعار۔

ہواؤں میں عجب سی بے کلی ہے
دلوں کے سائباں سمٹے ہوئے ہیں
دمکتے، گنگناتے موسموں کے
لہو میں ذائقے پھیلے ہوئے ہیں

Facebook Comments HS