26 کچی ایف آئی آر


آپ لوگ میرے کرم فرما، قلعہ گوجر سنگھ کے (سابقہ) ایس ایچ او، ترین صاحب سے واقف ہو گئے ہیں۔ اِن کی وساطت سے مجھے حوالاتیوں کی کہانیاں سُننے کا موقع مِلتا تھا۔ اِس سلسلے میں 1988 کی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے، ’کچی ایف آر آئی 26۔ ‘ کا معاملہ نظر سے گزرا۔ یہ بھی عجیب کہانی ہے :

1988 کے شروع میں، کسی کام سے لاہور آنا ہوا۔ موقع پا کر ایک دوپہر ترین صاحب کے تھانے پہنچ گیا۔ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اُنہوں نے کہا کہ اندر باہر ہونے والوں، اور روزانہ کے معاملات کو چھوڑ کر ایک عجیب تفتیش آئی ہے، جو کچی ایف آئی آر نمبر 26 کے نام سے اُن کے تھانے میں پہچانی جاتی ہے۔ کچی ایف آئی آر نمبر 26؟ میں نے حیرت سے سوال کیا۔

جی ہاں! کچھ لوگ یا کوئی مُنظّم گروہ، ٹیکسلا، ہڑپّہ، بھنبھور، کے تاریخی مُقامات کے نوادرات سے مِلتے جُلتے نقلی نمونے، اصل کے نام سے بیرونِ مُلک اسمگل کروا رہا تھا۔ اطّلاع یہ بھی تھی کہ لاہور کے عجائب گھر سے بھی بدھ مت دور کے نوادرات کی ’کاپیاں‘ مُلک سے باہر لے جانے کا خطرہ ہے۔ اسپیشل انوسٹی گیشن والوں کی ایک ٹیم اِس سلسلہ میں میرے تھانے میں ایک شخص کی تفتیش کے لئے آئی۔ ترین صاحب نے اُس کیس کے پس منظر کا بتلانا شروع کیا۔ مُلزم سلیم چونکہ میرے تھانے کی حدود میں رہتا تھا چنانچہ اُس کی تفتیش کے لئے یہ ٹیم میرے تھانے آئی تھی۔

اِن نقلی نوادرات کا بڑی تعداد میں مُلک سے باہر اسمگل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یقیناً کوئی اُن کا خریدار بھی ہو گا؟ میں نے سوال کیا۔ اِسی سوال کے جواب کی ایک کڑی یہ سلیم ہے۔ اتنا ہی کہا کہ اُن کے لئے فونوں کا ایک تانتا بندھ گیا۔ میں نے بہتر یہی سمجھا کہ فی الحال اجازت لے لی جائے، اِشارہ سے اللہ حافظ کیا۔ ٹھیک ہے! مغرب کے بعد تھانے میں گپ شپ رہے گی۔ مجھے مُخاطب کر کے اُنہوں نے کہا۔ اِن کی گپ شپ کا مطلب تھا کہ اُس وقت میں آرام کے ساتھ تفتیش کے لئے آنے والے سلیم سے مِل سکوں گا۔ ترین صاحب کو بھی خاصی فُرصت ہو گی۔

بعد نماز مغرب، قلعہ گوجر سنگھ تھانے پہنچتے ہی میں نے سوال کیا آپ نے کچی ایف آئی آر کاٹی؟ باقاعدہ کیوں نہیں؟ کچا پرچا تو شناختی کارڈ، اسناد یا سرٹیفیکیٹ کے گُم ہونے پر کاٹا جاتا ہے۔ پکی ایف آئی آر، پکا پرچا ہوتا ہے اور جب تک وہ حل نہیں ہوتا، تھانے کی ذمّہ داری بن جاتا ہے اِسی لئے آپ نے دیکھا ہو گا کہ محرر صاحبان اکثر و پیشتر چھوٹی موٹی وارداتوں کی کچی ایف آئی آر کاٹا کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ سمجھو کہ کچے پرچوں کا تھانے میں کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہوتا۔ تھانے کی حدود میں کوئی معمولی واردات ہو تو بھی اور اگر سنگین واردات میں تفتیش کے بعد مجرم نہ پکڑے جائیں تو متعلقہ تھانے کی بدنامی ہوتی ہے۔ لہٰذا اب یہ کیس اِسی طرح ٹہلائے جاتے ہیں۔ پھر کسی اور تھانے کی حدود کی واردات میں شامل کسی تفتیشی مُلزم کو میری حدود سے پوچھ گچھ کے لئے لے جایا جائے تو بھی کوشش یہی ہوتی ہے معاملہ کچا رکھیں۔ اِس سب بحث کو چھوڑو! میں تمہیں اس کیس کے ملزم سے ملواتا ہوں ”۔ یہ کہہ کر ترین صاحب نے ایک سپاہی کو آواز دے کر بُلوایا۔“ ملزم سلیم کو یہاں لے آؤ ”۔

سپاہی ایک شخص کو ساتھ لئے کمرے میں آیا جو کسی بھی طور مُلزم نظر نہیں آتا تھا۔ البتہ چہرے سے تھکن کے آثار ظاہر تھے۔ سلیم صاحب! یہ آپ کی کہانی سُننا چاہتے ہیں ”۔ ترین صاحب نے اُن کو ’صاحب‘ کہہ کر پُکارا تھا، اِس کی مجھے حیرانی تھی۔ ایس ایچ او صاحب! میں اب بھی وہی کہوں گا جو اب تک کہتا آیا ہوں۔ سلیم نے قدرے بے زاری سے جواب دیا۔

اِس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا ترین صاحب نے ایک سپاہی کو با آوازِ بُلند کہا کہ وہ کڑک چائے اور کیک رس کا بندوبست کرے۔ جب تک چائے وغیرہ آتی میں نے اُن سے مُلتان شہر سے متعلق معلومات حاصل کرنا شروع کیں، جہاں میں تفریحاً جانا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر میں سپاہی چائے اور کیک رس لے آیا۔ میں نے پہلے چائے ترین صاحب کو پھر سلیم کو پیش کی۔ اسی طرح کیک رس بھی۔ نیند تھی یا تھکن! فوراً سلیم نے چائے پینا شروع کر دی۔ لوہا گرم دیکھتے ہوئے میں نے سوال کیا ”سلیم صاحب آپ یہاں کیسے؟ اِس کا جواب تو ایس ایچ او بہتر بتائیں گے۔ سلیم نے بے پروائی سے چائے پیتے ہوئے کہا۔

میں بتاتا ہوں! ترین صاحب نے کہنا شروع کیا۔ ”لاہور کے عجائب گھر والوں کو کسی نے خفیہ اِطلاع دی کہ آپ کے ہاں کی بدھ مت دور کی گیلری کے بعض نہایت بیش قیمت نوادرات کی ہو بہو نقلی کاپی اصل کے نام سے مُلک سے باہر اسمگل ہونے والی ہیں۔ گویا اِس کام میں اندر کے آدمی ملوث ہو سکتے تھے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ والوں نے فوراً متعلقہ تھانے میں اِس کی رِپورٹ کر دی۔ معاملہ چونکہ بہت اہم تھا اِسی لئے تیز رفتاری سے کام کرتے ہوئے مقامی پولیس نے چند افراد گرفتار کیے۔ اُن کی تفتیش سے کئی اور کڑیاں ملیں“ ۔

اس کہانی میں سلیم صاحب کہاں سے آ گئے؟ اُن میں سے ایک شخص نے کسی ایسے ادارے کا نام لیا جو تاریخی آثار کی حفاظت اور سیاحت کے فروغ کا کام کر رہا تھا۔ جب پولیس بنگلہ میں واقع اس دفتر پہنچی تو وہاں تالا تھا۔ بنگلے کے چوکیدار سے پوچھا گیا تو اُس نے اِس معاملے میں لا علمی ظاہر کی البتہ اپنی چابیوں میں سے ایک کی مدد سے دفتر کا دروازہ کھول دیا۔ پولیس کی تفتیشی ٹیم نے ایک ایک چیز کا معائنہ کیا۔ حاضری رجسٹر کے حساب سے دفتر میں کُل 7 افراد کام کرتے تھے جبکہ چوکیدار کے کہنے کے مُطابق اِس سے کہیں زیادہ کا آنا جانا تھا۔ اِس دفتر کے انچارج یہ سلیم صاحب تھے ”۔ اتنی ہی بات ہوئی تھی کہ ترین صاحب کے لئے وائرلیس پر کوئی پیغام آ گیا اور وہ تھوڑی دیر کے لئے کمرے سے باہر چلے گئے۔ میں نے ان کی عدم موجودگی میں سلیم صاحب سے سوال کیا:

سلیم صاحب! قلعہ کے عجائب گھر کے نقلی نوادرات کی تفتیش میں آپ کا دفتر اور آپ کہاں سے آ گئے؟ قسمت کے کھیل ہیں! اور کیا کہوں! اُس نے اُداسی سے جواب دیا۔ مگر سلیم صاحب! یہ تو صاف صاف دھوکے کے کھیل ہیں قسمت کے تو نہیں۔ میں نے اُس سے جوابی سوال کر دیا۔ اُس نے جواب میں بَس مجھے اپنی خالی آنکھوں سے دیکھا۔ آپ پر نقلی نوادرات کی بیرونِ مُلک اسمگلنگ کے الزامات ہیں؟ میں نے کہا۔ میں نے ایسا نہیں کِیا اُس نے جواب دیا۔ تو پھر تُم نے کَیسا کِیا؟ ترین صاحب نے واپس آتے ہی اپنے مخصوص انداز سے سوال کیا۔ یہی تو وہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ تمہاری کیا کہانی ہے؟ جواب میں سلیم احمد بَس چُپ چَاپ ہم دونوں کو تکتا رہا۔ یہ کیا بتائے گا؛ میں بتاتا ہوں، ترین صاحب نے سلیم کے چہرے پر ایک نگاہ ڈال کر مجھے کہا :

آنے والی ٹیم اِن کے بارے میں معلومات لائی تھی کہ یہ ایک ایسے دفتر کے انچارج ہیں جو بظاہر پاکستان کے تاریخی آثار کے تحفظ کے لئے غیر ملکی فنڈنگ کے لئے بنایا گیا تھا۔ اِن کا دائرۂ کار ٹیکسلا، ہڑپّہ، بھنبھور، ٹھٹھہ تک تھا۔ آگے اللہ ہی جانتا ہے کہ کہاں کہاں وہ کمبخت نہیں گئے ہوں گے۔ سری لنکن پاسپورٹ پر اکثر پاکستان آنے والے 3 ماہرینِ آثارِ قدیمہ بھی نظر میں تھے جو اکثر ائرپورٹ سے سیدھے تاریخی مُقامات کے لئے چلے جاتے۔ گیسٹ ہاؤس یا ایک مرتبہ ہوٹل کے قیام کے دوران اُن کے نام، قومیت اور آمد کے مقصد کے اندراج سے یہ معلومات مِلیں۔ جب وزارتِ داخلہ کے ذریعے سری لنکن حکومت سے رابطہ کیا تو وہ پاسپورٹ ہی جعلی نِکلے۔

جب میں نے لاہور آفِس کے انچارج کا پس منظر معلوم کروایا تو پتا لگا کہ یہ ایک پڑھے لکھے خاندانی آدمی ہیں۔ اِس دفتر میں آنے سے پہلے ایک معروف روزنامہ میں سب ایڈیٹر تھے اور ایک کوچنگ سینٹر بھی چلاتے تھے۔ اُن کی پرانی جگہوں سے کوئی ایک بھی منفی رِپورٹ نہیں مِلی۔ اِن کو موجودہ دفتر میں کام کرتے ہوئے ایک سال اور چند ماہ ہوئے ہیں۔ پولیس نے اِن کے بینک اکاؤنٹ کی خوب چھان بین کی، اِن کے والِد، والِدہ یا کِسی اور رِشتہ دار کے نام کوئی زمین، جائیداد یا کوئی اور قیمتی شے کا اضافہ اِس دوران نہیں مِلا۔ خود سلیم صاحب کے رہن سہن، رکھ رکھاؤ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ سکی۔ ہاں ہر ماہ ایک مخصوص رقم وہ اپنی تنخواہ میں سے بچا کر حج اکاؤنٹ کی مد میں پابندی سے جمع کرواتا تھا۔ باقی کبھی کسی بھی طرح سے ایک روپیہ بھی فضول خرچ نہیں کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ غیر قانونی لین دین یا اسمگلنگ میں ملوث تھا تو اِس خدمات کا صلہ کون وصول کر رہا تھا؟ ”۔ اِس گفتگو میں سلیم بالکل لاتعلق سا نظر آیا۔

سلیم صاحب کے نام کا چونکہ گرفتاری وارنٹ نہیں تھا لہٰذا اُس تفتیشی ٹیم کو لے کر میں خود اِن کے گھر رات گئے پہنچا پھر یہ ہمارے ساتھ تھانے آ گئے۔ قِصّہ مختصر اُس ٹیم نے ایک ترتیب سے سوالات تیار کر رکھے تھے جن کے جواب ریکارڈ کیے گئے۔ ایک اہم بات یہ کہ بات چونکہ بین الاقوامی اسمگلروں کی تھی، معلوم نہیں کِس نے اور کِس مرحلہ میں جرمنی سے ایک سُراغ رساں کو بھی اُس ٹیم میں شریک کیا تھا جو تاریخی نوادرات کی تفتیش کے سلسلہ میں میرے تھانے آئی تھی۔

عجیب بات ہے کہ نقلی نوادرات مُلک سے باہر اسمگل ہو رہے ہوں تو ایک ہلچل مچ جاتی ہے لیکن جب اصل اسمگل ہوتے ہیں تو کِسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی؟ میں نے پوچھا۔ نوادرات کی اسمگلنگ ہو یا کسی اور شے کی، میں اَس کا ذمّہ دار نہیں۔ اب اصلی کے ہوتے ہوئے یہ نقلی مال کیوں جا رہا ہے؟ یہ بھی میرا دردِ سَر نہیں۔ مگر اتنا یاد رہے کہ جرمنی سے ایک سراغ رساں کا اِس معاملہ میں دلچسپی لینا اور لاہور میں آنا ایک بہت غیر معمولی بات ہے۔ ترین صاحب نے کہا۔

ارے بھئی سلیم صاحب! اب آپ خود ہی بتایئے کہ آپ کی اِس دفتر میں کیا ذمّہ داریاں اور فرائض تھے جِن کی آپ ہر ماہ تنخواہ لیتے تھے؟ جناب میں نے باقاعدہ اخبار میں ضرورت ہے کے اشتہار پر درخواست دی، مجھے انٹرویو کے بعد اسسٹنٹ منیجر کے طور پر بھرتی کر لیا گیا۔ میرے ذمّہ حکومتی سطحوں پر خط و کِتابت اور غیر ملکی فنڈ دینے والوں سے رابطہ کرنا کروانا تھا۔ ہمارے اِدارے کے سربراہ ڈاکٹر بھُوش، جو غالباً سِری لَنکن ہیں۔ اب اندر خانے کیا کیا ہوتا تھا، مجھے کوئی علم نہیں۔ نہ مجھے کبھی کِسی نے بڑی دعوتوں اور تقریبات میں بُلوایا اور نہ ہی مجھے اِن کا کوئی شوق ہی تھا ”۔ اتنا کہہ کر سلیم خاموش ہو گیا۔

ارے بھئی سلیم صاحب! دیکھیں نا، یہ کوئی ڈاکہ، قتل یا فراڈ کا معاملہ تو ہے نہیں، نہ ہی کوئی پرچہ کٹا پھر آپ نے دفتر کو تالا کیوں لگایا؟ مجھے جمعہ کی سہ پہر دفتر میں اپنے ایریا منیجر ڈاکٹر بھُوش کا پیغام موصول ہوا کہ ناگُزیر وجوہات کی بِنا پر میں یہ دفتر فی الفور بند کر کے باہر نوٹس لگا دوں کہ چند روز کے لئے دفتر بند رہے گا۔ نیز یہ کہ باقی تفصیلات وہ فون پر بتلائیں گے۔ تو پھر آپ نے ویسا ہی کیا؟ میں نے پوچھا۔ یہ میرے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ایسا ایک سے زیادہ مرتبہ پہلے بھی ہو چکا تھا۔ اُس نے یہ کہہ کر مجھے حیرت زدہ کر دیا۔ اللہ اکبر! میں نے بے ساختہ کہا۔

آپ کو یہ سُن کر شاید حیرت ہوئی ہے۔ میری ملازمت کا کوئی جاب لیٹر، کوئی معاہدہ وغیرہ بھی نہیں۔ میرا ہی کیا، ہمارے پورے دفتر میں کسی ایک کا بھی نہیں۔ بلکہ میری مُلازمت کے تیسرے ماہ ہی ڈاکٹر بھُوش نے ہم سب سے پیشگی استعفے لے کر اپنے بریف کیس میں رکھ لئے تھے۔ ارے؟ مجھے کوئی حیرانی سی حیرانی ہوئی۔ ہمارے پاس کوئی مُتبادِل نہیں تھا۔ پھر ویسے بھی یہ کون سی حکومت کی پینشن والی نوکری تھی۔ کیا نوکری اور کیا استعفے! ہمیں معقول تنخواہ ملتی رہتی تھی۔ تو پھر اب کی دفعہ ایسا کیا ہوا کہ دفتر پر تالا لگنے کے بعد آپ کو یہاں تھانے میں بطور ملزم آنا پڑ گیا؟ اِس پر میں نے بہت سوچا ہے مگر کوئی سِرا نہیں مِلتا۔ اُس نے اُداسی سے کہا۔

” میں بتاتا ہوں“ ، ترین صاحب نے گفتگو میں حصّہ لیتے ہوئے کہا۔ انوسٹی گیشن ٹیم کے پاس جو معلومات تھیں اُن کے مطابق اِس دفتر سے دو کام ساتھ ساتھ ہو رہے تھے۔ ایک باہر سے فنڈنگ کے نام سے پیسہ آ رہا تھا۔ جِس کا ایک معمولی سا حصّہ دفتر کے مُلازمین کی تنخواہوں، بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون کے بِلوں میں صرف ہوتا تھا۔ باقی۔ اِس کا تو شاید اِن سلیم صاحب کو بھی علم نہیں ہو گا۔ اور دوسرا کام سری لنکا، دبئی اور ہانگ کانگ کے ذریعے نقلی نوادرات کو بڑی بڑی سرکاری لائبریریوں اور یورپ میں نوادرات جمع کرنے والوں کو اصل کے داموں فروخت کرنا تھا۔ یہ جرمن سُراغ رساں بھی اِسی سلسلے میں یہاں آیا ہوا ہے ”۔

اوہ! میں نے کہا۔ ”تو گویا اِس ساری چکر بازی میں سلیم صاحب ملوث نہیں ہیں۔
جی ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ ترین صاحب نے کہنا شروع کیا۔ یہ دو دھاری کھیل ہے باہر سے فنڈنگ کا پیسہ اور یہاں سے نقلی نوادرات کی سپلائی۔ جو اصلی کرتا دھرتا ہیں اُن کے صرف نام ہی وزارتِ داخلہ میں بھیجے جا سکے۔ آپ زمانہ شناس آدمی ہیں، ایسے کاموں میں کِسی سرغنہ کی گرفتاری کا کبھی آپ نے سُنا؟ دو ایک معمولی کارندے خانہ پری کے لئے قربانی کا بکرا ضرور بن جائیں گے۔ اِس سے زیادہ اِس کہانی میں بھی کچھ نہیں ہونے والا۔ اِن سلیم صاحب کا کیا ہو گا؟ میں نے بے ساختہ پوچھا۔ کیوں بھئی؟ اِن کا کیا ہونا چاہیے؟ ترین صاحب نے سوال پر سوال کر دیا۔
یہ تو بے قصور ہیں؟ میں نے زچ ہوتے ہوئے کہا۔ ایک نظر سلیم پر ڈالتے ہوئے ترین صاحب نے میرے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔ اِن کو یہاں آئے آج تیسرا دِن ہے۔ دو چار روز مزید یہاں رہنا اِن کے حق میں اچھا ہو گا۔ اُنہوں نے کہا۔ حوالات میں رہنا اور اِن کے حق میں اچھا ہونا سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے پوچھا۔

فنڈنگ کے پیسے منگوانے والے اور دو نمبر کام کرنے والے معمولی مُجرم نہیں ہوتے۔ اِن کے لمبے ہاتھ کہاں کہاں نہیں! ہفتہ بھر حوالات میں رہنے کے بعد بھی مجھے یقین ہے کہ کوئی ان سے ملاقات کے لئے نہیں آئے گا! پھر اِنہوں نے کوئی وکیل بھی نہیں کیا۔ ضرورت بھی نہیں ہے کیوں کہ اِن کے خلاف کوئی پرچہ ہی نہیں! ہیں تو یہ تھانے کے اندر لیکن اندر بھی نہیں! صرف اِن کے گھر والوں کو علم ہے۔ میں نے اِن کے والد کو یقین دِلایا تھا اور وہ مطمئن بھی ہیں کہ اِن کا میرے پاس تھانے میں رہنا خود اِن کے لئے اچھا ہو گا۔ اُدھر اُن کا دفتر کچھ دِن کے بعد کھلے گا۔ پھر یہ سلیم صاحب کی قِسمت کہ وہ وہاں رہتے ہیں یا نہیں، لیکن دفتر کے اور یہاں کے لوگوں کو اِس بات کا یقین ہے کہ اوّل تو اِن کو کچھ پتا نہیں دوم ہفتہ اندر رہ کر بھی انہوں نے کسی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔ ترین صاحب نے گویا کوزے میں دریا بند کر دیا۔

کیوں سلیم میاں! تم تو شاید چُپ کا روزہ رکھے بیٹھے ہو۔ ساری رات لیلیٰ کا ذکر رہا۔ اب تُم یہ نہ کہہ دینا کہ لیلیٰ تھی کون؟ ”۔ میں نے ہلکے پھلکے انداز سے بات کی۔
میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ترین صاحب کے گھر سے جو کھانا آتا تھا اُس میں ہمیشہ مجھے شریک کیا۔ یہاں میں نے کسی بھی حوالاتی پر زیادتی ہوتی نہیں دیکھی اور۔ سلیم کی بات کاٹتے ہوئے ترین صاحب نے اُس کے منہ میں ایک آخری کیک رس کا ٹکڑا ڈال دیا۔ آپ کو کبھی لگا کہ ”پَسِ آئینہ کوئی اور ہے“ میں نے لہکتے ہوئے سوال کیا۔ ”تو خیال ہے کِسی اور کا تجھے سوچتا کوئی اور ہے“ واہ! کیا بات کہہ دی۔ ارے لاؤ کوئی گرما گرم چائے شائے اِسی بات پر۔ ترین صاحب نے خوش ہوتے ہوئے سپاہی کو آواز دی۔

Facebook Comments HS