بنگلہ دیش سے اچھے تعلقات۔ چند تجاویز


ڈپلومیسی میں درست اور بروقت اقدامات سے ہی ملکی مفاد کے لیے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر ہماری خارجہ پالیسی کا یہ عمومی رویہ ہے کہ ہم دوسرے ملکوں سے تعلقات میں درست اقدام یا بروقت اقدام میں سے کسی ایک یا دونوں کو مِس کر دیتے ہیں۔ اِسے سست روی کہیے یا کوتاہ نظری۔ بہرحال لمحوں کی غلطیوں کی سزا صدیوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران حالات نے ہمیں ڈپلومیسی میں ایک شاندار اور موثر کام کرنے کا موقع فراہم کیا ہے لیکن ہماری بے پروائی اور آج کے اہم کاموں کو کل پر ملتوی کرنے کے مزاج کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ شاید یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ اگست 2024 ء کے بعد بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان کے لیے جو دوستانہ اشارے آئے ان سے اب تک ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو موجودہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے سوچنے والوں کو فکرمندی میں مبتلا کیے جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں اس معاملے میں حکومتی سطح پر چند اچھے بیانات یا ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف کی بین الاقوامی کانفرنسوں کے دوران بنگلہ دیش کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کے ساتھ خیرسگالی جملوں کے علاوہ کوئی قابل ذکر عملی اقدامات سامنے نہیں آئے۔ دوسری طرف وقت ہے کہ مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتا جا رہا ہے اور یہ نہ ہو کہ ہسٹری ہمیں 1971 ء کی طرح ایک مرتبہ پھر ناعاقبت اندیش قرار دے دے۔ البتہ حال ہی میں پاکستان میں منعقد ہونے والی کثیر الملکی فضائی مشقوں انڈس شیلڈ 2024 ء کے دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ان مشقوں میں شریک ہونے والے بنگلہ دیشی فوجی افسروں سے خوشگوار موڈ میں مصافحہ کیا جسے ایک مثبت پیغام سے تعبیر کیا گیا۔ بہرحال پاکستان کی حکومت کو بنگلہ دیش کے ساتھ مستقبل کے اچھے تعلقات کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ لہٰذا درج ذیل معاملات میں فی الفور پیش قدمی کرنی چاہیے۔

بنگلہ دیش کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے خصوصی مواقع اور خصوصی رعایتیں دی جائیں۔ دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے بینکوں کی زیادہ شاخیں کھولی جائیں تاکہ تجارتی رابطوں، رقوم کی منتقلی اور ادائیگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں۔ بنگلہ دیش میں سیلاب جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں عوامی سطح پر فنڈ ریزنگ کی جائے اور حاصل ہونے والے فنڈز بنگلہ دیش ایمبیسی کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں۔ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کی اُن جائز قراردادوں کی مکمل اور بھرپور حمایت کی جائے جو ہمارے ملکی مفادات کے خلاف نہ ہوں۔ بنگلہ دیش، پاکستان، روس اور چین کا ایک نیا معاشی و معاشرتی بلاک بننا چاہیے تاکہ خطے کے حالات سے مشترکہ طور پر نبرد آزما ہوا جائے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی معاملات کے حوالے سے بھی معاہدہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو میڈیکل اور علاج معالجے کے شعبے میں سِول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کا پہلا کارگو شپ بنگلہ دیش کی چٹاگانگ بندرگاہ پر چند دن قبل لنگر انداز ہوا۔ ایسے کارگو شپس کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھانی چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان ٹریڈنگ کو ایک سستا ذریعہ ملے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست سستی پروازیں شروع کی جائیں تاکہ آمدورفت میں اضافہ ہو۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں اور پروفیشنل کالجوں میں بنگلہ دیش کے طالب علموں کو زیادہ سے زیادہ داخلے دیے جائیں اور یہ داخلے سکالرشپ کی بنیاد پر ہوں تاکہ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل کو ہماری محبتوں کا احساس ہو سکے۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں فارسی کو اہم آپشنل مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بنگالی کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے اور پاکستانی طالب علموں کو بنگالی سیکھنے اور پڑھنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ اگر شروع میں بنگالی سکھانے والے اساتذہ دستیاب نا ہوں تو اس کمی کو بنگلہ دیش سے آن لائن ٹیچنگ کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بے حد اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ فارسی کبھی بھی پاکستان کے کسی صوبے کی سرکاری زبان نہیں رہی جبکہ بنگالی ایک زمانے میں پاکستان کے بڑے صوبے کی سرکاری زبان تھی۔ لہٰذا بنگالی زبان کو اپنائیت کے ساتھ سیکھنا اور پڑھنا چاہیے۔ نیز یہ کہ پاکستان کے مقابلے کے امتحانات میں جہاں دیگر زبانوں کی آپشن موجود ہے وہیں بنگالی زبان کی ترجیحاً حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ دونوں ملکوں کی علمی شخصیات، علماء، اساتذہ، صحافیوں، ادیبوں، فنکاروں، سابق سفارت کاروں، کھلاڑیوں، نوجوانوں، گرل گائیڈز، سکاؤٹس اور چھوٹے تاجروں وغیرہ کو ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کرائے جائیں اور مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ نئے ادب، نئے افکار کا آغاز ہو سکے۔ نیز دونوں ملکوں کے اہم لٹریچر کو بھی ایک دوسرے کی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ عوام آسانی اور دلچسپی سے ایک دوسرے کا مطالعہ کرسکیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کے لیے باہمی ثقافتی سرگرمیوں کی بھرپور شروعات کی جائیں تاکہ یہ کلچرل ملاپ مستقبل کی مضبوط سنگت کا ضامن ہو۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی فلمیں، ڈرامے، تھیٹر اور مشہور ریڈیو پروگرام اردو اور بنگالی میں ترجمہ کر کے ایک دوسرے کے ملکوں میں ٹیلی کاسٹ اور نشر کیے جائیں۔ فلم، ڈرامہ، تھیٹر اور ریڈیو وغیرہ کے پروڈیوسرز اور سکرپٹ رائٹرز کو ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کرائے جائیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مصوروں کے فن پاروں کی ایک دوسرے کے ملکوں میں نمائشیں کرائی جائیں اور فیشن شو منعقد کیے جائیں۔ دونوں ملکوں میں یادگاری ٹکٹوں کا اجراء کیا جائے۔ دونوں ملکوں کے سیاسی رہنماؤں اور پارلیمانی وفود کا تبادلہ بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ خاص طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے ایسے شہری جو 1971 ء سے قبل شعوری زندگی میں آچکے تھے اور اب تک حیات ہیں، ایسے سینئر سٹیزن کو ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کروائے جائیں اور ماضی کی خوبصورت یادوں کے ساتھ آپس میں گھل مل جانے کا موقع فراہم کیا جائے۔

ایک طالب علم کی حیثیت سے راقم الحروف کے مندرجہ بالا تجویز کیے گئے اقدامات اتنے ناممکن بھی نہیں کہ انہیں ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے جیسا کہا جا سکے۔ بیشک یہ سب کچھ ایک دم اور ایک ساتھ نہیں ہو سکتا لیکن اِن نکات پر کام کی طرف پہلا قدم تو اٹھایا جاسکتا ہے اور یہی آغاز مستقبل میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے مضبوط دوستانہ تعلقات کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

Facebook Comments HS