ٹیلی کام بدمعاشیا طبقہ


یوں تو یہ داستان گریہ و غم خاصی طویل ہے اور اب تک اسے نوک زباں پر نہیں لایا گیا تو وجہ اس کی کچھ بے خبری، کچھ لاپروائی، صبر اور کچھ مجبوری رہی۔ پر اب کے چرکے نے مجھے لب وا کرنے پر بے بس کر دیا۔

اگر آپ کسی پاکستانی نیٹ ورک کے پری پیڈ صارف ہیں اور انٹرنیٹ وائی فائی کے بجائے سم ڈیٹا سے لے رہے ہیں تو یقینی طور پر آپ کے ساتھ یہ واردات ہوئی ہوگی۔

میں پچھلے کچھ سالوں سے زونگ نیٹ ورک استعمال کر رہی ہوں اور میرے پاس زونگ کا ماہانہ پریمیم قسم کا ہائبرڈ پیکج ہوتا ہے۔ میرے پاس آن نیٹ اور آف نیٹ منٹس، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ ڈیٹا اتنا وافر ہوتا ہے کہ اس میں میری تمام ضروریات کا احاطہ ہو جاتا ہے، (حتیٰ کہ بذریعہ ہاٹ سپاٹ غریب غربا کی مدد بھی ہوتی رہتی ہے ) یوں میرے لیے الگ سے کسی سروس کو خریدنا غیر ضروری ہو جاتا ہے۔

تو ہوتا کچھ اس طرح ہے کہ ہر مہینے اپنا بنڈل ایکٹیویٹ کرنے کے لیے مجھے ری چارج تو کرنا ہوتا ہے (اگر آپ کوئی بینکنگ یا مائیکروفنانس ایپ استعمال نہیں کر رہے تو ڈائریکٹ بنڈل خریدنے کے بجائے ری چارج کر کے بذریعہ کوڈ ڈائل ہی بنڈل ایکٹیویٹ ہو گا) اس لیے احتیاط کے طور بنڈل ایکٹیویشن کے لیے درکار بیلنس سے کچھ زیادہ کا ری جارج کرواتی ہوں کیونکہ اگر پورے پورے پیسوں کا ری چارج کیا جائے تو اکثر ایکٹیویشن کرتے ہوئے بیلنس ناکافی ہونے کا نوٹس موصول ہوتا رہتا ہے۔ پیکج کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے یا پھر کوئی خفیہ چارجز اس کی وجہ بنتے ہیں۔ پھر وہ کمی پوری کرنے کے لیے ایک بار پھر دو سو روپے خرچ کرنا ہوں گے، بھلے وہ کمی دو روپے کی ہی کیوں نہ ہو۔ جی صحیح سمجھا ہے آپ نے، اب کم سے کم ری چارج لمٹ دو سو ہے۔

بنڈل کے لیے درکار بیلنس سے زائد کا بیلنس کروایا جاتا ہے، بنڈل ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے تو منطقی طور پر زائد بیلنس اکاؤنٹ میں محفوظ ہونا چاہیے (اور تب تک ہونا چاہیے جب تک کہ اس کی ایکسپائری تاریخ نہیں آ جاتی) پر وہ نہیں ہوتا۔

میں نے الگ سے کوئی سروس یا پیکج نہیں لیا ہوتا، کوئی ایسی کال یا میسج نہیں کیا ہوتا جو میرے پیکج سے ہٹ کر ہو، پھر ہر ماہ میرے اکاؤنٹ سے چالیس پچاس روپے کہاں غائب ہو جاتے ہیں سمجھ سے بالا ہے۔

شروع کے چند ماہ تو میں نے پروا نہیں کی۔ لیکن جب انہوں نے اسے وتیرہ بنا لیا تو میں نے تحقیق اور پوچھ گچھ کی راہ لی۔ ضرورت سے بڑھ کر بے وقوف سمجھ رہے تھے مجھے۔

اس ماہ میں نے ری چارج کروایا تو بنڈل ایکٹیویٹ کرنے سے پہلے زونگ کی ہیلپ لائن پر فون کیا۔ میں نے بیلنس انکوائری کا کہا تو کسٹمر کیئر کے نمائندے نے مجھے بتایا آپ کے نمبر پر ایک سروس فینٹسی فائیو کے نام سے ایکٹیویٹ ہے۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے یہ سروس نہیں چاہیے آپ اسے فی الفور میرے نمبر سے ختم کریں۔ میں نے اسے یہ بھی کہا کہ یہ میں نے ایکٹیویٹ نہیں کی پھر کیسے۔ اس نے تاویل پیش کی کہ آپ نے کسی لنک پر کلک کر کے ایکٹیویٹ کی ہے، یہ اسی طرح سے ایکٹیویٹ ہوتی ہے۔

اس کی تاویل کو تسلیم کرتے ہوئے میں نے بحث نہیں کی لیکن اتنا کہا کہ اسے فی الفور ہٹا دیں۔ کسٹمر کیئر کے نمائندے نے مجھے یقین دلایا کہ یہ سروس آپ کے نمبر سے ہٹا دی ہے۔ میں نے تسلی کے لیے دوسری بار پوچھا تب بھی اس نے بتایا کہ اب مزید کوئی سروس ایکٹیویٹ نہیں ہے۔ میں نے کال بند کی اور اپنا ریگولر پیکج ایکٹیویٹ کر لیا۔ اس کے بعد میں نے مائے زونگ ایپ سے بیلنس چیک کیا تو اکاؤنٹ میں ایک سو ستانوے روپے اور کچھ پیسے موجود تھے۔ میں نے ایکٹیویٹ پیکجز کی تفصیل دیکھی تو وہاں ایک تازہ ایکٹیویٹ بنڈل ہی نظر آیا۔ میں نے آرام سے ایپ بند کر دی۔

اگلے روز میں نے بیلنس چیک کیا تو معلوم ہوا واردات ہو گئی ہے۔ تیرہ روپے کم تھے۔ میری یادداشت بتا رہی تھی کہ میں نے بیلنس خرچ کرنے کا کوئی منصوبہ زیر عمل نہیں کیا۔ میں نے ایپ میں پیکج کی تفصیلات دیکھنا چاہیں تو سوائے میرے ریگولر پیکج کے کوئی سروس ایکٹیویٹ نہیں ہوئی تھی، کوئی ایس ایم ایس نہیں تھا جس سے معلوم ہوتا کہ کون سا پیکج ایکٹیویٹ ہوا ہے۔ میں نے ہیلپ لائن پہ کال کھڑکائی اور بیلنس ضبط کیے جانے کی بابت پوچھا۔

مجھے بتایا گیا کہ ایک ویلیو ایڈنگ سروس فینٹسی فائیو (اس سے ہوتا کیا ہے میں یہ تک نہیں جانتی تھی) ایکٹیویٹڈ ہے، اس مد میں آپ کے بیلنس میں کٹوتی کی گئی۔ میری پیشانی پر بل پڑے اور میں نے ترشی سے کہا کہ جب میں سروس ڈی ایکٹیویٹ کروا چکی ہوں تو پھر کٹوتی کس لیے؟ میرا بیلنس میرے اکاؤنٹ میں واپس ٹرانسفر کریں اور مجھے کوئی ویلیو ایڈنگ سروس نہیں چاہیے۔ چاہیے ہوئی تو میں ہیلپ لائن پر کال کر کے ایکٹیویٹ کروا لوں گی۔ میری طرف سے مزید کمپلین لکھیں کہ براہ کرم میرے نمبر کو پرموشنل ایڈز سے بھی مبرا کریں۔

انکوائری ہو گئی، کمپلین رجسٹر ہو گئی، بیلنس واپسی بھی کلیم ہو گئی تو دس منٹوں کی یہ کارروائی اختتام کو پہنچی۔ تھوڑی دیر میں ہی بیلنس واپس آنے کا ایس ایم ایس بھی آ گیا تو میرا پارہ نیچے آ گیا۔

کچھ گھنٹے گزرے تو مجھے لاک سکرین پر ایک مبارکباد کا پیغام موصول ہوا، کوئی جی پی ایل نام کی سروس ایکٹیویٹ ہونے کی خوشخبری تھی میرے نام۔ یہ کیسے اور کس کی اجازت سے ہوئی تھی میں نہیں جانتی تھی۔ میں نے بیلنس کے حساب کے لیے مائے زونگ کھولی تو کوئی تیس پینتیس روپے ہڑپ ہو چکے تھے۔ اب مجھے غصہ آیا اور شدید آیا۔ ان کو ایک پیسہ نہیں کھانے دینا، یہ نگلنے لگیں گے تو حلق میں ہاتھ ڈال کر کھینچ لینے ہیں، میں نے سوچا اور پھر سے ہیلپ لائن پر فون کر دیا یہ ایک ہی دن میں دوسری بار ہو رہا تھا۔

اس مرتبہ میں نے کافی سخت الفاظ اور انداز اختیار کیا تھا۔ میں نے ان سے کٹوتی کی بابت پوچھا تو انہوں نے ڈھٹائی سے اطلاع دی کہ یہ فینٹسی فائیو اور جی پی ایل سروسز کی مد میں کی گئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ جب میں نے ان سروسز کی ڈی ایکٹیویشن ریکوئسٹ کی ہوئی ہے تو پھر اس پر کس لیے کٹوتی؟ جواب ملا کہ کچھ گھنٹے پہلے جمع کروائی گئی عرضی کی تاحال شنوائی نہیں ہوئی۔ ہو گئی تو مسئلہ حل ہو جائے گا، ریکوئسٹ متعلقہ شعبے کو ارسال کئی ہوئی ہے عمل درآمد ہوتے ہی آپ کی شکایت دور ہو جائے گی۔

میں نے مزید سوال کیا کہ جی ایل پی میرے نمبر پر کس طرح ایکٹیویٹ ہوئی؟ میں نے کوئی کوڈ نہیں ملایا، میں براؤزر ہسٹری دیکھوں تو صاف ہے، کسی لنک پر کلک نہیں ہوا، میں نے کوئی اور سفارش مرتب نہیں کروائی پھر یہ کیسے اور کیوں کر؟ بند کریں ہمیں پاگل بنانا، شرافت سے پیسے واپس ٹرانسفر کریں اور ان سروسز کو معطل کریں۔ میرے کہے پر عمل ہو گیا تو میں نے کال بند کر دی۔ میں سمجھ رہی تھی اب یہ انسان کے بچے بن کر رہیں گے، مجھے دوبارہ شکایت نہیں ہوگی لیکن میں غلط تھی۔

اگلے دن پھر یہی سب ہوا۔ میں نے بھی جان بخشی نہیں کی اور کر دیا فون۔ جھوٹے کو اس کے گھر تک چھوڑ کر آنا چاہیے۔ بات یہ نہیں تھی کہ مجھے وہ کچھ روپے بے حد عزیز تھے۔ بات یہ تھی کہ وہ دو نمبر طریقے سے مجھ سے ہتھیانے کے چکروں میں تھے جس سے میری ساری سمجھ بوجھ ہی چیلنج ہو رہی تھی۔ میں نے کال پر کسٹمرز کیئر والے سے پھر پوچھا کہ ہن کیہ اے؟ شرافت سے میرے مسئلے حل کریں گے یا پھر میں کنزیومر کورٹ جاؤں؟ (یہ میں اسے تڑی نہیں دے رہی تھی، میں اس پر بھی سرچ کر چکی تھی اور میرا یہی ارادہ تھا کہ ان کے فراڈ کے خلاف جس حد تک ممکن ہے، جانا ہی ہے ) کہنے لگا آپ کی درج کی ہوئی شکایت کو اڑتالیس گھنٹے پورے نہیں ہوئے اس وجہ سے آج بھی آپ کا بیلنس کاٹا گیا ہے، بیلنس آپ کے کہنے پر واپس بھیج رہے ہیں اور سروسز اڑتالیس گھنٹے پورے ہوتے ہی ڈی ایکٹیویٹ ہو جائیں گی۔ اور کوئی شکایت ہو تو بتائیں؟ میں نے نو تھینکس کہہ کر فون بند کر دیا۔

اس ساری جانچ پڑتال میں مجھے اس لوٹ مار کی سائنس سمجھ آ گئی تھی۔ کمپنی جان بوجھ کر صارفین کے نمبرز پر مختلف سروسز جیسا کہ لائیو سکور اپ ڈیٹ سروسز، انشورنس سروسز، گیمنگ سروسز ایکٹیویٹ کرتی ہے اور چوری چُھپے کٹوتیوں میں مصروف ہے۔

بے ایمانی کا درجہ دیکھیں کہ عمومی طور پر ان کی ایکٹیویشن کا الرٹ جاری نہیں کیا جاتا، یہ سروسز نیٹ ورک کی آفیشل ایپ میں کسی بہتر انٹرفیس کے ساتھ ایسے انداز میں ظاہر نہیں کیں جاتیں جہاں سے یہ نوٹس میں آئیں۔ یوں ان کی لوٹ مار کا دھندا جاری رہتا ہے کیونکہ جلدی اور آسانی سے گرفت میں نہیں آتا۔

اس سے ایک اور چیز بھی سامنے آئی کہ یہاں حکمران ٹولا اور عام آدمی تو چور اور بد دیانت تھے ہی، یہ دیوقامت کمپنیاں بھی ناخن لمبے کر کے حرام اور ناجائز طریقے سے صارف کا لہو نکالنے میں مصروف ہیں اور اس کام کے لیے ان کو اپنے قد کاٹھ سے کتنا نیچے آنا پڑ رہا ہے انہیں اس چیز کی بھی پروا نہیں ہے۔ جہاں سے جتنا اور جس طرح کھانے کا موقع مل رہا ہے وہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتیں۔ بات وہی ہے کہ اصول، اخلاق، کاروباری قاعدے اور قانون پیسوں کے آگے حیثیت نہیں رکھ رہے ورنہ زونگ جیسی کمپنی جس کے کسٹمرز ملینز میں ہیں، اور ملک میں موجود کسی بھی ٹیلی کام کمپنی سے کئی گنا زیادہ منافع کما رہی ہے یہ اوچھی حرکتیں نہیں کرتی۔ بے ایمانی، چوری اور بد دیانتی کے آگے کہیں کوئی بند یا رکاوٹ نہیں ہے یہ ہر جگہ ہے، میگا کارپوریشنز میں بھی گلی کے کونے کے دکاندار میں بھی۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “ٹیلی کام بدمعاشیا طبقہ

  • 18/11/2024 at 12:02 شام
    Permalink

    Pls make complain at PTA website with date of complain etc
    Zong usually deduct Rs 1/- day for any excuse
    Many mobile App when used in phone also cause various deductions so customer needs
    to be careful
    If you find better service of any other cellular company in your area, use it for few months
    Write a strong complain to Zong by email and send its copy to PTA also
    If no action is made by company …share its content on humsub
    do mention in your letter that you will forward your complain with PTA and social media forums for which Zong will be responsible

    There is one very interesting way to revenge or settle your score with any company be it Zong / Daraz or whatever like Bank

    Install their app using Android or iphone then give one star or less …type reason of dissatisfaction and uninstall the App.

    Ask friends / relatives to do the same or use their phone in your spare time and settle your score

    It count a lot

    • 18/11/2024 at 1:06 شام
      Permalink

      One can unsubscribe Fantasy Five by
      dialing *4263#
      or send sms "unsub” to 4263

      but its disadvantage is that same gave an impression that u once subscribed it but on other hand will save your time

      I believe Fantasy Five will be activated every time with Zong App on phone and it deduct
      Rs 1/- daily + extra taxes
      The bonus award game etc offered by App is part of Fantasy Five

      Honestly, its not a Zong fault as you depicted its part of package … nothing is free

Comments are closed.