پاکستان کا مقبول ترین نظریہ اور استعمار کی نفسیات۔ ایک تاثر

پاکستان کا مقبول ترین نظریہ اور استعمار کی نفسیات۔ محترم اختر علی سید کی کتاب پر ایک تاثر
اس بات کو فی الحال جانے دیجیے کہ اردو کی کمائی کھانے والے ادارے تکنیکی اصطلاحات کی معیار بندی سے اس قدر دور ہیں کہ ”تھیوری“ ، ”آئیڈیالوجی“ ، ”ہائپو تھیسس“ ، ”ازمپشن“ وغیرہ جیسی الگ الگ اصطلاحات کو ایک ہی لفظ ”نظریہ“ کے بھاری لٹھ سے ہانکا جاتا ہے۔ چنانچہ کچھ احباب نہایت تیقن سے فتوی دیتے پائے جاتے ہیں کہ حیاتیاتی ارتقا، یعنی ایوولوشن محض ایک تھیوری یعنی ”نظریہ“ ہے۔ خیر، اس لفظیاتی ابہام سے قطع نظر اگر کوئی پوچھے کہ پاکستانیوں میں سب سے مقبول نظریہ کون سا ہے، تو نظریہ پاکستان جیسی مشہور مگر بے معنی تراشیدہ سرکار اصطلاح سے سن چالیس کی دہائی کے وقتی سیاسی داؤ دو قومی نظریے تک، لبرل ازم سے سوشلزم سے، جملہ اقسام کے مذہبی مکاتیب فکر تک، کوئی ایک ایسا نظریہ سامنے نہ آ سکے گا جسے من حیث المجموع پاکستانیوں کا قومی، یا کم از کم سب سے مقبول نظریہ کہا جا سکے۔ سو اس خادم کو یہ دعوی کرنے کی اجازت دیجیے کہ، ہمارے ہاں، بلا تخصیص مذہب، طبقاتی تفریق اور لسانی و قومیتی تنوع سب سے مقبول نظریہ، ”نظریہ سازش“ یا بہ زبان انگریزی ”کانسپی ریسی تھیوری“ ہے۔ اس ملک کے عوام کا کم و بیش اجماع ہے کہ ہماری زبوں حالی کی وجہ بنیادی طور پر اغیار، اور ان اغیار کے چند مقامی گماشتوں کی سازشیں ہیں۔
تسلیم کہ مختلف لوگوں اور گروہوں کے نزدیک ”اغیار“ اور ان کے ”مقامی گماشتوں“ کے چہرے اور شناخت بدلتے رہتے ہیں، اور کبھی تو کل کے مسجود آج کے ذلیل ٹھہرتے ہیں مگر بنیادی تجزیاتی طریقہ کار وہی ”نظریہ سازش“ والا ہی رہتا ہے۔ اپنی دربدری، جہاں گردی کے دوران اس خادم نے یہ مرض ہر جگہ موجود پایا ہے مگر بالعموم مٹھی بھر، کم تعلیم یافتہ افراد میں۔ ہمارے ہاں تو سریاب کی لوکل بس کے کنڈکٹر سے لے کر بیش قرار پنشن کے حامل دفاعی تجزیہ کار، ”حقیقی“ آزادی کے علم برداروں سے لے کر طویل ترین جمہوری جدوجہد کے دعوے دار تک، اسی زلف گرہ گیر میں الجھے ملے۔ ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں۔
قیام پاکستان کے بعد کی ابتدائی تین دہائیوں میں ”پاکستانی کلچر“ ، ”پاکستانی ادب“ ، ”پاکستانی قوم“ کی تعریف پر بہت مباحثے ہوا کرتے تھے مگر کوئی اتفاق رائے پیدا نہ ہو پایا۔ ہمارے پیارے فیض صاحب بھی زچ ہو کر پلاؤ کی رکابی کو پاکستان بھر کے عوام کو جوڑنے کی واحد لڑی قرار دے کر جان چھڑا گئے تھے۔ اس خلط مبحث سے ایک تو قیام بنگلادیش کی بدولت کچھ گلو خلاصی ہوئی اور کچھ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں، صارفیت یعنی کنزیومر ازم کی جہان گیری کی بدولت۔ آج اگر فیض صاحب حیات ہوتے تو نہایت اعتماد سے انہیں بتایا جا سکتا تھا کہ خیبر سے کراچی تک، گوادر سے خنجراب تک، واہگہ سے تفتان تک، مرچوں والی بریانی اور نظریہ سازش یکساں مقبول ہے۔ اول الذکر کے پھیلاؤ کی وجوہات پر تو عزیزم حارث خلیق اور وسی بابا جیسے خوش خوراک احباب ہی سیر حاصل گفتگو کر سکتے ہیں، اس خادم جیسے کم سواد لوگوں کے لیے موخر الذکر مظہر البتہ تشویش کا باعث ہے۔
دیکھیے، اس باب میں تو دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ ہمارا ملک بحیثیت مجموعی ایک مستعمرہ جغرافیے اور معیشت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ ملک کے اندر بھی بین الصوبائی سطح سے لے کر بین الطبقاتی، بین القومیتی، بین القبائلی، بین الصنفی اور دیگر کئی حوالوں سے جاری استحصال ایک حقیقت ہے۔ لیکن اس کی ذمہ داری چند افراد کی بے ضمیری، یا مبینہ ”کرپشن“ یا شرق و غرب کی دیگر اقوام کی مزمن مسلمان دشمنی پر ڈالنا، اس خادم کی رائے میں محض فکری سہل انگاری اور ہمارے کسی معجزانہ ”شارٹ کٹ“ کے ڈھکوسلے پر ایمان کی نشانی ہے۔ سائنسی تحقیق کے نتیجے میں یہ خیال بھی بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے کہ فلاں نسل، قوم یا قبیلہ فطری طور پر غیرت مند، ایمان دار، بہادر، ہوشیار یا ان کے برعکس ہوتا ہے۔ سو، ان افراد اور گروہوں کے مبینہ مخاصمانہ طرز عمل کی تہہ میں کارفرما سماجی، معاشی، نفسیاتی اور دیگر زیر سطح عوامل کی شناخت، معروضی تجزیہ، اور اس کی روشنی میں کوئی عملی راہ متعین کیے بغیر اس صورت حال سے آزادی تو کیا، مرئی اور غیر مرئی جکڑ بندیوں کے مزید مستحکم ہونے کا قوی امکان ہے۔
سو یہ تجزیہ کون کرے اور اسے لوگوں تک کیسے پہنچایا جائے؟ اس خادم کے محدود تجربے اور مطالعے کی روشنی میں ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ کم وقت میں، اور ممکنہ حد تک بلند بانگ انداز میں ہر شعبے کے بارے میں حتمی رائے دینے کا رواج پڑ جانا ہے۔ اس رواج کو سماجی قبولیت بخشنے میں ٹیلیویژن چینلز اور سوشل میڈیا پر مقبولیت اور کمائی کی اندھا دھند، چوہوں کی دوڑ کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ایسے میں یہ فرض کر کے بیٹھ جانا کہ ”کون سنتا ہے فغان درویش“ ، بھی اس خادم کی رائے میں سماجی ذمہ داری سے پہلو تہی ہے۔ معروضی انداز میں، دھیمے لہجے میں، بغیر کسی نفع اندوزی کی دوڑ میں شامل ہوئے معقول بات لوگوں تک پہنچانا اس خادم کے خیال میں فرض کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایسا نہیں کہ ہمارے ہاں ایسا تجزیہ کرنے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ مسئلہ اس تجزیے کو عام فہم انداز میں پڑھنے اور سننے والوں تک پہنچانا ہے۔ پاکستان کے انگریزی ذرائع ابلاغ، اپنی محدود رسائی کے باوجود، کبھی کبھی ایسے تجزیات شائع کر دیتے ہیں۔ پاکستانی زبانوں کی صحافت، چاہے کاغذ پر ہو، سوشل میڈیا پر، یا ٹی وی چینلز پر، بدقسمتی سے کم و بیش ہر جگہ، آغا حشر کاشمیری سے یادگار ناٹکوں کے مکالموں، یا پنجابی اور پشتو فلموں کی بڑھکوں کا میدان بن چکی ہے۔ ایسے میں چند برقیاتی و کاغذی اخبارات و رسائل کا دم غنیمت ہے جن کی راہ سے سنسنی خیزی سے پاک ابلاغ کے موقع میسر ہیں۔ اگر کمی ہے تو اردو اور دیگر قومی زبانوں میں ابلاغ کی صلاحیت رکھنے والے با علم ماہرین کی۔
استاذی محترم اختر علی سید، انگریزی محاورے کے مصداق، ”زمین کا نمک“ لکھنے والوں میں شامل ہیں جنہوں نے علم نفسیات کے تجزیاتی طریقہ کار کو غالب رجحان کے برعکس، فرد کی ذات سے پھیلا کر پاکستانی، بلکہ عالمی معاشرے کے اجتماعی امراض کی تشخیص کے لیے استعمال کرنے کا فرض کفایہ ادا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور ان کا ہم سب پر یہ احسان ہے کہ اس مقصد کے لیے اردو زبان کا انتخاب کیا۔ ان کے مستقل اہمیت والے ان مضامین کا یہ خادم مدت سے قاری اور پرستار رہا ہے۔ احسن اقدام ہوا کہ انہیں کتابی شکل میں مدون کر کے شائع کر دیا گیا ہے۔
اگر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ سید صاحب کے مطالعے و مشاہدے کی رو سے تہذیبوں کے تصادم کی اصطلاح کس تاریخی تناظر کی پیداوار ہے، عوام کو کیوں جاہل قرار دیا جاتا ہے، لوگ کیوں ٹرمپ، مودی، برلسکونی اور ان کے دنیا بھر میں ابھرتے اوتاروں کو قیادت سونپ رہے ہیں، جنسی جرائم اور دیگر اقسام تشدد کی ذمہ داری مظلوم پر ڈالنے کے پیچھے کون سے سماجی نفسیاتی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، دہشت گردی، انتہا پسندی اور توہین گردی کیوں ہے، استبداد، مزاحمت اور جبر کے موجودہ سیاق و سباق میں کیا خد و خال ہیں، جمہوریت اور اکثریتی جبر میں کیا تفاوت ہے، تو یہ کتاب اس کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہاں، البتہ اگر کسی کو پہلے سے یقین ہے کہ یہ سب مسائل درحقیقت اغیار کی سازش کی بدولت ہیں اور ان کا توڑ صرف ایک کرشماتی قائد و مرشد کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوجانا ہے تو فبہا۔ ایک مثال سید صاحب کا فلسطینی مزاحمت اور صہیونی نسل کشی پر مختصر مضمون ہے جو اس جاری انسانی المیے کا تجزیہ مصلحت پسندی، جذباتیت اور مرعوبیت سے ہٹ کر پیش کرتا ہے۔
کتاب کے مشمولات کی ہمہ گیریت تو خیر فہرست مضامین سے ہی واضح ہے، مگر اس خادم کے خیال میں یہ مضامین سمجھنے کے لیے آسان ہونے کے باوجود کچھ احباب کے لیے ابتدا میں ایک آدھ مشکل ضرور کھڑی کریں گے۔ ہمارا قومی نظریہ سازش ایک زود اثر، اعصاب انگیز دوا کا سا کمال رکھتا ہے۔ ایک سازش کے جوہڑ سے سرشار ہو کر نکلیں تو اگلی سازش بھری بدرو کی طلب شروع ہو جاتی ہے۔ یہ مضامین اس نشے کا تریاق ہیں، جس کے نتیجے میں اعضا شکنی، بت شکنی، پردہ دری وغیرہ کا صدمہ ناگزیر ہے۔ دوئم، یہ مضامین قاری کی نظر کو دور دراز والے ”اغیار“ کے سراب سے ہٹا کر اپنے آس پاس کے استعماری کلچر اور سیاسی و سماجی قوت کے ڈھانچوں کی تلخ اور بدنما حقیقتوں کی سمت کھینچ لانے کی کوشش ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ہم لوگ اپنے چہرے پر لگی میل کو دھونے سے زیادہ آسان آئینے کو بیرونی یا اندرونی سازش کہہ کر توڑنے کے عمل کو سہل سمجھنے والا سماج بنا دیے گئے ہیں۔


