استعماری سیاح: مقبرہ سلطان ٹیپو پر لارڈ میکالے نے کیوں حاضری دی؟
برطانوی ہند میں، انگریز استعمار نے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کی تھی، سیاسی امور میں جن افراد کا انتخاب کیا جاتا ان کے نسبی و نسلی رشتے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ کمپنی کی حکومت میں ایسے بے شمار کردار ملتے ہیں جنھوں نے ہندستان پر استبدادیت کو مضبوط کرنے میں استعماری کردار بخوبی نبھایا۔ ان کرداروں میں ایک ٹی بی میکالے کا خاندان بھی شامل ہے۔ ٹی بی میکالے کے چچا کولن میکالے نے 21 سال کی عمر میں 1778 ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں شمولیت اختیار کی، کلکتہ کا سفر کرنے کے بعد انھیں مدراس میں تعینات کیا گیا۔ کمپنی نے میسور کے حکمران حیدر علی اور بعد میں ان کے بیٹے سلطان ٹیپو کے خلاف جنگیں لڑیں، سلطان ٹیپو کو ہندستان میں برطانوی موجودگی سے شدید نفرت تھی وہ خفیہ طور پر فرانسیسی افواج کے ساتھ اتحاد میں تھے۔ کولن میکالے نے دوسری میسور جنگ میں حصہ لیا جس میں وہ گرفتار کر لیے گئے اور انھیں میسور کے دار الحکومت سرنگا پٹنم میں قید کر دیا گیا، کولن میکالے تین سال تک سرنگا پٹنم میں قید رہے اور انھیں 1784 ء میں رہا کر دیا گیا۔ کولن میکالے نے سلطان ٹیپو کے خلاف چوتھی جنگ 1799 ء میں حصہ لیا، یہ وہی جنگ تھی جس میں میر صادق کی غداری سے سلطان ٹیپو کی موت ہوئی۔
کولن میکالے کو اس جنگ کے بعد سرنگا پٹنم گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ ان جنگوں کے بعد ، سلطان ٹیپو کی قیمتی لائبریری کو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ ان کتابوں کی کئی جلدوں نے بعد میں لندن میں ”انڈیا ہاؤس لائبریری“ کی بنیاد رکھی۔ ان میں سے کئی مخطوطات کیمبرج یونیورسٹی بھی بھیجے گئے۔ کمپنی میں بطور کیڈٹ بھرتی ہونے والے کولن میکالے 1814 ء میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ گئے اور برطانوی استعمار کی خدمات کے اعتراف میں انھیں 1830 ءمیں، لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
چارلس ایڈورڈ ٹریویلین نے 19 سال کی عمر میں 1826 ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی سول سروس میں بنگال کے لیے ایک رائٹر (کاتب) کے طور پر ملازمت اختیار کی۔ ایک سال بعد ، انہیں دہلی میں انگریز کمشنر کے اسسٹنٹ کے طور پر نامزد کیا گیا۔ اگلے چار سالوں تک، انہوں نے مقامی آبادی کے حالات زندگی کو بہتر بنانے اور داخلی تجارت پر محصولات ختم کر کے تجارت کو جدید بنانے کو اپنا خاص مقصد بنایا۔ ایلیٹ طبقات کی نوآبادیاتی تشکیل میں ایک نیا موڑ 1830 ء میں آیا جب ٹریویلین کی شادی جنرل کولن میکالے کی بھتیجی حنا مور سے ہوئی جو رشتے میں ٹی بی میکالے کی بہن تھی۔ کمپنی کے جرنیل کے ساتھ رشتے داری ہونے کے بعد ٹریویلین کو کلکتہ میں اہم حکومتی عہدہ پر تعینات کیا گیا اور انھیں تعلیم کے شعبے میں ہندستانیوں کو یورپی سائنس اور ادب کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے علمی بنیادوں کی تشکیل کرنے کا ہدف سونپا گیا۔ 9 سال تک شعبہ تعلیم میں کام کیا اور 1838 ء میں ٹریویلین کی کتاب On the Education of the People of India کے عنوان سے شائع ہوئی اس کتاب میں یورپی سائنس، فلسفہ اور ادب کی ترویج کے حق میں دلائل پیش کیے گئے۔
ٹی بی میکالے کے بہنوئی چارلس ٹریویلین 1840 ء میں لندن واپس بھیج دیے گئے، جہاں اگلے 19 سال تک انہوں نے وزارت خزانہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس عہدے پر انہوں نے آئرلینڈ میں قحط ( 1845۔ 1847 ) کے دوران امداد فراہم کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس مقام پر وہ برطانوی حکومت کی متنازعہ پالیسیوں کے نمائندے بن گئے، جو کم سے کم مداخلت پر مبنی تھیں اور خود انحصاری کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔ آئرلینڈ میں وہ آج بھی ایک متنازع شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے اہم اور دیرپا شراکت 1850 کی دہائی میں شروع ہوئی، جب انہوں نے اور سر اسٹافورڈ نارتھکوٹ نے ’دی آرگنائزیشن آف دی پرمننٹ سول سروس‘ پر رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ نے سول سروس میں تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ تعلیمی معیار اور مقابلہ جاتی داخلہ امتحانات نے یقینی بنایا کہ زیادہ قابل اہلکار سول سروس کے منتظم بنیں گے۔ جنگ آزادی کے بعد ، 1858 ء میں، ٹریویلین مدراس کے گورنر کے طور پر ہندستان واپس آئے۔ انہیں اس وقت واپس بلا لیا گیا جب انہوں نے کچھ سرکاری معلومات جاری کیں، جسے ’تمام اختیارات کے خلاف تخریبی عمل‘ سمجھا گیا۔ ان کی صفائی پیش کی گئی اور 1862 سے 1865 تک وہ دوبارہ ہندوستان کے وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے واپس آئے۔
جنرل کولن میکالے کے بھتیجے ٹی بی میکالے جنھیں ہندستان میں لارڈ میکالے کے نام سے یاد رکھا گیا ہے، نے سیاست میں قدم رکھا اور صرف 29 سال کی عمر میں برطانوی پارلیمان کے رکن بن گئے اور انھوں نے ہندستان کے امور پر دارالعوام میں اپنی یاد گار تقریر کی جس کے بعد انھیں سپریم کونسل آف انڈیا میں بطور لاء ممبر شامل کیا گیا وہ اس حیثیت میں 1834 ء سے لے کر 1838 ء تک ہندستان میں قیام پذیر رہے، اس سرکاری نوکری کے عوض انھیں کمپنی کی طرف سے ہندوستان کے خزانے سے سالانہ 10 ہزار پاؤنڈ تنخواہ ادا کی جاتی رہی۔ ہندستان میں کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ بینٹنک نے انھیں جنرل ایجوکیشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا جس کے بعد ہندستان کو تہذیب یافتہ بنانے کی یورپی مہم کا آغاز ہوتا ہے۔ ٹی بی میکالے، 1834 ء میں ہندستان پہنچنے کے بعد ، سات مہینوں تک مدراس میں قیام پذیر رہا اور مختلف علاقہ جات کے دورے کیے۔ ٹی بی میکالے کے سفر کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے : میکالے نے زیادہ تر سفر پالکی کے ذریعے کیا، میکالے کی پالکی کو باری باری دو ٹیمیں اٹھاتی تھیں، ہر ٹیم میں چھ چھ مزدور شامل ہوتے تھے۔ یہ قافلہ 38 لوگوں پر مشتمل تھا، جس میں میکالے کے نوکر کے لیے ایک دوسری پالکی بھی شامل تھی۔ اس نوکر کا نام ”پیٹر پریم“ تھا۔ قافلہ آہستہ آہستہ تقریباً چار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا تھا، اور ہر پندرہ میل پر مزدوروں کی ٹیم تبدیل کی جاتی تھی۔ مزدوروں کے کاندھوں پر سوار ہو کر میلوں سفر طے کرنے والا ٹی بی میکالے خود کو تہذیب یافتہ یورپی تصور کرتا تھا۔
مدراس (موجودہ چنائی) سے سرنگا پٹنم تک کا سفر 470 کلو میٹر پر محیط ہے اور ٹی بی میکالے مزدوروں کے کاندھوں پر بذریعہ پالکی سرنگا پٹنم پہنچا۔ اس سفر کا بنیادی مقصد سلطان ٹیپو کے محل اور مقبرے کا دورہ کرنا تھا۔ یہ وہ تباہ شدہ قلعہ تھا جو 35 برس قبل میسور کی جنگ میں ٹیپو کی موت کی الم ناک داستان سنا رہا تھا۔ یہ جگہ ہمیشہ سے میکالے کے لیے ایک رومانوی دلچسپی کا مقام رہی تھی۔ ان کے چچا، جو ایک جنرل تھے، کو یہاں چار سال قید رکھا گیا تھا اور بعد میں وہ ان برطانوی افواج کا حصہ تھے جنہوں نے کامیابی سے اس قلعے کا محاصرہ کیا اور اسے فتح کیا۔ میکالے نے یاد کرتے ہوئے کہا، ”بچپن سے، میں روزانہ اس جگہ کے بارے میں سنتا تھا“ اور اسے ”ہندوستانی تاریخ کے عظیم ترین واقعات کی جائے وقوع“ اور ”ہندوستان کے عظیم ترین شہزادے کی رہائش گاہ“ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کے بچپن کی تصوراتی دنیا کو ایک تصویر نے قید کر لیا تھا، جو کلپہم کی ایک دکان کی کھڑکی میں آویزاں تھی، جس میں سرنگا پٹنم کے زوال کو دکھایا گیا تھا۔ میکالے جب بھی اس کے پاس سے گزرتا تو رک کر اسے دیکھا کرتا۔
اب ٹی بی میکالے میسور سلطنت کے دار الحکومت سرنگا پٹنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا تو ”ہر چیز خاموش اور ویران“ تھی، قلعہ تو محفوظ حالت میں تھا، مگر ٹیپو کا محل تباہ ہو چکا تھا۔ میکالے نے افسوس کے ساتھ کہا، ”مجھے حیرت ہے کہ انگریزوں نے اس عظیم یادگار کو محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ توجہ نہیں دی، جس کے عظیم حکمران کو انہوں نے شکست دی تھی۔“ میکالے نے محل کے صحن کو آکسفرڈ یونیورسٹی کے چوکور صحنوں سے تشبیہ دی، لیکن محل کے صحن مکمل طور پر گھاس اور جنگلی پھولوں سے بھرے ہوئے تھے۔ تاہم، دربار ہال، جو کبھی ہندستان میں میسور سلطنت کی شان و شوکت کی جگہ تھی، ابھی بھی اپنی پرانی شان و شوکت کی مدھم جھلک پیش کرتا تھا، جس کے بلند لکڑی کے ستون، سیاہ گرینائٹ کے چبوتروں پر قائم تھے، اور ان پر سونے کی ماند پڑی چمک موجود تھی۔
ایک تنگ راستہ، جس کے کنارے پھولوں کی کیاریاں اور سرو کے درخت تھے، قلعے سے مقبرے کے سامنے تک جاتا تھا۔ دیگر رنگین اور شاہانہ عمارتوں کے برعکس، جو اُس نے اپنے دورے کے دوران دیکھی تھیں، میکالے نے اس مقبرے کو ”بہت خوبصورت“ پایا اور کہا کہ اس کا سامنے کا حصہ ”ہماری چھوٹی گوتھک چیپلوں میں سے خوبصورت ترین اور انتہائی نفیس طور پر تراشیدہ عمارتوں سے کافی مشابہت رکھتا ہے“ ۔ اندر داخل ہونے پر، انہوں نے تین قبروں کو سراہا۔ سلطان ٹیپو، ان کی والدہ، اور ان کے والد حیدر علی کی۔ جو کہ ”عظیم الشان چادروں سے ڈھکی ہوئی تھیں، جن پر قرآن کی آیات سنہری کڑھائی سے لکھی گئی تھیں“ ۔ میکالے کی سلطان ٹیپو کے لیے یہ تعریف، جنہیں برطانوی جنگی بیانیے میں اکثر ایک شیطانی کردار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، ان کمزور اور زوال پذیر شاہی وظیفہ خوروں کے برعکس تھی، جنہیں برطانویوں نے ٹیپو کی جگہ اپنایا تھا۔
میکالے نے سلطان ٹیپو سے متعلق اپنی تحریروں میں انھیں ایک ”مخالف شخصیت“ کے طور پر بیان کیا جو برطانوی سلطنت کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے۔ میکالے کا خیال تھا کہ سلطان ٹیپو ہندستان میں برطانوی اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑا خطرہ تھے اور ان کی حکمرانی کو ایک اہم رکاوٹ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اس دورے کا مقصد برطانوی فتوحات کے نتیجے میں ہندستانی حکمرانوں کی تاریخ اور ان کے اثرات کا مشاہدہ کرنا تھا۔ میکالے اس دورے کے دوران سلطان ٹیپو کی قبر اور اس کے محل کے آثار دیکھ کر حیران ہوئے۔ انہوں نے اس کو ایک استعماری طاقت کے طور پر برطانوی فتح کی علامت سمجھا اور اس تجربے کو اپنی تحریروں میں استعمال کیا تاکہ برطانوی راج کی کامیابی کو اجاگر کیا جا سکے۔ میکالے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلطان ٹیپو کی موت نے جنوبی ہندستان میں برطانوی اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے میں مدد کی اور اس خطے میں برطانوی قانونی اصلاحات اور نظام کو نافذ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ دورہ میکالے کے استعماری نظریات اور برطانوی راج کی توسیع پسندی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ ہندستانی حکمرانوں کو شکست دے کر برطانوی اقتدار کی برتری کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سلطان ٹیپو نے اٹھارہویں صدی میں برطانوی استعمار کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ سلطان ٹیپو کا سامراجی طاقتوں کے خلاف سخت رویہ اور ان کی جنگی حکمت عملی انہیں برطانوی حکام کے لیے ایک چیلنجنگ حریف بناتی تھی۔ میکالے کے لیے، سلطان ٹیپو کی شخصیت اور حکمرانی ایک ”وحشی اور غیر مہذب“ بادشاہت کی عکاسی کرتی تھی، جو مغربی اصولوں اور انصاف سے بہت دور تھی۔ میکالے نے سلطان ٹیپو کے مقبرے کا دورہ کیا، جو کہ ایک استعماری سیاح کے طور پر ان کے لیے ایک اہم تجربہ تھا۔ یہ دورہ میکالے کے لیے تاریخی اور سیاسی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس نے انہیں اس بات کا مشاہدہ کرنے کا موقع دیا کہ برطانوی افواج نے کس طرح ایک مقامی حکمران کو شکست دے کر اپنی حکمرانی قائم کی تھی۔ اس تجربے نے میکالے کے استعماری بیانیے کو مزید مضبوط کیا، جس میں وہ ہندوستانی حکمرانوں کی شکست کو ایک ”ثقافتی اور تہذیبی فتح“ کے طور پر دیکھتے تھے۔
میکالے کے اس دورے کا مقصد صرف تاریخی آثار کا معائنہ کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ برطانوی برتری کو اجاگر کرنے کا بھی ایک موقع تھا۔ انہوں نے سلطان ٹیپو کی قبر اور اس کے محلات کی باقیات کو برطانوی فتح کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا۔ ان کے خیال میں، سلطان ٹیپو جیسے حکمرانوں کی شکست برطانوی قوانین اور اصولوں کی کامیابی کا ثبوت تھی۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اس دورے کو ایک ”تعلیمی اور تہذیبی تجربے“ کے طور پر بیان کیا جو برطانوی راج کی برتری اور استحکام کی عکاسی کرتا تھا۔ میکالے کے اس استعماری نظریے پر کئی ماہرین نے تنقید کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ میکالے نے ہندوستانی تاریخ اور ثقافت کو ایک محدود اور استعماری نقطہ نظر سے دیکھا اور سلطان ٹیپو جیسے مزاحمتی حکمرانوں کی جدوجہد کو کمتر سمجھا۔ ان کے نظریات کو ”استعماری سامراجیت“ کہا جاتا ہے، جس میں مقامی حکمرانوں کو ”وحشی“ اور ”غیر مہذب“ قرار دے کر ان کی تاریخ اور خدمات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔


