لاہور میں سموگ کا روگ، ہر گلی ہر چوک


آپ نے کبھی نہ کبھی یہ تو سنا ہو گا کہ ڈاکٹرز تازہ ہوا میں چہل قدمی کا مشورہ دیتے ہیں جیسے پارک، کھلے میدان یا تفریحی مقامات وغیرہ لیکن اب وقت ایسا آن پہنچا ہے کہ ڈاکٹرز خود سختی سے تلقین کرتے ہیں کہ غیر ضروری گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ پارکس تو کیا بنا کسی ضروری کام کے گلی تک بھی نا جائیں کیونکہ باہر موجود سموگ جو کسی زہریلی گیس سے کم نہیں آپ کو مختلف بیماریوں کا شکار بنا سکتی ہے۔ محب وطن پاکستانی ہر وقت دعا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ جائے لیکن اب جب پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آتا ہے تو عوام تشویش کا شکار ہو کر پریشان ہو جاتے ہیں اور پریشان ہونا بھی جائز ہے کیونکہ پاکستان کا دل کہلانے والا شہر لاہور آئے روز فضائی آلودگی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر آ جاتا ہے۔ آخر یہ فضائی آلودگی کہاں سے آ جاتی ہے جو باغوں کا شہر کہلانے والے لاہور کی فضا کو آلودہ کر دیتی ہے۔ ان دنوں ہر لاہوری کا یہ ہی سوال ہے تو اس بات کا جواب نہایت سادہ اور آسان ہے اس فضائی آلودگی کی وجہ ہم خود ہیں

ہاتھ میں سگریٹ لگائے نوجوان کا سوال ہے یہ آلودگی کہاں سے آ رہی ہے؟ جبکہ اس کی سگریٹ کا دھواں نہ صرف اس کو جسمانی طور پر بیمار کر رہا ہے بلکہ ماحول کی آلودگی میں بھی اضافہ کر رہا ہے ایسے ہی بار بی کیو کی دکان پر کھڑے شخص نے لمبا چوڑا آرڈر دینے کے بعد ویٹر کو کہا میں اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ رہا ہوں جب آرڈر لگ جائے تو گاڑی میں آ کر پکڑا جانا مجھے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے جبکہ اس کے بار بی کیو کے آرڈر کے نتیجے میں جو دھواں اٹھے گا وہ اس کے ساتھ ساتھ باقی لوگوں کا سانس لینا بھی محال کر دے گا لیکن وہ خود اس بات سے بے خبر ہے۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں بھی ہم ہی اپنے پیارے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے وقت استعمال کرتے ہیں اور سوال پوچھتے ہیں کہ آخر یہ آلودگی آ رہی ہے تو آ کہاں سے رہی ہے۔

تقریباً گزشتہ آٹھ سال سے شہر لاہور سموگ کے روگ میں مبتلا ہے لیکن تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود سموگ میں کمی نہیں اضافہ ہی دیکھا گیا ہے۔ شہر کا ائر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے فضا میں آلودگی کی شرح خطرناک حد تک تجاوز کر چکی ہے۔ ایک صحت مند انسان بھی آلودہ فضا میں سانس نہیں لے پا رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے انسان نے اپنی ضروری اور غیر ضروری سرگرمیوں سے زمین کے قدرتی نظام پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور یہ ماحولیاتی اور فضائی آلودگی بھی ان ہی منفی اثرات کا نتیجہ ہیں۔ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے کرہ ارض کا ہر خطہ براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ حکومت جو کر سکتی ہے وہ کر رہی ہے سکولوں کو چھٹیاں دینا اوقات کار میں تبدیلی لانا شادی ہالز، پارکس و غیرہ جلد بند کر دینا حکومت تو یہ سب ہی کر سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے گرین لاک ڈاؤن بھی لگایا گیا ہے اور سموگ ہیلتھ ایمرجنسی بھی نافذ کی گئی۔ سموگ کے تدارک کے پیش نظر کنسٹرکشن پر بھی بندش لگائی جا چکی ہے اور ٹریفک پولیس نے بھی چند دنوں کے اندر اندر دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف ریکارڈ کارروائیاں کیں ہیں۔ پنجاب پولیس بھی سموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے ان ایکشن نظر آ رہی ہے فصلوں کی باقیات، شاپنگ بیگز، پلاسٹک اور ٹائرز جلانے جیسے ماحول دشمن اقدامات کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

لیکن اگر اس روگ سے جان چھڑانا ہے تو حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہر ایک شہری کو خود اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ہمیں چاہیے سب سے پہلے ہم چھوٹی سے چھوٹی چیزوں سے شروع کریں اکثر گلی محلے میں پڑے کوڑے کرکٹ کو مناسب جگہ ٹھکانے لگانے کے بجائے اس کو آگ لگا دی جاتی ہے جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے ہم درخت لگانے کے بجائے پہلے سے موجود درختوں کو بھی دھڑا دھڑ کاٹنے پر لگے ہوئے ہیں جنگلات کو اپنے وقتی مفادات کے لئے استعمال کر کے ضائع کر رہے ہیں۔ جنگلات میں کمی کی وجہ سے ماحول میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ موجودہ حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین ارضیات پیشگوئی کر رہے ہیں کہ اگر جنگلات ختم ہو جاتے ہیں تو انسانی زندگی بھی ختم ہو جائے گی جنگلات کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے اگر ہر شخص ایک بھی پودا لگتا ہے تو ضرور ماحولیاتی آلودگی میں کم آ سکتی ہے۔ دھواں چھوڑتی گاڑیوں کا استعمال کم کریں پیدل چلنے کو ترجیح دیں۔

ہمیں اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لئے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر شخص اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اپنے اردگرد کے ماحول کا خیال رکھے گا تو انشاللہ بہت جلد ہم اس زمینی اور فضائی آلودگی میں کمی لا سکیں گے۔

Facebook Comments HS