اسلام آباد ائرپورٹ


نیو اسلام آباد ائرپورٹ پر جاتے ہوئے پہلا جھٹکا اس وقت لگتا ہے جب گوگل میپ آپ کو ائرپورٹ سے چار کلومیٹر آگے لے جاتا ہے۔ جب آپ کو جہاز نظر آنا بند ہو جاتے ہیں اور آپ ایک رکاوٹ کے سامنے پہنچ جاتے ہیں تو فوجی وردی میں ملبوس ایک بھائی صاحب ہاتھ نچا کر آپ سے پوچھتے ہیں، جی او ماما کدھر؟ آپ کار کا شیشہ اتار کر پوچھتے ہیں ائرپورٹ؟ و ہ درشتی سے کہتا ہے گوگل میپ لگایا تھا؟ آپ اقرار کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے پھر چار کلومیٹر پیچھے جاؤ۔ آپ راستہ پوچھتے ہیں تو وہ آپ کو ایک جلیبی راستہ پانچ سیکنڈ میں بتاتا ہے۔ آپ پوچھتے ہیں کہ میپ یہ لوکیشن کیوں بتا رہا ہے؟ سول ایوی ایشن نے ڈالی ہے۔ اب جاؤ۔ اتنا کہہ کر وہ روبوٹ کی طرح جا کر واپس بیریئر پر کھڑا ہوجاتا ہے۔ آپ کے پاس اثبات میں سر ہلا کر واپس جانے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچتا۔

آپ پوچھتے پچھاتے واپس آتے ہیں اور آدھ گھنٹہ خوار ہونے کے بعد بالآخر ائرپورٹ کی پارکنگ میں پہنچتے ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے آپ دلی کے نواح میں موجود کسی ویران سی عمارت میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس لاؤنج کے اوپر ایک عدد چھت ہے جو اپنے ہونے کا پتہ یوں دیتی ہے کہ بارش ایک گھنٹہ برستی ہے تو یہ چار گھنٹے برستی ہے۔ ہال میں اکا دکا لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ ان میں بھی اکثریت خاکروبوں، سیکیورٹی عملہ اور کینٹین والوں کی ہے۔ سناٹا یوں چھایا ہوا ہے جیسے کھنڈرات میں چھایا ہوتا ہے۔ چار پانچ ڈرائیور حضرات ہاتھ میں کارڈ اٹھائے وہی پچاس سال پرانی پرم پرا نبھانے کھڑے ہیں۔ کارڈوں پر ان کے نائیکوں کے مہمان مسافروں کے نام لکھے ہیں۔ مسافر باہر نکلتے ہیں تو یہ ہونقوں کی طرح ایک ایک کا منہ دیکھتے ہیں وہ تیزی سے باہر نکل جاتے ہیں۔ اچانک ان میں سے ایک ڈرائیور کا فون بجتا ہے یہ فون کان سے لگا کر ہیلو کے بعد دو سیکنڈ خاموش رہتا ہے پھر اچانک جی جی جی۔ جی جی۔ میں منور۔ سر آپ کہاں ہیں؟ اچھا انٹرنیشنل ارائیول پر؟ میں بھی وہیں ہوں سر۔ آپ تو نظر نہیں آرہے؟ میں ٹک شاپ کے سامنے۔ ہیں؟ بیت الخلا؟ نہیں نہیں وہ آپ دوسری طرف نکل لیے ۔ میں ادھر۔ آپ نے لال شرٹ پہنی ہے؟ ہاں میں نے دیکھ لیا آپ کو سر جی۔ میں آیا سر جی۔ یہی کارروائی اس کے دوسرے چار پیٹی بھائیوں کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔

انٹرنیشنل فلائیٹ اتر چکی ہے۔ ایک ایک کر کے مسافر باہر آرہے ہیں۔ اٹھانوے فی صد وہی دیسی لوگ ہیں جو روٹی کمانے باہر گئے تھے اور بادل نخواستہ کسی مجبوری میں گھر والوں سے ملنے آئے ہیں۔ ایک فی صد قسمت کے مارے وہ غیر ملکی ہیں جنہیں کسی غلطی کی پاداش میں یہاں کالے پانی کی سزا میں پھینکا گیا ہے۔ ان کو اور ان کی فیملی کو ائرپورٹ پر کھڑے وحوش ایسے دیکھتے ہیں جیسے قصائی کے پھٹے کے نیچے بیٹھا کتا گرسنہ نگاہوں سے بوٹی کو دیکھتا ہے۔ بین الاقوامی لاؤنج کی حالت دیکھ کر ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ دنیا نے یہاں کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے اور بالکل ٹھیک کیا ہوا ہے۔

ڈومیسٹک لاؤنج میں جائیں تو وہاں قدرے زیادہ تعداد میں چہرے نظر آتے ہیں۔ ابھی صبح دس بجے ایک کراچی کی فلائیٹ اتری ہے جسے کل شام پانچ بجے اترنا تھا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں کہ پوری دنیا میں ہی موسم کی خرابی کے باعث فلائیٹس لیٹ ہوتی ہیں۔ بالکل درست ہے۔ مگر یہاں موسم کی خرابی بہانہ ہے۔ اصل وجہ سواریوں کا پورا نہ ہونا ہے۔ سواریاں پوری ہوں تو جہاز چلے۔ عوام کنگال ہے۔ مسافر باہر آرہے ہیں۔ انہیں لینے بہت کم لوگ آئے ہیں۔ ایک آدھ کوئی ڈراموں کا ہیرو ہیروئن ہے۔ جسے لینے سٹاف یا رشتہ دار آئے ہیں۔ باقی تیرے میرے جیسے اٹیچی کیس لئے خود ہی چلے جا رہے ہیں۔ کوئی غریب بیت الخلا چلا جاتا ہے تو اسے تینوں چاروں لیٹرینیں بند ملتی ہیں۔ یورینیٹر البتہ سارے فری ہیں۔ مگر کوئی بھی انہیں استعمال نہیں کرتا۔ ان کا پیشاب زور دے رہا ہے۔ مثانہ پھٹنے پر آیا ہے۔ یہ بار بار ٹانگوں کے بیچ ہاتھ رکھتے ہیں اور وزن ایک پاؤں سے دوسرے پر منتقل کرتے ہیں اور لاچار بے بس نگاہوں سے یورینیٹر کو دیکھتے ہیں مگر اسے استعمال کی جرات نہیں کر سکتے۔ انہیں شرم آتی ہے۔

واش روم اندر سے یہاں کے لوگوں کی طرح بے حد گندے ہیں۔ ٹائیلٹ سیٹس گیلی اور بعض کموڈ تو ایسے کہ ان پر جوتوں سمیت کوئی رفع حاجت کر گیا۔ نسواروں کی گولیاں اور سگریٹ کے ٹوٹے جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ دروازوں پر فحش کلمات عوام الناس کے ذہنوں کی عکاسی کر رہے ہیں۔ مذہبی کلمات بھی لکھے ہوئے ہیں۔ مخالف فرقوں کے بارے میں مغلظات کا باب بھی یہیں تحریر ہے۔ بے شمار نامعلوم کامن نام لکھ کر بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ جسم فروشی کا دھندا کرتے ہیں۔ مردانہ کمزوری کے نسخے ہیں۔ بیت الخلا کی دعا بھی لکھی ہے۔ ملک بھر میں جاری ادبی میلوں اور لٹریچر فیسٹیولوں کی محنت رنگ دکھا رہی ہے۔ ویسے اس سب میں نیا کیا ہے؟ ہمارا سوشل میڈیا بھی تو یہی کچھ ہے۔ کہ نہیں؟

یہاں سے باہر نکلیں اور کوئی شکایت کر دے تو ایک منیجر خاکروبوں کو بتانے آ جاتا ہے یہ سب مجھے دس منٹ میں صاف چاہیے۔ وہ سن کر کوئی جواب نہیں دیتے اور ہلکا سا سر ہلا دیتے ہیں۔ باہر نکلیں تو قاری عبدالباسبط کی آواز میں تلاوت چل رہی ہے۔ کان پڑی آواز نہیں آ رہی۔ بیچ بیچ میں اناؤنسر کہہ رہی ہے ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہماری فلاں فلائیٹ جو تین گھنٹے لیٹ تھی مزید دو گھنٹے لیٹ ہے۔
ہال میں سردی گرمی سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یا انتظام ہے مگر چلاتے نہیں ہیں۔ بجلی خرچ ہوتی ہے۔

دیکھیں سب کچھ برا نہیں ہوتا۔ اچھی بات بھی بتانی چاہیے۔ حکومت نے جابجا پینا فلیکس لگوا رکھے ہیں جن پر لوکل سمارٹ فون برانڈز اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک اچھی بات ہے۔ کیا کیا بتاؤں؟ کہاں سے شروع کروں کہاں ختم کروں۔ جو چیز باہر دس روپے ہے یہاں دو سو روپے کی ہے۔ آخر کوالٹی بھی کوئی چیز ہوتی ہے کہ نہیں۔ اس کے علاوہ مسجدوں والی ڈیجیٹل ڈسپلے گھڑیاں لگی ہیں جن پر فجر ظہر عصر مغرب عشا اور جمعہ کی نماز کے اوقات چل رہے ہیں۔ کسی نے فلائٹ شیڈول دیکھنا ہو تو اسے پانچ منٹ نمازوں کے اوقات دیکھنے پڑیں گے۔ جب وہ منہ زبانی یاد ہوجائیں گے تب مختلف دعائیں اور احادیث اور چھ کلمے اور سفر کی دعا چلے گی اور اگلے دس منٹ چلتی رہے گی۔ جب اس کا بھی رٹا مار لو گے تب فلائیٹ شیڈول چلے گا۔ جو صرف دس سیکنڈ کے لئے سکرین پر آئے گا۔ بابا دو ہی تو فلائیٹیں ہیں ان کے لئے اتنا ٹائم بھی بہت ہے ورنہ ان کا تو بنتا ہی نہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ایک اور بڑا سارا پینا فلیکس لگوائے جس پر لکھا ہو چھٹی صدی عیسوی میں خوش آمدید۔

Facebook Comments HS