برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر (رابندر ناتھ ٹیگور ) قسط 6


حسن فطرت سے اُسے عشق ہے۔ یہ صبح شام موسموں کے بدلتے رنگوں کے ساتھ کیسے پرانے پیرہن اُتار کر نئے پہنتی ہے۔ اُن پرانے اور نئے رنگوں میں حُسن و رعنائیوں کے جلوے اس کے دل کی دنیا تہہ و بالا کرتے ہیں۔ اس کا اظہار بھی کیا خوب ہے۔

آسمان بادلوں سے بھرا ہوا ہے
بارش بند نہیں ہوتی
میں نہیں جانتا
میرے اندر کون سی بیتابی ہے

ایک جگہ لکھتے ہیں۔

طلوع آفتاب زمین کو
زریں تاج پہنانے آیا

اُن کی ازدواجی زندگی کے بارے میں کچھ سننے اور کچھ جاننے کی بھی بڑی خواہش تھی۔ یہ تمنا فینی نے ہی پوری کی کہ اس کا تھیسس تھا ہی ٹیگور پر۔ یوں بھی وہ بہت پڑھاکو لڑکی تھی۔ جھٹ سے اعتراض پھٹ سے نکتہ چینی کر دینا بھی اُس کے لئے کھیل تماشے جیسی ہی بات تھی۔ باتیں کرتے کرتے چٹکلے چھوڑنا بھی اُسے بہت پسند تھا۔ وہ بنگالی و غیر بنگالی تعصب سے بالا بڑی خاص قسم کی چیز تھی۔ فینی جیسی لڑکیاں ہزار لڑکیوں کے ہوسٹل میں بس دو تین ہی ہوں گی شاید۔

10 فروری 1970 ء

جنوری بڑا مصروف مہینہ تھا۔ عید کے بعد سیکنڈ ٹرم شروع ہونے والی تھی۔ نپٹتے نپٹاتے فروری آ گیا تھا۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ ہم کمرے میں اکٹھی تھیں۔ اُس نے ٹرانسسٹر کی نوب بند کرتے ہوئے کہا۔ اگر آپ آج نو بجے نہ سو جائیں تو باتیں ہو سکتی ہیں۔ فینی، ٹیگور پر بات کرنے کے لئے نیند جیسی چیز کی قربانی کی کیا حیثیت ہے؟ ”

چلیے اس عظیم شخصیت کی ازدواجی زندگی کا بھی رخ دیکھ لیں۔ دُلہن کا نام بھبوتا رینی۔ تیرہ سالہ کم پڑھی لکھی عام سی لڑکی تھی یہ۔ بینی مادھوپ رائے چودھری کی بیٹی تھی۔ دُلہا اس وقت کوئی تئیس برس کا تھا۔ عمر میں دس سال چھوٹی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ دنیا کے جینئس انسان کی بیوی بن رہی ہے۔ لیکن وقت نے بتایا کہ اس نے خود کو اِس اعزاز کا اہل ثابت کیا۔ ٹیگور نے جوانی کا کچھ حصہ شیلائی داہ اور شہزاد پور اپنی زمینداری پر اور کچھ وقت بیرون ملک کے دوروں اور سیر سپاٹوں میں گزارا۔ یہ وہ وقت تھا جب اپنی بیوی کے ساتھ اُن کی ملاقاتیں کم رہیں۔ مگر دونوں کے درمیان خطوط کا تبادلہ ضرور رہا۔

فینی کی جملہ بازی اس موقع پر بھی ہوئی۔ تاہم یہ ہندوستانی معاشرت کا ایک حصہ تھا اور زمانہ کافی آگے بڑھ جانے کے باوجود آج بھی ایسی ہی صورت حال کسی حد تک ہے۔ میرے رد عمل اور جواب نے اُس نٹ کھٹ کو چپ کروا دیا تھا۔

شوہر نے جو نام دیا وہ مرینالنی دیوی تھا۔ اِس نام کا بھرم رکھنے کے لئے اُس کم عمر لڑکی نے لکھنا پڑھنا سیکھا۔ دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کی ماں بننے کے باوجود دوسری زبانیں سیکھیں۔ ادب، موسیقی اور آرٹ کی باریکیاں جانیں۔ اپنے شوہر کے مقام اور مرتبے سے آگاہ ہوئی۔ رابندر ناتھ کو اِس منزل تک پہنچانے میں مرینا کے ہاتھ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کبھی شوہر کے کاموں میں مداخلت نہیں کی۔ کبھی کسی چیز کی فرمائش نہیں۔ شانتی نکیتن میں جب کھلے آسمان تلے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تو کہیں سے مدد نہ ملی۔ ایسے میں وفا شعار بیوی نے سب زیورات قدموں میں ڈھیر کر دیے۔ یہ اور بات ہے کہ ٹیگور نے اسے پسند نہ کیا۔ لیکن جب وشو بھارتی (یونیورسٹی) قائم کرنے کا ارادہ کیا تو بیوی کے پیہم اصرار پر یہ مدد قبولنے پر راضی ہو گئے۔

تاہم یہ بات فینی کے لئے خاموشی سے بتانے پر مرکوز نہیں تھی۔ اس کے ساتھ اس کے تبصرے نما اعتراض بھی تھے۔ آخر مرینالنی کا ذکر ٹیگور کی کسی تحریر میں کیوں نہیں ملتا؟ کبھی کوئی چیز اُس کے نام سے منسوب کیوں نہ ہوئی؟ کیوں آخر؟ اُس نے آنکھیں میرے چہرے پر جما دیں اور تیکھے لہجے میں بولی۔

”ایسی وفا شعار بیوی۔ ٹیگور جب کبھی باہر سے آتے تو وہ اُن کے لئے بہت اہتمام سے کھانا بنواتی۔ ٹیگور بہت سادہ سے کھانے کو ترجیح دیتے۔ مسالوں اور تیل کی زیادتی پسند نہ کرتے۔ مرینا ان سب باتوں کا دھیان کرتی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ بہت چاؤ سے دستر خوان سجاتی۔ اِنہیں کھانے کے لئے آنے کا کہتی۔ اب انتظار میں دیدہ دل بچھائے بیٹھی ہے اور ٹیگور پر تخلیقی آمد کا نزول ہو گیا اور آنے کی بجائے مہا کوی تخلیقی عمل میں مصروف ہو گئے۔ کیسی صابر شاکر عورت تھی کہ پیشانی پر خفیف سی سلوٹ لائے بغیر اِدھر اُدھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتی۔ ان کے کاموں میں مداخلت کرنا اس کے لئے گناہ کے برابر تھا۔ کھانا تب پروستی جب وہ اس کا اِذن دیتے۔ رات اکثر دیر تک کام میں مصروف رہتے۔ صبح دم بھی جلد اٹھتے۔ غسل، عبادت، ناشتہ، لکھنے کی میز، اُس کی صفائی ستھرائی۔ سردیوں گرمیوں کے کپڑے سب کا دھیان رکھنا نوکر کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ذمہ داری بھی سمجھتی۔

ٹیگور فطرتاً لا پرواہ تھے۔ تخلیقی عمل سے فارغ ہوتے تو سارے سریر میں کاہلی اور سُستی در آتی۔ بھول جاتے کہ جو کچھ تخلیق ہوا اور لکھا گیا ہے اُسے سنبھالنا بھی ہے۔ تاہم یہ مرینا دیوی تھی کہ جو اُن کی چھوٹی سے چھوٹی تحریر کو طریقے سلیقے سے سنبھالتی۔ ٹیگور نے مرینا کو جتنے خط لکھے۔ اس نے اُن کی جی جان سے حفاظت کی۔ ایک خوبصورت منقش صندوقچے میں محفوظ کرتی۔ شوہر کو اُس کے اپنے لکھے ہوئے خطوط کا شمار اب ادبی نقطہ نظر سے ہو رہا ہے۔ ہاں البتہ کہا جاتا ہے کہ رابندر کی مشہور کہانی استری پُتر میں مرینا کی ذات کے کچھ عکس ملتے ہیں۔ آخری عمر میں زبان بند ہو گئی تو رابندر نے لکھا۔

اتنی فرصت نہ ملی
یہ بھی ممکن نہ ہوا کہ تم
دل کی آخری باتیں کہہ جاتیں
خاموش رخصت
ہجر کا درد لئے
میں چاروں اور فضول تسکین کی تلاش کرتا رہا

ایک جگہ اور دیکھیے وہ مرینا کے ہجر میں کیا کہتے ہیں؟

تم اپنا وہ اچھا لگنا میری آنکھوں میں نقش کر کے
میری آنکھوں میں اپنی نگاہ رکھ گئی ہو
آج میں اکیلے ہی دونوں کا دیکھنا دیکھ رہا ہوں
تم میرے من میں برج رہی ہو
میری آنکھوں کی پتلیوں میں اپنی نگاہِ شوق کی لکیر بنا کر
میرے زندگی میں تم جئے جاؤ جئے جاؤ
میرے دل کے ذریعے سے اپنی مراد مانگو
تاکہ میں دل میں سمجھوں کہ نہایت پوشیدہ طور سے
تم آج مجھ میں ”بن“ کر بس رہی ہو
میری زندگی میں جئے جاؤ جئے جاؤ

15 مارچ 1970 ء

اِس ضمن میں جس اور نمایاں شخصیت سے میری بھرپور بات چیت رہی وہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ابو سعید چوہدری تھے جو بعد میں بنگلہ دیش بن جانے پر ملک کے صدر بھی بنے۔ اُن کے ساتھ ملاقات بڑی دلچسپی کی حامل تھی۔
اُن دنوں ہاتھ کی لکیروں سے میرا عشق جنون کی حدوں تک پہنچا ہوا تھا۔ یہ محض اتفاق ہی تھا کہ وی سی ہمارے ڈپارٹمنٹ کی ایک تقریب میں آئے۔ فیکلٹی ممبرز ان کے ساتھ کھڑے تھے جب میں ان کے پاس گئی۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور بنگلہ میں کہا۔ ”سر مجھے آپ کا ہاتھ دیکھنا ہے۔ وقت آپ نے بتانا ہے کہ کب آپ کے پاس آؤں؟“ انہوں نے حیرت سے مجھے دیکھا۔
جاری ہے۔

Facebook Comments HS