خیبر میڈیکل کالج پشاور میں داخلے کی کہانی


مجھے ایک دن اپنے نوجوانی کے دوست اور خیبر میڈیکل کالج کے کلاس فیلو ڈاکٹر لقمان کا فون آیا۔ کہنے لگے آپ دسمبر دو ہزار چوبیس میں پشاور آئیں تا کہ میڈیکل کالج کے ہم جماعتوں کی گولڈن جوبلی کے جشن میں شریک ہو سکیں۔ میں نے عرض کی کہ میں اسی سال مارچ میں پاکستان آیا تھا اگر مجھے اس جشن کا پہلے پتہ ہوتا تو میں اپنے پروگرام کو بدل لیتا۔

ڈاکٹر لقمان سے میں نے معذرت کی لیکن پھر میں سوچنے لگا کہ میں انیس سو چوہتر کا گریجوئیٹ ہوں اور مجھے ڈاکٹر بنے پچاس برس ہو گئے ہیں یعنی یہ

نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
ڈاکٹر لقمان سے گفتگو کے بعد میرے ذہن کی سکرین پر ماضی کے بہت سے واقعات ایک فلم کی طرح چلنے لگے
کچھ خوشی کے واقعات کچھ غمی کے واقعات
کچھ دکھی کرنے والے اور کچھ سکھی کرنے والے واقعات
چند واقعات کو سوچ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی
کچھ واقعات کو سوچ کر آنکھوں میں آنسو آ گئے
یوں محسوس ہوا جیسے وہ سب زندگی کی آزمائشیں تھیں
خوش بختی کی بات یہ ہوئی کہ میں ان میں سرخ رو رہا۔

میری زندگی میں بہت سے محسن آئے جو مجھ پر بہت مہربان رہے۔ میں ان سب آزمائشوں اور ان سب محسنوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کیونکہ ان سب نے میری زندگی اور میری شخصیت کی تعمیر میں ایک مثبت کردار ادا کیا۔

سب سے پہلی آزمائش جو مجھے یاد آئی وہ میرا خیبر میڈیکل کالج پشاور میں داخلہ تھا۔ اگر مجھے وہ داخلہ نہ ملتا تو نہ تو میں ڈاکٹر بنتا اور نہ ہی پچاس برس بعد مجھے ڈاکٹر لقمان کا فون آتا اور نہ ہی خیبر میڈیکل کالج پشاور کی گولڈن جوبلی میں شرکت کی دعوت آتی۔ آئیے آپ بھی اس آزمائش کی کہانی سن لیں۔

جب میں نے پشاور کے ایڈورڈز کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا تو میں بہت خوش تھا کہ میری پوزیشن صوبے میں بیسویں تھی اور خیبر میڈیکل کالج میں سیٹیں ایک سو تھیں اس لیے مجھے پورا یقین تھا کہ مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے گا اور ایک دن میں ڈاکٹر بن جاؤں گا لیکن جب میں نے داخلے کے لیے درخواست دی تو مجھے بتایا گیا کہ مجھے صرف اس صورت میں داخلہ مل سکتا ہے اگر میرا پشاور کا ڈومیسائل ہو۔

ایک دن میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر گیا اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ کی درخواست لے کر آیا۔ درخواست پر کی تو پتہ چلا کہ اس پر ایک جج کے دستخط کی بھی ضرورت ہے۔ میں چونکہ کسی جج کو نہیں جانتا تھا اس لیے ایک صبح میں مقامی کچہری چلا گیا۔ اس دن وہاں چار عدالتیں لگی ہوئی تھیں جن میں چار جج کام کر رہے تھے۔ میں ایک جج کی عدالت کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ تین گھنٹے کے بعد جب عدالت ختم ہوئی تو جج نے مجھے بلا کر وہاں کھڑے ہونے کی وجہ پوچھی۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے ایف ایس سی میں بہت اچھے نمبر آئے ہیں۔ میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں جس کے لیے مجھے ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ چاہیے اور اس کے لیے درخواست پر ایک جج کے دستخط۔

جج کہنے لگے کہ یہاں تو چار جج ہیں آپ میرے پاس کیوں آئے؟
میں نے کہا میں نے چاروں ججوں کو دور سے دیکھا۔ آپ سب سے زیادہ مہربان دکھائی دیے۔
جج مسکرائے اور میری درخواست پر دستخط کر دیے۔
جج کے دستخط اور ڈومیسائل ملنے کے باوجود مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ ملا۔
زندگی میں پہلی بار میں اداس و مغموم ہو گیا۔

اپنا دل بہلانے میں پشاور سے لاہور اپنی نانی اماں سے ملنے چلا گیا۔ ایک دن میں اپنے علا الدین ماموں سے ملنے پرانی انارکلی گیا تو میری انکل سعید سے ملاقات ہوئی جو ہمیشہ مجھ سے بہت شفقت سے پیش آتے۔ انہوں نے میرا حال پوچھا تو میں نے انہیں اپنی ساری دکھ بھری بپتا سنا دی۔ کہنے لگے سہیل بیٹا کل تم میرے دفتر آؤ۔

اگلے دن میں ان کے دفتر گیا تو انہوں نے میری زندگی کی ساری کہانی سنی۔ کیسے میرے والدین نے امرتسر سے لاہور ہجرت کی۔ کیسے میرے والد گورنمنٹ کالج میں ریاضی پڑھانے کوہاٹ گئے اور کیسے ہم پشاور آئے۔ پھر انہوں نے ایک پانچ صفحوں کا خط اپنے بڑے لیگل پیپر پر لکھا۔ پھر اس خط کی

ایک کاپی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو
ایک کاپی پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اور
ایک کاپی صوبہ سرحد کے گورنر کو بھیجی۔

حسنِ اتفاق کہ ان دنوں ایر مارشل نور خان صوبہ سرحد کے گورنر تھے جو طلبا و طالبات کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ انہوں نے ایک سپیشل کمیٹی مقرر کی میرے والد عبدالباسط صاحب کا انٹرویو لیا اور مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ دلوا دیا۔

میں نے انکل سعید کا شکریہ ادا کیا۔

اگر انکل سعید مجھے میرے انسانی حقوق سے آگاہ نہ کرتے تو نہ تو میں ڈاکٹر بنتا نہ ہی ماہرِ نفسیات اور نہ ہی دکھی انسانیت کی خدمت کر پاتا۔

انکل سعید ان لوگوں میں سے تھے جو دوسروں کی بے لوث خدمت کرتے تھے۔ وہ میرے محسنوں میں سے ایک ہیں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

7 thoughts on “خیبر میڈیکل کالج پشاور میں داخلے کی کہانی

  • 19/11/2024 at 12:58 شام
    Permalink

    I am puzzled.
    Between April 1972 to February 1973
    Governor NWFP was Arbab Sikandar
    Dec 71 – Apr 72 was Hayat Sherpao
    July 70 to Dec 71 KM Azhar and before him there was no NWFP

    rather we had West Pakistan

    I believe it was Air Mshl Nur Khan you are indebted as he was Governor West Pakistan between 1 September 1969 – 1 February 1970

    • 19/11/2024 at 9:01 شام
      Permalink

      Thanks for correction

    • 20/11/2024 at 4:13 صبح
      Permalink

      Am honored Sir, i can understand
      Its a once upon a time story, now getting domicile is science with minting money process for many people
      The way you get the admission is commendable for all those who did something in this regard
      Nowadays, admission in Medical college is multimillion rupee corruption per seat
      I can remember two stories of how daughters of influential people got admission in such setups
      One daughter of a CM cum PM and other daughter of a Chief Justice SC
      The story of another son of CJ SC on Baluchistan domicile (a doctor) who did rampant corruption, is another story of its own class, who later upsetted the political scene of Pakistan

  • 19/11/2024 at 10:51 شام
    Permalink

    لگتا ہے کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے ۔ اس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنر لیفٹنٹ جنرل کے ایم اظہر خان ہوں گے، اصغر خان نہیں

    • 20/11/2024 at 2:11 صبح
      Permalink

      May be Air Marshsl Nur khan

    • 20/11/2024 at 4:28 صبح
      Permalink

      He completed MBBS in 1974 so must have got the admission between 1969 and 1970 (and not 1974) at that time ie 1969-70, NWFP was not a province rather we have East Pakistan and West Pakistan

      Medical college was affiliated with Peshawar University and in those days Governor of Province act as Chancellor of respective government university

      Its understood that Chancellor of Peshawar University was Gov West Pakistan ie AM Nur Khan (people often mix the two great Air Chiefs) for their such acts and initiatives as did by Nur Khan

      Asghar Khan was made President of PIA in 1965 and probably worked till 1967- 68 after that he jumped in to Party Politics
      While Asghar Khan was Pred PIA, Khaqan Abbasi (father of Shahid Khaqan Abbasi) was his famous and as per some old people … notorious Vice President of PIA

      Its understood that he (Dr Khalid) in no way interacted with Gov himself, barely a 17+ yrs old boy. Govr also sit usually in Khi and Lhr in those days

      After Nawab Kalabagh was changed as Gov West Pak in 1966, Gen Musa was made Gov West Pak (a step / blunder which caused Ayub Khan to get dethroned later on due to poor governance of new Gov)

      It was like Buzdaar replacing Shahbaz in those days

      After Gen Musa, Mr Yusuf Abdullah Haroon (Dawn Founder) was made Gov for few months after which AM Nur Khan was made Governor by Yahya Khan (in those days Governor was like both PM and President of Pakistan) too powerful post

    • 20/11/2024 at 6:10 شام
      Permalink

      My dad abdul basit was interviewed by the special committee

Comments are closed.