سموگ کا روگ: اگر فطرت سزا دینے پہ آئی ہے تو اب بھگتو


سموگ کو روگ بنانے میں ہمارا اپنا کردار ہے۔ ہر گزرنے والی سردیوں میں اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ درختوں کی کٹائی ایک طویل عرصے سے مسلسل جاری ہے۔ ہمارے شمالی علاقوں میں چِیڑ اور بیار کے درختوں کے گھنے جنگلات کا رفتہ رفتہ صفایا ہو رہا ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں ٹمبر مارکیٹیں چیڑ (یا چِیربیار) کی لکڑی سے بھری ہوئی ہیں۔

دوسرے مما لک میں ایک درخت کاٹا جائے تو اس کی جگہ پانچ درخت کاشت کیے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی سسٹم نہیں، نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ جہاں گھنے جنگل ہوتے تھے، وہاں اب چٹیل میدان ہیں۔ بچپن سے پڑھایا اور سکھایا جاتا تھا کہ پودے، درخت جان دار ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت کرنی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہے تاکہ یہ اچھے سے بڑے ہو سکیں اور پھل دیں۔ انسانی زندگی کا زیادہ تر انحصار درختوں پر ہے جو ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وقت کے ساتھ انسان اپنی زندگی کی ڈوریں اپنے ہی ہاتھوں سے کاٹ رہا ہے اور اسے جدید اور ماڈرن زندگی کا نام دے کر دل بہلا رہا ہے۔

جنگلات خدا کا خوبصورت تحفہ ہیں۔ موجودہ دور میں انسان اپنی خواہشات کو ضروریات کا نام دے کر درختوں کو ان کی بھینٹ چڑھا رہا ہے۔ اس کا خمیازہ نہ صرف پوری قوم بلکہ پورے خطے کو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی کی بدترین حالت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہر سال تقریباً 10 ملین ایکڑ جنگلات کٹائی اور تقریباً 70 ملین ایکڑ جنگلات آگ کی نظر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ماحولیاتی آلودگی کے آسیب نے ہمیں جکڑ رکھا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب لوگ زہریلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ جنگلات کی بے رحمی سے کٹائی کی صورتحال اگر یہی رہی تو ہمیں 2080 ء تک سدابہار درختوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے بعد پاکستان کم ترین جنگلات والا ملک ہے اس کا صرف 4 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے حالانکہ اس کے پڑوس میں ایران 7، بھارت 23، چین 22 اور روس کا 44 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ لاہور سمیت دوسرے بڑے شہروں کے حال بد کو ناصر بشیر یوں بیان کرتے ہیں۔

گھنے اشجار کو ہم کاٹ کر سڑکیں بناتے ہیں
پھر ان کے گرد تازہ بستیاں اپنی بساتے ہیں
اگر فطرت سزا دینے پہ آئی ہے تو اب بھگتو
اگر ماحول پر اسموگ چھائی ہے تو اب بھگتو

صرف ملتان میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لئے 250 کلو میٹر کے لگ بھگ علاقے سے تمام درخت کاٹ دیے گئے اور اب ملتان شہر سموگ سے اٹا ہے اور سانس لینا مشکل ہے۔ ہم ہر سال 70 ہزار ایکڑ رقبے کو جنگلات سے خالی کر رہے ہیں۔

پاکستان کے کسی شہر کی آبادی کو دیکھ لیں۔ جو آبادی آج ایک لاکھ یا ایک کروڑ ہے وہ دس سال پہلے 50 ہزار یا 50 لاکھ تھی۔ آج پاکستان کی آبادی اگر 26 کروڑ ہے تو آنے والے دو برسوں میں 28، 29 کروڑ ہو جائے گی، زیادہ گھر ہوں گے تو ان میں چولہے بھی زیادہ ہوں گے اور ان چولہوں میں شعلے اور دھواں بھی ہو گا جو سموگ پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔

لاہور میں چلنے والے رجسٹرڈ و ہیکلز، بسیں، ٹرک، ڈبل کیبن، ڈیلیوری وین، ٹریکٹر، رکشہ، کار و موٹرسائیکلوں کی تعداد 73 لاکھ سے زائد ہے۔ ابھی اس میں بنا فلٹر کے چنگ چی اور مکڑا نما لوڈر شامل نہیں۔ ان وہیکلز سے لاہور عالمی فضائی آلودگی میں پہلی پوزیشن پر براجمان ہے۔ کبھی جہاں سائیکل سٹینڈ ہوتے تھے اب وہاں موٹرسائیکل اور کار سٹینڈ بن چکے ہیں۔ گاڑیوں کے ایگزاسٹ سے نکلنے والا دھواں سیاہ ہو یا سفید سموگ کا باعث ہے۔ مکانات میں اضافہ ہو گا تو درختوں کی اسی تناسب سے کمی ہوتی جائے گی۔ 1990 ء میں پاکستان میں رجسٹر شدہ گاڑیوں کی تعداد 15 لاکھ تھی جو اب 70 لاکھ ہو گئی ہے۔ لاہور کی فیکٹریاں، پاور پلانٹس اور گاڑیاں سموگ کا بڑا سورس ہیں 10 لاکھ سے زائد ناقص دو نمبر پٹرول پر چل رہی ہیں۔ سموگ میں فصلوں کی باقیات 3.9، گاڑیوں کا دھواں 83.15، کچرا جلانا 3.6، صنعتوں سے 9.07، گھریلو کچرا 0.11، کمرشل کچرا 0.14 فیصد ہے۔

دورِ جدید کی سائنس و ٹیکنالوجی نے انسان کی سہولت و آسانی کے لیے اَن گنت وسائل مہیا کیے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں انسان کو بام عروج پر پہنچایا جو اب اس کے لیے بیماریوں اور آفات کا سامان بن چکا ہے۔ صنعتی ترقی کے اس دور میں ہر طرف آلودگی چھائی ہوئی ہے۔ ہوا، پانی اور زمین پر دیگر حیاتیات اپنی خصوصیات کھو رہی ہیں۔ جن کی بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔ فضائی، آبی، زمینی، صوتی سمندری آلودگی اور تیزی سے بڑھتی فیکٹریاں، سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں، فضائی اور بحری جہازوں کا دھواں، مختلف صنعتوں کے فضلات سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

5۔ سموگ اور صنعتی ترقی کا گہرا تعلق ہے۔ جب امریکہ اور یورپ صنعتی ترقی کے سفر پر نکلے تو کوئلے کا استعمال ہیٹنگ اور انرجی کے لیے معمول تھا۔ اس کے علاوہ صنعتی آلودگی میں بے تحاشا زہریلی گیسیں اور صنعتی فضلہ روٹین رہا لیکن جب ماحول کی آلودگی انسانی زندگیوں کے درپے ہوئی تو ان تمام معاشروں میں دور رس اور سخت اقدامات اٹھائے گئے۔ جن میں نمایاں ترین ہوا میں کسی بھی طرح کے زہریلے اخراج پر کنٹرول، کوئلے کی کھپت میں کمی اور ایمیشن اخراج کے کڑے معیارات، گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی کوالٹی اور بہتر ایندھن کارکردگی پر مبنی ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز بہتری، صنعتی یونٹس سے گیسوں اور زہریلے مادے کے اخراج پر سخت کنٹرول اور قوانین شامل تھے۔ ان سخت قوانین اور معیارات کی وجہ سے 80 ء اور 90 ءکی دہائی میں بہت سی انڈسٹریز یورپ اور امریکہ سے ایشیائی ممالک میں منتقل ہوئیں۔

بھارتی دارالحکومت دہلی کا بھی لاہور والا حال ہے، لیکن وہاں ماحول ٹھیک کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے۔ آج دہلی میں 400 کلومیٹر میٹرو ٹرین اور پبلک ٹرانسپورٹ کی 7000 بسیں چلتی ہیں۔ 2015 ء کے بعد پرانی گاڑیوں کی تعداد میں ایک تہائی کمی سے بہتری آ رہی ہے۔ جب پرانے لاہور کی بات ہوتی ہے تو اربوں کھربوں روپے مالیت کے لاہور اومنی بس سروس اور اس کے ڈپو کیسے کوڑیوں میں بانٹے گئے۔

اگر حکومت سموگ سے نجات چاہتی ہے تو وہ سبسڈی دے کر، وہیکلز کو ہائبرڈ یا الیکٹرک وہیکلز پر ٹرانسفر کرے۔ سکول، کالجز یونیورسٹیوں اور دفاتر میں آنے جانے والوں کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کو رواج دے تاکہ شہری گھروں سے کاروں اور موٹر سائیکلوں کونہ نکالیں اور فضا آلودگی سے بچی رہے۔ لاہور میں 51 لاکھ سے زائد موٹرسائیکلوں کو ای بائیک پر شفٹ کیا جائے۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی جائے، باغات میں اضافہ کیا جائے، درختوں کی کٹائی پر پابندی اور فیکٹریوں کو شہر سے دور منتقل کیا جائے ساہیوال کے کوئلہ پلانٹ بند کیے جائیں۔ پرانی گاڑیوں کو کم سے کم کیا جائے۔ لوگوں کو شہروں کی طرف منتقلی سے روکا جائے۔

Facebook Comments HS