”ابا کیا کرتے ہیں“ فیکٹر اور ذہن سازی


ماس کمیونیکیشن میں ایک تھیوری ہے Confirmation Bias، اس کے مطابق ٹی وی پر بیٹھ کر کوئی جو مرضی بولتا رہے، دیکھنے والے پر اثر اس لئے بھی نہیں ہوتا کہ اس نے اس مسئلے پر پہلے سے ہی ذہن بنا رکھا ہے۔ اگر آپ اس کے مطلب کی بات کر رہے ہیں تو وہ سن لے گا، اگر آپ کی باتیں سننے والے کے موقف کے برعکس ہیں تو وہ نظر انداز کر دے گا۔ یہ ذہن سازی زندگی کے ہر معاملے میں ہم کر چکے ہوتے ہیں۔

روزمرہ معاملات میں ذہن بنانے کے لئے جو مختلف ”ٹولز“ استعمال ہوتے ہیں، ان میں بیس سے پچیس سال تک کے نوجوانوں سے جو سوال کثرت سے پوچھا جاتا ہے وہ ہے ”ابا جی کیا کرتے ہیں“ ۔ گفتگو یا زندگی میں اب اس کے بعد ملنے والی عزت کا دار و مدار اسی جواب پر ہے۔ ابا جی امیر ہیں یا کسی طاقتور عہدے پر یا عہدے سے ریٹائر دونوں صورتوں میں آپ کے بارے میں ذہن بنا لیا جاتا ہے کہ اب آپ کے ساتھ کیسے سلوک کرنا ہے۔ اگر ابا جی مزدوری کرتے ہیں۔ یہ جواب دے کر بعد میں آپ نے انگریزی بولی تو مخاطب زیر لب مسکرائے گا، گویا کہہ رہا ہو ”بس کر ، جانوں میں تجھے“ ۔

عالمی نظام اگر آپ نے سمجھنا ہے تو اپنے خاندانی نظام کا باریک بینی سے مشاہدہ کر لیں۔ ہر خاندان میں ایک ”امریکہ“ ہوتا ہے۔ یہ اپنے غریب رشتے داروں کو مشکل وقت میں قرض دیتا ہے اور پھر ان کی ذاتی زندگیوں کے فیصلوں پر بھی پریشر گروپ بن کر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ والا امیر رشتے دار اور اس کے بچے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ آپ ان کے طرز زندگی پر انگلی نہیں اٹھا سکتے مگر آپ اپنے گھر میں کوئی کام ان کو بتائے بغیر کر لیں تو سمجھیں آپ کا نام ”گرے لسٹ“ میں جا چکا۔ یہ سننے کے لئے تیار رہیں کہ جب آپ کا ماہانہ بجٹ بھی پورا نہیں تھا تو کس طرح سے انہوں نے اپنے بچوں کی حق تلفی کر کے آپ کی مدد کی تھی۔ غریبوں کے بچوں کا فرض ہے کہ وہ گھر آنے والے امیر انکل کی آؤ بھگت کریں، ان کی ٹانگیں دبائیں اور ہر بات پر سر تسلیم خم کریں۔ لیکن ان کے بچے آپ کے والد سمیت کسی بھی بڑے کے ساتھ کچھ بھی رویہ اپنائیں، ان کو ”امیونٹی“ حاصل ہے۔ امیر رشتے دار کے بچے ہمیشہ مصروف ہوتے ہیں اور وہ کسی سے رابطہ رکھنے کے پابند نہیں، مگر غریب کا بچہ پڑھائی کے ساتھ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے نوکری بھی کرتا ہو تو سارے رشتے داروں کو فون کر کے حال احوال پوچھنا اس کا فرض ہے۔ بصورت دیگر وہ اپنی اوقات بھول چکا ہے، پڑھائی نے دماغ خراب کر دیا ہے اور اس کے والدین اس رویے کے ذمہ دار ہیں۔

ہمارے ہاں تو ”بلا“ جس لڑکے کی ملکیت ہوتا وہ جب چاہے کھیل ختم کر سکتا تھا۔ آپ کے پاس کتنے وسائل ہیں اور ”ابا کیا کرتے ہیں“ فیکٹر ساری زندگی آپ کے معمولات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آپ کا معاشرتی مقام کیا ہو گا، ننانوے فی صد کیسز میں فیصلہ پیدائش کے پہلے منٹ میں ہی ہو جاتا ہے۔ اگر آپ ایلیٹ بچے ہیں تو ”ناٹی“ اور غریب ہیں تو بدتمیز۔ ذہن سازی ہو چکی۔

Facebook Comments HS