نظمیں نکلتے ہوئے دنوں کی
من پسند راستوں پر چلتے اور کبھی نہ تھکتے آپ کے قدموں نے شاید ہی کبھی زمین کی اس دھڑکن کو سنا ہو، جو آپ کے پیروں کے نیچے ہمہ وقت سرسراتی ہے۔ اسے سننے کا انوکھا دعویٰ بھی شاید کبھی کسی نے نہ کیا ہو کہ زمین کے دھڑکتے احساسات و جذبات کو فقط وہی شخص اپنے دل سے سن سکتا ہے، جسے گیان و آگہی کے لمحوں میں ایسی بصیرت و عاجزی ودیعت کی گئی ہو، جو اپنی ذات کی نفی اور کائنات کے اثبات سے جنم لیتی ہے۔
زمین کی ایسی ہی دھڑکنوں کو جب تخلیق کا پیکر عطا ہو جائے تو کیسی تحیر آمیز نظم جنم لیتی ہے، ذرا اس نظم کے خالق کی انکساری ملاحظہ کیجیے :
نہ خواجہ نہ ثالث
نہ صاحب زمانی
نہ میں شاہ زادوں سے اِک درجہ نیچے بٹھایا گیا خانزادہ
نہ میں راجگاں کی قطاروں کے اندر ولایت کا داعی
نہ تاب و تواں کے کسی سلسلے میں
میری ذات کی ذیل سرکارِ اعلیٰ
نہ میرے لیے کوئی سجادگی ہے
جو گھائل رتوں میں
دعا کی سند بن کر آئے
جسے اوڑھ کر پختہ مکانوں سے نکلوں
تو سیر فلک کو اڑن طشتری کی کہانی میں
میرے لیے بھی کہیں دور نزدیک کی نسبتیں ہوں
کسی دن کبھی میں بھی آئینہ خانوں کی جلوہ نمائی میں
پلکوں پہ تارے سجاؤں
اڑن طشتری پر چمکتے ہوئے چاند کو چھو کے آؤں
ایسے انوکھے خیالات، صدیوں کے بھیدوں اور گزرے زمانوں میں وقت کی فسوں گری سے مجسم اس طویل عمدہ نظم کا عنوان ہے ’زمیں ہر جگہ بولتی ہے‘ ۔
بسیط احساسات، لطیف جذبات اور گہرے معنوی جہان کی حامل، دلکش و دلگداز فکر سے مزین، زمین و آسمان کی لامحدود و بے کنار وسعتوں کی ترجمان، زندگی اور فطرت کی حقیقی نمائندگی کرتی، کہیں دلکش، کہیں دلپذیر اور کہیں دلگیر جذبے و احساس کا پر تو لیے یہ نظم، عہد حاضر میں جدید اردو نظم کے نمائندہ و ممتاز شاعر محترم فرخ یار صاحب کے قلم سے فکر و آگہی کی بصیرت کا ایسا خراج ہے جو زندگی، حسن، خواب اور روشنی سے جڑے زمین و آسماں کے سبھی استعاروں کو معنی کے نئے جہان سے منور کر دیتی ہے۔ ذرا اس نظم کے کچھ اور حیرت انگیز حصے ملاحظہ کیجیے :
ہزاروں یگوں تک
بہت بے قراری کے دورانیے میں
زمیں کی طرح موت خود بھی بھٹکتی رہی ہے
کبھی خشک خستہ پہاڑوں کے اوپر
سزاوار پرجوش مٹیالے دریاؤں کے پانیوں میں
کنارے کنارے ان آنکھوں کے اطراف
جو اپنے ہونے کی امید کے ساتھ
دھندلا گئی تھیں مگر ان کا روغن سلامت رہا ہے
موضوعات کے تنوع میں انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو سلجھاتی، باریکیوں کو سمجھتی اور عقدوں کو کھولتی یہ نظم ان تمام انسانی معاملات و مسائل کا احاطہ کرتی ہے جو عہد حاضر کے انسان نے مفاد پرستی کے عوض بخوشی اپنے اور دوسروں کے لیے مول لیے۔ منافقت کے سبھی در کھولتی اور فطرت انساں کی سبھی تہوں کو آشکار کرتی یہ نظم ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر عہد اپنی روبہ زوال اقدار کا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ ذرا دیکھیے :
تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں
جس قدر خالی ہوتا رہا ہوں گا
ترے حوض پانی سے بھرتے رہیں گے
یہ کیوں اپنی خوش حالیاں تو نے
میری خرابی سے جوڑی ہوئی ہیں
اگر میرے رشتے میرے پیڑ پھلنے لگے ہیں
تمہیں کس خطر کی سراسیمگی ہے
زمیں کے سفر میں ازل سے ابد تک
کئی منزلیں ہیں کئی راستے ہیں
ان ہی منزلوں سے ان ہی راستوں پر کروڑوں برس ہو گئے
ابنِ آدم کی دیوانگی اپنی آنکھیں بچھاتی رہی ہے
اس نظم میں زمین کا دکھ درد ہی نہیں بلکہ اس کا وہ کلام بھی لکھ دیا گیا ہے جسے پڑھنے کے لیے باطن کی آنکھ اور سننے کے لیے روح کی سماعتیں درکار ہیں۔ زمینی کیفیت کے اس حساس تخلیقی بیان میں یہاں جذب کا وہ جذبہ کارفرما نظر آتا ہے، جو درد کے کسی ورثے کی صورت نسل در نسل نوع انساں میں منتقل ہوتا آیا ہے۔ ذرا محسوس کیجیے :
زمیں بولتی ہے لگاتار سینہ بہ سینہ
دھڑکتے ہوئے حاشیے پر
دعا اور محبت کی آبادیوں میں
کبھی بے نشانی کی بربادیوں میں
عہد حاضر کے مسائل میں سے ایک یہاں دھوئیں کی دھند میں اوجھل ہوتے آسماں کی حسیں رعنائیوں کو کھو دینے کا دکھ ہے، جو درحقیقت زمیں کی اس روشن چھت کے گہنانے کا المیہ ہے، جسے بنی نوع انساں نے اپنی مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ ذرا یہ سطور ملاحظہ کیجیے :
زمیں بولتی ہے فراواں افق پر
جہاں اب دھواں ہی دھواں ہے
اسی بے تردد دھوئیں سے نکلتی ہے معلوم کی آشنائی
جہاں سانس لیتے ہیں انجان دنیا کے واقف زمانے
قدیم زمانوں کے اساطیر اس تحیر آمیز نظم میں جس خوبصورتی سے ابھرتے ہیں وہ اس نظم کے فنی حسن اور معنوی گہرائی کو ایک نیا روشن رخ عطا کرتے ہیں۔ یہاں قدیم راوی کو جس محبت سے شیر دریا کہا گیا ہے وہ فرخ یار صاحب کی اس دھرتی و کائنات سے فطری محبت کو اور وسعت عطا کرتا ہے۔ ذرا دیکھیے :
قدامت میں پیوستہ برفانی تودوں کا آبی بہاؤ
کئی مشکل وسوسوں سے گزرتا ہوا شیر دریا
اساطیر کا کوئی کردار جس کے جلو میں ہے
یہاں زندگی کے فسوں میں
وہاروں کی خاموشیاں بہہ رہی ہیں
کلس کی طرح وادیوں میں چمکتا ہوا درد کا شائبہ ہے
اس نظم کی ہر ہر سطر میں امید اور خواب کا ایسا شناسا معنوی جہان آباد ہے، جو امنگ اور نور سے جلا پاتا ہے، جہاں یاس و آس ساتھ ساتھ چلتے ہیں، جو ذات کے دائروں میں دکھ، درد، اداسی میں ڈوبے کائناتی تحیر کے بے کنار سلسلے ہیں۔ ذرا دیکھیے :
مرے دائیں بائیں
انار اور تلسی کے پتے ہوا سے لرزتے ہیں
نادید کی چاپ تاثیر کے آئینوں سے نکلتی ہے
سانسوں کے خیمے پہ بارش برسنے سے
لگتا ہے آواز کے حاشیے پر قدم در قدم
دھیرے دھیرے کوئی خواب چلنے لگا ہو
عجب ہے یہ ماہیتِ دل کی پُرسش
یگانہ ہے اس کی کشادہ نگاہی
جہاں مختصر ہے وہیں بے کراں ہے
جہاں بے بسی ہے وہیں دائرے ہیں
دکھ درد، اداسی اور بے کلی کی وجہ
مری گھاٹیوں، سیڑھیوں، ممٹیوں میں دھواں بھر گیا ہے
مگر تم لہو سے لبالب کسے دیکھتے ہو
کسے سوچتے ہو!
یہ دنیا یہ گزرگاہِ ہستی بھی، بازی گری بھی!
”نکلتا ہوا دن“ کے شعری مجموعے میں شامل دیگر نظموں میں بھی ذات کا ایسا بے کل و بے چین سفر ملتا ہے جس کی شروعات فرد کی اپنی ذات سے ہوتی ہے اور اجتماعی تا آفاقی درد و کرب کے حساس اظہار پر ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی ہستی و ذات کی تلاش میں ہمہ وقت سرگرداں ہیں۔ یہی چیز نظم ’سوار اور راجھستان‘ جیسی نظموں میں صاف جھلکتی ہے۔ ذرا دیکھیے :
یوں لگتا ہے
کئی ہزار یگوں کے ماندہ افسانے میں
جو مجھ سے ملنے آیا ہے
وہ میں خود ہوں یا میری پرچھائیں
ان نظموں کے متنوع موضوعات ہیں، جن میں سے ایک پردیسیوں کے دکھ درد کا بیان بھی ہے۔ جو کرب جو ہمہ وقت جدائی کے غم سے معمور انتظار کی سولی پر لٹکتا ہے۔ جہاں پرائے دیس میں پیٹ کی خاطر کاٹی گئی مشقت کی قیمت ان حسین خوابوں کا خراج ہے، جنھیں دیکھنے کی حسرت لیے، وہ آنکھیں بے نور ہو جاتی ہیں۔ اسی حوالے سے ایک نظم ’ایک ملاقات کی امید‘ سے یہ چند سطور ملاحظہ کیجیے :
دل دھڑکتا رہا
تنگ و تاریک راتوں میں اِک عمر جاگے ہوؤں کے لیے
جو دیوار میں در بناتے ہوئے
جسم و جاں کی کہانی سے سرشار تھے
سرخ رو تھے مگر جن کے جگ مگ ستارے
کبھی ناگہانی کبھی بے قراری کے موجب
کسی دوسرے شہرِ بے آسماں پر چمکتے رہے
نظم ’یہ سانسوں کا منڈل‘ اس رائیگانی کا بیان ہے جسے خواب کی صورت آنکھوں میں سجائے عمریں بیت جاتی ہیں۔ مگر لاحاصلی کے دکھ درد اور دنیا کے تلخ حقائق و آلام غم کے ماروں کا سدا مقدر رہے ہیں۔ اسی نظم کی چند سطور دیکھیے :
یہ سانسوں کا منڈل
جو اِک زاویے سے تو ہم جیسوں کے واسطے زندگی تھا
ذرا غور سے دیکھنے پہ کھلا کہ فریبِ نظر ہے
نمائش کا آبِ رواں ہے
مگر اس نمائش کی نقشہ گری میں
کوئی بھی نہیں تھا
فقط ایک معدوم ہوتی ہوئی آرزو کی حرارت
فقط ایک گزرے ہوئے
خواب کی جھلملاہٹ
یہاں اسی نظم میں ابد کے پرندے کا استعارہ اور اس سے ہم کلام ہونے کی خواہش فطرت انسانی کی اس ازلی حسرت کا اظہار ہے، جسں میں وہ نئی دنیاؤں اور نادیدہ جہانوں کا کھوج چاہتا ہے۔ معلوم سے نامعلوم تک کا سفر اسے سدا بے چین و بے قرار رکھتا ہے۔ نظم میں ابد کے پرندے سے ان کا شعری تخاطب ملاحظہ کیجیے :
ابد کے پرندے
تم کو دیکھا نہیں ہے
بہت غور سے دیکھنا ہے
تحیر کے پردے میں ہر بات سے
اِک نئی بات کو کھینچنا ہے
تمہارے دھڑکتے ہوئے پاؤں پر پاؤں رکھ کے کہیں دور ذرا
سیرِ فلک کو نکلنا ہے میں نے
تمہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے میری آنکھیں
سیاہی کے حلقوں میں گھلنے لگی ہیں
نظم ’خوشی کا رچاؤ‘ اس شعری مجموعے کی بہت اہم نظم ہے۔ جو عصر حاضر کے سلگتے مسئلے یعنی متشدد ذہنیت کی عکاس ہے۔ اس نظم میں فرخ یار صاحب نے فنی چابک دستی اور مہارت سے ان تلخ موضوعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر یاں بات کرتے زبان کٹتی ہے۔ ذرا دیکھیے :
کہانی کے اندر
کہانی پڑی ہے
مگر اس کو منشور کی طرح لکھا گیا ہے
دکانوں محلوں کے اطراف بلوائی دوڑے چلے جا رہے ہیں
فرامینِ شاہی سے ہر دن تناؤ کا دورانیہ بڑھ رہا ہے
ابھی دل کی وحشت کہاں کس خرابے سے جوڑیں
ابھی کیفیاتِ من و تو مناسب نہیں ہیں
معانی کہیں التوا میں پڑے ہیں
ابھی کچھ نہیں ہو سکے گا
ابھی بس ذرا تم کہانی تناؤ کے دورانیے سے نکالو
کہانی تماشے کے پہلو بہ پہلو ہمکتی رہی ہے
نظم ’ہمارا تو دل ہے‘ معصوم و لطیف جذبات و احساسات کا خوبصورت و باسلیقہ اظہار ہے، جہاں بارود سے محبت تک کے فاصلے کو سمیٹنے کی حسرت زدہ آرزو ہی اس نظم کا ماحاصل ہے۔ جہاں محبت سے خالی دنیا کو قبولنے کا انکار نظم کے لب لہجے اور انداز کو مزید دلکشی عطا کرتا ہے۔ ذرا اس نظم کے یہ فکر و آگہی سے روشن اشعار ملاحظہ کیجیے :
یہ گلیاں جنھیں غیر معلوم ہاتھوں نے بارود سے بھر دیا ہے
یہ لوہے کے پھاٹک یہ اونچی فصیلیں
ان اونچی فصیلوں میں رکھے گئے دَر
ہمارے نہیں ہیں
ہمارا نہیں ہے
یہ ہر بات پہ بھاؤ تاؤ کا قصہ
مشقت کے اوقات میں درد کی عذر خواہی
مشقت کے سجدوں پہ پھیلی ہوئی
اہلِ حاجت کی آشنائی
ہمارا تو دل ہے
فقط ایک دل جس میں بوسے کی کلیاں
چٹکتی چلی جا رہی ہیں
نظم ’سانجھ‘ اس خواب کے ٹوٹ جانے کا نوحہ ہے جسے نصف صدی قبل سرحدوں اور باڑوں کی صورت حد بندی کی نظر کیا گیا تھا، جہاں سانجھ ہوئی میراث کو بارود کی بو اور دھوئیں نے نگل لیا تھا۔ ذرا یہاں گہرے درد یہاں و کرب کا بیان ملاحظہ کیجیے :
عجب داستاں ہے کہ اب مشرقی سرحدوں پر
ہوائیں پلٹنے لگی ہیں
انہی سرحدوں پر کئی سال تک
حبس کی بے کلی اور بارود کی بو سے باہم
سخن کی نمو کو تکلف رہا ہے
ان ہی سرحدوں پر زمانوں سے چھاؤں
چھڑکتے ہوئے پیڑ کاٹے گئے
خواب کی کوٹھڑی سے دھڑکتی ہوئی سانجھ توڑی گئی تھی
اس گردا گرد تماشے میں، جب لال علم لہراتا ہے
سب اندازے مٹ جاتے ہیں
اِک روشن دن کی دستک پر
شب کے مہرے پٹ جاتے ہیں
کچھ ایسے ہی درد کا بیان نظم ’دستک‘ میں ملاحظہ کیجیے :
بیدار سمے کی آہٹ سے
خواب اگتے ہیں دیواروں پر
جب سپنے قد میں بڑھ جائیں
وہ دیواریں گر جاتی ہیں
جو آب و ہوا میں حائل ہوں
کچھ نظمیں گیت کی صورت ایسا دلکش اظہاریہ لیے ہوئے ہیں کہ جن کا شعری ترنم و صوتی آہنگ نہ صرف پڑھتے ہوئے لطف دیتا ہے بلکہ فکری و معنوی گہرائی ان کے حسن و دلکشی کو مزید پر لطف بنا دیتی ہے۔ ذرا نظم ’دیکھ ہماری سانسوں کا آدھار‘ کے یہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے :
ذرا ذرا سا دن باقی ہے
تھوڑی سی چہکار
میں اک دور افتادہ رستہ
تو کابل قندھار
اس سے کیسی گلہ گزاری
جس کے کرم ہزار
جب ہم ریشم لے کے پہنچے
راکھ ہوئے بازار
ایسی ہی لطیف اور دل موہ لینے والی ایک اور نظم ’جھولے لال نظر سہون کی‘ کے یہ چند گیت نما مترنم اشعار بھی ملاحظہ کیجیے :
کئی زمانوں بعد آنگن میں
بول رہی ہے چڑیا بن کی
بور پڑا ہے باغوں باغوں
جاگ اُٹھی ہے ہُوک لگن کی
میرے اندر کہیں چھپی ہے
کوئی پری رو نیل گگن کی
وہ جس نے سننا ہوتا ہے
سن لیتا ہے تن کی من کی
موضوعاتی تنوع میں نکھری، فکری گہرائی میں ڈوبی اور جذب و احساس کا دلکش و دلربا امتزاج لیے یہ بیش قیمت سجل نظمیں اپنے باذوق قارئین کے لیے کسی قیمتی تحفے سے کم نہیں۔ محترم فرخ یار صاحب کو ایسی عمدہ و لازوال نظموں کی تخلیق و اشاعت پر دلی مبارکباد نیز بک کارنر جہلم کے شاہد برادران کو بھی ایسے عمدہ شعری مجموعے کی اشاعت کا اعزاز حاصل کرنے پر ڈھیروں نیک تمنائیں۔



