جے پال جنجوعہ۔ قدیم پنجابی بادشاہ – اعتزاز احسن کی کتاب ’دی انڈس ساگا‘ سے ماخوذ)
جنجوعہ، پنجاب کے شمال مغربی حصے کی ایک طاقتور قوم ہے۔ جو کہ جہلم اور دریائے سندھ کے درمیانی اضلاع پنڈی، جہلم، چکوال اور اٹک میں آباد ہیں، جسے سالٹ رینج کہا جاتا ہے۔ پنجاب میں انہیں ’راجا‘ کے لقب سے بھی پکارتے ہیں۔ ہندوستان کے صوبے پنجاب میں سکھ اور ہندو جنجوعے بھی موجود ہیں۔ آج سے ڈیڑھ صدی قبل کیے گئے سروے کے مطابق پنجاب میں آرائیں، اعوان، کمبوہ، بھنڈ ر، چٹھ، ڈھلوں، گل، سَندھو، سیال اور وڑائچ لوگوں کا پیشہ کھیتی باڑی تھا، گجر اور رانگڑ مویشی پالتے تھے، اروڑا اور کھتری لوگ بیوپاری تھے۔
اس کے علاوہ راجپوت بھی ہیں جن میں بھٹی، ڈوگر، گکھڑ، جنجوعے، ٹوانے اور وٹو شامل ہیں۔ سالٹ رینج کے قدیم پنجابی حکمران راجا پورس نے سکندر اعظم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جہلم کے قریب سکندر کی فوج کو اس نے شدید نقصان پہنچایا۔ راجا پورس گجر قبیلے سے تھا اور موجودہ منڈی بہاؤ الدین کے قریب اس نے اپنی راجدھانی قائم کی ہوئی تھی۔ سالٹ رینج کے کچھ اور بھی اہم جرنیلوں اور باغی کرداروں کا تاریخ میں ذکر ملتا ہے۔
سندھ میں راجا داہر کی شکست اور عرب اقتدار کے قیام کے تین صدیوں بعد محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ستائیس برس کے عرصے میں اس نے پنجاب کے ساتھ ہندستان کا کافی حصہ قبضے میں لے کر سینکڑوں ہندوستانی گاؤں تباہ کیے اور بے شمار لوگوں کا قتل عام کیا۔ ہندوؤں کے مندر اس کا خاص نشانہ تھے کیونکہ وہاں پر بڑی مقدار مین سونا ملتا تھا۔ سوراشٹر میں سومناتھ کے مندر پر حملے کے بعد محمود اس مندر کے دروازے بھی اکھیڑ کر لے گیا اور غزنی والے گھر میں نصب کروائے۔
محمود کے اس حملے کے وقت پنجاب، موجودہ خیبرپختونخوا اور افغانستان کے کچھ حصے پر ایک پنجابی راجپوت حکمران ’جے پال جنجوعہ‘ کی حکومت تھی۔ جے پال کی تخت گاہ اٹک کے ساتھ موجودہ صوابی میں تھی۔ اس کے علاوہ سالٹ رینج میں اس کے فوجی مراکز بھی تھے۔ اس خاندان کی بنیاد لالیا نامی ایک شخص نے ڈالی۔ انہیں شاہیا یا جنجوعہ شاہی کہا جاتا تھا۔ وہ دسویں صدی کا آخری پنجابی حکمران تھا جس کی ایک ہی وقت میں کابل، پشاور اور لاہور پر خودمختار حکمرانی تھی۔
سلطان محمود کے حملہ سے پہلے اس کے باپ سبکتگین نے بھی موجودہ خیبرپختونخوا پر فوج کشی کی۔ اٹک کے قریب اس لڑائی کے آثار ملتے ہیں۔ جے پال کو غزنویوں کے ساتھ جنگوں کا کافی تجربہ تھا اِس لئے اس وقت یہ لڑائی غزنوی جیت نہ سکے۔ لیکن گیارہویں صدی کے آغاز میں یہ منظر تبدیل ہوا۔
سن 1000 میں محمود غزنوی دریائے سندھ عبور کر کے خیبرپختونخوا میں داخل ہوا۔ اس کی فوج بہترین گھڑ سواروں اور مضبوط کمانڈروں پر مشتمل تھی۔ اگرچہ جے پال کی فوج میں تیس ہزار پیادے اور تین سو ہاتھی تھے لیکن راجپوت سرداروں کی مرکزی کمان میں اتحاد نہ تھا۔ دونوں جنگجوؤں کے درمیان کوہِ ہندوکش کے قریب معرکہ ہوا۔ جے پال انتہائی بہادری کے ساتھ لڑا لیکن ہار گیا۔ شکست کے بعد اس نے خود کو آگ لگا کر خودکشی کرلی۔ کہتے ہیں کہ دورانِ جنگ طوفانی برفباری ہو رہی تھی جس کی وجہ سے جے پال کے لشکر کا کافی حصہ اس کی نذر ہو گیا تھا۔ لیکن جنجوعوں نے ہار نہ مانی۔
پانچ سال بعد محمود دوبارہ غزنی سے آیا۔ اس بار مقابلے کے لئے جے پال کا بیٹا آنند پال جنجوعہ اپنی فوج کا سپہ سالار تھا۔ آنند پال بھی جنگ ہار گیا۔ محمود نے خیبر پختونخوا اور پنجاب کو غزنی کا حصہ بنایا۔ محمود کے سترہ حملوں والی جنگ اس لڑائی کے بعد شروع ہوتی ہے۔ محمود کے ساتھ جنجوعوں کا آخری معرکہ جہلم کے قریب ہوا جس میں انہیں شکست ہوئی اور محمود نے لاہور پر قبضہ کر کے اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔ جے پال خاندان کے بچے کچھے افراد، کشمیر فرار ہو گئے۔ جنجوعوں کو شکست دینے کے بعد محمود نے سیستان اور ملتان کے ساتھ سندھ کے شہر منصورہ کو بھی جلا کر خاک کر دیا۔ سندھ پر اس وقت عربوں کی حکومت تھی۔
محمود کی فتح کے بعد وسط ایشیا سے لوگ پنجاب آنا شروع ہو گئے۔ ان ہی لوگوں میں سید علی ہجویری بھی تھے جو بعد میں داتا گنج بخش کے نام سے معروف ہوئے۔ انہیں محمود کا بیٹا مسعود لاہور لے کر آیا تھا۔ افغانوں کے ہاتھوں پنجاب میں شکست کے بعد اسلام اس علاقے میں ایسے ہی پھیلا جیسے محمد بن قاسم کے فاتح سندھ ہونے سے لوگ مسلمان ہونا شروع ہوئے، کچھ بزرگوں کے زیرِ اثر اور کچھ موت کے خوف سے۔ راجپوت اور جاٹ قوم کے لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔


