ہم انتہا پسند اور متشدد کیوں ہو رہے ہیں؟
ہم انتہا پسند اور متشدد کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ آخر کیا عوامل ہیں کہ ہم انتہا پسند ہیں مگر دوسرے کو انتہا پسند گردانتے ہیں۔ ہم سب بحیثیت معاشرہ انتہا پسند بن چکے ہیں۔ مگر ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ انتہا پسندی کی بات آئے تو سب سے پہلے مذہبی انتہا پسندی یا جنونیت کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ جہاں توہین مذہب یا توہین رسالت کے نام پر ہم کسی کا سر تن سے جدا کر دیں۔ بد قسمتی سے یہ ایسا موضوع ہے کہ اس پہ زیادہ سچ جو کہ تلخ بھی ہے لکھنے پر قینچیاں چل جاتی ہیں۔ سب کی اپنی مجبوری۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں لوگ اگر اسلام پھیلانے کا ذریعہ جبر یا تشدد سمجھ رہے ہیں تو آپ کے اس طرز عمل سے کثیر تعداد میں ملحدین پیدا ہو رہے ہیں۔ جو سائنس ٹیکنالوجی اور تھیوری پہ دلائل سے گفتگو کرتے ہیں۔ ایسے جدید ماحول میں ہمارے علما حضرات جارحانہ اور پر تشدد ہونے کی بجائے تھوڑی لچک دکھاتے ہوئے اگر دلائل سے جواب دیں تو یہ دین اسلام کے لیے بہتر خدمت ہو گی۔ لیکن نہیں۔
بات انتہا پسندی کی ہے تو ایک طبقہ جو عالم فاضل کہلاتا ہے۔ اور بحث بھی دلائل سے کرتا ہے مگر انتہا پسند وہ بھی ہے۔ اس کو برداشت نہیں ہوتا جب رمضان میں لوگ روزے رکھیں یا عید پر قربانی کریں۔ یا اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ باوجود اس کے کہ وہ کافی وسیع القلب اور روشن خیال لوگ ہیں۔ انسانیت اور انسانی حقوق کے لیے نعرے لگانے والے۔ جو جانور تک کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے مگر بات جب دین اسلام کی آئے گی وہ سرکش ہو جائیں گے۔ تمسخر اڑائیں گے۔ وہ آپ کی عبادات آپ کی داڑھی یا برقع کا مذاق بنائیں گے۔ وہ جان بوجھ کر آپ کے سامنے آپ کے دین، سنت، احادیث کو مذاق کا نشانہ بنائیں گے۔ کیوں کہ یہاں پہ وہی انتہا پسند رویہ غالب آ گیا۔ گویا اگر مسلمانوں میں انتہا پسندی پھیل رہی ہے تو ملحدین بھی اسی شدت پسندی کا شکار ہیں۔
اب یہ انتہا پسندی دین یا لادینیت سے باہر نکل کے مختلف مکتب فکر کے تناظر میں دیکھیں تو وہاں بھی یہی حال ہے۔ اہل تشیع اگر اپنے فقہ جعفریہ کے مطابق کچھ چیزیں کریں گے تو سنی ان کو سیدھا کافر کہہ کر بات ہی ختم کر دیں گے۔ اسی طرح دیوبندی بریلوی کو بدعتی کہیں گے اور بریلوی دیوبندی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے۔ مساجد مدرسوں میں بھی یہی عدم برداشت اور انتہا پسندی عروج پر ہے۔ جب کہ مذہب کی خوبصورتی یہی ہے کہ آپ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق جو کرنا چاہیں کریں۔ ہمیں ایک دوسرے کو قبول کرنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ایک شخص کے کتے نے دوسرے شخص کا پالتو پرندہ کھا لیا، پرندے کے مالک نے کتے کو فائرنگ کر کے مار دیا۔ فریقین کے درمیان تکرار، ہاتھا پائی اور بعد میں فائرنگ ہوئی اور نتیجے میں تین افراد قتل اور پانچ زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ جولائی 2021 میں پیش آیا، جو ملکی میڈیا میں رپورٹ ہوا۔ اس جیسے دسیوں واقعات روزانہ کی بنیاد پر میڈیا کی زینت بنتے ہیں۔
مزید دیکھیں تو کچھ فیمنسٹ خواتین اتنی شدید فیمنسٹ ہوتی ہیں جو کہ بری بات نہیں مگر وہ مرد کے وجود سے ہی انکاری ہیں۔ حالاں کہ وہ کافی مراعات یافتہ ہیں مگر شدت پسندی ان کے اندر بھی ہے۔ وجہ شاید یہ ہو کہ ایک مردوں کا طبقہ بھی ہے جو عورتوں کے معاملہ میں شدید مسوجینسٹ ہے۔ جنہیں عورت کسی روپ میں اپنے آگے ترقی کرتی قبول نہیں۔ جو اس کو کم درجہ تصور کرتے ہیں اور اسی تقابل میں معاشرہ انتہا پسند بن گیا ہے۔
سیکولر لبرل یا تعلیم یافتہ طبقہ ہو یا گاؤں دیہات کے باسی۔ سب ہی انتہا پسند ہو گئے ہیں۔ بات اگر سیاست پہ آ گئی تو گویا یہ جہاد ہے۔ حق و باطل کی جنگ ہے۔ اور اگر میرے لیڈر کو کچھ کہا تو پھر گالی گلوچ بدتمیزی الزام تراشی کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ چند برس قبل پی ٹی آئی اور نون لیگ کے دو دوستوں میں سیاست کے نام پر تکرار شروع ہوئی جو بعد میں جھگڑے کا باعث بنی اور آخر میں ایک دوست نے دوسرے دوست کو گولی مار دی، محض اس بات پر کہ وہ نون لیگی تھا۔ گویا اس کی تحریکی زبان میں وہ ایک غلام، بھکاری اور پٹواری تھا۔
پارلیمینٹ کا حال دیکھیں جہاں سیاسی وابستگی کے فرق کی بنیاد پر نوبت ہاتھا پائی تک آ جاتی ہے۔ یہ کیا روش بن گئی ہے کہ محض اختلاف کی بنیاد پر بدتمیزی اور دشنام طرازی کا کلچر شروع ہو گیا۔ اختلافات تو ہماری تہذیب میں پرانے ہیں۔ جو ہماری زندگی کا فطری حصہ ہے۔ قیام پاکستان سے قبل سیاسی سماجی مذہبی فرق سدا سے ہیں۔ مگر ایسے سخت رویہ ایسی نسل اور ایسی شدت پسندی کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ آج ہم ایک دوسرے کی بات سمجھنا تو دور سننا بھی گوارا کرنا نہیں چاہتے۔ ایسا زیادہ تر جب ہوتا ہے جب ہم اپنے ذہن سے نہیں سوچتے بلکہ ہمیں ایک سلیبس دیا جاتا ہے اور ہم نے اس کو رٹ لیا ہوتا ہے۔ اور اب ان من گھڑت حقائق سے آگے ہم کچھ دیکھنا سننا پڑھنا نہیں چاہتے۔ پسند ناپسند کے رجحانات اپنی جگہ مگر اس کے لیے کسی بھی حد تک چلے جانا معاشرہ کی گراوٹ ہے۔ جبکہ ہر ایک چیز کی خوبصورتی اس صورت میں ہے جہاں مختلف لوگ مختلف طرز سے دنیا کو دیکھیں۔ آپ سے اختلاف کریں مگر دشمنی نا ہو۔ اور سیر حاصل گفتگو رہے۔ انسان چاہے تو روز اپنے ارد کے لوگوں سے چرند پرند قدرت دنیا کی ہر ایک چیز سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ایک سوچ سے ایک نسل تبدیل ہوتی ہے۔ چلیں اس کا فیصلہ ہم اکیلے تو نہیں کر سکتے کہ کس سوچ سے بہتر نسل تشکیل پائی یا آئندہ پائے گی۔ مگر انسان کی زبان انداز بیان اور لوگوں کے ساتھ کس طرز کا پیش آنے والا رویہ بہت کچھ بیان کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ہم کون ہیں، کہاں سے ہیں، ہمارا نظریہ یا دین کیا ہے۔ ہمارا پہلا تعارف ہماری گفتار، ہمارے لہجہ ہمارے الفاظ کا چناؤ، آواز کا ردھم اور برداشت بتا سکتی ہے کہ ہم انتہا پسند معاشرہ سے ہیں یا صحیح معنوں میں رواداری برداشت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مختلف مذاہب سیاسی وابستگی اور مسلک اور قومیت کے فرق کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتے ہیں۔ اور سب کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں۔
یہ عالم لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ تشویش ناک بھی ہے۔ اس اخلاقی پستی کی وجہ جاننے کی کوشش کی جائے تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ ہمارے عوام کی اکثریت کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مصائب بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے تو اُنہوں نے اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ اس انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہمیں اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف برداشت پیدا کرنے سے ہی معاشرے کا امن و امان لوٹ سکتا ہے۔ انسانیت کا پیغام اور عمل درآمد سے بھی ان مسائل کا تدارک کیا جا سکتا ہے کیوں کہ ہمارے ہاں دانستہ نوجوانوں کو بھی فاشزم کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔ مسلکی سیاسی سماجی منافرت کے خاتمے کے لیے تعلیمی نظام اور نصاب کو ازسرنو مرتب کرنا چاہیے، جہاں ایسے اسباق اور ابواب شامل کریں کہ جن سے انتہا پسندی کے خاتمے میں معاونت مل سکے۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے دینی مدارس اور جامعات میں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ وہاں کسی قسم کی انتہا پسندی اور شدت پسندی کی تعلیم نہ دی جا سکے بلکہ امن اور رواداری کے پیغام کو عام کیا جائے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مواد کو شیئر نا کریں اور اس سے متعلقہ تحریکیں نا چلائی جائیں۔
اگر سیاسی با اثر شخصیات بھی چاہیں تو مذہبی ٹچ دے کر عوام کو مشتعل کرنے اور نئی نسل کو خراب کرنے کی بجائے بہتر قوم تشکیل دے سکتے ہیں اور ہم سب بحیثیت والدین اپنے بچوں کو بھی اس شدت پسندی سے دور رکھیں۔ کیوں کہ جہاں دنیا برق رفتاری سے آگے جا رہی ہے وہیں ہم پاکستانی اسی تیزی سے پیچھے جا رہے ہیں۔ بلاشبہ ہمیں اپنی ترجیحات اور رویوں پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


