ان کہی جدوجہد: پاکستان میں ذہنی صحت کے چیلنجز
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، پاکستان ایک محدود وسائل رکھنے والا، نچلا متوسط آمدنی کا ملک ہے۔ دیگر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی طرح یہاں بھی نفسیاتی امراض کی شرح بہت زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، پاکستان میں 2 کروڑ 40 لاکھ افراد کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے وسائل کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں ہر ایک لاکھ آبادی کے لیے صرف 0.19 ماہر نفسیات موجود ہیں، جو دنیا میں سب سے کم ہیں۔ نفسیاتی امراض مجموعی بیماریوں کے بوجھ کا 4 فیصد سے زیادہ ہیں۔ ان بیماریوں کے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ معذوری، پیداوار میں کمی، کم معیار زندگی، اور خراب سماجی و اقتصادی حالات سے منسلک ہیں۔
پاکستان میں بالغ افراد میں نفسیاتی بیماریوں کی اوسط شرح 31.6 فیصد ہے، یعنی ہر تین میں سے ایک بالغ کو کسی بھی وقت ذہنی صحت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ غربت، بے روزگاری، اور مالی عدم استحکام مستقل دباؤ اور بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ ذہنی صحت کے مسائل پر بدنامی افراد کو مدد لینے سے روکتی ہے۔ گھریلو تشدد، دہشت گردی یا زیادتی کے واقعات ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ذہنی صحت کی محدود سمجھ بوجھ لاپروائی اور غیر مناسب علاج کا باعث بنتی ہے۔ ماہرین اور سہولیات کی کمی بہت سے افراد کو مناسب علاج سے محروم رکھتی ہے۔ زیادہ توقعات اور تعاون کی کمی ذہنی دباؤ کو بڑھا دیتی ہیں۔ منشیات اور الکحل کا بڑھتا ہوا استعمال ذہنی صحت کے مسائل کو مزید خراب کرتا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ عام نفسیاتی امراض میں اضطرابی عوارض، ڈپریشن، دو قطبی عارضہ، بعد از صدمہ دباؤ کا عارضہ (PTSD) ، شیزوفرینیا، کھانے کے عوارض، مزاجی اور رویے کی خرابی، اور نیورو ڈیویلپمنٹل عوارض شامل ہیں۔ ہمارے اپنے لوگ ان بیماریوں میں مبتلا ہیں، اور ہم انہیں اولیاء یا روحانی معالجوں کے پاس لے جاتے ہیں، جو ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔
ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے بہت سے افراد امتیازی سلوک کا شکار ہیں اور پیشہ ورانہ مدد لینے سے ہچکچاتے ہیں۔ ماہر نفسیات اور ماہرین کی محدود دستیابی مسئلے کو بڑھا دیتی ہے، جس کی وجہ سے ایک بڑی آبادی مناسب علاج سے محروم رہ جاتی ہے۔ مزید برآں، ثقافتی اور سماجی روایات اکثر لوگوں کو طبی ماہرین کی بجائے روحانی معالجوں پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے ان کے حالات بگڑ سکتے ہیں۔ غربت، بے روزگاری، اور سیاسی عدم استحکام ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں، اور ان مسائل کو حل کرنے میں کوتاہی ایک مستقل دائرہ بناتی ہے۔
ذہنی صحت پر عوامی آگاہی کو تعلیم اور میڈیا مہمات کے ذریعے فروغ دینا بدنامی کو کم کرنے اور جلد مداخلت کی حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہے۔ دیہی علاقوں میں ذہنی صحت کی سستی دیکھ بھال تک رسائی کو بڑھانا اہم ہے تاکہ ضرورت مندوں کا علاج یقینی بنایا جا سکے۔ خاندان اور کمیونٹیز جذباتی مدد فراہم کرنے اور پریشانی کی ابتدائی علامات کو پہچاننے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جسمانی ورزش، ذہن سازی (Mindfulness) ، اور مشاورت جیسی تناؤ کے انتظام کی تکنیکوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دینا چاہیے۔ اسکولوں میں ذہنی صحت کی تعلیم متعارف کرائی جائے اور بچوں میں استقامت پیدا کرنے کے لیے مشاورت کی خدمات فراہم کی جائیں۔ منشیات کے استعمال سے متعلق بحالی کے پروگرام اور سخت قوانین اس مسئلے کو کم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ روزگار کے مواقع پیدا کر کے اور سماجی بہبود کے پروگرامز کے ذریعے معاشی استحکام کو فروغ دینا مالی دباؤ کو کم کر سکتا ہے جو اکثر نفسیاتی عوارض کو بڑھاتا ہے۔ مذہبی عقائد اور پیشہ ورانہ ذہنی صحت کی دیکھ بھال کا متوازن امتزاج ثقافتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے موثر علاج کی ضمانت دے سکتا ہے۔
حکومت کی پالیسیوں کو ذہنی صحت کو ترجیح دینے اور فوری مدد کے لیے ہیلپ لائنز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان مسائل پر زیادہ سے زیادہ بات کرنی چاہیے اور لوگوں کو یہ باور کروانا چاہیے کہ یہ بھی ایک بیماری ہے، جیسے کوئی بھی عام جسمانی بیماری ہوتی ہے۔


