بزرگ، شادی، خاندان، روایات: انیس سو چوراسی کا کراچی
اسی کی دہائی اپنے جوبن پر تھی جب ہوش سنبھالنے کے بعد ہم پہلی مرتبہ دبئی سے پاکستان آنے تھے۔ ہماری سب سے چھوٹی خالہ کی شادی تھی۔ پرانا زمانہ تھا آسائشیں ابھی ضروریات نہیں بنی تھیں۔ مڈل کلاس گھروں کے لئے الیکٹرانکس کی امد ابھی بھی ”ہنوز دلی دور است“ کی مانند تھی۔ فرج کی جگہ ”نعمت خانہ“ ، انٹرنیٹ اور ٹیلیویژن کے بجائے، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر راج کرتے تھے۔ کچن جو کہ اب تک باورچی خانہ کہلایا جاتا تھا، اس میں گرائنڈر نے قدم نہیں رکھے تھے بلکہ گھر کے کھانے سل بٹے پر خواتین کی محنت سے ذائقہ کشید کرتے تھے۔ ڈالڈا گھی کے پرانے ڈبوں میں پانی گرم کر کے گیزر کا کام لینا ابھی متروک نہیں ہوا تھا۔
دبئی اب تک کلاہ شکن عمارتوں کا شہر نہیں بنا تھا۔ ریت اڑتی تھی اور خاک چھانی جاتی تھی۔ ایسی اجنبیت تھی کہ گھر کے افراد ہی پورا خاندان تصور کیے جاتے تھے۔ ایسے میں جب پاکستان اور وہ بھی خاندان کی ہم سے پہلے والی پیڑھی کی آخری شادی میں جانا ہوا تو یوں لگا کہ حیرت کدہ میں آ گئے۔
کراچی سینٹرل جیل کے بالکل سامنے گورنمنٹ ملازمین کی رہائش کے لئے کوارٹرز بنے ہوئے تھے۔ دوسری مرتبہ ہجرت جھیلنے والے پاکستان گورنمنٹ کے ڈھاکہ میں مقیم میڈیکل سیکرٹری ہمارے نانا سید خوشنود حسین نقوی کے پاس اتنی متاع بھی نہ تھی کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد کراچی میں اپنے لئے چھت کا انتظام کر پاتے۔ دینے والے ہاتھ کو بیٹی اور بیٹے ہی سے سہی، قرض کی خفت اٹھانا پڑی اور یوں جیل روڈ پر کوارٹرز کے درمیان ایک گلی میں تعمیر کردہ گھر سکوں کدہ بن گیا۔
مڈل کلاس اس وقت تک سفید پوش کہلائے جاتے تھے لہذا یہ طبقہ بہت سکون سے اس خوبصورت محلے میں زندگی بسر کر رہا تھا۔ ہر کوارٹر کے باہر اتنی ہی زمین پر ڈمڈم سے احاطہ بناتی ہوئی کیاریاں بنی ہوتی تھیں جن میں دن بھر بچے کھیلتے اور شام کو اہل خانہ بیٹھ کر چائے پیتے۔ ہر گھر میں درخت لگے ہوئے تھے۔ کہیں آم، کہیں جامن، کہیں پیپل، کہیں برگد۔ یہیں پر ہم نے پہلی مرتبہ درخت پر رسیاں ڈال کر بنائے ہوئے جھولے پر جھولنا سیکھا تھا۔ ڈمڈم سے نکلتے چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں کو توڑ کر ان کی جامنی ڈنڈیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کا معصومانہ ہنر سیکھا تھا۔ گلیاں، اس زمانے کے لوگوں کے دلوں کی طرح انتہائی کشادہ تھیں کہ آبادی میں اضافے سے مجبور ہو کر لوگوں نے سرکاری جگہ گھیر کر گھر بڑا کرنے کی کوششیں نہیں شروع کی تھیں۔
یہیں پر ہم نے پہلی مرتبہ گلاب کا جادوئی حسن دیکھا تھا اور اس کی روح تک اتر جانے والی خوشبو محسوس کی تھی۔ یہیں پر تو ہمیں موتیے کی بے چین کر دینے والی مہک سے پہلا عشق ہوا تھا۔ یہیں تو ہم نے دیکھا تھا کہ بارش کے بعد نہائے ہوئے اجلے پیڑوں کے سبز پتے کیسے اترانے لگتے ہیں۔ یہیں پر ہم نے صبح صبح چڑیوں کی چہچہاہٹ سنی تھی۔ کوئل نے یہیں تو ہمیں اپنی آواز پر فریفتہ کیا تھا۔ سورج نکلنے سے ذرا پہلے آسمان کسی نئی نویلی دلہن کے چہرے کے رنگ اوڑھے حیران آنکھوں سے زمین کو دیکھ رہا ہوتا تھا۔ یہاں سورج کچھ اور ہی ڈھب سے نکلتا تھا۔ پرندوں کی آوازوں میں قدرت بات کر رہی ہوتی تھی۔ باہر کا موسم ہمارے اندر کے موسم پر کیسا اثرانداز ہوتا ہے۔ اس کو ہم نے پہلی مرتبہ محسوس کیا تھا۔
اس زمانے میں شادی میں پورا کنبہ شریک ہوتا تھا۔ کنبہ سے مراد محض قریبی عزیز نہیں ہوتے تھے۔ ہماری ننا اور نانا کے گاؤں کا ہر فرد جو پرکھوں کی زمین چھوڑ کر نئے خواب سجائے کراچی آ بسا تھا، وہ ہمارا کنبہ تھا۔ محلے میں بسے مختلف زبانیں بولنے والے سب کنبہ کے فرد تھے یا شاید ان سے بڑھ کر تھے کہ ابھی تک زبان کا مختلف ہونا عصبیت کا سبب نہیں بنا تھا۔ دور دراز سے آنے والے بھتیجے بھانجوں کے دوست بھی کنبہ ہی تو تھے۔ چھوٹے گھروں میں رہنے والوں کے دل بھلا کیسے اتنے بڑے ہوتے ہیں۔ گرمیوں کے دن تھے۔ برسات اکثر چھیڑخانی کرتی تھی۔ من جل تھل ہو جاتا تھا۔ برستی بارش میں ہم شادی کا کارڈ دینے جہانگیر روڈ گئے تھے۔ وہاں پہنچ کر گھنٹی پر ہاتھ رکھا اور فزکس پڑھے بغیر برقی رو ( الیکٹرک شاک) کا بیش بہا ہمیشہ یاد رہے جانے والا سبق سیکھنے کو ملا۔
ہمارے نانا کو ان کے بچے بابو پکارتے تھے اور ننا کو آپا۔ ہمارے لئے یہ استعجاب کا باعث تھا۔ دریافت کیا تو پتہ چلا کہ کیونکہ پچھلے دور میں شادیاں جلدی کر دی جاتی تھیں تو شرم آڑے آتی تھی کہ اپنے والدین کے سامنے اپنے آپ کو اماں یا ابا کہلوائیں۔ کیا تہذیب تھی رفتگاں میں۔
خاندان کی بہوئیں باورچی خانہ سنبھال لیتی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب سادگی ہر چیز پر غالب تھی۔ انسان مکمل طور پر جنگلی نہیں ہوئے تھے یعنی گوشت کے بغیر بھی کھانا کھا لیا جاتا تھا۔ دال اور سبزیاں متنجن کا مزا دیتے تھے۔ روٹیاں تندور سے لانے کا رواج نہ تھا اور بیچاری خواتین شوق سے روٹیاں تھاپتی تھیں اور حضرات اس سے زیادہ شوق سے ان کو تناول کرتے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ منرل واٹر کیا بلا ہوتی ہے۔ ہاں البتہ گندھک ضرور پانی کے ٹینک میں ڈال دی جاتی تھی۔ وقت بے وقت مہمان آ جاتے تھے اور گھر والوں کے لئے خوشی کا سبب بنتے تھے۔ گھر میں موجود سب مل جل کر کھاتے تھے۔ گو اشیا کی زیادتی نہیں تھی، برکت ضرور تھی۔ کھانا اگر بچ جاتا تھا تو نعمت خانے میں سینت کر رکھ دیا جاتا تھا جہاں ننا گڑ کے چاول یا آٹے کا حلوہ بوآم میں بھر کر رکھا کرتی تھیں۔ نعمت خانہ کے پائینتی مٹی کی پرچوں میں پانی رکھ دیا جاتا تھا تا کہ چیونٹیاں نہ چڑھیں۔
یہیں پر ہم نے نئے نئے حشرات کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ مختلف رنگوں کے پھولوں والی جھاڑیوں پر ادھر سے ادھر اڑنے والا کیڑا جس کو محلے کے بچے ہیلی کاپٹر کہتے اس کو پکڑ کر اس کی ٹانگ میں دھاگہ باندھ دیا جاتا تھا اور اس کی اڑان دیکھی جاتی تھی۔ بوسیدہ دروازوں اور کتابوں پر لگی کلبلاتی ہوئی دیمک یا پھر چارپائی کی رسیوں میں بسیرا کرنے والے کھٹمل جو رات کو لہو کی کثافت دور کرتے تھے۔ اگر سونے سے تھوڑی دیر پہلے پلنگ کو زور زور سے جھٹکا دیا جاتا تو تھوڑی دیر ان کو دربدر کر کے، ان کو ان کے رزق سے محروم رکھا جا سکتا تھا۔
اس زمانے میں بیشتر چیزوں کے لئے آپ کو دکان جانے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ رزق کی تلاش محنت کشوں کو آپ کے در پر لا کھڑا کرتی تھی۔ کبھی کوئی بڑے پیار سے سبزیوں کی گردان کر رہا ہوتا تو کبھی ”ہر مال دو دو روپیہ“ کی صدا کانوں میں رس گھول رہی ہوتی۔ پلاسٹک کے برتن اور کھلونے کے ٹھیلے پر مجمع لگا رہتا۔ کبھی دروازوں کے قبضوں کی فریادوں کی دادرسی کے لئے کوئی تیل لیے کھڑا ہوتا تو کبھی پرانے برتن کو نیا کرنے کا ہنر بیچتا۔ پرانے اخبار اور شاذونادر بچ جانے والی روٹیاں سنبھال کر رکھی جاتیں کہ جب صبح صبح ”بھوسی ٹکڑے لینے والا، ٹین ڈبے والا“ کی آواز آئے تو خرید و فروخت کا بازار گرم کیا جائے اور کبھی کوئی سپیرا اپنی ٹوکری سے سانپ نکال کر بچوں کو لبھا رہا ہوتا۔
ہماری ننا رعب دار شخصیت کی مالک تھیں۔ سو ہر ایک کو حسب مراتب ڈانٹ ڈپٹ کرتی تھیں۔ اور سب سر جھکائے، ابرو پر بل لائے بغیر محبتیں سمیٹتے تھے۔ نانا سمجھدار مردوں کی طرح گھر کے معاملات میں اتنی ہی مداخلت کرتے جتنی ضروری ہوتی یعنی نہ ہونے کے برابر۔ سو گھر کا ماحول بہت خوشگوار ہوتا تھا۔
خاندان کے قریبی افراد پورے پاکستان سے گھر میں باقاعدہ قیام کرنے آئے ہوئے تھے اور کراچی میں مقیم کافی لوگ دن بھر شادی کے گھر کا چکر لگاتے رہتے۔ پڑوسیوں نے شادی کے لئے گھر خالی کر دیا تھا کہ محلے کی بیٹی کو وداع بھی تو کرنا تھا۔ تھوڑی ہی دور ہماری خالہ جان کا گھر بھی جیل روڈ کوارٹرز کے درمیان ایک گلی میں واقع تھا۔ مردوں کا انتظام وہاں کیا گیا تھا۔ صبح کسی کام کے لئے ہمیں وہاں بھیجا جاتا تو یوں لگتا کہ کسی پلیٹ فارم پر آ گئے ہیں۔ پورے گھر میں چلنے تک کی جگہ نہ ہوتی۔ پھلانگتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جانب جانا پڑتا۔ جس دن زیادہ لوگ آ جاتے، اس دن لونڈے لپاڑے گھر سے باہر علیم ڈیکوریشن کی جہاں قناتیں رکھی جاتیں، وہاں رات کو دریاں بچھا کر موسم کا مزہ لیتے۔ اس گھر میں ہمارے لئے سب سے اچنبھے کی جگہ وہاں کا ٹائلٹ تھا۔ جس میں دروازے کا تکلف ہنوز نہیں کیا گیا تھا۔ البتہ ایک پردہ ضرور ڈلا ہوا تھا۔ حاجت کشائی کے محض دو ہی راستے بچتے تھے۔ یا تو آپ موسیقی سے شغف رکھتے ہوں یا پھر آپ کے ہاتھ قانون جیسے ہوں جو پردہ کو کھسکا کر باہر آ سکیں اور آپ کے انہماک کی نشاندہی کر سکیں۔ دونوں میں سے کسی بھی وصف کی محرومی آپ کی ناموس پر حرف لانے کا سبب بن سکتی تھی۔ ہم کیوں کہ اس دیار میں اجنبی تھے، گلوکاری کا نہ تو ہنر تھا اور ہی ہمت، ہاتھ گو کہ پردہ کھسکا تو سکتے تھے لیکن عزت سادات ڈوبنے کے اندیشہ نے حتی الامکان ہمیں اس سعادت سے محروم رکھا۔
خالہ جان اور خالو جان محض نام کے ہی جان نہیں تھے۔ خالہ خاندان کے ہر بچے پر جان چھڑکتی تھیں اور خالو جان خاص کر چھوٹے بچوں سے خوب کھیلتے تھے۔ ہمارے بچپنے سے لے کر جوانی تک جتنی بھی خوشیاں اور خوبصورت لمحات ہیں، وہ سب خالہ جان اور ان کے بچوں کی بدولت ہی ہیں۔ ان کے گھر کی کوئی بھی تقریب ہو وہ ہم پردیسیوں کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ شادی کی تاریخ طے ہو رہی ہو تو امی سے پوچھا جاتا کہ کس مہینے میں آ پاؤ گی تا کہ اسی ماہ میں رکھیں۔ محبت کو اگر مجسم کیا گیا ہوتا تو وہ ہماری خالہ جان کے روپ میں ہی ہوتی۔ کیسے کیسے خزینے مٹی اپنی کوکھ میں چھپا لیتی ہے۔
ہم تو بہت چھوٹے تھے لیکن دن بھر ہمارے کزنز دلہن کو گھیرے رہتے۔ سب بچے ان کو آنٹی کہہ کر پکارتے۔ آنٹی قریبی بہادر یار جنگ گورنمنٹ بوائز اسکول میں معلمہ تھیں۔ اسکول میں سخت گیر شہرت کی حامل ہم لوگوں کے لئے تو ابریشم کی طرح نرم تھیں۔ ادب کی رسیا اور تہذیب کا اعلیٰ پیکر۔ اتنی شستہ اردو میں بات کرتیں کہ جی چاہتا کہ وہ بولتی رہیں اور ہم سنتے رہیں۔ ہماری کتاب دوستی کا سبب ان کا کتب خانہ ہی ہے۔
محبتوں کے ان پیکروں کے ہی درمیان راولپنڈی سے آئی ہوئیں ہماری سب سے بڑی خالہ بھی تھیں جن کو ہم کراچی پہنچنے سے پہلے تک ککا امی کہتے تھے۔ کراچی پہنچے تو ڈانٹتے ہوئے حکم صادر ہوا کہ تمام بچے ہم کو پپی کہتے ہیں۔ ہمیں یہی کہہ کر پکارا جائے۔ ہم نے جب یہ سنا تو گڑبڑا سے گئے کہ بھلا یہ کیا خطاب ہے۔ کچھ وقت ساتھ گزرا تو لگا کہ اس کے علاوہ ان کو کسی اور ٹائیٹل سے پکارنا ان کے ساتھ زیادتی تھی۔ ان سے ملے تو یہ کھلا کہ بزرگوں کی محبت میں اگر مقصدیت کا رنگ آ جائے تو بچوں کی زندگی بدل جاتی ہے کہ سفر کی ابتدا میں سمت کا تعین بہت ضروری ہوتا ہے۔ پپی ایک باوقار شخصیت کی حامل تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ ہم سب بچے اپنی اپنی قابلیت کے مطابق عروج پر پہنچیں۔ سستی اور کاہلی کو سخت ناپسند کرتی تھیں۔ خاندان کا کوئی بچہ ایسا نہ ہو گا جس کی پڑھائی میں انہوں نے کسی نہ کسی طور سے مدد نہ کی ہو۔ ان کا احسان ہم سب کی زندگیوں پر ہے۔ کسی کو نصابی کتابوں کی نئی گائیڈ ڈاک کے ذریعے بھجواتیں تو کسی سے انٹر میں داخلے کا فارم بھرواتیں۔ کوئی ان کے طعن و تشنیع سے بیزار ہو کر بی۔ اے میں ایڈمیشن لے رہا ہوتا تو کوئی نئی نوکری کو نبھانا سیکھ رہا ہوتا۔ دامے، درمے، سخنے پر ہی بس نہیں تھا، کسی کے میٹرک کا امتحان ہے تو اس کے بہتر نتیجے کے لئے تسبیح پڑھ رہی ہیں، کوئی انٹر کا سپلیمنٹری امتحان دے رہا ہے تو اسے ہدایات دے رہی ہیں کہ اس طرح تیاری کرو، خاطر جمع رکھو ہم تمھارے لئے تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ اس مرتبہ پیپر نکل جائے گا۔ میرپور آزاد کشمیر میں ایک عرصہ رہیں اور اپنی تنظیم دائرہ نو بہ نو کے ذریعے وہاں کے بچوں کو وہ پلیٹ فارم میسر کیا جو سینکڑوں بچوں کی زندگیاں بدلنے کا سبب بنا۔
شادی کے دن جیسے جیسے قریب آ رہے تھے، غل غپاڑہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ نوجوانوں کا انبوہ تھا جو کبھی ایک دوسرے پر فقرے کس رہا ہوتا، ہنسی ٹھٹھے لگا رہا ہوتا یا پھر ٹیپ ریکارڈر پر گانے لگا کر رقص کر رہا ہوتا۔ اسی طرح کی ایک محفل میں ہمارے کزن کے ایک انتہائی قریب دوست، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں گھرے، اعضا کی شاعری میں مصروف تھے۔ انگریزی موسیقی بلند آواز میں ماحول کو سوا کر رہی تھی۔ اس جوش میں ان کو خیال نہ رہا کہ انہوں نے کافی چست پتلون پہنی ہوئی ہے جو نوے درجے کے زاویے پر رومالی کی قربانی دیے بغیر نہیں اٹھائی جا سکتی۔ بے خیالی کی رو کبھی کبھار بہت گراں ثابت ہوتی ہے۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے حر بھائی کا جنہوں نے موقع کی نزاکت بھانپ کر فوراً ہی جیب سے رومال نکال کر رومالی کی لاج رکھ لی۔
ایک جانب کپاس بالوں والی خواتین پاندان کھولے سروتے سے چھالیہ کاٹ رہی ہوتیں تو دوسری جانب سفید کرتے پاجامے میں ملبوس ہمارے نانا اپنی زندگی کے واقعات سنا رہے ہوتے۔ ہمارے نانا کا تعلق آیرایاں سادات سے تھا۔ الہ آباد یونیورسٹی کے گولڈ میڈلسٹ تھے۔ انگریزی گرامر کے قواعد و ضوابط کی ان ان باریکیوں کو جانتے تھے جن سے شاید آج کل کے نیٹیو اسپیکر استاد بھی نابلد ہوں۔ اس دور میں جب مسلمان ریاضی کے مضمون میں کورے سمجھے جاتے تھے اور ہندوؤں کا طوطی بولتا تھا، وہاں یونیورسٹی میں اپنے ہندو پروفیسر کے چہیتے شاگرد تھے۔ گریجویشن کے بعد قانون کی تعلیم حاصل کی۔ پریکٹس نہیں کی کہ اندیشہ دروغ گوئی، رزق کی طہارت پر اثر انداز نہ ہو جائے۔ مقابلہ کا امتحان دیا جو کہ امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور یوں آئی۔ سی۔ ایس افسر بن گئے۔
تقسیم ہند ہوئی تو ڈھاکہ میں تعیناتی ہوئی اور یوں نقبی (نقوی) صاحب کہلانے لگے۔ سادہ منش آدمی تھے۔ ایک عام سے محلے میں رہائش اختیار کی اور زندگی گزرنے لگی۔ آفس سے واپس آتے، نماز، کھانا اور مختصر قیلولہ اور اس کے بعد ملنے والوں کا ایک تانتا سا بندھ جاتا۔ کوئی آفس کے کسی کام سے آ رہا ہے، کسی کو کوئی اور مسئلہ درپیش ہے تو کوئی کسی مشورے کے لئے۔ پچھلے دنوں ہمیں ہیوسٹن میں ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر ملے جن کا ڈھاکہ یونیورسٹی میں میڈیکل میں داخلہ نانا نے کروایا تھا۔ کہنے لگے بیٹا ہم روزانہ بلاناغہ تمھارے نانا کے پاس زانوئے ادب طے کرنے آتے تھے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب تمھاری نانی نے ہماری مہمانداری کے لئے محض چائے پر اکتفا کیا ہو۔ ہم جیسے شاگرد کے لئے بھی باقاعدہ ناشتہ لگایا جاتا۔
نانا اپنے پرویڈینٹ فنڈ کے لئے اپنی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ پیسے کٹواتے تھے کہ بڑھاپا میں سہولت ہو۔ ڈھلی ہوئی عمر میں، جھکی ہوئی کمر کے ساتھ ان کو حساب اور انگریزی کی ٹیوشن پڑھاتے دیکھا تو باور ہوا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی ایک حد سے زیادہ نہیں کرنا چاہیے۔ سقوط پاکستان کے بعد انہیں ایک اور ہجرت کا سامنا کرنا پڑا۔ عمر بھر کی کمائی ایک گھر ہی تو تھا، وہ بھلا کہاں سے ساتھ اٹھا لاتے۔ پینشن اور مراعات بھی یہاں واجبی سی مل پائیں۔ سلام ہو ان پر کہ ان کی زبان سے نہ کبھی شکوہ سنا اور نہ ہی اس شکوہ کی داستان جو میڈیکل سیکرٹری کی کرسی کی بدولت ان کو حاصل تھی۔ شکایت تو ہم نے کبھی اپنی ننا کی زبان سے بھی نہیں سنی۔ ان کی والدہ رباب متمول خاندان سے تھیں۔ بحیرہ سادات کا مرکزی بازار ان کے نام سے موسوم تھا۔ بچپنے میں گھڑ سواری کرنے والی لڑکی جسے گاؤں والے ”بٹی“ کہا کرتے، انڈین سروس کمیشنڈ افسر کی زوجہ بنی۔ پہلی ہجرت ان کے انداز زندگی پر بالکل اثرانداز نہ ہوئی کہ نقوی صاحب کا ٹرانسفر ڈھاکہ ہو گیا تھا۔ ساری عمر نوکروں سے کام لینے والی خاتون کو سقوط ڈھاکہ کے بعد کراچی آنا پڑا اور ضعیفی میں امور خانہ داری خود نبھانی پڑی تو جب بھی ان کے وقار اور رعب و دبدبہ میں چنداں کوئی فرق نہیں پڑا۔ ہاں البتہ آخری ایام میں ڈھاکہ سے ان کی ایک دیرینہ رسم و راہ والی خاتون جب اپنی بیٹی کے ہمراہ ان سے ملنے جیل روڈ آئیں اور ننا کو ایک چھوٹے سے گھر میں کام کاج کرتے دیکھا تو دھک سے رہ گئیں۔ ان کو دیکھ کر ننا کے چہرے پر جو رنگ آیا تھا اس رنگ کو نہ الفاظ میں ڈھالا جا سکتا ہے اور نہ ہی کینوس پر۔ ہجرت کا دکھ وہی سمجھ سکتا ہے جو اسے جھیل چکا ہو۔
آج، چار دہائیوں کے مستقل سفر کے بعد جب سستانے کے لئے ہم رک کے زندگی کو پلٹ کر دیکھ رہے ہیں، تو یہ ساری گزشت دیومالائی کہانی محسوس ہو رہی ہے۔
ماضی بلاشبہ دلفریب ہوتا ہے لیکن ہم سب یہ بھول جاتے ہیں کہ لمحہ موجود اس سے حسین تر ہے کہ اس کو کتنے دلکش ماضی میں بدلنا ہے، اس وقت اس کا اختیار، خود ہمارے پاس ہوتا ہے۔ زندگی کی لوح ہم سب کو کوری ملتی ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہوتا ہے کہ کتنا لکھیں اور کیسا لکھیں!



محض شکریہ
میں نے جانا کہ میرے دل کی ہی آواز تھی