کچھ جنوں کے بارے میں


انسانی کیفیات مختلف محرکات کا موجب ہوتی ہیں۔ یہ اندرونی و بیرونی تغیرات سے تشکیل پاتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ذرا سی بات جوار بھاٹا بن جائے اور سخت دباؤ کے باوجود ممکنہ ردعمل سامنے نہ آئے۔ اس کی بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی حالت قرار دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فوری ردعمل یا غیر معینہ مدت کے بعد جواب آں غزل کی پیشین گوئی ممکن نہیں ہے۔ ہر دو صورتوں میں محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جنوں کا تعلق ہسٹریا، ذہنی خلل یا پاگل پن سے ہرگز نہیں ہے۔ جنوں زیرِ زمین کونپل پھوٹنے کا عمل ہے۔ بیج پر اس دوران میں کیا گزرتی ہے، کوئی نہیں جانتا ہے۔ یہ عمل آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے اور کونپل سے پودا بننے کا دورانیہ غیر معمولی بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی موافق حالات اور سازگار ماحول پنپنے میں مدد دیتا ہے اور ناسازگار صورت اس عمل کو سست کر دیتی ہے۔ یہاں سازگار اور ناسازگار حالات خاص معنویت رکھتے ہیں۔ بہرحال جنوں کی دونوں حالتیں اگلے مرحلے میں انتشار، عدم اطمینان اور اعصاب شکن ثابت ہوتی ہیں۔ اس مرحلے سے گزرنا آسان نہیں ہے۔ بہت کم گریباں سلامت لے کر نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اکثر سر پر خاک، منھ پر راکھ اور برہنہ پا دکھائی دیتے ہیں۔ جنوں کی طاقت کمزور دل کو راندہ درگاہ بنا دیتی ہے۔ توانا دل جنوں کی طاقت سے مزید توانائی حاصل کرتا ہے اور وسعت اختیار کرنے لگتا ہے۔ ممکن ہے کہ ابتدائی مرحلے میں سخت دشواری پیش آئے مگر آہستہ آہستہ توانا دل سمندر کی مثال بن جاتا ہے۔ زیر آب بھونچال آتے ہیں، موجیں دست و گریباں رہتی ہیں، بھنور پڑتے ہیں لیکن سطح سمندر پر کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ جنوں زندگی کا قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ خیالات کو مہمیز لگتی ہے، اسرار وا ہوتے ہیں اور کشف کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس خاص کیفیت میں کسی کو شریک نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس کا اظہار بھی ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اس کی انتہا وجود سے بیگانہ کر دیتی ہے اور دیوانہ محض تصور کی سرشاری پر نازاں رہتا ہے۔

اُردو شاعری میں تنہائی اور جنوں کا خاص علاقہ دیکھنے میں آتا ہے۔ یعنی جنوں کا محرک تنہائی بنتی ہے اور محبوب کی عدم موجودگی وحشت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں شاعر جنگل و بیابان کی طرف بھاگتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک تنہائی کا علاج دوسری تنہائی میں ڈھونڈا جاتا ہے جو پہلی تنہائی سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ قید و بند اور زنجیر و سلاخ کو علاج جنوں گردانا گیا ہے۔

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

جنوں کے بارے میں ماہرین طب کا نقطۂ نظر دلچسپی کا حامل ہے۔ وکیپیڈیا میں لکھا ہے :

”جنون (mania / جمع: جنائن) کو طب نفسی میں ایک شدید مزاجی مرض کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے اور اس مرض کی نمایاں علامات میں ؛ انشرح (elation) ، اشتعال (agitation) ، فرط ہیجان (hyperexcitability) ، فرط سرگرمی (hyperactivity) اور خیالات و گمان کی آمد و پیداوار میں بڑھی ہوئی روانی کے ساتھ گفتار و کلام میں تیزی جیسی کیفیات شامل ہوتی ہیں۔ خیالات و گفتار میں تیزی و بے چینی کی کیفیت کو علم طب میں پروازِ افکار (flight of ideas) جیسی اصطلاح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔“

ایک زمانے میں محبت کو باقاعدہ مرض سمجھا جاتا تھا اور مریض کو کھانے پینے میں احتیاط کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ محبت اداسی کا سبب بنتی ہے اور مریض کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ جنون کی ہر حالت کا تعلق محبت سے نہیں ہوتا ہے۔ البتہ کلاسیکی شاعری میں ایسا ہی نظر آتا ہے۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اُردو شاعری میں جنوں کے بعد انسانوں کے درمیان رہنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ میر صاحب کہتے ہیں :

اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادہ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے

جادۂ صحرا سے سازش کا جواب نہیں، جنوں معتبر نہیں ہو سکتا ہے جب تک صحرا میں قیام نہیں ہوتا ہے۔ جنگل، صحرا، بیابان، ویرانہ، دشت وغیرہ تمام جگہیں جنون سے متعلقہ ہیں۔ حالت جنوں میں گھر اور شہر سے دور بھاگنے کا تصور عام ہے۔ لیکن غالب کے ہاں یہ تصور غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے۔

جنوں نے مجھ کو بنایا ہے مدعی میرا
ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے

میں اس شعر کے سحر میں مبتلا ہوں۔ جنوں کے ہاتھ میں گریباں دے کر غالب نے خود احتسابی کا احساس اجاگر کیا ہے لیکن ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو جنوں غالب کو عطا کیا گیا ہے اس سے کس حد تک استفادہ کیا گیا ہے یا جنوں کی نعمت کا کتنا حق ادا ہوا ہے؟ یہاں جنوں مقصد حیات کی غمازی کرتا ہے۔

اقبال کے ہاں جنوں اسرار و رموز کی بابت اشارہ کرتا ہے۔ کائنات کی پراسراریت میں ذات مطلق کا ادراک ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتا ہے اور جو حاصل کر لیتا ہے وہ کسی کو بتانے سے قاصر ہوتا ہے۔ جنوں یہاں غیر معمولی عرفان کا غماز ہے۔

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں

اُردو شاعری میں جنوں کی تعبیریں محض شاعرانہ تصورات نہیں ہیں۔ یہ گہری فلسفیانہ مباحث کی حامل ہیں۔ میر، غالب، اقبال تینوں شعرا کا تصور جنوں حد درجہ مختلف اور معنوی جہات رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنون کی تعبیریں متنوع ہیں اور اس کا دائرہ کار وسیع تر ہے۔

 

Facebook Comments HS