اس بازار سے سوشل میڈیا تک
لاہور ہمیشہ سے مغلوں کا پسندیدہ شہر رہا ہے۔ ظہیر الدین بابر نے 1524 میں لاہور پر قبضہ کیا اور یہ قبضہ بہت عرصے تک رہا، جہانگیر اور شاہجہاں کا دور لاہور کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ 1768 تک لاہور مغلوں کے قبضے میں رہا اور اس کے بعد لاہور سکھوں کی رعیت میں آ گیا اور رنجیت سنگھ پنجاب کا فرمانروا بن گیا۔ مغلوں نے لاہور میں بہت ساری تعمیرات کیں جس میں شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالا مار باغ اور بہت ساری عمارات مغلوں کی فنکاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 1849 سے 1947 تک لاہور انگریزوں کے قبضے میں رہا انگریزوں نے بھی لاہور میں کافی تعمیرات کیں جن میں لارنس باغ سرفہرست ہے جسے آج کل باغ جناح کا کہا جاتا ہے۔
مغلوں کے دور میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے شاہ عالم اور اکبری منڈی مشہور تھی، شاہ عالم مارکیٹ کو آج کل شاہ عالمی کہا جاتا ہے۔ اندرون لاہور میں مغلوں کے زمانے سے ہی فنکار اور سنگیت کار پائے جاتے تھے اور لاہور ثقافت اور فن کا مرکز تھا۔ یہاں پر بڑے بڑے فنکار، طوائفیں، کاریگر اور گویے رہا کرتے تھے۔ اس دور میں دربار سے منسلک ملازمین اور خدام بھی یہاں پر رہتے تھے چونکہ ان لوگوں کا تعلق بادشاہ سے تھا اس لیے اس محلے کو یا اس جگہ کو شاہی محلہ بھی کہا جاتا تھا۔ لاہور پر سکھوں کے قبضے کے بعد شاہی محلے کا نام رنجیت سنگھ کے ایک عزیز ہیرا سنگھ کے نام پر ہیرا منڈی پڑ گیا۔
قیام پاکستان کے بعد بھی یہ بازار ہیرا منڈی کے نام سے ہی مشہور رہا اور سمٹ کر بادشاہی مسجد سے متصل روشنائی دروازے کے اس پار آ گیا۔ گانے بجانے اور تسکین جسم و جاں کا دھندا بھی یہاں چلتا رہا۔ اس بازار نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو بھی بہت سی مشہور ہیروئنو ں کا تحفہ دیا، جن میں سے چند ایک تو عاشقین کی باہمی رقابت کا نشانہ بن کر قتل ہو گئیں۔ پھر اک روز عزت دار اکابرین کو خیال آیا کہ بھائی یہ ہیرا منڈی تو بہت بری جگہ ہے، اسے ختم کر دیا جائے اور یہاں پر لوگوں کے آنے جانے اور کھانے پینے کا بندوبست کر دیا جائے تو اس جگہ کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور جو بدنامی اس محلے کے حصے میں ہے وہ بھی دور ہو جائے گی اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔ یہاں کے باسیوں کو یہاں سے اٹھا دیا گیا اور پھر وہ لوگ پورے لاہور میں پھیل گئے، غلام عباس کے افسانے آنندی کی طرح یہ لوگ جہاں بھی گئے انہوں نے اپنی ایک دنیا وہاں بھی بسا لی اور ان کی قدردان اور مہربان تو ہمیشہ سے تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔
آج کل والڈ سٹی اتھارٹی کے زیر سرپرستی تاریخی رات کے عنوان سے ہر رات لوگوں کو روشنائی دروازے سے رکشوں میں بٹھا کر شاہی قلعے میں لے جایا جاتا ہے جہاں پر بادشاہ کو ڈرامائی طور پہ دکھایا جاتا ہے اچھا سلسلہ ہے راقم کو اس سفر میں کافی خوشگوار احساس ہوا۔
مگر دور جدید نے شاہی محلوں کو ایک نئی جہت عطا فرمائی ہے اب آپ کو عورتوں کو دیکھنے کے لیے کسی کوٹھے یا کسی بازار میں جانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ لوگوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ کام شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بنائی ہوئی ویڈیوز پر جس قدر ویوز آئیں گے اسی قدر ڈالر آنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے ڈالرز کی اس چکا چوند نے لوگوں کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ جو لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جن میں سر فہرست یوٹیوب ہے پر علمی اور ادبی مواد لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں ان کی طرف لوگوں کا رجحان بہت کم ہے، ہاں جو لوگ بنت حوا کو سامنے رکھ کر اپنے چینلز چلا رہے ہیں انہیں البتہ بہت زیادہ توجہ حاصل ہے اور وہ ڈالرز میں اپنی آمدن بھی بڑھا رہے ہیں۔
ہمدم دیرینہ نے یوٹیوب پر ایک چینل کھولا جس میں وہ مختلف کتب کا جائزہ پیش کرتے ہیں بڑا اچھا سلسلہ ہے اگر آپ کے پاس کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں تو 10 سے 15 منٹ کا یہ جائزہ دیکھ کر آپ کسی کتاب کے بارے میں بہتر جانکاری حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر کچھ عرصے کے بعد موصوف نے کہا کہ بھائی لوگ زیادہ متوجہ نہیں ہو رہے ہماری بات کی طرف۔ میرے چینل کے ویوز بہت کم ہیں جس پر میں ہنسا اور انہیں ازراہ مذاق کہا بھائی تمہارے اس گنجے سر بڑھی ہوئی توند کے ساتھ علمی کتابوں کے بارے میں گفتگو کون سنے گا؟ کچھ اسی طرح کے کلمات انہوں نے میرے بارے میں بھی فرمائے اور ہم دونوں ہنسنے لگ گئے۔ پھر میں نے انہیں ایک مشہور یوٹیوبر کے چینل کا لنک بھیجا جس کے فالورز لاکھوں میں تھے، موصوفہ کی خوبی سوائے جسمانی خد و خال کی دلکشی کے اور کچھ نہیں، کبھی وہ ٹیوب ویل پہ نہاتی نظر آتی تو کبھی وہ اپلے تھاپتے نظر آتی ہیں تو کبھی وہ بھینسوں کو چارہ ڈالتے نظر آتی ہیں مگر دوستوں نے ان کو ہزاروں کمنٹس، لاکھوں لائکس عطا کیے ہوئے ہیں۔
یوٹیوب کمائی کا اچھا ذریعہ ہے اگر اسے اخلاق کی حد میں رہ کے کیا جائے۔ لوگوں نے کیمرے کو اپنے بیڈ روم اور حتیٰ کہ باتھ روم کے اندر لے جا کے جس اخلاقی پستی کا مظاہرہ کیا ہے صرف اور صرف ویوز اور ڈالر حاصل کرنے کے لیے یہ بہت ہی نامناسب رویہ ہے۔ اور بری بات یہ ہے کہ یہ بات لوگوں میں راسخ ہوتی جا رہی ہے کہ اگر وہ خواتین کو سامنے رکھیں گے اور اپنے ذاتی لمحات کو زیادہ سامنے لائیں گے تو ان کو ویوز زیادہ ملیں گے اور پھر حسب توفیق ڈالر بھی زیادہ ملیں گے۔
غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کا یہ رجحان صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان، یورپ اور امریکہ میں بھی بہت مقبول ہو رہا ہے لوگ خواتین کے ساتھ مل کر ہیجان خیز ویڈیوز بناتے ہیں اور اب تماش بین چاہے کوٹھے کے ہوں یا سوشل میڈیا کے بہرحال وہ ان لوگوں کی کمائی کا ذریعہ ہیں، ہاں سوشل میڈیا کے تماشبین صرف وقت ضائع کرتے ہیں پیسہ کم ضائع کرتے ہیں مگر ان لوگوں کو بالواسطہ پیسہ ان کے ویوز سے مل ہی جاتا ہے
ویسے تو ان چینلز کی کوئی نہ کوئی پالیسی ضرور ہے کہ یہ ایک خاص حد تک ہی جنسی ہیجان خیزی دکھائی جا سکتی ہے مگر لوگ آخری حد تک جاتے ہیں جہاں تک اس چینل کی یا اس سوشل میڈیا کی پالیسی انہیں اجازت دیتی ہے۔ نوجوانوں میں ٹک ٹاک، فیس بک، اور دوسرے چینلز پہ ریل بنانے کا جو ایک خاص رجحان پروان چڑھا ہے یہ خطرناک ہے، بالخصوص بچیاں اور خواتین جس طرح سے اپنے نمائش کر رہی ہیں یہ معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے اللہ تعالی ہمیں ایسے مزید فتنوں سے بچائے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی سوشل میڈیا کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔


