ڈاکٹر خالد ظہیر اور اویس اقبال کے مابین مکالمہ
عوام بھیڑوں کے ایک ریوڑ کی مانند ہوتے ہیں جو زیادہ تر ناک کی سیدھ میں چلنے کے عادی ہوتے ہیں، اس ہجوم میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہجوم سے ہٹ کر مختلف زاویوں سے سوچنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مثلاً مذہب ایک ایسا پہلو ہے جس پر زیادہ تفکر و تدبر نہیں کیا جاتا، ماں کی گود میں جو مذہب نصیب ہو جاتا ہے اکثریت اسی پر کاربند رہتی ہے، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شعوری طور پر کسی مذہب کو اپناتے ہیں۔ جو جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے اسی تک محدود رہتا ہے، دنیا کے دوسرے مذاہب کے لوگوں طرح اپنے اپنے مذہب کے متعلق سب ایک سا سوچتے ہیں، ہر مذہب کا شخص اپنے مذہب کو ایک آفاقی سچائی کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسی بندوبست کے تحت باقی کی زندگی بسر کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
سائنسی عروج کے بعد روایتی فکر علم الکلام کے دائرہ کار میں داخل ہوئی تو کچھ ایسی مذہبی شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے مذہب کو عقلی بنیادوں پر پیش کرنے کی سعی کی۔ ان شخصیات میں جنہوں نے متاثر کن کردار ادا کیا ان میں جاوید احمد غامدی سر فہرست ہیں، انہوں نے مذہب کو جدید فہم سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنے تئیں مخلصانہ کاوشیں کیں لیکن کلام کی عقیدے سے راہیں جدا نہیں کروا سکے۔ مذہب ایک عقیدہ ہے اور اندھا یقین اس کا جزو لاینفک ہے، جبکہ علم لمحہ بہ لمحہ بدلتا ہوا ایک مظہر ہے، عقیدہ میں یقین کی صورت میں ٹھہراؤ ہوتا ہے جبکہ علم ایک بحر بے کنار کی مانند بدلتی ہوئی حقیقت کا نام ہے۔
ایک جامد حقیقت بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ کیسے متعلقہ یا ہم آہنگ رہ سکتی ہے یہ چیلنج ہر دور کی مذہبی فکر کو درپیش رہا ہے اور آج بھی ہے۔ فکر غامدی کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی دو شخصیات، ایک کا نام ڈاکٹر خالد ظہیر اور دوسرے کا نام اویس اقبال ہے، کے مابین ایک علمی مکالمہ ہوا۔ ڈاکٹر ظہیر تو ابھی بھی غامدی کیمپ کا حصہ ہیں لیکن اویس اقبال تشکیکی راہوں پر گامزن ہیں اور غالباً اگناسٹک فکر کا حصہ بن چکے ہیں اور تشکیکی راہوں پر چلتے ہوئے مذہبی فکر پر سوالات اٹھاتے رہتے ہیں جو کہ خاصے چیلنجنگ ہوتے ہیں اور ان کا جواب دینا ایک روایتی مولوی کے بس کی بات تو بالکل بھی نہیں ہے۔
ڈاکٹر ظہیر اور اویس اقبال کے مابین بہت دلچسپ مکالمہ ہوا، جو ایک طرح سے الحاد اور روایتی فکر کے درمیان ایک طرح کا ٹاکرا تھا۔ جس میں خاصی چیلنجنگ باتیں ہوئیں اور ڈاکٹر ظہیر نے انتہائی خوبصورت انداز میں گفتگو فرمائی اور کشادہ ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اویس کی تیشہ دھار باتوں کا عقلی جواب دینے کی سعی کی۔ لیکن شاید روایتی فکر ذہنی و فکری انقلاب کے سامنے بے بس یا تہی دامن ہے، اس فکر کے دامن میں جذباتی میٹریل تو خاصا موجود ہے جو ایک مذہبی ذہن کو تو مطمئن کر سکتا ہے لیکن ایک متشکک کو مطمئن کرنے سے قاصر ہے یا ایک ایسا شخص جو مذہب کو عقلی بنیادوں پر سمجھنا چاہے اسے عقلی طور پر مطمئن کرنے کے لیے اس فکر کے پاس کوئی خاص سپورٹنگ بیس یا بنیاد نہیں ہے۔
روایتی فکر کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور منقول کے دائرہ کار سے باہر نہیں نکل سکتی جبکہ جدید فکر کا دائرہ سائنس کی بدولت خاصا کشادہ ہو چکا ہے جو عقیدہ پر سوال کا وار کرتا ہے اور سوال کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ یہ اپنی نوعیت میں بے باک ہوتا ہے اور عقلی بنیادوں پر تشریح و توضیح کا مطالبہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر ظہیر کی گفتگو زیادہ تر ذاتی تجربات و فہم اور پہلے سے موجود پیمانوں کے گرد ہی گھومتی رہی، ایموشنل بیسڈ اور انداز تخاطب زیادہ تر ناصحانہ تھا۔ جیسے ہی اویس کسی مذہبی پوائنٹ پر عقلی دلیل کا مطالبہ کرتے تو ڈاکٹر ظہیر بڑی عاجزی سے اپنی معذوری کا اظہار کرتے ہوئے پیچھے ہٹ جاتے۔
مجموعی طور پر اگر روایتی بیانیے کو دیکھا جائے تو یہ زیادہ تر انسانوں کے جذبات کو چھونے کی کوشش کرتا ہے، جذبات اور عقیدہ کا گہرا سمبھند ہوتا ہے، جب یہ مل کر ایک ہوتے ہیں تو عقل اور دلیل دامن جھاڑ کر وہاں سے رخصت ہو جاتی ہے۔
اس فکر سے منسلک جتنے بھی سریلے علماء ہیں بھلے ان میں مولانا طارق جمیل ہوں یا ناصر مدنی سب جذباتیت کے پہاڑ کھڑے کرتے ہیں اور ان کی گفتگو زیادہ تر انسانوں کی ایموشنل بیئنگ پر ضرب لگاتی ہے۔
ڈاکٹر ظہیر ہوں یا جاوید غامدی بھلے جتنی مرضی جدیدیت کا سہارا لے لیں لیکن ایک بات پر ان سب کا اتفاق ہے کہ حقیقت تک رسائی کے لیے ”لیپ آف فیتھ“ کی ضرورت ہوتی ہے، عقل کبھی بھی دانائی کل سے نہیں ملا سکتی۔ خالی خولی عقل و شعور تو گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔
مذہب اگر عقیدہ کے دائرے میں رہ کر افراد کی روحانی و ذہنی اصلاح و تزکیہ کرے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن جب کوئی روایتی فکر کو عقلی لبادے میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ روایتی فکر کو جدیدیت کے لبادے میں پیش کرنے والے یہ لوگ جن میں جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر ظہیر، احمد جاوید اور محمد دین جوہر شامل ہیں یہ سب باتیں تو خاصی لوجیکل کرتے ہیں لیکن عقل کو کلی امام تسلیم کرنے سے بھی گریزاں رہتے ہیں، شاید بھٹکنے سے ڈرتے ہیں۔
اسی لیے ڈاکٹر خالد ظہیر نے اویس اقبال کے ساتھ مکالمے کے دوران گہرے پانیوں میں اترنے سے گریز کیا اور عقائد کے دائرے میں رہتے ہوئے اویس کو وعظ و نصیحت کرنے پر اکتفا کیا۔



سوا گھنٹے کی ویڈیو میں پہلے بیس منٹ حوصلے سے دیکھا۔ اویس اقبال ایک تمیزدار اور مہذب لڑکا ہے جس کو سوال کے جواب جاننے کی بھوک ہے۔ سوال بے شک مشکل نہیں ہیں۔
ایسے کا لم کو لکھتے ہوئے بہتر ہوتا ان سوالات کو تحریر کردیا جاتا تو تشنہ رہ گئے ہوں یا جن کے جواب مطلوب ہوں۔
اسلام تو شروع ہی پڑھ اور جاننے سے شروع ہوتا ہے۔
پہلے بیس منٹ میں 3 سوال تھے جن کے جواب یقینا اویس کو نہیں مل سکے ہونگے
ورقہ بن نوفل یا ابوطالب بن عبدالمطلب نے اسلام کیوں قبول نہیں کیا ۔ ام ہانی کا عقد اور اللہ تعالٰی کو زمان مکان اور وقت کے حوالے سے دیکھنا۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ میں تمام سوالات کا جواب رکھتا ہوں اس لئے بیس منٹ کے بعد دیکھنا وقت کا ضیاع جانا۔
ڈاکٹر خالد کیوں ان کے قابو میں آئے یہ ان کا مسئلہ ہے۔ بہتر ہوتا خالد صاحب کی بجائے غامدی صاحب کو لیا جاتا۔ نئے سوال کا جواب دینا
طارق جمیل ذاکر نائیک یا خالد ظہیر جیسوں کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
مجھے تو خود سوال کے جواب کی بھوک ہے۔ اور جسے بھوک ہو رزق بھی اسے ہی تلاش کرنا ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ لکھاری کی اپنی حیثیت کیا ہے۔ ایک اسلام بیزار شخص جو آئے دن کسی نہ کسی کی پھب اڑانے کے لئے لکھتا ہے۔ مجھے نہیں پتہ یہ صاحب جو خود کو خالد سہیل کا عقیدت مند قرار دیتا ہے فی الوقت مسلمان ہے یا خالد صاحب کی طرح مذہب بیزار شخص۔
جناب محترم ڈاکٹر خالد ظہیر صاحب ایک عالم فاضل انسان ہیں لیکن مناظرہ یا منطق ان کے علم کی تخصیص نہیں ہے۔ ان کا اقبال اویس صاحب کے ساتھ مناظرہ کروانا ایسے ہی ہے کہ جیسے اپ ایک اکنامکس کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر کو ہارٹ سرجری کے لیے کھڑا کر دیں۔جیسے پاکستان کے ایک سابق سیاستدان نے فرمایا تھا کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے ایسے ہی اپ کہیں کہ ڈاکٹر تو ڈاکٹر ہی ہوتا ہے۔
Agreed thats why I said that its illogical to ask such Qs from him