شہناز اور مصطفیٰ زیدی کی کہانی


یہ نصف صدی سے پہلے کا قصہ ہے۔ جب اخبارات اور ریڈیو ہی ہماری معلومات کا ذریعہ ہوا کرتے تھے اور میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو صبح صبح اخبار نہ پڑھ لیں تو ان کا دن ہی نہیں شروع ہوتا تھا۔ اور تب ہی ایک روز حریت اخبار میں ایک خبر پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ مشہور شاعر مصطفیٰ زیدی اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے اور اسی فلیٹ میں شہناز گل نامی ایک خاتون بے ہوش پڑی ملیں۔ حریت اخبار نے تو مصطفیٰ زیدی کے بارے میں ایک تصویری ضمیمہ بھی شائع کیا۔ خاندان والوں اور احباب پر جو گزری سو گزری، ہم جیسے اخباری قارئین بھی اس قصے سے ایسے جڑے کہ کبھی باہر نہیں نکل پائے۔

ابتدا میں یہی کہانی سننے میں آئی کہ شہناز نے مصطفیٰ زیدی کو زہر دے کر مارا ہے۔ ہماری ایک دوست کے ماموں جن کا اٹھنا بیٹھنا اسی حلقے میں تھا، نے یہ بات سن کر کہا تھا کہ شہناز کو کسی مرد کو زہر دینے کی کیا ضرورت ہے، وہ اتنی خوب صورت ہے کہ وہ جس مرد کو بھی کہے گی کہ زہر کھا لو تو وہ کھا لے گا۔ بہر حال شہناز کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، بعد میں اسے رہائی مل گئی تھی۔ ہماری سہیلیوں کو جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ شہناز کے شوہر سلیم کا رویہ تھا جس نے اس سارے معاملے میں اپنی بیوی کا مکمل ساتھ دیا، اور اس رشتے کو آخر تک نبھایا۔ ذاتی طور پر مجھ پر یہ اثر ہوا تھا کہ میں نے ذوق و شوق سے مصطفیٰ زیدی کی شاعری کا مطالعہ شروع کر دیا اور ان کی شاعری کے سارے مجموعے پڑھ ڈالے۔ کیا غضب کی شاعری تھی۔

جس فلیٹ میں یہ واقعہ رونما ہوا، اس کے بارے میں انہوں نے لکھا تھا:

وہ جس کے در ناز پہ جھکتا تھا زمانہ
آتی تھی بڑی دور سے چل کے اسی گھر میں

ان کا ایک اور مشہور شعر بھی اسی فلیٹ تک آنے والی ٹوٹی پھوٹی سڑک کے بارے میں تھا:

ان ہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفیٰ زیدی کی وفات کے بعد بہت سے شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں نے ان کے بارے میں بہت اچھے مضامین لکھے، مجھے سب سے زیادہ اچھا مضمون مسعود اشعر کا لگا تھا، دونوں اچھے دوست بھی تھے۔ مصطفیٰ زیدی بیورو کریٹ بھی تھے، ملتان اور کہیں اور بھی شاید ڈپٹی کمشنر بھی رہے۔ لیکن ہم اچھی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک حساس، ذہین اور دانشور شاعر کا خود کو پاکستان کے نوآبادیاتی طرز پر چلنے والے افسر شاہی کے سسٹم میں فٹ کرنا کتنا مشکل رہا ہو گا۔ لکیر کے فقیروں نے ان کے لئے مشکلات بھی کھڑی کیں اور ان کو ملازمت سے معطل بھی کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ان کے لئے بہت تکلیف دہ رہا ہو گا۔ اخبارات و جرائد کے ذریعے ہی ان کی جرمن بیوی ویرا بھابھی اور بچیوں سے ایک قاری کی حیثیت سے غائبانہ تعلق بنا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے آج یہ ساری باتیں کیوں یاد آ رہی ہیں تو اس کی ذمہ دار صبا امتیاز اور طوبیٰ مسعود ہیں جنہوں نے پانچ سال ریسرچ کرنے کے بعد اس سارے قصے کے بارے میں۔ ”سوسائٹی گرل۔“ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ مجھے اس کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کا موقع ملا۔ مصنفین، اینکر اور شرکا کے سوالات سن کر بہت کچھ یاد آ گیا۔ کتاب پڑھنے کے بعد اس پر تفصیل سے لکھوں گی اس وقت تو صرف اتنا بتاتی چلوں کہ صبا امتیاز ایک فری لانس رائٹر اور ریسرچر ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایک ناول ”Karachi، you are killing me۔“ لکھ چکی ہیں۔ جس پر 2017 میں ہندوستان میں ”نور“ کے نام سے ایک فلم بھی بن چکی ہے جس میں مرکزی کردار سوناکشی سنہا نے ادا کیا تھا۔

صبا کلچر، فوڈ، مذہب اور شہری زندگی کے بارے میں لکھتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان، افغانستان، اردن اور لبنان سے فیچر رپورٹنگ بھی کی ہے۔ وہ کراچی میں پلی بڑھی ہیں اور یہاں انہوں نے فل ٹائم رپورٹر، ٹی وی شو میزبان، ریڈیو پروگرامز کے ساتھ گارجین، اور بی بی سی وغیرہ کے لئے بھی لکھا ہے۔ وہ ایک پوڈ کاسٹ ”نوٹس آن اے اسکینڈل“ کی شریک میزبان اور شریک پروڈیوسر ہیں۔ وہ نیدر لینڈ میں رہتی ہیں۔ طوبیٰ مسعود کراچی میں رہتی ہیں۔ وہ کمیونیکیشن اسپیشلسٹ اور فری لانس صحافی ہیں۔ وہ تیرہ سال سے پاکستان کی مختلف نیوز میڈیا آرگنائیزیشنز میں کام کر رہی ہیں۔ وہ قومی اور بین الاقوامی چینلز اور اخبارات کے لئے رپورٹنگ بھی کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے الجزیرہ، ایل اے ٹائمز کے لئے بھی کام کیا ہے۔ وہ انتخابات کی کوریج، کراچی کی تاریخ، اور بلڈنگ ریگولیشنز کے بارے میں لکھتی رہی ہیں۔

ان کی کتاب کے ٹائٹل پر شہناز گل کی تصویر اور مصطفیٰ زیدی کا مشہور ترین شعر درج ہے :

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

Facebook Comments HS

One thought on “شہناز اور مصطفیٰ زیدی کی کہانی

  • 25/11/2024 at 11:23 صبح
    Permalink

    بہت معذرت کے ساتھ
    میں کسی بھی مشہور شخص کی ذاتی زندگی جو بادی النظر میں گناہ کا تذکرہ کرتی ہواس کے چٹخارے لے کر بیان کرنے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اور مرنے کے بعد تو ناممکن ہے کہ ان معاملات کو بیان کیا جائے کہ اب بحیثیت مسلمان یہ ان کے اور اللہ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ زندگی میں بھی ایک حد تک بات کی جاسکتی ہے کہ پردہ رکھنا ظاہر کرنے سے بہتر ہے۔
    ہم آج تک یحیی کو بادہ نوشی اور خواتین سے تعلقات پر مطعون کرتے ہیں۔ اب اس کی موت کے بعد اس کے انتظامی بلنڈرز کی بات تو کی جاسکتی ہے اس کے گناہوں کی نہیں۔
    شہناز سلیم اور مصطفی زیدی پر ہی کیا موقوف کیا ضروری ہے کہ ادیب شعرا سیاست دانوں اداکار گلوکار اور کھلاڑیوں کو ان کے پروفیشنل کارناموں کی بجائے شراب نوشی یا کسی اور گناہ کی وجہ سے یاد کیا جائے جب کہ اب مرنے کے بعد انہیں اچھے ناموں اور کاموں سے یاد رکھنا ضروری ہوتا ہے

    اچھا شاعر بہت حساس شخص ہوتا ہے چاہے وہ فیض ہو، فراز ہو یا منیر نیازی۔۔ اور تو اور نصرت فتح ہو یا صادقین۔
    مصطفی زیدی ہو ناصر کاظمی ہو ساغر صدیقی یا شکیب جلالی اور خود جان ایلیا ہو مرزا غالب یا میر تقی میر
    ان سب نے جگر یا گردوں کے ناکارہ ہونے پر ہی مرنا تھا۔ (پھیپھڑوں والے اس کے علاوہ ہیں)

    کیا کسی کے علم میں ہے کہ پروین شاکر جب کسٹمز افسر کے طور پر کراچی میں تعینات تھیں کئی اہم لوگوں اور ایک تاجر "SB” سے ان کے تعلقات تھے۔ اور وہ شخص آخر وقت شادی سے انکار کرتا رہا۔ تو کیا پروین کو ان معاشقوں کی وجہ سے آج یاد رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہرگز نہیں۔

    ابن انشا ہوں۔ یا اوپر جتنے نام لکھے ساتھ منٹو جالب اور استاد دامن بھی لگالیں یہ سب بلا کے مہ نوش تھے۔ تو کیا !
    آج بھی ایک بڑی تعداد پیتی ہے۔ پھر !
    اور جب دختر انگور سر پے چڑھی ہو تو کوئی گناہ گناہ نہیں رہتا۔

    شکیب جلالی نے محض 32 سال کی عمر میں ٹرین کے سامنے آکر خودکشی کرلی تھی۔ کیوں۔
    کیا اختر شیرانی اور منٹو کے اسکینڈل کم ہونگے اگر ہم ان کے گناہ گننے شروع ہوجائیں۔
    آج کی متعدد مشہور خواتین چاہے فنون لطیفہ سے ہوں یا سیاست سے ۔ ان کے اسکینڈل (یا گناہ) کا تذکرہ کون سا مشکل ہے لیکن اصل مشکل کام اور عقل یہ ہے کہ ان پر بات نہ کی جائے۔ بالخصوص اگر وہ مرچکے ہوں اور اب اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے۔

Comments are closed.