سرکاری اسپتالوں کا ایمرجنسی اسٹاف قابلِ تعریف ہے
پچھلے دو عشروں سے ملکی حالات کچھ ایسے رُخ چلے کہ خاص و عام صبر کی بیش قیمت نعمت سے محروم ہو گیا۔ یہ مجھ اکیلے کا ہی نہیں بلکہ آپ کا بھی مشاہدہ ہو گا! اپنے گرد و پیش، گھروں، گلی محلّوں، آس پڑوس، بازاروں، سنیماؤں، ریلوے اسٹیشنوں وغیرہ، جہاں دیکھئے یہ محرومی نظر آتی ہے۔ کبھی ہم خود بھی جذبات کی رو میں بہتے ہوئے اس کے فریق بن جاتے ہیں۔
اس فہرست میں ایک نام شامل نہیں وہ ہے سرکاری اسپتال اور خاص طور پر اُس کا شعبہ ایمرجنسی یا شعبہ حادثات۔ نام ہی ظاہر کر رہا ہے کہ یہاں ہنگامی صورتِ حال والے مریض لائے جاتے ہوں گے۔ بجلی، گیس، پانی، مختلف سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کے ستائے ہوئے عوام کا اصل امتحان یہی سرکاری اسپتالوں کا شعبہ ایمرجنسی ہے۔ وہ پولیس اور سرکاری افسران کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے کیوں کہ اُن پر عوام کا زور نہیں چلتا۔ اب جب وہ اپنے کسی مریض کو سرکاری اسپتال کے شعبہ حادثات میں لاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ تمام تر عملہ صرف اِن کے مریض کی دیکھ بھال پر جُت جائے۔ ایمرجنسی میں ان کے مریض کی طرح یا اُس سے زیادہ تشویش ناک حالت میں کتنے مزید مریض موجود ہیں وہ نہیں سوچتے۔ مریض کی حالت بہت خراب تھی تب ہی تو ایمرجنسی میں لایا گیا۔ اب اگر اُس کا وقت پورا ہو گیا تو اسپتال کی توڑ پھوڑ اور عملے پر تشدد بلا جواز ہے۔ ایسی خبریں جب اخبارات میں شائع ہوتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کاش! عوام اس سخت گھڑی اپنے صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
اس تمہید کے بعد اصل موضوع کی جانب آتا ہوں۔ کچھ عرصہ اُدھر، میرے سوا سالہ نواسے کو لاہور میں واقع سرکاری اسپتال ’سر گنگا رام اسپتال‘ کی بچوں کی ایمرجنسی میں لے جانا پڑا۔ ہم وہاں تقریباً سوا بجے دِن پہنچے اور رات 10 بجے واپسی ہوئی۔ میں نے خود وہاں کے ڈاکٹروں، نرسوں، ٹیکنیشن، پرچی بنانے والوں، اور بلا شبہ تمام اسٹاف کو کام کرتے دیکھا۔ ایمرجنسی میں پہلے ہی ایک 15 ماہ کی بچی کو اس کے گھر والے بہت تشویشناک حالت میں لائے ہوئے تھے۔ میں تو اندر نہیں تھا لیکن وہاں سے اسٹاف اور خود بچی کے عزیز آ جا رہے تھے۔ بچی کے اندرونی اعضاء کام چھوڑ رہے تھے۔ ڈاکٹروں نے 4 گھنٹے جان بچانے کی ہر طرح کوشش کر ڈالی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اسی دوران ایمرجنسی میں اور بھی چھوٹے بڑے بچے آ رہے تھے۔ پرچیاں بن رہی تھیں اور صفائی کا عملہ بھی مستعدی سے اپنا کام کر رہا تھا۔
اس خاکسار نے مجموعی طور پر بچوں کی اس ایمرجنسی کے عملے کا مشاہدہ کیا وہ قابلِ تعریف ہے۔ ہمارے ہاں ہر ایک چیز پر صرف تنقید ہی کی جاتی ہے۔ اِن 9 گھنٹوں میں، میں نے ڈاکٹروں کو ایمرجنسی سے باہر آتے نہیں دیکھا۔ یہی حال نرسوں کا تھا۔ حتیٰ کہ باہر کاؤنٹر پر پرچی بنانے والی خاتون، صفائی کا عملہ، اور دیگر اسٹاف کو فالتو بیٹھے، سستاتے، چائے پیتے یا گپیں ہانکتے نہیں دیکھا۔ بے شک تشویشناک حالت میں لائے گئے مریض، ڈاکٹروں اور ایمرجنسی کے عملہ کے ہاتھوں اللہ کے ’اذن‘ سے بہتر ہوتے ہیں لیکن کبھی اللہ کی مشیت ان کے اچھا نہ ہونے میں ہو تو بسا اوقات عوام وہ کر ڈالتی ہے جس کا انہیں بعد میں افسوس بھی ہوتا ہو گا۔
میں نے گنگا رام اسپتال کی بچوں کی ایمرجنسی میں لگا تار چھوٹے بڑے مریض بچوں کو آتے دیکھا۔ میری موجودگی میں ایک چھوٹی بچی زندگی کی بازی ہار گئی۔ اس بچی کے ماں باپ اور آئے ہوئے عزیزوں پر کیا قامت بیتی ہو گی؟ ایک اور بے حد نازک صورتِ حال اندر درپیش تھی۔ بیسیوں نسبتاً کم ایمرجنسی کیس الگ!
مجھے بتایا گیا کہ شعبہ ایمرجنسی کے ڈاکٹر صبح 8 بجے سے اگلی صبح 8 بجے تک چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔ میں نے اُس دن یہاں 9 گھنٹے گزارے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسپتالوں کے شعبہ حادثات کے ڈاکٹروں کی ڈیوٹی بھی چوبیس گھنٹے ہی ہوتی ہے۔ البتہ ایک فرق یہ ہے کہ سرکاری اسپتال میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اب سرکاری اسپتالوں کے شعبہ حادثات /بچوں کی ایمرجنسی وغیرہ میں ڈاکٹر اور طبی عملہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کیوں دیتا ہے؟ مجھے علم نہیں! لیکن کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ شعبہ ایمرجنسی میں ڈاکٹروں سے چوبیس گھنٹے کام لینے میں کیا مصلحت ہے؟ کیا طِب کے علاوہ کسی اور سرکاری شعبے کے افراد بھی چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں؟ وہ بھی اتنا نازک ترین کام! میں تو اسے موت کے جبڑوں سے زندگی چھین لانے کا کام کہوں گا! کیا چوبیس گھنٹے کام لینا ڈاکٹروں کے ساتھ زیادتی نہیں؟ کیا ہمارے ملک میں ڈاکٹروں کی کمی واقع ہو گئی ہے یا ایک بڑی تعداد ملک سے نقلِ مکانی کر گئی ہے؟ کیا صوبائی اور مرکزی وزارتِ صحت کے ذمہ داران، شعبہ حادثات میں ڈاکٹروں کے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کو جانتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر اس کا تدارک کیوں نہیں کرتے؟
بچوں کی ایمرجنسی میں خواتین ڈاکٹر بھی تھیں۔ ان کی بھی تو گھریلو ذمہ داریاں ہوتی ہوں گی؟ ایمان داری سے کہتا ہوں کہ مجھے تو سر گنگا رام اسپتال کے بچوں کی ایمرجنسی میں ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف، ٹیکنیشن، صفائی عملے اور تمام ہی شفٹ کے یوں کام کرنے پر رشک آیا۔ کیا یہ اکیلے میں نے ہی دیکھا؟ نہیں نہیں! ایک عالم نے دیکھا! ڈاکٹروں کی اُن بچوں کی زندگیاں بچانے کی ان تھک کوشش کرنا جو ابھی بولنا یا اپنا آپ سمجھانا ہی نہیں جانتے، زبردست قابلِ تحسین کام ہے۔ نہایت افسوس اور شرمندگی سے لکھنا پڑتا ہے کہ بجائے تعریف کے دو بول کہنے کے اُلٹا اِن پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا! یہ تو ایک مثال ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے چھوٹے سرکاری اسپتالوں کے شعبہ حادثات کا طبی عملہ اسی طرح کا ہو گا۔
میں نے ملک کے بعض نامور تخلیق کاروں کی جوتیاں سیدھی کی ہیں لہٰذا وثوق سے کہتا ہوں کہ جو کام تروتازہ ذہن سے کیا جائے وہ خوب تر ہوتا ہے۔ تو پھر کتنا اچھا ہو کہ شعبہ ایمرجنسی کے ڈاکٹر بھی دیگر سرکاری محکموں کی طرح آٹھ گھنٹے کی شفٹ کریں۔


