لاوارثوں کا وارث


آج کا دن اس شخص کے نام جو کہنے کو تو انسان ہے لیکن صفات فرشتوں والی۔ میں نے اپنی زندگی میں اس شخص کو انسانیت کی خدمت پر ہی دیکھا اور میرے لیے یہ باعث فخر ہے کہ میں نے اس شخص کے سائے میں کام کیا اور اس کی تعلیمات سے انسانیت کی عظمت کو جانا۔ جس کے ایک قول نے میری زندگی بدل کے رکھ دی کہ دنیا میں انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں۔ ہاں جی میری مراد مسیحا انسانیت عبدالستار ایدھی ہیں۔

ایدھی وہ شخص ہے جس نے اپنی زندگی تو انسانیت کے نام کی تھی بلکہ مرنے کے بعد بھی اپنا لاوارث اور بے جان جسم بھی انسانیت کے نام کر دیا تھا۔ ایدھی نام ہے وفا کا جس نے انسانیت سے وفا کی، ایدھی نام ہے اس درخت کا جس کے سائے میں آج بھی ہزاروں لاوارث، بے سہارا اور یتیم بچے بچیاں فیض یاب ہو رہے ہیں۔ ایدھی نام ہے محب الوطنی کا جس نے دنیا کے کئی ممالک کی امداد اور شہریت کو ٹھکرا کے اپنی مٹی سے وفا کی۔ ایدھی نام ہے شفقت پدر کا جس کا نام ان ہزاروں لاوارث بچوں بچیوں کی ولدیت کے خانے میں لکھا ہے۔ اگر ایدھی کے مقام و مرتبے کا تعین کرنا ہے تو خدائے بزرگ و برتر کے اس ارشاد پہ نظر ڈالیے کہ جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اس نے پوری نسل انسانیت کی جان بچائی، ایدھی نے تو پوری نسل انسانیت کو بچایا ہے۔

28 فروری 1928 کو بنٹوہ گجرات میں پیدا ہونے والے عبدالستار ایدھی نے رسمی تعلیم صرف دو جماعتیں پاس کیں اور بیسیوں عالمی اور مقامی اعزازات اپنے نام کیے۔ اور ان سے حاصل ہونے والی رقم ایدھی فاونڈیشن کے نام کی۔ ایدھی فاونڈیشن کا نام دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس میں آتا ہے۔ جب ایدھی نے جھولا سروس شروع کی تو مذہبی شدت پسندوں نے ایدھی کے خلاف طوفان بدتمیزی کی اک مہم شروع کر دی لیکن ایدھی نے ان سب باتوں کی پرواہ کیے بغیر اپنا مشن جاری رکھا۔

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

اگر کسی نے انتظامی امور کی اعلیٰ مثال دیکھنی ہو تو ایدھی فاونڈیشن دیکھے۔ قیام پاکستان کے وقت بھارت سے چلنے والے نوجوان ایدھی نے باچاخان سے متاثر ہو کر ملیشیا کے کپڑوں کے دو جوڑوں میں پوری دنیا میں کامیابی، حکمت عملی اور انتظامی امور میں پوری دنیا میں اپنے جھنڈے گاڑ دیے۔ جس طرح موت آنے سے پہلے انسان سے اس کا دھرم نہیں پوچھتی اسی طرح کسی بے سہارا کو سہارا دینے سے پہلے اور لاوارث کی لاش اٹھانے سے پہلے ایدھی فاونڈیشن اس انسان کا دھرم اور ذات نہیں پوچھتی۔ Angel of Mercy یہ ایدھی کا وہ خطاب تھا جس پہ ایدھی صاحب پورا اترتے تھے جب بے رحم معاشرہ کسی مظلوم انسان کا بے رحمانہ قتل کر کے اس کی لاش کو کہیں پر پھینک دیتے تھے تو اس وقت ایدھی ہی رحمت کا فرشتہ ثابت ہوتے تھے اور ان لاوارث لاشوں کو غسل دے کہ تدفین کا بندوبست کرتے۔ میں بحیثیت ایک سیاسی کارکن اور سماجی کارکن اپنی ریاست ماں کے آگے اک گزارش رکھتا ہوں کہ بہتر طرز حکمرانی کے لیے ایدھی فاونڈیشن کے ماڈل کو ایک سرکاری ادارے کی حیثیت دی جائے جس سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں مملکت خداداد کا مثبت اور روشن چہرہ عیاں ہو گا بلکہ ایک عام شہری کی زندگی میں واضح مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔

آخری ایام میں ایدھی نے بیرون ملک علاج کی تمام پیشکشیں ٹھکرا دیں اور 8 جولائی 2016 کو اپنی مادر دھرتی پہ ہی وفات پائی۔

کتنے قطروں کو سمندر کر گیا
کام پورا کر کہ اپنے گھر گیا
تاقیامت وہ رہے گا جاوداں
کوئی نہ کہنا ایدھی مر گیا

Facebook Comments HS