پاکستانی فلمی صنعت کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد


muhammad salim gujranwala

پاکستانی فلمی صنعت کا چاکلیٹی ہیرو، انتہائی کامیاب، با اثر، خوبرو سانولی رنگت، بڑی آنکھوں والا اور قسمت کا دھنی ستارہ، جس کے 20 سالہ فلمی عہد کا انجام بہت عبرت ناک تھا۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے اپنی لازوال، بے ساختہ اور فطری اداکاری سے پاکستانی فلم بینوں خصوصاً نوجوان نسل کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ اس وقت کی نوجوان نسل نے ان کے پہناوے اور اندازِ زلف کو بہت شوق سے اپنایا تھا۔

2 اکتوبر، 1938 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، وہ اپنے والد نثار مراد اور والدہ شیریں مراد کی اکلوتی اولاد تھے۔ نثار مراد پاکستانی فلمی صنعت کے تقسیم کار تھے۔ کراچی میں ماسٹرز تک کے تعلیمی مراحل طے کیے۔ پاکستانی فلمی صنعت کے پہلے اداکار جنھوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا۔ ان کے ساتھی ہدایت کار پرویز ملک نے کیلیفورنیا امریکہ سے فلمی ہدایت کاری کی اعلیٰ تربیت حاصل کی۔
وحید مراد اور پرویز ملک کی جوڑی نے بہت سی کامیاب فلمیں تخلیق کیں۔ وحید مراد نے اپنے 20 سالہ فلمی عہد میں 115 اردو، 8 پنجابی اور 1 پشتو فلم میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 1962 ء میں انہوں نے اپنی پہلی فلم اولاد میں بطور معاون ہیرو کے کام کیا۔ اسی سال انہوں نے زیبا کے ساتھ بطور ہیرو، ہیرا پتھر فلم میں کام کیا جو بہت زیادہ کامیاب رہی۔

1966 میں فلم ارمان میں زیبا کے ساتھ کام کر کے وحید مراد کو سپر سٹار کا درجہ حاصل ہو گیا۔ یہ فلم 75 ہفتے تک چلی اور اس کے سارے گانے سپر ہٹ ثابت ہوئے۔ بابرہ شریف کے ساتھ ان کی فلم شبانہ نے ڈائمنڈ جوبلی کا اعزاز حاصل کیا۔ وحید مراد نے اپنے 20 سالہ فلمی عہد میں بطور اداکار، ہدایت کار اور فلم ساز کے بھی کام کیا، انہوں نے 32 دفعہ نگار اور دوسرے فلمی اعزازات حاصل کئیے۔

1964 ء میں ان کی شادی کراچی کے میمن صنعت کار ابراہیم میکر کی بیٹی سلمیٰ میکر سے ہوئی۔ یہ شادی نثار مراد کی طارق روڈ والی کوٹھی میں ہوئی جس میں اس وقت کے ابھرتے ہوئے اداکار ندیم نے گانے گائے تھے۔

ان کا ایک بیٹا عادل مراد اور دو بیٹیاں عالیہ اور سعدیہ تھیں۔ ان کی ایک بیٹی سعدیہ بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھی۔

اپنے فلمی عہد کے اختتام میں تمام قابل ذکر ہیروئینوں نے ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں فلموں میں کام ملنا بند ہو گیا۔ اس طرح وہ زمانے کی بے اعتنائی کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے شراب اور تمباکو نوشی اور سکون آور ادویات کا استعمال شروع کر دیا جس کے باعث وہ معدے کے السر میں مبتلاء ہو گئے اور ان میں خون کی بہت زیادہ کمی ہو گئی۔ اسی دوران ان کی کار کا تیز رفتاری کے باعث حادثہ ہو گیا جس میں ان کے چہرے پر ایک گہرا زخم آ گیا۔ وہ فلم کی شوٹنگ کرتے ہوئے اکثر کمزوری اور اضمحلال کے باعث زمین پر گر جاتے۔

زمانے کی بے اعتنائی، لوگوں کی خود غرضی اور قسمت کے عتاب کا شکار ہونے والا پاکستانی فلمی صنعت کا یہ خوبرو اور چاکلیٹی ہیرو 23 نومبر 1983 کو صرف 45 برس کی عمر میں اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ انہیں گلبرگ لاہور کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ 2010 میں 27 سال کے بعد ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں بعد از مرگ ستارہ امتیاز سے نوازا جو ان کی بیوہ سلمیٰ مراد نے حاصل کیا۔

Facebook Comments HS