ہولمن کولن پہاڑ پر قدیم ریستوران


شام کو جب ڈیرے سے اٹھے تو پروگرام بنا کہ گاڑی ڈیرے پر ہی کھڑی کرتے ہیں اور عمران ہمیں گھر ڈراپ کر دے گا تاکہ ہم صبح گیارہ بجے گاڑی کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی کوفت سے بچ سکیں اور کل گیارہ بارہ بجے تک عمران ہمیں گھر سے لے لے گا اور وہ ہمیں ہولمن کولن پہاڑ سکائی جمپنگ ہل  ایک بہت پرانا ریستوران اور دوسری قابلِ دید جگہیں گھمائے پھرائے گا۔

حسبِ وعدہ وہ ساڑھے گیارہ بارہ بجے ہمارے پاس تھا۔ موسم خوشگوار تھا دُھوپ چمک رہی تھی۔ یہاں پر دُھوپ نکلنا موسم کی خوش گواریت کی علامت ہے۔ کیوں کہ دُھوپ بہت کم نکلتی ہے۔ زیادہ تر بادل چھائے رہتے ہیں اور بارش برستی رہتی ہے۔ ہم گپ شپ کرتے ہوئے پہاڑ کی جانب رواں دواں تھے۔ گول دائرے میں گھومتی ہوئی سڑک پر ہم پہاڑ کی چوٹی کی طرف گامزن تھے۔ جب ہم چوٹی پر پہنچے تو ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ ہم لوگ بادلوں تک پہنچ چکے ہیں۔ بادل ہمارے ارد گرد حرکت کرتے ہوئے نظر آرہے تھے اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ جب کہ دور نیچے اوسلو شہر کی عمارتوں پر دُھوپ چمکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔

وہاں پر ایک چار سو سال پرانا کیفے ٹیریا بھی موجود تھا۔ جس کی عمارت کی وقتاً فوقتاً حسب ضرورت مرمت تو کی جاتی رہی لیکن اس کے ڈیزائن اور سٹائل کو تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔ ہم بھی اس قدیم تاریخی کیفے میں کافی پینے کے لیے جابیٹھے۔

کافی پیتے وقت عمران نے اپنی سٹوری شروع کردی کہ وہ کس طرح ناروے پہنچا یہ کہانی اکیلے عمران کی نہیں ہے بلکہ ہر دوسرے تیسرے آدمی کی کہانی ہے۔ جو حصولِ رزق کے لیے وطن عزیز کو خیر باد کہہ کر دیارِ غیر میں پہنچتا ہے۔ یہ زندگی اور موت کی آنکھ مچولی کی کہانی ہے۔ جس میں کبھی زندگی غالب آجاتی ہے اور کبھی موت۔ یہ روشن مستقبل کی اُمید میں خطرات کے اندھیروں میں چھلانگ لگانے کی کہانی ہے۔ جہاں چلتے ہوئے کبھی تو وہ دوبارہ روشنی کو پا لیتا ہے اور کبھی وہ خود بھی انہی اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ انسانی بے بسی، بے کسی، بے چارگی اور کس مپرسی کی کہانی ہے۔ جس میں وہ مکمل طور پر دوسروں کے ہی رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ جہاں قدم قدم پر اس کے ساتھ دھوکا ہوتا ہے۔

اس طویل سفر کا سب سے خطرناک مرحلہ ترکی سے ڈنکی لگا کر یونان پہنچنا ہوتا ہے۔ جہاں کبھی تو بارڈر پولیس کی گولیاں موت کی شکل میں اس کا تعاقب کرتی ہیں اور کبھی درمیانی سہولت کاروں کے لالچ طمع اور حرص و ہوس کے اژدھے اُسے نگلنے کے درپے ہوتے ہیں اور اگر ان تمام خطرات سے جان چھڑا کر وہ دوسرے ملک میں پہنچنے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو وہاں پر اجنبیت اور مقامی زبان سے عدم واقفیت بھی اس کے لیے بہت سے مسائل کا سبب بنتی ہے۔

بہرحال عمران بھی ان تمام مراحل سے گزرتا ہوا یونان پہنچ گیا۔ اس کو ایک سہولت میسر تھی کہ اس کے تین چار بھائی پہلے سے ہی اٹلی میں موجود تھے۔ جب انہیں پتہ چلا تو وہ اس کو یونان سے اٹلی لے گئے۔ وہاں پر وہ دو تین سال رہنے کے بعد یہاں ناروے چلا آیا۔ اب وہ یہاں پر ایک انڈسٹری میں ملازمت کرتا ہے اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ یہیں پر رہائش پذیر ہے۔

ہم کافی دیر تک اس تاریخی کیفے میں بیٹھے رہے۔ کھڑکی کے شیشوں میں سے باہر چاروں طرف دھند کی شکل میں بادل ہی بادل نظر آرہے تھے۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے یہاں پر ٹھنڈ بھی بڑھ گئی تھی۔ کافی اور کہانی کے ختم ہونے پر ہم کیفے سے باہر آ گئے اور اس کے بعد ہم سکائی جمپنگ ہل دیکھنے کے لیے چلے آئے۔

یہاں پر پہاڑ کی چوٹی سے ایک ڈھلوان بنائی گئی ہے۔ برف باری کے موسم میں لوگ یہاں اسکیٹنگ کرنے آتے ہیں۔ اس موسم میں اسکیٹنگ یہاں کا مقبول کھیل ہے اور یہاں پر جمپ لگانے کے مقابلے بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔ یہیں پر ہی ایک بنچ پر بیٹھ کر میں نے عمران کے ساتھ ایک عدد گولڈ لیف کا سگریٹ بھی پیا۔ گولڈ لیف یہاں پر نایاب ہے۔ امریکن سگریٹ مال برو وغیرہ تو عام مل جاتے ہیں لیکن گولڈ لیف نہیں ملتا۔ حالاں کہ پچھلے کئی ماہ سے سگریٹ میں نے چھوڑے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود ماحول کی مناسبت سے مجھے اس کام میں کوئی عار محسوس نہیں ہوا۔

بہرحال عمران بہت اچھا ٹورسٹ گائیڈ ثابت ہوا۔ وہ ہمیں مختلف مقامات دکھاتا بھی رہا اور ساتھ ہی ساتھ اُن کی تاریخ بھی بتاتا رہا۔ شام تک ہم گھومتے پھرتے رہے اور رات ہوتے ہی کھانا کھانے کے لیے سمندر کے کنارے بنائے گئے ایک ریستوران میں آ بیٹھے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ یہاں سالمن مچھلی ملتی ہے جو بہت مزیدار ہوتی ہے۔

یہ ریستوران لکڑی کے تختوں سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے ایک طرف سمندر میں پانی سے تھوڑا سا اوپر کر کے لکڑی کا ایک بڑا سا فٹ پاتھ بنا کر یہاں بھی میز کرسیاں لگا دی گئی تھیں اور ہوٹل کی دیواروں کے ساتھ بڑے بڑے ہیٹر لگائے گئے تھے۔ جو یہاں پر بیٹھنے والوں کو حرارت مہیا کرنے کے کام آتے ہیں۔ سمندر میں مختلف سائز کی بہت سے کشتیاں بھی کھڑی تھیں۔ رات کو سمندر کا پانی سیاہی مائل محسوس ہو رہا تھا۔ ہم کچھ دیر تک تو باہر بیٹھ کر گپ شپ کرتے رہے لیکن یہاں پر سردی کافی تھی اور یہاں پہ لگائے گئے ہیٹر اس سردی کو بھگانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے تھے۔ اس لیے ہم اندر آ بیٹھے۔ اندر ماحول کافی خوشگوار تھا اور ہیٹروں کی مدد سے ماحول کو کافی بہتر کیا گیا تھا۔

یہاں پر گاہکوں کا کوئی خاص رش نہیں تھا۔ بلکہ یہاں پر کھانا کھانے والے گاہک تو صرف ہم ہی تھے باقی دو تین اور گاہک بھی تھے جو مچھلی پیک کروا کر گھر لے جا رہے تھے۔ عمران نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ یہ ریستوران پہلے بہت اچھا چلتا تھا۔ ہر وقت رش ہی رہتا تھا لیکن پھر کسی وجہ سے اس کا مالک تبدیل ہو گیا اور جب سے یہ نیا مالک آیا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ گاہک سے پیسے تو پورے سے بھی زیادہ لے لیے جائیں لیکن فش اور چپس اُسے کم سے کم دیے جائیں۔ اسی وجہ سے اس کی گاہکی بہت کم ہو گئی ہے۔ ہم نے کھانے کے لیے کاشف کو بھی ٹیلی فون کر کے یہاں پر ہی بلا لیا۔ یہاں پر کھانا کھانے کے بعد ہم واپس گھر چلے آئے۔

عمران نے ہمیں گھر ڈراپ کیا اور اگلے دن کا پروگرام بنایا کہ کل وہ اور کاشف دونوں ہی آئیں گے اور ہمیں ساتھ لے کر گھومنے پھرنے نکل جائیں گے۔ اگر وہ پہلے آ گئے تو وہ ہمیں ساتھ لے لیں گے اور اگر ہم پہلے تیار ہو گئے تو ہم بادشاہ کے محل اور پارلیمنٹ ہاؤس والے علاقے کو گھوم پھر لیں گے اور وہ لوگ ٹیلی فون پر ہم سے رابطہ قائم کر کے ہمیں ساتھ لے کر دوسری جگہوں پر گھومنے پھرنے نکل جائیں گے۔

Facebook Comments HS