جا جاپان کے چولہے سے آگ لئی لے


عالی مقام مرد کی زبان پھسلے یا پیکر تمکنت و دلربائی کسی نازنین کا لباس، اس میں مزہ دوسروں کو ہی آتا ہے۔

سجیلی بانکی بیبیوں کا لباس کی بغاوت جسے انگریزی میں وارڈ روب۔ میل۔ فنکشن کہتے ہیں، وہ برپا ہو تو نیٹ پر بہت دنوں تک وائرل ہوتا ہے۔ نیک دل فوجی افسر اور بوڑھے سرکاری افسران واٹس ایپ گروپ میں ایسے کلپ ہدیہ تبرک سمجھ کر گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔ فرحت ہاشمی کے درس ہدایات کی طرف دوڑ لگاتی بیگمات کی طعن و تشنیع کے باوجود کئی کئی مرتبہ دیکھتے ہیں۔

ایک دفعہ ہماری پسندیدہ اداکارہ جینفیر لارنس کا wardrobe malfunction معاملہ بہت بگڑ گیا تھا وہ تو خیر ہوئی کہ جو دست دعا تھا وہ بروقت سینے تک پہنچ گیا۔ ایسا نہ ہوتا تو بہت بگاڑ ہو جاتا۔ وہ برلن جرمنی میں The Hunger Games: Mockingjay۔ Part 2 کے پریمیر پر گئی تھیں۔

اس اجتناب و احتیاط کا ہم نے ان سے بدلہ یہ لیا کہ ان کی فلم دی ریڈ اسپیرو دیکھ ڈالی جس مین وہ اپنی انسٹرکٹر کے کہنے پر لباس سے پین دی سری کہہ کر ایسے آزاد ہوتی ہیں کہ فلم Pause بھی کریں تو خطوط نہیں دھندلاتے۔ آپ بھی یہ فلم ضرور دیکھئے گا۔ اچھی فلم ایک دعوت کی مانند ہوتی ہے۔ اس میں انواع اقسام کے طعام کے علاوہ، ماحول، مکالمہ، لباس، جلوہ نمائی، موسیقی، مناظر بہت کچھ ہوتا ہے۔ اس فلم میں جینفر لارنس کے دل آویز خطوط کے علاوہ اس کی تربوز کی سی رسیلی پر اعتماد آواز اور سب سے بڑھ کر کے جی بی جسے اب Federal Security Service یاFSB کہتے ہیں اس کے افسران کی تربیت کیسی بے رحم ہوتی ہے اور اس نوعیت کے اداروں سے وابستہ افراد کی فکری اپچ کیا ہوتی ہے اس کا فلم دیکھ کر بہت عمدہ ادراک ہوتا ہے۔

ہم اب کچھ ایسے ہو چلے ہیں کہ ذرا سا پتہ بھی لرزے تو ڈر جاتے ہیں۔ محمد بوعزیزی جیسا کوئی نوجوان تیونس میں جلے تو ہم کو عرب دنیا میں بھونچال کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ہالی ووڈ کا پروڈیوسر ڈائریکٹر ہاروے وائن سٹائن جیسا لفنگا کسی کو اداکارہ کو چوم لے یا اکیلا کمرے پر بلا لے تو ہمیں لگتا ہے کہ میشا شفیع کہیں پاس کھڑی ہیں اور ابھی الیسا میلانو کی مدد سے می ٹو تحریک شروع کر دیں گی۔

ایسا ہی کچھ اس وقت ہوا جب تہران میں اس وقت کے وزیر اعظم کی زبان کیا پھسلی انہوں نے جرمنی اور جاپان کی سرحد کیا ملا دیں کہ ہمیں جاپان سے اپنی پرانی محبت یاد آ گئی۔

جاپان سے ہماری محبت کا آغاز ہونڈا ففٹی سے ہوا۔ سن 1964 میں یہ بارہ سو روپے کی اور جرمنی کی فاکس ویگن اور اوپل کاروں کو بازار سے غائب کرنے والی ٹویوٹا جو ساڑھے سات ہزار روپے کی ملا کرتی تھی اس سے ہوا۔ ویسپا چوبیس سو روپے میں ملا کرتی تھی۔ پاکستانی عورتیں بھارت کی عورتوں کی طرح ان دنوں سے اسکوٹر چلانا شروع کر دیتیں تو معاشرہ آزاد ہوجاتا۔ بھارت میں ویسپا کی نقل میں اسکوٹر چلانے کا آغاز سن ستر میں ہو گیا تھا

جاپان سے ہمارا یہ پیار اب بھی قائم ہے۔ ہمارے گھرانے کے اہم فرد ہیں۔ امریکہ میں جاپانیوں کے دل کی دھڑکن بنے رہتے ہیں۔ پہلے مورمونز کو بہت عزیز تھے۔ مورمونز بھی امریکہ میں یہودیوں کی طرح ان کے مالیاتی سیکٹر میں چھائے ہوئے ہیں۔ گفتگو کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ سوچ اور الفاظ کسی اور دشا (سمت) اور دیس سے آرہے ہیں۔ تعلیم و تربیت کے تمام مدارج ایک مشرقی گھرانے کے باوجود ہارورڈ اور سکہ بند امریکی مالیاتی اداروں کی افکار پر بہت گہری چھاپ ہے۔ ان کی سوچ میں تخیل اور بیان پر ذاتی پسند ناپسند کی چربی نہیں چڑھی ہوتی۔ کراٹکیکا (کراٹے کرنے والا) جاپان کے ر یو کوانا جو موجودہ ورلڈ چمپین ہیں ان کا سا بدن اور وار کرنے کا انداز۔

اب کی دفعہ تعطیلات پر آئے تو جاپان کی خوش گوار یادیں ساتھ تھیں۔ ہر ماہ ایک ہفتہ پیشہ ورانہ مصروفیت کی وجہ سے جاپان کے کارپوریٹ مغلوں کے ساتھ گزارتے ہیں تو نئی نئی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ ہمارے مربی و مشفق ڈاکٹر ظفر الطاف کو بھی جاپان جانے کا بہت شوق تھا۔ ایک دفعہ واپس آئے تو کہنے لگے ٹوکیو ٹائمز میں کوکوئی تناکا وزیر اعظم جاپان کا روز مرہ کی مصروفیت کا شیڈول شائع ہوتا ہے۔ وہ حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جاپان کی ایک بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کے چیف کو وزیر اعظم نے صرف دو منٹ ملنے کا اور اوساکا کے چاول کے کاشتکار کسانوں کو آدھے گھنٹے کا وقت دیا تھا۔

انہوں نے اپنے میزبان سے دو سوال پوچھے کہ ایک تو وزیر اعظم کے روز مرہ معمولات کو اخبار میں شائع کرنے کی کیا تک ہے۔ دوسرا اتنی بڑی کارپوریشن کے چیف کو صرف دو منٹ اور کسان بھائیوں کو جن کی ہمارا وزیر اعظم کبھی بھی نہ ملے ان کے لیے پورا آدھا گھنٹہ۔ کہنے لگے کہ ہمارے وزیر اعظم کا وقت قوم کی امانت ہے۔ قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ یہ وقت کن معمولات میں صرف کرتا ہے۔ نعیم الحق اور جہانگیر ترین کے ساتھ گزارتا ہے کہ کوئی کام کے انسانوں سے بھی ملتا ہے۔ دوسرا جاپان ایک جزیرہ ہے۔ ہم اس خوف کو ہر وقت سامنے رکھتے ہیں کہ اگر کبھی جنگ ہو تو ہماری بحری ناکہ بندی ہو سکتی ہے۔ ایسا ہو گا تو ہمیں خوراک کے لالے پڑ جائیں گے۔ جاپان کے وزیر اعظم ٹھنڈے دل سے ان کی بات سنیں گے۔ کوشش کریں گے کہ کسان اپنے پیشے زمین سے بے زار نہ ہوں۔ چاول جو ہماری خوراک ہے وہ اگاتے رہیں۔

اب یہ جو ہماری اتنی بڑی کارپوریشن کا چیف ہے اسے یہ زحمت نہیں کرنی کہ وزیر اعظم کو Basics سمجھائے۔ کسی ملک میں یا وزارت میں کوئی مشکل ہوگی۔ تناکا صاحب ایک فون کریں گے تو معاملہ حل ہو جائے گا۔ ہمارے کسان کو ہلکا مت لو۔ ڈھائی ایکڑ کا مالک کسان اپنے بچے کو اپنے خرچ پر دنیا کی بہترین یونی ورسٹی میں پڑھا سکتا ہے۔ یہی لوگ اولاد بھی پیدا کرتے ہیں۔ ورنہ ہم جاپانی اب پیرانہ سال افراد کی قوم بنتے جا رہے ہیں۔

Chizuko Obuchi ,Keizo Obuchi former prime minister’s wife

اپنے عزیز کو ہم نے یہ بات سنائی تو کہنے لگے Keizo جاپان کے وزیر اعظم تھے۔ بارہ دفعہ اسمبلی کے ممبر رہے تھے۔ ان کی نام بیوی شی زو کو تھا۔ سنہ 1998 میں یہ جوڑا وزیر اعظم ہاؤس منتقل ہوا تو وہاں کچھ فرنیچر اسٹاف یا برتن وغیرہ نہ تھے۔ ان سے ملاقات پر آنے والے افسر پوچھتے کہ خاتون اول یہ ملازم والا ایپرن کیوں پہنا ہے تو وہ جواب دیتیں کہ تو ہمارے وزیر اعظم ہاؤس کی ٹٹامی میٹ والے فرش کو ٹاپی میں نہیں تو تمہاری جورو مارے گی۔

ان میں جاپانی پرائم منسٹر Kiichi Miyazawa ’ کی بیوی یوکو کامی کوا تو اتنی سادہ لباس اور منکسر المزاج تھیں کہ امریکہ کی خاتون اول ہلری کلنٹن انہیں ایک دفعہ سرکاری دعوت میں عام مہمان سمجھ کر مکمل طور پر نظر انداز کر کے آگے بڑھ گئیں۔ اپنی تمام تر سادگی کے باوجود جاپان وزرائے اعظموں کی بیگمات اتنی سادہ بھی نہیں ہوتیں۔ ان میں ایک تو بہت ہی دل چسپ خاتون رہی ہیں۔ ان کا نام تھامیوکی اور ان کے شوہریوکیو ہاتویاما سن 2009 میں وزیر اعظم بنے تھے۔ شادی سے پہلے وہ ایک آل فیمل میوزک گروپ کی ممبر تھیں۔ زبیدہ آپا کی طرح کھانے پکانے کی بھی ماہر۔ وہ برملا اس بات کا اظہار کرتی تھیں کہ ان کو خلائی مخلوق ایک دفعہ اغوا کر کے سیارہ وینس پر لے گئی تھی اور پچھلے جنم میں اداکار ٹام کروز ان کے بوائے فرینڈ تھے۔

All-the-women-who-have-accused-Harvey-Weinstein

ہمارے عزیز کہنے لگے کہ جاپان میں عورت کا اصل مقام گھر ہے۔ بہت کم اہم عہدوں پر آپ کو خواتین نظر آئیں گی۔ ان کے کچھ ملنے والے اہم کارپوریٹ افراد اپنی بیگمات کو ٹوکیو سے دور اپنے اپنے آبائی شہر اور گاؤں میں رکھتے ہیں۔ جہاں وہ ہفتے اتوار کو خود چلے جاتے ہیں۔

صنفی برابری (Gender۔ Equality ) میں امریکہ کا نمبر اگر بائیسواں ہے تو جاپان کا نمبر سو کے قریب آتا ہے۔ جاپانی خواتین اس سلسلے میں شکایات بھی نہیں کرتیں۔ جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھتی ہیں۔

جاپان میں Salaryman کا تصور بہت عام ہے۔ اسے وہ بہت باوقار سمجھتے ہیں۔ یہ وہ سفید کالر افراد ہوتے ہیں جن کی اپنے ادارے سے وابستگی بہت گہری ہوتی ہے۔ جاپانی معاشرہ ایک فرد کو اجتماعی فلاح و بہبود کے حوالے سے معاشرتی طور پر ذمہ دار فرد بنانے پر بہت زور دیتا ہے۔ جہاں معاملہ معاشرتی ذمہ داری کا ہو، وہاں انفرادی ترجیحات کو پس و پیش ڈالنا ہوتا ہے۔ وہ دفتر میں کام کی زیادتی کی وجہ سے دیر تک رکتے بھی ہیں۔ یورپ اور امریکن ملازمین کی طرح ان کا دفتری دن نو سے پانچ بجے تک کا نہیں ہوتا۔ شام میں بھی یہ دفتر سے اٹھ کر اپنے دفتری ساتھیوں کے ساتھ عشرت کدوں اور ہوٹلوں میں بھی جاتے ہیں اور رات گئے جب گھر لوٹتے ہیں تو سجنی سے بہانا کرنے کی کوئی حاجت بھی نہیں پیش آتی۔

کام کی یہ کثرت کیا انہیں بدمزاج اور چڑچڑا نہیں بناتی؟ کیا ان میں کوتاہی کا جواز پیدا نہیں کرتی؟ کیا یہ شکایت نہیں ہوتی کہ ورک لوڈ بہت ہے۔ انہوں نے صرف دو اصطلاحات استعمال کیں کہ نہیں وہ

1.Supremely Effiicent
2. Meticulously Organized

ایک تو یہ کہ وہ بہت اعلی سطح کی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور ان کی تنظیمی صلاحیتیں بہت باریک بیں ہیں کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ یہ نظم و ضبط روبوٹس جیسا ہے ان کی Tokaido Shinkansen جو دنیا کی پہلی بلٹ ٹرین ہے وہاں صفائی کا وقت کل سات منٹ اور سال بھر میں ایک لاکھ بیس ہزار مسافتوں میں تاخیر کا آخری معیار تیس سیکنڈ ہے۔ ٹیم جو صفائی پر مامور ہوتی ہے وہ سات منٹ میں ٹرین کو مانجھ کر چمکا دیتی ہے۔ ٹرین اپنے پہلے اور آخری اسٹیشن پر بارہ منٹ کے لیے رکتی ہے۔ دو منٹ مسافروں کے سوار ہونے کے، سات منٹ صفائی کے اور تین منٹ مسافروں کے سوار ہونے کے۔

ہم نے پوچھا کہ جب آپ امریکہ سے جاپان کے کسی شہر میں آتے ہیں تو پہلی حیران کن بات کیا لگتی ہے۔ وہ کہنے لگے دور دور تک کچرا اور ڈسٹ بن دکھائی نہیں دیتے۔ درختوں سے گرے پتوں کی اور بات ہے مگر مجال ہے سڑک یا کسی مقام پر آپ کو کچرا، کاغذ کے ٹکڑے، پلاسٹک کی تھیلیاں ادھر ادھر اڑتے دکھائی دے جائیں۔ وہاں پان اور گٹکا بھی کوئی نہیں کھاتا۔ سر راہ چلتے کھانا پینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کھانا ریستوران یا گھر پر کھاتے ہیں۔ بازار میں نہیں۔

آپ نے اکثر جاپانی شائقین کو کھیل کے اختتام پر اسٹیڈیم میں اپنے اسٹینڈ صاف کرتے دیکھا ہو گا۔ جاپانی اسکول میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ وہاں Gakko Soji کا رواج ہے اسے آپ اسکول کی صفائی کا خود اختیاری نظام سمجھیں۔ اس کی جڑیں بدھ مت سے سے پیوستہ ہیں جو اسلام کی طرح جسم اور ماحول کو صاف اور پاکیزہ رکھنے پر بہت زور دیتا ہے۔ مسلمانوں کو البتہ اپنے مذہب سے لگاؤ صرف زبانی حد تک ہے۔ جب کہ جاپان میں اس کا عملی مظاہرہ بہت ابتدا سے دکھائی دیتا ہے۔ اس تربیت سے ایک تو بہت کم عمری سے طالب علموں میں یہ شعور بیدار ہوجاتا ہے کہ معاشرے میں صفائی کی ذمہ داری فرد کی انفرادی ذمہ داری ہے۔ معاشرے کے مقابلے میں فرد کی کوئی حیثیت نہیں۔ دوسرے عملی زندگی میں اس کا ثمر یہ ملتا ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک سے آنے والے کو بھی جاپان میں کچرے اور گندگی کی عدم موجودگی حیران کرتی ہے جب کہ مسلمانوں کے ہر ملک میں کچرا اور مسلمان برابر کی مقدار میں ملتے ہیں۔

ہم نے معلوم کیا جاپانی خوش دکھائی دیتے ہیں۔ جواب ملا نہیں۔ بہت سے جاپانی امریکہ میں رہنا پسند کرتے ہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی امریکی جاپان میں رہنا چاہے۔ ہم نے پوچھا کہ امریکی معاشرے میں اور جاپانی معاشرے میں کیا فرق ہے؟ کہنے لگے جاپانی بہت فارمل ہوتے ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی ایسی لگتی ہے جیسے آپریشن تھیٹر سے نکلی ہو۔ قتل بھی کریں گے تو خنجر کو ڈیٹول سے صاف کر کے۔ آپ کو عمدہ کھانا اور قیمتی شراب پلا کر۔ دس دفعہ معافی مانگیں گے۔ آپ کو امیر مینائی کی طرح یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ ’حضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ‘۔ ویٹر مجال ہے کھانا رکھ کر آپ سے پوچھے کہ کھانا کیسا ہے؟ کھانا خراب ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ آئے تو سوچ سمجھ کر ہی آئے ہوں گے، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ نہ ہی ٹپ دینا وہاں اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اجنبی افراد آپ میں شاذ و نادر ہی آپ کو گفتگو کرتے دکھائی دیں گے اور عوامی مقامات ہر کھانے کی طرح ایک دوسرے کو چھونا اور چومنا بھی ہماری طرح برا سمجھا جاتا ہے۔ دفتروں میں چومنے پر البتہ استعفی دینے کی کوئی پابندی نہیں۔

جاپان میں قومیت کا تصور بہت شدید اور واضح ہے مگر سیاست دانوں کو بہت اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ معاشرتی دباؤ اتنا ہوتا ہے کہ معمولی غلطی پر وزیر اعظم استعفی دے دیتا ہے۔ سنہ 2005 سے وہ اوسطاً ہر سال نیا وزیر اعظم چن لیتے ہیں۔

جاپان میں ہر جگہ آپ کو جاپانی ملیں گے مگر امریکہ میں ایسا نہیں، نیویارک کے ایک ضلع جسے وہاں Borough کہا جاتا ہے یعنی کوئینز کے علاقے میں تقریباً دو سو مختلف قومیتوں کے افراد آباد ہیں۔ بنگالی مسلمان سعدیہ آپ کو فرنچ اور جاپانی لزبیئن جوڑے کے گھر عبایہ اور حجاب پہن کر صفائی کے کام میں مصروف اور ان کے گھر سے چھوٹی موٹی چوریاں کرتے دکھائی دے گی۔ صومالیہ کی بشارو وہاں مالدار بوڑھی عورتیں کے کتے گھماتی ہے۔ سیر کے دوران وقت نماز آ جائے تو سیدھی مسجد میں جا پہنچے گی۔ کیا وضو کیسی ناپاکی۔

ہم نے پوچھا کہ مذہب کا کیا حال ہے تو بتانے لگے کہ جاپانی شنتو اور بدھ مت کے پیروکار ہیں کبھی کبھار تو یوں لگتا ہے کہ بیک وقت دونوں مذاہب پر عمل ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جن مذاہب کو ہم Abrahamic faiths یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام ان کے بنیادی اختلافات یہاں کا کوئی تذکرہ جاپان میں نہیں۔ جیسے انسان کی تخلیق، شیطان، زنا، ہم جنس پرستی، جوا، شراب، حلال حرام کی بحث کوئی نہیں۔ کوئی تکا فضیحتی نہیں۔ جاپان کا بدھ مت رسومات، تقریبات، توہمات، تہواروں سے جڑا ہے اس میں وہ تقدیس اور غلغلہ نہیں جو تھائی لینڈ میں دکھائی دیتا ہے۔

روح کا کوئی تصور اگر ہے بھی تو اس کا مذہبی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی کسی سیاسی بحث میں مذہب کا معمولی سا بھی حوالہ نہیں ہوتا۔ بلاول، شہباز شریف اور عمران خان اگر جاپان میں ہوں اپنے خطابات ریاست مدینہ کے یا بغیر کسی مذہبی حوالے کے باآسانی کر سکتے ہیں اور زرتاج گل، مریم نواز اور شیریں مزاری بغیر دوپٹے کے بھی پاکیزہ اور باوقار سمجھی جائیں گی۔ کہنے لگے یہ تین معزز خواتین اور فردوس عاشق اعوان اگر کسی اسٹور میں خریداری کریں تو کیش، کاؤنٹر کے ساتھ ایک ٹرے میں رکھنا ہو گا اور وہاں موجود خاتون باقی رقم کیش میں ہی اسی ٹرے میں لوٹائے گی۔ پیکنگ البتہ ایسی ہوگی کہ وہ شاپنگ کے یہ آئٹم اسمبلی میں کئی دن تک اپنی ڈیسک کے سامنے رکھ کر اترا سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan