شاندار وطن کے بے جان عوام
قدرت نے گلگت بلتستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے، بہار، گرما، خزاں اور سرما یہاں کھل کر رقص کرتے ہیں۔ قدرت کے حیرت انگیز پھلوں کے پتوں سے لے کے کچے، پکے پھلوں تک انسانوں کے ساتھ ساتھ ان کے مویشی بھی ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت اس کا جغرافیہ ہے، جغرافیہ کی کشش اتنی شاندار ہے کہ وہ مقناطیس کی طرح پوری دنیا کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ خاص طور پر گلگت جگلوٹ کے مقام پر جہاں دنیا کے تین اہم پہاڑی سلسلے اکٹھے ہوتے ہیں تو قدرت اپنی تخلیقات سے محققین کو محظوظ کرتی ہے۔ جہاں یہاں کے گلیشیئر اپنی تیز ہواؤں سے ڈراتے ہیں وہیں آبشاروں کی آوازیں انسانوں کو پہاڑی چوٹیوں پر جھومنے پر مجبور کرتی ہیں۔
یہاں بہتی ندیوں اور نہروں سے فصلوں کو سیراب کیا جاتا ہے، جب کہ وہاں ایک بڑا دریا بہتا ہے۔ یہ دریا جب بنجر زمینوں اور گلگت بلتستان کو اندھیروں میں ڈوبا دیکھتا ہے تو یقیناً قدرت سے شکایت کرتا ہو گا کہ میں اتنے بے بس اور بے جان لوگوں سے کیوں گزر رہا ہوں؟ اور جنگلات، پہاڑ، معدنیات، بنجر زمینیں، سنگ مرمر، مارخور، ریچھ اور ٹراؤٹ بھی فطرت سے یہی شکوہ کرتے ہوں گے اور جب قدرت اس زمین کی سب سے عظیم مخلوق کو ان کے بنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم جو فرقوں، قوموں اور ناچ گانے میں مصروف دیکھتی ہے تو پھر یقیناً قدرت نے بھی ان نعمتوں سے یہ کہہ کر معافی مانگی ہوگی کہ ہم نے آپ کو کس مخلوق کو عطا کیا؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نیچر کیوں اپنی ہی عطا کردہ نعمتوں سے معافی مانگتی ہوگی؟ وہ اس لیے کہ سردیوں میں یہاں بائیس بائیس گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ غذر، ہنزہ، نگر، استور اور بلتستان ریجن سے دریا نکلتے ہیں لیکن ان پر ایک بھی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نہیں ہے، زمین بھی ہے اور پانی بھی لیکن زراعت صفر ہے، گندم سبسڈی ڈرگ ایڈکٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہو گئی ہے ریاست یہاں کے لوگوں کو انگیج کرنے کے لیے گندم کی سبسڈی کم کر دیتی ہے یا این سی پی گاڑیوں پہ ٹیکس لگا دیتی ہے۔ یہاں ایک بھی میڈیکل کالج نہیں ہے، نرسنگ اسکول نہیں ہے، سب سے بڑی عدلیہ میں جج نہیں ہے، اگر کچھ ہے ایک قومی بنک ہے اس کو بھی نوچ نوچ کے کھا رہے ہیں۔ فرقوں کی بنیاد پہ وزارتیں تقسیم کی جاتی ہیں، نوکریاں تقسیم ہو رہی یہاں تک کہ ہسپتال بھی فرقوں میں تقسیم ہیں، یہ تیرا وہ میرا۔ ایسے بے حس عوام ہیں کہ بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سب مل کے ان کے وسائل کو تقریباً ختم کر چکے ہیں یا قبضہ کر چکے ہیں۔ وطن میں اگر کوئی ایک ایماندار افسر مل بھی جائے تو سیاست کا شکار ہوتا ہے یا مذہب یا علاقہ پرستی کا۔ اگر کوئی ان میں سے بچ بھی گیا تو وہ شین، یشکون، سید یا راجہ کے قبائل سے ہرگز بچ نہیں سکتا۔ یہ ایک ایسی سرزمین بن گئی ہے جہاں فرقہ پرستی اور مفاد پرستی ہر ایک کے جینز میں داخل ہو چکی ہے، اس خطے میں بسنے والے عوام اگرچہ اپنا ذاتی نفع نقصان سے باخبر ہیں لیکن ایک مشترکہ عوامی مفاد سے بے خبر رہتے ہیں۔
اب ایسی ہجوم میں اگر نواز خان ناجی پیدا ہوتا ہے ظاہر سی بات ہے وہ شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض تو بن ہی جائے گا، ان کی پوری زندگی اس خطے میں بسنے والی قوم کو یہ سمجھاتے سمجھاتے گزری ہے کہ تمہاری مفادات مشترک ہیں تم ایک قوم بن جاؤ، ایڈووکیٹ احسان کب تک اس قوم کو یکجا کرنے کی کوششیں کرتا رہے گا، بابا جان، نجف علی، شبیر معیار، منظور پروانہ اور دیگر اس سوئے ہوئے عوام کے لیے کب تک جیلیں اور کالے قانون کا سامنے کرتے رہیں گے۔ اور اگر انہیں اس قوم کی طرف سے کوئی حمایت حاصل ہے تو وہ ”ٹائٹل ایجنٹ“ ہے۔
یہ لکھتے ہوئے مجھے نذیر حسین نذیر جو گلگت کے ایک قومی شاعر ہیں ان کا ایک شعر جو حالیہ دنوں وائرل ہوا تھا یاد آیا، وہ فرماتے ہیں کہ،
کہا جاتا ہے کہ گلگت جنت ہے
جنت میں لوگوں کا یہ حال ہوتا ہے کیا


