پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی
پیارے وطن پاکستان میں جہاں بے شمار مسائل ہیں وہیں پر دہشت گردی وہ پیچیدہ اور تکلیف دہ مسئلہ ہے جو اب تک سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی جانیں نگل چکا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگ دہائیوں سے تشدد، شدت پسندی، سیاسی کش مکش، عدم استحکام اور سماجی طبقاتی جال میں ایسے پھنسے ہیں کے آج تک نکل نہیں پائے۔ دہشت گردی کے پیچھے اصل وجہ معلوم ہونے کے باوجود ہم آج تک اس کا قلع قمع کیوں نہیں کر سکے؟ یہ سوال بہت لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ پارہ چنار میں ایک قافلے کی صورت میں پشاور جانے والی گاڑیوں پر لوئر کرم کے علاقے اُچت میں گھات لگا کر بیٹھے ہوئے نامعلوم شر پسندوں نے اندھا دُھند فائرنگ کی۔ آخر کب تک یہ نامعلوم دہشت گرد نامعلوم ہی رہیں گے؟ شدت پسند گروہ اپنے نظریات کے خلاف سب بے گناہوں پر بلاجواز حملہ کرتے ہیں۔
پارہ چنار میں ہونے والے اس اندوہناک واقعے کے خلاف جمعے کے روز مکمل طور پر شٹر ڈاؤن احتجاج اور ہڑتال جاری ہے۔ مختلف تنظیمیں اور ہمارے ملک کے صدر زرداری صاحب بھی اس واقعے کی بھر پور مذمت کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب بھی مذمت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ملک کے امن دشمنوں نے معصوم شہریوں پر جو ظلم ڈھایا ہے وہ حیوانیت کے مترادف ہے۔ ہم شرپسند عناصر کی نشان دہی کر کے انہیں مثالی سزائیں دیں گے۔ کاش! اے کاش! وزیر اعظم صاحب آپ کی زبان سے نکلے یہ الفاظ عملی جامہ بھی پہن لیں۔ سوچیے! وہ سب لوگ جو اس وطن کے شہری ہیں ان کی زندگیاں روزانہ بم دھماکوں، حملوں، تشدد، مہنگائی اور اَن گِنت بربادیوں کا سامنا کرتی ہیں۔ مگر پھر بھی آفرین ہے ان پیچھے رہ جانے والوں کے حوصلوں کو کہ وہ زندگی کی کٹھنائیوں کا سامنا کرنے کو نکل پڑتے ہیں ظلم کے اس دشت میں۔ اپنی مدافعت میں وہ اپنا ہی نقصان کاروبارِ زندگی بند کرنے کی صورت میں کرتے ہیں۔ مدافعت میں وہ اپنے ہی مفلوج جذبات اور بے بس ہاتھوں کو دیکھتے ہیں۔ مدافعت میں وہ اس دہشت گردی کو جو ایک دردناک حقیقت ہے اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ جناب وزیر اعظم صاحب ان کی نمناک آنکھوں میں تیرتے آنسوؤں کے درد کو محسوس کیجیے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تھِنک ٹینک بنوائیے۔ حملہ آوروں کو پکڑوانے کے بعد سرِ عام سزا دلوائیے تا کہ آئندہ ایسی مذموم کوششیں بھی ناکام ثابت ہوں۔
دہائیوں سے ہم سُنتے آئے ہیں کہ اب دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا۔ امن پسپا کر دینے والے اس ناسُور کے خلاف اب ہم مل کر نمٹیں گے مگر یہ دیوانے کا خواب ہی رہا۔ 1980 کی دہائی سے لے کر آج تک پاکستان افغان مجاہدین کی مدد کرنے کی سزا بُھگت رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے پچھلے 10 مہینوں میں وطن عزیز نے 785 دہشت گردی کے حملے برداشت کیے ہیں۔ ہمارے نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ بہت سے تو جا چکے ہیں۔ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کب تک نوجوان اس وطن میں اپنے ماں باپ کے بہکاوؤں میں آئیں گے۔ آخر کو وہ اپنی زندگی اور محفوظ مستقبل کے لیے یہاں سے کُوچ کرنا ہی مناسب سمجھیں گے۔ دہشت گردی کا ایک اور سنجیدہ پہلو وہ فرقہ ورانہ تشدد ہے جو خاص طور پر شیعہ اور سُنیوں کے درمیان معلق ہے۔ مجھے تو حیرانی ہوتی ہے کہ بنیادی مسلک ایک ہے تو پھر نجانے شیعہ سُنی کی لڑائی اور تفرقہ کیوں؟ اللہ بھی قرآن میں کہتا ہے ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقے میں نہ پڑو“ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کرنا ہو گا۔ مذہبی مدارس میں معیاری تعلیم دینا ہو گی۔ قانون کی بالا دستی ہونی چاہیے کبھی بھی کسی بھی نام پر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی اجازت ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری طرف ہماری جغرافیائی حدود میں بھی سیاسی گُو مگو کا عالم رہتا ہے۔ کشمیر کی وجہ سے بھارت کے ساتھ تعلقات بھی دشمنی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ہماری سیکیورٹی فورسز بھی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے جو اَن تھک محنت کر رہی ہیں ان پر بھی بہت دباؤ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے لوگ اپنے پیاروں کو بغیر کسی وجہ کے کھو دیتے ہیں۔ ان کی معاشی حالت بھی اس کے سبب کمزور ہو جاتی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز بھی غم و غصے کا شکار رہتی ہیں کیونکہ وہ ایسی آبادی ایسے لوگوں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں جو خوف اور بے سکونی کی کیفیت میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود میں سلام پیش کرتی ہوں اپنی قوم کو جو پھر بھی عزم اور ہمت کے ساتھ ملک میں امن اور استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔ اربابِ اختیار سے پوری قوم کی طرف سے بھر پور اپیل کرتی ہوں کہ مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تمام مسائل جن میں مہنگائی اور دہشت گردی سرِ فہرست ہیں کا سدِّ باب کیا جائے۔ فرقہ واریت اور سماجی اور علاقائی جھگڑوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور محنت پر بھر پور توجہ دی جائے۔ دہشت گردی کو روکنے کے بلا شبہ جامع حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔ قانون اور قانون کے نفاذ کے اداروں کا مستحکم ہونا نہایت اہم اقدام ہے۔ اس کے علاوہ انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنانا، غربت اور بیروزگاری کو ختم کرنا اور انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف تعلیم دینا وقت کی پہلی ضرورت ہے ہمسایہ ممالک کے ساتھ علاقائی تعاون و تجارت کو فروغ دینا اور ہماری سرحدوں کی حفاظت اولین فرض ہے۔
پاکستان شمال مشرق اور شمال مغرب میں دہشت گردی سے نِمٹ رہا ہے جہاں پولیس، گروہ اور معصوم شہری عموماً دہشت گردوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اکثر اوقات مقامی شدت پسند گروہوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ کئی ایسے گروہ بیرونی قوتوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ انتہا پسندی کو معاشرے سے ختم کرنا ہو گا تاکہ امن وامان قائم ہو سکے۔ اس کے لیے بے روزگاری کا خاتمہ ضروری ہے۔ اپنی صفوں میں چھپے ہوئے دشمنوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر عبرت ناک انجام تک پہنچانا اشد ضروری ہے۔


