لہو لہو پارا چنار
ہم سے قاتل کا ٹھکانہ نہیں ڈھونڈا جاتا
ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منا لیتے ہیں
ہماری بدقسمتی کہیں یا بے حسی ہم کسی بھی سانحے کے بعد ایک دن یا بہت زیادہ ہو تو دو دن اس سانحہ کا بہت ہی دھوم دھام سے سوگ مناتے ہیں لیکن اب تو یہ حالات ہیں ہمارا سوگ بس صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر منحصر ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارا لہو اتنا سستا ہو گیا ہے کہ جس کی قیمت صرف ایک بندوق کی گولی اور فیس بک کی تعزیتی پوسٹ یا لائیک اور کمنٹ ہیں۔ کیا حقیقتاً ہمارے معاشرے میں انسانیت کی موت ہو گئی۔ ان تمام سوالوں کے جواب ہیں کہ،
ضیاء آج بھی زندہ ہے
زندہ ہے ہماری سوچوں میں
زندہ ہے ہمارے افکار میں
زندہ ہے ہمارے مسجد و منبر میں
زندہ ہے ہمارے سکول و مدرسہ میں
ضیاء زندہ ہے ہمارے گھروں میں
اس میں کسی قسم کے شک و شبے کی گنجائش ہی نہیں کہ اس مملکت خداداد میں ضیا الحق وہ واحد آمر پیدا ہوا جس نے اس ملک کی جڑوں میں شدت پسندی، بندوق کلچر، غیر جمہوری رویے، غیر سیاسی رویے، اور عدم برداشت جیسے رویوں کی آبیاری کی اور اس کے نتائج آج ہم دہشت گردی، غنڈہ گردی، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
مجھے آج تک ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ نہتے لوگوں کا خون کر کے کون سے مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول میں نہتے بچوں کا قتل عام ہو یا چترال میں بسوں سے اتار کے لوگوں پہ گولیاں برسانے کا واقع ہو یا کل کا پارا چنار میں معصوم شہریوں اور بچوں کا قتل عام ہو ان سب کے پیچھے جو ہاتھ کار فرما ہیں انہیں ابھی کاٹا نہیں گیا تو وہ دن دور نہیں جب اس ملک میں باہر کے ممالک سے انسانوں کو بلا کر آباد کاری کرنی پڑے گی۔ مقام افسوس یہ ہے کہ ہماری ریاست کا کردار ایک ماں جیسا ہونے کے بجائے ایک اس جلاد جیسا ہے جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور اس کا کام صرف انسان کا گلا کاٹنا ہے۔ آج کے دور میں ایدھی اور ادیب رضوی کا کوئی مقام اور جگہ نہیں آج کے دور میں مقام صرف انسانیت کے دشمن کو حاصل ہے۔ ایک دفعہ پھر ریاست ماں سے التجا ہے خدارا! دہشت گردی کا کوئی سیر حاصل اور دیرپا حل نکالنا ہو گا نہیں تو پھر بہت دیر ہو جائے گی اور پانی سر کے اوپر سے گزر جائے، یا چڑیا چگ جائیں گی کھیت۔
یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ کل نامعلوم افراد کی جانب سے 40 کے قریب نہتے لوگوں پہ بندوقوں کے برسٹ کھول دیے گئے البتہ یہ ضرور بتاتا جاؤں یہ 40 رپورٹڈ شہید ہیں خدا خیر کرے نہ جانے کتنوں ہی کہ گھر اجڑ گئے ہوں گے۔ آج یہ بات کرتے ہوئے مجھے کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہے جب تک سیکولرازم کا اس ملک میں نفاذ نہیں ہوتا اس وقت تک دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا کیونکہ جب ریاست خود ہی کسی مذہبی گروہ کی آلہ کار بنے گی تو باقی مذہبی گروہوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ ہو گا۔ اس سے قبل پاکستان دشمنوں نے گلگت بلتستان میں فرقہ ورانہ فسادات کی آگ لگائی اور آج یہی آگ پارا چنار میں لگائی ہوئی ہے۔ آخر میں اللہ رب العزت سے التجا ہے کہ
خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

